DXN Purity of life

DXN  Purity of life

Share

DXN give you Health Wealth and Happiness

19/04/2022
Photos from DXN  Purity of life's post 07/04/2022

DXN Cordypine®:

DXN Cordypine® blends quality cordyceps and naturally fermented pineapple juice.

Cordypine® is indeed your smart choice for life.

Packaging size:
- 285ml per bottle
- 700ml per bottle
- 15 packs x 50ml

DXN Cordypine®:

DXN Cordypine® معیاری cordyceps اور قدرتی طور پر خمیر شدہ انناس کے رس کو ملا دیتا ہے۔

Cordypine® درحقیقت زندگی کے لیے آپ کا زبردست انتخاب ہے۔

پیکیجنگ سائز:
- 285 ملی لیٹر فی بوتل
- 700 ملی لیٹر فی بوتل
- 15 پیک x 50 ملی

Photos from DXN  Purity of life's post 04/04/2022

DXN food supplements ko istemal krny k liy kisi b doctor k mashwary ki zarorat ni parhti. q k in products k koi sidefect ni hain q k dxn ny Allah ki paida ki hoi qudarti aor nayaab jarrhi botioun ki pecking kr k market kr dia hai.
dxn products taqatwar ghaza k taor pe istemal ki jati hain jis waj sy sehat mand log sehatmand rehny k liy aor bemar apni bemari sy azad hony k liy istemal kr skty hain. q k hr sehat mad inasn bemar ni hona chahta aor hr bemar insan bemar ni rehna chahta.
dxn products me koi camical. koi artificial colar aor na hi koi masnoee khushboo dali g*i hai is waja sy in products ko istemal me rakhny sy apny aap ko lambi umar tk sehatmand rakh skty hain.
is camical k daor me hr insan k jisam me , khany, peeny aor abohawa k zariay camical ja raha hai laiken koi esi dawai ni banai g*i jo in camicals ko jisam sy nikaly aor sath sath bemari ki waja ko b jarh sy khatam kry.
jb k Allah taala ny insan ko Ganoderma ki shakal me aik esi jarrhi booti di jo jisam ki safai k sath sath jisam k tamam khilioun ko ghaza poncha kr bemari ko mukamal khatm krny me madad daiti hai.
dxn ki products sy result leny k liy 4 sharait pr amal krna zarori hai.
1 products k istehmal k daoran pani ka istemal ziyada krna h.
2 products k istehmal k daoran waqfa ni any daina.
3 products ki khorak ko kam az kam 4 hafty tak barhana hai
4 jisam ki safai k daoran Reflection ( jisam me tabdeelion ) sy ghabra k prooducts rokni ni hain.
mazeed malumat K liye 03257019914

04/04/2022

DXN food supplements ko istemal krny k liy kisi b doctor k mashwary ki zarorat ni parhti. q k in products k koi sidefect ni hain q k dxn ny Allah ki paida ki hoi qudarti aor nayaab jarrhi botioun ki pecking kr k market kr dia hai.
dxn products taqatwar ghaza k taor pe istemal ki jati hain jis waj sy sehat mand log sehatmand rehny k liy aor bemar apni bemari sy azad hony k liy istemal kr skty hain. q k hr sehat mad inasn bemar ni hona chahta aor hr bemar insan bemar ni rehna chahta.
dxn products me koi camical. koi artificial colar aor na hi koi masnoee khushboo dali g*i hai is waja sy in products ko istemal me rakhny sy apny aap ko lambi umar tk sehatmand rakh skty hain.
is camical k daor me hr insan k jisam me , khany, peeny aor abohawa k zariay camical ja raha hai laiken koi esi dawai ni banai g*i jo in camicals ko jisam sy nikaly aor sath sath bemari ki waja ko b jarh sy khatam kry.
jb k Allah taala ny insan ko Ganoderma ki shakal me aik esi jarrhi booti di jo jisam ki safai k sath sath jisam k tamam khilioun ko ghaza poncha kr bemari ko mukamal khatm krny me madad daiti hai.
dxn ki products sy result leny k liy 4 sharait pr amal krna zarori hai.
1 products k istehmal k daoran pani ka istemal ziyada krna h.
2 products k istehmal k daoran waqfa ni any daina.
3 products ki khorak ko kam az kam 4 hafty tak barhana hai
4 jisam ki safai k daoran Reflection ( jisam me tabdeelion ) sy ghabra k prooducts rokni ni hain.
mazeed malumat K liye 03257019914

30/03/2022

Spirulina “ The Nature's Super Food”

Boost your immune system through organic foods and stay safe

What is the best time of the day to take the DXN Spirulina ?

