WE Do it for you - Products you need

WE Do it for you - Products you need

Share

This page is for We (all of us) who wish to lessen the burden of pains from You (all of us) in all Dimensions. Correct Knowledge is the key. He (اللہ) knows all.

Please join those who are interested. He (Allah) is the only creator of all the universes, creatures, and events happening in and outside the Universes. The universes have infinite (n+1) dimensions and hence infinite possibilities. Insan (انسان), in Arabic meaning "eyeball", is a tool for Him to see all His universes., that is why He appointed Insan as His assistant (خلیفہ). He fully appreciates t

25/11/2023

ناظم آباد

ایک خواب گزیدہ شہر کی کہانی۔
پاکستان بنا تو مہاجروں کے لٹے پٹے قافلوں نے کراچی کا رخ کیا۔
ایک وقت تھا جب یہ عروس البلاد کراچی لسبیلہ کے پل سے اُدھر ہی ختم ھوجاتا تھا اور خاصی چوڑی اور بہت کافی جوش و خروش سے جھاگ اڑاتی لیاری ندی کراچی کے باسیوں کے لئے حد آخر تھی جہاں لوگ اکثر بنسیاں ڈالے سگرٹ کے مرغولے اڑاتے مچھلیوں کا شکار کرتے نظر آتے تھے، لیاری ندی کے اُس پار دور تلک لق و دق سنسان علاقہ تھا جس میں جنگلات تھے اور جہاں گیڈر، لومڑی اور دوسرے جنگلی جانوروں کا بسیرا تھا
پھر یوں ھوا کہ پاکستان کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے ھندوستان سے گھر لٹا کر آنے والے مہاجرین کے لئے ایک نئی بستی بسانے کا پلان کیا، یہ بستی لیاری ندی کی دوسری طرف یعنی کراچی کے باھر آباد کی گئی، حکومت نے یہ غیر آباد علاقہ ایک قبائلی سردار مستی بروہی خان سے خریدا اور یہاں کی زمین مہاجرین کو تین روپے پچاس پیسے فی اسکوائر یارڈ کے حساب سے بیچی گئی، یہ انیس سو باون کی بات ھے
راج نے شاقول اور کیرنی سنبھالی، رنگسازوں نے برش اور رنگوں کی بالٹیاں اٹھائیں فولاد کے بیوپاری لوھے کے ٹرکس بھر بھر کر لانے لگے سمنٹ ریت اور فولاد کے گارے سے مکان بنے، مہاجرین کی پہلی نسل کے مردوں نے مکان بنا کر اپنا فرض پورا کیا اور یوپی کی سگھڑ بیبیوں نے ان مکانوں کو گھر بنا دیا، صحنچے، دالان برامدے گملوں سے ، باھر گھاس کے تختوں کے پاس کی کیاریاں پھولوں سے سج گئیں، گھر کے پچھواڑے میں کدو لوبیا سیم کی بیلوں نے دیواروں کو ڈھک دیا، ھرے بھرے پودوں کی مہک سے رسوئی خانے مہکنے لگے، کسی نے اپنے گھر پر نشیمن لکھوایا، کسی نے کہکشاں، کوئی کاشانہ بتول لکھوا کر شاد ھوا اور کوئی مصطفے منزل پر قانع ھو گیا، یہ سارے نام ان کے ماضی کا دین تھے وہ گھر جو مہاجرین ھندوستان میں نے اپنے پیچھے چھوڑ آئے تھے، یہ صرف ان کے ماضی سے جڑی یادوں کو خراج تحسین ہی نہ تھا بلکہ نئی سرزمین میں اپنی ذاتی ملکیت کے احساس کا اطمینان بخش اظہار بھی تھا، دیکھتے دیکھتے ہی ناظم آباد کراچی کے الائیٹس کی محبوب بستی بن گیا
یہ تو دنیا کے سب ہی لوگ جانتے ھیں کہ کراچی کے نہایت ذھین فطین اور باصلاحیت لوگوں کا قیام ناظم آباد میں ہی رھا۰ ۱۹۵۰ سے ۱۹۷۰ تک ناظم آباد انٹلیکچولز کی رھائش گاہ اور کلچرل ایکٹیویٹیز کا گڑھ تھا، پی آئی بی کالونی، آگرہ تاج۔ رنچہورلین۔ گارڈن۔ کھارادر۔ میٹھادر اور بہار کالونی کے پڑھے لکھے لوگوں نے ان علاقوں کو خیر آباد کہہ کر ناظم آباد میں نئے سرے اپنی زندگی شروع کی۔
لمبی چوڑی دو رویہ سڑکیں جن کے ساتھ دور تک درخت سایہ شجر دار کا نمونہ پیش کرتی تھیں علاقہ اپنی صفائی ستھرائی کھلے میدانوں اور تازی ھوا کے جھونکوں کی وجہ کراچی کے دوسرے علاقوں سے منفرد تھا اور جلد ہی کراچی کے باوقار ایریاز میں شمار ھونےلگا، ایک وقت آیا جب ناظم آباد میں گھر بنانا صاحب حیثیت ھونے اور تعلیم یافتہ ھونے کا سمبل بن گیا کراچی کے دوسرے علاقوں کے باسی ناظم آباد والوں کو مہذب تعلیم یافتہ اور انٹلکچول سمجھتے اور انکی خوش لباسی اور صلاحیتوں سے مرعوب بھی ھوتے،
