Aine beauty glamorous
Fruit and flowers say bani product 100many back garenty
*اے اللّٰہ میں تجھے بہت چاہتی ہوں*
تیرے پاس بھی آتی ہوں
دعا میں تیری قربت بھی مانگتی ہوں
ندامت کا احساس لیے کھڑی ہوں
گناہوں کے بوجھ کو اٹھا کے پھرتی ہوں
تیرے حضور ہی تو سجدہ کرتی ہوں
جب اشک بہاتی ہوں بے تحاشا روتی ہوں
وجود کانپتا بھی ہے میرا
محسوس سرورِ عبادت بھی ہوتا ہے
*ِیا اللّٰہ تھوڑا سا غرور بھی ہوتا ہے تجھ سے ہمکلام ہوئی تھی*
بہت مسرور ہوئی تھی
پر یہ کیوں ہوتا ہے میرے اللّٰہ؟
جب طبیعت ہلکی ہوتی ہے
دل شاد ہوتا ہے
پھر دنیا میں مشغول ہو جاتی ہوں
پھر گناہوں سے لبریز ہوتی جاتی ہوں
یہ بوجھ اٹھا کے بہت تھک جاتی ہوں
پھر تیرے ہی پاس آتی ہوں
اشک بہاتی ہو خود کو سمجھاتی ہوں
میں تجھ سے جڑا رہنا چاہتی ہوں
گناہوں سے پاک ہونا چاہتی ہوں
غیبت کر کے مردار بھائی کھاتی ہوں
مجھے خوف کیوں نہیں آتا
جھوٹ بولتی ہوں
دل دکھاتی ہوں
جبکہ جانتی ہوں دل میں تو بستا ہے
پھر بھی گناہ پہ گناہ کرتی ہوں
کیا کروں اللّٰہ میں ایسا
*میں بن جاوُں ایسی*
ماں کی کوکھ سے آئی تھی جیسی
چپ رہو تاکہ غیبت سے محفوظ رہوں
تو احباب پریشان ہوتے ہیں
لب کھولوں تو گناہ بیاں ہوتے
یا اللّٰہ ابلیس کو تو قید کر دے نہ
بلکہ اسے ناپید کر دینا
یا کوئی اسباب بنا ایسا
میں دُھل جاوُں زم زم سے
*کوئی ایسی نیکی کر جاوُں*
تیری منظورِ نظر بن جاوُں
*یا اللّٰہ نہیں* برداشت اور مجھ میں
تیرا حکم نہیں نہ کہ طالبِ موت ہو جاوُں ؟
*تو پھر یا اللّٰہ !دیدارِ مصطفٰیؐ* عطا ہوجاےُ مجھے یا اللّٰہ
یا اللّٰہ میرا مدفن اب مدینہ بن جائے یا اللّٰہ
*جب مجھے موت آئے یا اللّٰہ*
اشکبار تیرا آسماں بھی ہوجائے یا اللّٰہ
*ایسے اعمال بنا دینا مولا*
ِ جنت کے اسباب بنا دینا مولا
گناہوں سے چور ہوں
جانتی ہوں پر
تیرے محبوب کی امتی ہوں
اس بات کا بڑا مان رکھتی ہوں یا اللّٰہ
یہ یقین ہی جینے کا سامان ہے یا اللّٰہ
جب گناہوں سے پاک ہوجاوُں
تو پھر یا اللّٰہ میں مر جاوُں
(آمین)
مسلمانوں کی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے بیان کیے گئے دو نہایت جذباتی واقعات سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جو بچوں کی معصومیت اور دینی تعلیمات کے گہرے اثرات کو اجاگر کرتے ہیں۔
پہلا واقعہ ترکیہ کا ہے، جہاں ایک شخص نے بتایا کہ اس کی بہن اپنی تین سالہ بیٹی کو سونے سے پہلے نرمی سے “اللّٰہم صلِّ علیٰ سیدنا محمد” پڑھ کر سنایا کرتی تھیں۔ چند گھنٹوں بعد بچی بار بار نیند سے جاگتے ہوئے صرف “محمد” کہہ رہی تھی۔ جب والدہ نے پیار سے پوچھا کہ کون سے محمد؟ تو بچی نے جواب دیا کہ اس نے خواب میں حضرت محمد ﷺ کو دیکھا ہے، اور یہ خواب اسے سونے سے پہلے سنی گئی درودِ پاک کی برکت سے آیا۔
دوسرا واقعہ ایک والد نے بیان کیا جو کئی سال قبل اپنی کمسن بیٹی کے ساتھ عمرہ پر گیا تھا۔ اس سفر کے دوران اس نے بیٹی کو سیدہ خدیجہؓ کے بارے میں بتایا، انہیں ایمان والوں کی ملکہ قرار دیا اور کہا کہ جو بچی ان کی پیروی کرے گی وہ جنت میں ان کے ساتھ ہوگی۔
بعد ازاں وہ اپنی بیٹی کو مکہ مکرمہ میں جنت المعلیٰ لے گیا، جہاں سیدہ خدیجہؓ کا مزار ہے۔ وہاں پہنچ کر بچی جذباتی ہو گئی اور محبت بھرے انداز میں بولی:
“امی، میں آپ سے محبت کرتی ہوں، پلیز مجھے آپ کو دیکھنے دیں۔”
اسی رات ہوٹل واپس آنے کے بعد بچی آدھی رات کو مسکراتے ہوئے جاگی اور خوشی سے اپنے والد سے کہا:
“ابو! ابو! میں نے ابھی خواب میں ہماری پیاری ماں خدیجہؓ کو دیکھا ہے۔”
یہ واقعات بہت سے لوگوں کے دلوں کو چھو گئے ہیں، جو انہیں ایمان، دل کی پاکیزگی اور بچپن میں دی جانے والی روحانی تربیت کے گہرے اثرات کی خوبصورت یاد دہانی سمجھتے ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Solider Bazar
Karachi