DXN Spirulina can be taken at any time of the day, before or after a meal.

How does Spirulina benefit the human body ?

Spirulina contains all the nutrients that the human body needs. A deficiency of any of these nutrients would compromise the proper functioning of our body. There are several peer reviewed scientific studies about Spirulina’s ability to inhibit viral reproduction, strengthen both the cellular and the immune system, and cause regression and inhibition of cancers.
NB : No therapeutic claim approved

Health Insurance Awareness..

Photos from DXN  Purity of life's post 30/03/2022

ذیابیطس کیا ہے اور آپ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

ذیابیطس تاحیات ساتھ رہنے والے ایسی طبی حالت ہے جو ہر سال لاکھوں افراد کو ہلاک کرتی ہے اور یہ کسی کو بھی لاحق ہو سکتی ہے۔

یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجود شکر (گلوکوز) کو حل کر کے خون میں شامل نہیں کر پاتا اس کی پیچیدگی کی وجہ سے دل کے دورے، فالج، نابینا پن، گردے ناکارہ ہونے اور پاؤں اور ٹانگیں کٹنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے اور ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42 کروڑ 22 لاکھ افراد اس کا شکار ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یہ تعداد 40 سال پہلے کے مقابلے میں چار گنا ہے۔

صرف پاکستان میں ہر سال ذیابیطس کے مرض کے باعث تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد معذور ہو جاتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک فرد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے اور یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

یہی نہیں بلکہ ذیابیطس پاکستان میں ہلاکتوں کی آٹھویں بڑی وجہ بھی ہے اور 2005 کے مقابلے میں اس سے متاثرہ افراد کی ہلاکتوں میں 50 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

ان خطرات کے باوجود ذیابیطس کا شکار فیصد لوگوں کو اس بات کا علم نہیں کہ روز مرہ کے معمولات میں تبدیلی کئی معاملات میں بہتری لا سکتی ہے۔

ذیابیطس کی وجہ کیا ہے؟

جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم نشاستے (کاربوہائیڈریٹس) کو شکر (گلوکوز) میں تبدیل کر دیتا ہے، جس کے بعد لبلبے (پینکریاز) میں پیدا ہونے والا ہارمون انسولین ہمارے جسم کے خلیوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ توانائی کے حصول کے لیے اس شکر کو جذب کریں۔۔

ذیابیطس تب لاحق ہوتا ہے جب انسولین مناسب مقدار میں پیدا نہیں ہوتی یا کام نہیں کرتی، اس کی وجہ سے شکر ہمارے خون میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

ذیابیطس کی کتنی اقسام ہیں؟

ذیابیطس کی کئی اقسام ہیں۔ ٹائپ ون ذیابیطس میں لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتا ہے جس کی وجہ سے شکر خون کے بہاؤ میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

سائنسدان یہ تو نہیں جانتے کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ شاید ایسا جینیاتی اثر کی وجہ سے ہوتا ہے یا کسی وائرل انفیکشن کی وجہ سے کہ لبلبے میں انسولین بنانے والے خلیے خراب ہو جاتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کا دس فیصد ٹائپ ون کا شکار ہیں۔

ٹائپ 2 ذیابیطس میں لبلبہ یا تو ضرورت کے مطابق انسولین نہیں بناتا یا جو بناتا ہے وہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتی۔

انسولین ہمارے جسم میں شکر کو توانائی میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے

ایسا عموماً درمیانی اور بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم یہ مرض کم عمر کے زیادہ وزن والے افراد، سست طرزِ زندگی اپنانے والے اور کسی خاص نسل سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصاً جنوبی ایشیائی افراد کو بھی لاحق بھی ہو سکتا ہے۔

کچھ حاملہ خواتین کو دورانِ زچگی ذیابیطس ہو جاتا ہے جب ان کا جسم ان کے اور بچے کے لیے کافی انسولین نہیں بنا پاتا۔