لوگوں نے ناظم آباد کو فرانس کے شہر پیرس میں واقع مونٹ پارناسے نامی علاقے کا ھم پلہ قرار دیا جہاں ایک ہی وقت میں بہت سے دانشور اور آرٹسٹ۔ کھلاڑی، مجسمہ ساز، مصور، شاعر، اور کمپوزر رھا کرتے تھے،
گنگا جمنا تہذیب کا جتنا شہرہ ھے اگر اس تہذیب کا نمونہ دیکھنا ھے تو یہاں آباد گھرانوں کے مکینوں سے ملئے، جسٹس لاری، تنقید نگار فرمان فتحپوری، فلم ساز سعید رضوی، عالیہ امام، مجاھد بریلوی، مجنوں گورکھپوری ، مختار زمن، ڈاکٹر سرور، ذکیہ سرور، ڈاکٹر طیب، کالمسٹ نصر اللہ خان ، انعام درانی، کون کون یہاں نہیں رھتا تھا،
صادقین۔ ڈاکٹر عبدلقدیر، اقبال مہدی، محسن بھوپالی، سنگیتا، زیبا،ندیم ۔ شکیل۔ معین اختر۔ حنیف محمد۔آصف مجتبیٰ ۔ قاسم عمر۔ ، اقبال صفی پوری، سحر انصاری اور سلمی زمن جیسے انٹلیجنسیا، رائیٹرز، پوئٹس ارٹسٹ اسکالر، سول سرونٹ، سیاستداں، ڈاکٹرز، گلوکار، وکیل، تعلیمی ماھرین۔ یہ سب لکھنئو، دہلی، امروہہ، کانپور، بدایوں، علی گڑھ، ملیح آباد، حیدرآباد، جونا گڑھ سے ھجرت کئے ھوئے نابغہ روزگار لوگوں کی پہلی نسل تھی۔
سرسید گرلز کالج ، ناظم آباد اسکولُ، ناظم آباد کالج ، عثمانیہ کالج، ھیپی ڈی اسکول، خان صاحب کا پریمیئر کالج، حورانی صاحب کا سٹی کالج، عبدللہ کالج، رابعہ زبیری کا کراچی اسکول آف آرٹ اینڈ کرافٹ، وسطانیہ اسکول کے علاوہ لڑکیوں اور بچوں کی لاتعداد نرسریاں اور اسکول کھلے اور کراچی کے دوسرے علاقے کے قدیم اور معتبر تعلیمی اداروں سے ٹکر لینے لگے
ناظم آباد کے اندر چھوٹے چھوٹے ناظم آباد بن گئے، گولیمار، عثمانیہ کالونی فردوس کالونی، رضویہ سوسائیٹی، مسلم لیگ کوارٹرز، پاپوش نگر اور بڑا میدان، جن کی اپنی آبادی چھوٹے شہروں کے برابر تھی،
عید گاہ میدان ۔ انو بھائی پارک، ھادی مارکیٹ، گول مارکیٹ، ضیاء الدین اسپتال بقائی اسپتال صادقین ھاؤس ، سبطین منزل، محسن منزل اور حکیم سعید کی ھمدرد لیباریٹریز کا صدر دفتر ھمدرد سینٹر اس علاقے کے لینڈ مارک تھے اور پاک کریسنٹ کرکٹ کلب جہاں سے حنیف محمد، وزیر رئیس مشتاق اور صادق محمد نے کرکٹ کھیلی، ظہیر عباس اور آصف اقبال اس کلب سے کھیل کر فخر محسوس کرتے تھے، صلاح الدین سلو اور انتخاب عالم، نیشنل کرکٹ کلب کے قریب رھتے تھے جبکہ رضویہ سوسائیٹی کی ٹیم ڈائمنڈ کرکٹ کلب کا مشہور اسپن بولر محمود الحسن تھا۔
آغا جوس ھاؤس، انبالہ سوئیٹ، ملا حلوائی، کیفے ذائقہ،الحسن کافی ھاؤس اور کیفے وزیر کے خوش ذائقہ کھانے دلی اور اودھ کے کھانوں اور مٹھائیوں کو مات دیتے تھے، کیفے وزیر میں جو دن میں بائیس گھنٹے کھلا رھتا تھا ایک آنے کی چائے ایک روپے پچاس پیسے کا چکن تکا اور چار آنے کی نہاری ملتی تھی، ایک پیالی چائے عوض آپ اپنے دوستوں کے ساتھ دو گھنٹے بیٹھ کر ساحر، فیض، عصمت چغتائی، کرشن چندر، جیلانی بانو، جوش اور اداس نسلوں کے خالق عبدللہ حسین کے علاوہ رونا لیلی، ناھید اختر، خورشید انور، ندیم وحید مراد اور شمیم آرا پر بحث و مباحثہ کر سکتے تھے
ناظم آباد کلب اھل ناظم آباد کا ریلیکسییشن پوائنٹ تھا اور پھر غالب لائبریری تھی جس میں تین ھزار سے ذیادہ کتابیں تھیں اور جس کو حبیب بنک نے فیض احمد فیض اور مرزا ظفر الحسن کی کوششوں سے بنایا گیا تھا ، اس زمانے میں یہ ادبی تقریبات کا مرکز تھی،
فلمی تفریحات کے لئےریلیکس سینما، نایاب سینما، شالیمار سینما لبرٹی سینما تھے
ان دنوں گرمیوں میں گھر کے دالان صحن اور چھتوں پر سونے کا عام رواج تھا کھڑکیاں کھلی رکھی جاتیں جن سے فراٹے بھرتی ھوا پورے گھر کو فیضیاب کرتی، چوری چکاری، اسٹریٹ کرائمز ڈاکے کلاشنکوف جیسی چیزوں کا نہ ڈر تھا اور نہ کوئی تصور تھا۔
چراغوں کا دھواں ھوگئے ھیں، وہ زمانے رفتگاں ھو گئے ھیں، آج یہ سب باتیں ایک خواب سا لگتی ھیں مگر جو لوگ ان سنہرے برسوں میں ناظم آباد کی اس گولڈن لائف کا حصہ رھے ھیں وہ آج بھی ایک ٹھنڈی سانس بھر کر اس یادگار دور کو یاد کرتے ھیں اور گنگناتے ھیں کہ قصہ ناظم آباد مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ۔
II found interesting so i shared

