Hurbz & Shrubz
We deal in some Herbs, Oils & some other Organic & Pure Natural Products.
13/06/2023
19/02/2023
آج کل کے موسم کی سوغات
JUJUBE
جس کو بیر کہتے ہیں۔۔
بے انتہاء فوائد پر مشتمل ہیں جن میں سے چند زیر غور ہیں :
اس میں پوٹاشیم وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جو بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔
اس میں موجود میگنیشیم ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے ۔
یہ قوت مدافعت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
اس میں موجود وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس کینسر میں بچاو کے لیے مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔
بیر کا GI 20 ہے ۔
اس کا استعمال ایک کپ دن میں دو بار کیا جاسکتا ہے ۔
یہ شوگر اور بلڈ پریشر والے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔
24/10/2019
تل کا تیل آرڈر پر دستیاب ہے.
کاپی
(دل آج بہت خوش ھے ایک دوست جن کا شوگر کی وجہ سے ٹانگ پر زخم بگڑ چکا تھا اور کاٹنے کے علاوہ کوئی چانس نہی تھا انہیں میں نے کچھ دن روکا اور تیل والا نسخہ لگانے کے لئے دیا اس کے استعمال سے زخم ٹھیک ہو گیا ابھی ہلکا سا نشان باقی رہ یا ھے وہ بھی دور ہو جائے گا نسخہ پہلے بھی شئیر کر چکا ہوں آج پھر شئیر کیا ھے آپ بھی صدقہ جاریہ سمجھ کر شئیر کریں تا کہ خلق خدا کی بھلائی ہو)
شوگر کے زخم دور کرنے والاآسان اور آزمودہ نسخہ
شوگر کامرض ہونے سے لوگ بہت پریشان رہتے ہیں کیونکہ بعض اوقات احتیاط کے باوجود یہ تکلیف کاباعث بنتی ہے۔شوگر کے مریضوں کے اکثر زخم ہوجاتے ہیں ۔اسے شوگر کاالسر اورگینگرین بھی کہتے ہیں۔جس جگہ یہ زخم ہوجائیں تو جسم کے اس حصے کو ڈاکٹر کاٹنے کامشورہ دیتے ہیں تاکہ یہ جسم کے باقی حصوں کو متاثر نہ کرسکے۔اگر آپ یاآپ کے کسی جاننے والے کے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ ہوتو ایساکچھ بھی کرنے سے پہلے اس نسخے کو آزماکردیکھیں۔دس سے پندرہ دن باقاعدگی سے یہ علاج کریں اسکے بعد آپ جوچاہیں فیصلہ کریں۔میرا آزمودہ ھے
نسخہ بنانے کاطریقہ :
اجزاء :
تِل کاتیل سوگرام
نیم کے تازہ پتے پسے ہوئے چار کھانے کے چمچ
ترکیب :
نیم کے تازہ پتے لے کردھوکراچھی طرح خشک کرکے پیس لیں۔تِل کے تیل میں نیم کے پتوں کاپیسٹ ڈال کر ہلکی آنچ پر اتناپکائیں کہ نیم کے پتے جل جائیں۔
یہ تیل کاٹن کی مدد سے زخموں پرلگائیں اوربینڈج کردیں۔دن میں ایک دفعہ لگائیں ۔ایک ہفتے کے اندر آرام آناشروع ہوجائے گا
================================================
جزاک اللہ خیر کثیرا واحسن الجزا فی الدنیا والاخرہ
17/09/2019
Flex Seeds (Alsi)
السی کے بیج ہزاروں سالوں سے استعمال کئے جارہے ہیں اور ان کے بارے میں آپ نے کافی کچھ سن رکھا ہوگا۔آج ہم آپ کو اس کے کچھ ایسے فوائد بتائیں گے کہ جنہیں جان کر آپ انہیں آزمائے بغیر نہ رہ سکیں گے۔
دل کی صحت کے لئے
دل کی بیماریوں کی ایک بنیادی وجہ خون میں کولیسٹرول کی مقدارمیں اضافہ ہے۔صحت کے جریدے جرنل آف نیوٹریشن کے مطابق جو لوگ دن میں 30گرام السی کے بیج استعمال کرتے ہیں ان میں LDLکولیسٹرول کی مقدار ان لوگوں سے کم پائی گئی جو کولیسٹرول کم کرنے والی ادویات کھارہے تھے۔ماہرین صحت کاکہنا ہے کہ السی کے بیجوں میں فائبرکی وافر مقدار پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ کولیسٹرول کو کم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔
نظام انہضام کے لئے
جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ ان میں فائبر کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے لہذا السی کے بیج کھانے سے معدے پر اس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ان کے باقاعدہ استعمال سے انتڑیوں کو بھی بہت فائدہ ہوتا ہے اور رفائے حاجت میں باقاعدگی آتی ہے اور ساتھ ہی قبض سے نجات مل جائے
میٹابولک سینڈروم کے لئے
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ میٹابولک سینڈروم کی وجہ سے دل کی بیماریاں اور ذیابیطس ٹائپ 2ہوتی ہے۔اس کی وجہ سے ہمارے صحت مجموعی طور پر متاثر ہوتی ہے اور اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس کی وجہ سے جسم میں بہت زیادہ کمزوری محسوس ہوتی ہے اور صحت کے دیگر مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔لیکن اگر آپ السی کے بیج استعمال کرنے لگیں تو اس بیماری سے نجات ملتی ہے یا کم از کم اس کے اثرات میں کافی حد تک کمی آنے لگتی ہے۔
جسمانی سوزش کے لئے
ہمارے جسم میں سوزش کی وجہ سے جوڑوں اور پٹھوں میں درد رہنے لگتا ہے لیکن اگر السی کے بیجوںکا استعمال کیا جائے تو ان مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ان میں اومیگا فیٹی تھری،وٹامن بی1،سیلینیم اور کاپر کی بھرپور مقدار پائی جاتی ہے کس کی وجہ سے جسمانی سوزش کو کم کرتے ہیں اور جوڑوں اور پٹھوں کی درد سے نجات دلاتے ہیں۔
ذیابیطس کے لئے
ان میں موجود فائبر اور اومیگا فیٹی تھری کی وجہ سے یہ ذیابیطس کے لئے بہت مفید پائے گئے ہیں۔ایسے افراد جنہیں ذیابیطس کا خطرہ موجود رہے انہیں چاہیے کہ السی کے بیج باقاعدگی سے استعمال کریں کہ اس طرح ان کے خون میں گلوکوز کی مقدار مقررہ حد سے تجاوز نہ کرے گی۔
کیسے اور کب استعمال کریں
السی کے بیج پیس کر جار میں رکھ لیں ۔ انہیں دو ٹی اسپون کی مقدار میں آٹے کے ساتھ گوندھ کر روٹی کی شکل میں ۔ یا پانی میں ملا کر یا دہی پر چھڑک کر الغرض کسی بھی طریقے سے لیا جاسکتا ہے اصل مقصد جسم میں پہنچانا ہے۔ وقت کی بھی کوئی قید نہیں صبح شام رات جب دل چاہے اور آسانی ہو استعمال کریں.