مختلف مطالعوں کے مختلف اندازوں کے مطابق چھ سے 16 فیصد خواتین کو دورانِ حمل ذیابیطس ہو جاتا ہے۔ انھیں ایسے میں غذا اور ورزش کے ذریعے شوگر لیول کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، تاکہ اسے ٹائپ ٹو انسولین میں بدلنے سے روکا جا سکے۔

اب لوگوں کو خون میں گلوکوز کی بڑھی ہوئی سطح کے بارے میں تشخیص کر کے انھیں ذیابیطس ہونے کے خطرے سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

ذیابیطس کی علامات کیا ہیں؟

سستی اور پیاس ذیابیطس کی علامات ہو سکتی ہیں

عمومی علامات

بہت زیادہ پیاس لگنا
معمول سے زیادہ پیشاب آنا، خصوصاً رات کے وقت
تھکاوٹ محسوس کرنا
وزن کا کم ہونا
دھندلی نظر
زخموں کا نہ بھرنا
برٹش نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق ٹائپ ون ذیابیطس کی علامات بچپن یا جوانی میں ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور یہ زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔

ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے کا شکار افراد 40 سال سے زائد عمر کے ہوتے ہیں (جنوبی ایشائی افراد 25 سال کی عمر تک)۔ ان کے والدین یا بہن بھائیوں میں سے کسی کو ذیابیطس ہوتا ہے، ان کا وزن زیادہ ہوتا ہے یا وہ موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں، ان میں زیادہ تعداد جنوبی ایشیائی مالک کے لوگوں کی، چینی باشندوں کی، جزائر عرب الہند اور سیاہ فام افریقیوں کی ہے۔

کیا میں ذیابیطس سے بچ سکتا ہوں؟
ذیابیطس کا زیادہ تر انحصار جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل پر ہوتا ہے لیکن آپ صحت مند غذا اور چست طرزِ زندگی سے اپنے خون میں شکر کو مناسب سطح پر رکھ سکتے ہیں۔

صحت مند خوراک کا رجحان اپنانا پہلے شرط ہے

پروسیس کیے گئے میٹھے کھانوں اور مشروبات سے پرہیز اور سفید روٹی اور پاستا کی جگہ خالص آٹے کا استعمال پہلا مرحلہ ہے۔

ریفائنڈ چینی اور اناج غذائیت کے اعتبار سے کم ہوتے ہیں کیونکہ ان میں سے وٹامن سے بھرپور حصہ نکال دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سفید آٹا، سفید روٹی، سفید چاول، سفید پاستا، بیکری کی اشیا، سوڈا والے مشروبات، مٹھائیاں اور ناشتے کے میٹھے سیریل۔

صحت مند غذاؤں میں سبزیاں، پھل، بیج، اناج شامل ہیں۔ اس میں صحت مند تیل، میوے اور اومیگا تھری والے مچھلی کے تیل بھی شامل ہیں۔

یہ ضروری ہے کہ وقفے وقفے سے کھایا جائے اور بھوک مٹنے پر ہاتھ روک لیا جائے۔

جسمانی ورزش بھی خون میں شوگر کے تناسب کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ برطانیہ میں این ایچ ایس تجویز کرتا ہے کہ ہفتے مںی کم از کم ڈھائی گھنے ایروبکس کرنا یا تیز چہل قدمی یا سیڑھیاں چڑھنا مفید ھے
سست روی چھوڑ کر ہفتے میں کم از کم اڑھائی گھنٹے ورزش ضروری ہے

جسم کا صحت مند حد تک وزن شوگر لیول کو کم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہی تو اسے آہستہ آہستہ کریں یعنی آدھا یا ایک کلو ایک ہفتے میں۔

یہ بھی اہم ہے کہ آپ تمباکو نوشی نہ کریں اور اپنے کولیسٹرول لیول کو کم رکھیں تاکہ دل کے عارضے کا خطرہ کم ہو۔

ذیابیطس میں پیچیدگیاں کیا ہیں؟

خون میں شوگر کی زیادہ مقدار خون کی شریانوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اگر خون کا جسم میں بہاؤ ٹھیک نہ ہو تو یہ ان اعضا تک نہیں پہنچ پاتا جہاں اس کی ضرورت ہوتی ہے اس کی وجہ سے اعصاب کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے درد اور احساس ختم ہو جاتا ہے، بینائی جا سکتی ہے اور پیروں میں انفیکشن ہو سکتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ نابینا پن، گردوں کی ناکارہ ہونے، دل کے دورے، فالج اور پاؤں کٹنے کی بڑی وجہ ذیابیطس ہی ہے۔