12/07/2022

COOPERATION
Co- operation emerges simply because people are willing to cast bread on the water, hoping that it will come back.
Co-operative and mutual action is about people working together equitably as members of a formal and open body that exists to meet their economic and wider needs. The cooperation emerges between groups when trade and mutual exchange plays a role. This is evidenced in the spread of tools such as hand axes across large distances.
Conflict between groups also plays a role, and this in turn further encourages co-operation within groups. If you don’t co-operate with those around you what you share is the increased risk of violence or death.

باہمی تعاون افراد کی باہمی توقعات کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے۔: • گروپوں کے اندر، انصاف کے اصول صرف اس ہی جگہ نہیں ابھرتے جہاں اشیاء تجارت کا تبادلہ تعاون پر مثبت اثر انداز ہو۔ آپس کے تضادات بھی باہمی تعاون میں اضافہ کی وجہ بن جاتے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ باہمی تعاون نہ کرنا آپس میں ناچاقی اور تشدد یا قتل و غارتگری کی وجہ بن سکتی ہے۔ اس لئے آپ تعاون کو ترجیح دیتے ہیں۔ ‍
باہمی تعاون ایسے افراد کرتے ہیں جو ایک روایتی اور آزاد ادارے کے ارکاں کے طور پر مل جل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ادارہ ان کی وسیع تر ضروریات ور ماشیات کے حصول مدد بہم پہنچاتا ہے۔

09/07/2022

Allah says,

“For indeed, with hardship [will be] ease…Indeed, with hardship [will be] ease… So when you have finished [your duties], then stand up [for worship]. And to your Lord direct [your] longing.”

08/07/2022

Let us build cooperation among ourselves.

Our assumptions are:
- participants in a conversation normally attempt to be informative, truthful, relevant, and clear.
- our talk exchanges will not merely be a succession of disconnected remarks, and would not be rational if they were.
- meaningful dialogue is characterized by cooperation. Each participant recognizes in them, to some extent, a common purpose or set of purposes, or at least a mutually accepted direction.