ذیابیطس کا مرض نابینا پن، گردوں کی ناکارہ ہونے، دل کے دورے، فالج اور پاؤں کٹنے کا باعث بن سکتا ہے

سنہ 2016 میں ایک اندازے کے مطابق 16 لاکھ افراد براہ راست ذیابیطس کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

کتنے لوگ ذیابیطس کا شکار ہیں؟

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 1980 میں ذیابیطس کا شکار افراد کی تعداد دس کروڑ 80 لاکھ تھی جو 2014 میں بڑھ کر 42 کروڑ 22 لاکھ ہو گئی۔

1980 میں دنیا بھر کے 18 سال سے زاید عمر کے بالغ افراد کا پانچ فیصد ذیابیطس کا شکار تھا جبکہ سنہ 2014 میں یہ تعداد 8.5 فیصد تک جا پہنچی ہے۔

ذیابیطس کی بین الاقوامی فاؤنڈیشن کے اندازوں کے مطابق اس کیفیت کا شکار 80 فیصد بالغ افراد درمیانی عمر کے ہیں، ان کا تعلق کم آمدنی والے ممالک سے ہے اور جہاں کھانے پینے کی عادادت تیزی سے تبدیل ہوتی ہیں۔

ترقی یافتہ ملکوں میں اس کا ذمہ دار غربت اور سستے پروسیسڈ کھانوں کو قرار دیا جاتا ہے۔

شوگر کا علاج بذریعہ dxn فوڈ سپلیمنٹس

رشی مشروم پاؤڈر ۔۔مورینزی شربت ۔۔ اسپائرولینا گولیاں

مزید معلومات کے لئے کال / واٹس ایپ پر رابطہ کریں ۔
03257019914

Photos from DXN  Purity of life's post 30/03/2022

"WHAT IS DEPRESSION,ITS CAUSE AND ALTERNATIVE SOLUTION"

Depression is a mood disorder that causes a persistent feeling of sadness and loss of interest. Also called major depressive disorder or clinical depression, it affects how you feel, think and behave and can lead to a variety of emotional and physical problems. You may have trouble doing normal day-to-day activities, and sometimes you may feel as if life isn't worth living.

SIGNS AND SYMPTOMS:

Although depression may occur only one time during your life, usually people have multiple episodes of depression. During these episodes, symptoms occur most of the day, nearly every day and may include:

Feelings of sadness, tearfulness, emptiness or hopelessness
Angry outbursts, irritability or frustration, even over small matters
Loss of interest or pleasure in most or all normal activities, such as s*x, hobbies or sports
Sleep disturbances, including insomnia or sleeping too much
Tiredness and lack of energy, so even small tasks take extra effort
Changes in appetite — often reduced appetite and weight loss, but increased cravings for food and weight g*in in some people
Anxiety, agitation or restlessness
Slowed thinking, speaking or body movements
Feelings of worthlessness or guilt, fixating on past failures or blaming yourself for things that aren't your responsibility
Trouble thinking, concentrating, making decisions and remembering things
Frequent or recurrent thoughts of death, suicidal thoughts, su***de attempts or su***de
Unexplained physical problems, such as back pain or headaches

CAUSES:

Biological differences.

People with depression appear to have physical changes in their brains. The significance of these changes is still uncertain, but may eventually help pinpoint causes.

Brain chemistry.

Neurotransmitters are naturally occurring brain chemicals that likely play a role in depression. Recent research indicates that changes in the function and effect of these neurotransmitters and how they interact with neurocircuits involved in maintaining mood stability may play a significant role in depression and its treatment.

Hormones.

Changes in the body's balance of hormones may be involved in causing or triggering depression. Hormone changes can result with pregnancy and during the weeks or months after delivery (postpartum) and from thyroid problems, menopause or a number of other conditions.

Inherited traits.

Depression is more common in people whose blood relatives also have this condition. Researchers are trying to find genes that may be involved in causing depression.

ORGANIC SOLUTIONS:

LIONSMANE , MORENZHI,AND COFFEE

FOR MORE INFORMATION CONTACT OR INBOX ME,WE PROVIDE PREVENTION OVER CURE.

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Karachi