Anyone wishing to engage in meaningful, cogent conversation must follow:

Quantity:
Say no less than the conversation requires.
Say no more than the conversation requires.

Quality:
Don't say what you believe to be false.
Don't say things for which you lack evidence.

Manner:
Don't be ambiguous.
Be brief.
Be orderly.

Relevance:
Be relevant.

باہمی تعاون

آئیں ہم باہمی تعاون بڑھانے کی کوشش کریں۔

ہمارے تعاون کے مفروضے یہ ہیں:
- گفتگو کے شرکا عام طور پر معلوماتی، سچے، متعلقہ اور واضح ہونے کی کوشش کریں گے۔
- ہماری بات چیت کا تبادلہ محض غیر مرپوط گفتگو نہیں ہوگی تاکہ با معنی ہو۔
- بامعنی مکالمے کی شناخت تعاون ہے۔ ہمارا ہر شریک کسی حد تک ایک مشترکہ مقصد یا مقاصد کا مجموعہ یا کم ایک باہمی طور پر قبول شدہ سمت کو تسلیم کرتا ہے۔

ہرسنجیدہ گفتگو میں شریک ہونے والے کو ان اصولوں کی پیروی کرنی ہوگی:

مقدار:
بات چیت ضرورت سے کم نہ ہو۔
بات چیت ضرورت سے زیادہ نہ ہو۔

معیار:
جھوٹ نہ کہیں۔
پغیرثبوت نہ کہیں۔

انداز:
مبہم نہ ہو۔
مختصرہو۔
منظم ہو۔

مطابقت:
متعلقہ ہو.

06/07/2022

COPERATION

At this page we look forward for co-operation among friendd at this page for developing knowledge about:
- Allah's dimensions,
- Pain and it's Management and
- how co-operation among page's friends is possible and to what extent.

تعاون

اس صفحہ پر ہم صفحہ کے دوستوں کے درمیان تعاون کے منتظر ہیں- مقصد مندرجہ ذیل اہم موضوعات کے بارے میں علم حاصل کرنا ہے:
- اللہ کی جہتیں تاکہ اللہ کا عرفان حاصل ہوسکے-
- درد کیا ہے اور اسپر کیسے قابو پایا جائ
- گروپ کے دوستوں کے درمیان تعاون کیسے اور کس قدر ممکن

06/07/2022

اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
لاَ تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلاَ نَوْمٌ
لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ
مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ
وَلاَ يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلاَّ بِمَا شَاءَ
وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاواتِ وَالأَرْضَوَلاَ يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ

Allah! There is no god ˹worthy of worship˺ except Him,
the Ever-Living,
All-Sustaining.
Neither drowsiness nor sleep overtakes Him.
To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth.
Who could possibly intercede with Him without His permission?
He ˹fully˺ knows what is ahead of them and what is behind them, but no one can grasp any of His knowledge—except what He wills ˹to reveal˺.
His Seat encompasses the heavens and the earth, and the preservation of both does not tire Him.
For He is the Most High, the Greatest.

اللہ! اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں،
وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے۔
اس پر نہ غنودگی آتی ہے نہ نیند۔
جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔
کون اس کی اجازت کے بغیر اس کے پاس شفاعت کر سکتا ہے؟
وہ پوری طرح جانتا ہے کہ ان کے آگے کیا ہے اور جو ان کے پیچھے ہے،
لیکن اس کے علم میں سے کوئی بھی نہیں پکڑ سکتا، سوائے اس کے جو وہ ظاہر کرنا چاہے۔
اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو گھیرے ہوئے ہے،
اور دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں ہے۔
کیونکہ وہ سب سے بلند اور سب سے بڑا ہے۔

06/07/2022

بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيم•

"خدا کے نام سے جو مہربان اور رحم کرنے والا ہے"؛

In the name of God, Most Gracious, Most Merciful.

06/07/2022

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں

I seek refuge with Allah from the accursed Satan

05/07/2022

The business of this page is helping each other to get relief from our pains.

We believe we need to have good knowledge about the "pains" and "Dimensions" of our lives to achieve this goal.

We shall search possible remedies and if possible will offer affordable and effective remedies.

We are Muslims and believe in Allah the one and all. We will also try to understand Allah's dimensions. Allah the only creator and the only.

Another objective of this page is to bring to the page ambitious people and get their cooperation to achieve the goal of getting relief from our pains.

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


A 72 Sector X 8 Gulshan E Maymar
Karachi
75430