تمام اقسام کے خالص تیل(سرسوں، ناریل، زیتون، کسٹرائل، بادام، کلونجی) دستیاب ہیں.
27/08/2019
سرسوں کے ساگ کی طرح اس کا تیل بھی توانائی بخش اور صحت کے لیے بے حد مفید ہے ۔سرسوں کا تیل اس کے بیجوں سے کشید کرکے نکالا جاتا ہے۔
یہ تیل پرانے وقتوں میں کھانے پکانے کے لیے نہایت شوق سے استعمال کیا جاتا تھا۔
آج بھی خاص طور پر دیہی علاقوں میں سرسوں کا تیل ہی استعمال کیا جاتاہے،
صرف کھانا پکانے کے لیے ہی نہیں ،بلکہ بطور دوا بھی۔
سرسوں کا تیل صحت افزا ہونے کے ساتھ ساتھ حُسن افزا بھی ہے ۔پرانے وقتوں سے ہی خواتین اپنی جِلد اور بالوں کی خوب صورتی اور صحت کے لیے اسے استعمال کرتی آرہی ہیں ۔سرسوں کا تیل جِلد اور بالوں کی خوب صورتی و رعنائی میں اضافہ کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سرسوں کا تیل جِلد کی خوب صورت اور حفاظت کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
یہ تیل سورج کی تمازت سے جھلس جانے والی جِلد کی درستی میں مدد کرتا اور جِلد پر موجود داغ دھبوں کو صاف کرکے اسے قدرتی نکھار بخشتا ہے۔
سرسوں کے تیل میں حیاتین (وٹامن ای) کی خصوصیات بہت وافر مقدار میں ہوتی ہیں۔
جِلد کی اوپری سطح پر سرسوں کا تیل لگانے سے آپ کی جِلد سورج کی بنفشی شعاعوں کے اثرات سے محفوظ رہتی ہے۔
سرسوں کے تیل کا جسم پر مساج جِلد کو تروتازہ ،جوان وصاف ستھرا کردیتا ہے اور خون کے دورانیے کو تیز کرنے میں معاونت کرتا ہے۔
یہ نہ صرف جِلدی تعدیہ (انفیکشن) ختم کرنے میں نہایت مفید ہے ،بلکہ جِلد کی سوزش وجلن کو کم کرنے میں بھی فائدہ مند ہے ۔اس کے علاوہ زخموں کو بھی بہت تیزی سے مند مل کرتا ہے۔
سرد موسم میں اکثر ہونٹوں کی جِلد خشک ہوجاتی ہے،جس سے ہونٹ پھٹ جاتے ہیں اور ان سے خون بھی رسنے لگتا ہے۔
سرسوں کا تیل پھٹے ہوئے ہونتوں کو اچھا کرنے کا بہترین علاج ہے، لیکن اسے پھٹے ہوئے ہونٹوں پر نہیں لگائیں ،بلکہ رات کو سونے سے پہلے ناف میں دو تین قطرے ڈال کر سوجائیں اور یہ عمل روزانہ کریں۔
اس عمل سے آپ کے ہونٹوں کا پھٹنا پن ختم ہوجائے گا اور وہ کبھی خشک نظرنہیں آئیں گے ۔یہ ایک حیرت انگیز وقدیم علاج ہے ،جو ہونٹوں کو قدرتی نرمی دیتا ہے اور انھیں ملائم و نم آلود رکھنے میں معاونت کرتا ہے۔
سرسوں کا تیل بالوں کی قدرتی غذا ہے، لمبے، گھنے، مضبوط اورچمک دار بالوں کی مناسب نشوونما کے لیے سرسوں کا تیل بہترین ہے ۔
اس کا استعمال بالوں کو ضروری غذائیت فراہم کرتا ہے اور بالوں کی افزایش میں بھی اضافہ کرتا ہے ۔
سرسوں کے تیل کو ہلکا سا گرم کرکے بالوں کی جڑوں میں اچھی طرح مساج کرنے سے بالوں کی نشوونما میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے اور کھوپڑی کا دورانِ خون بھی بڑھ جاتا ہے ۔
سرسوں کا تیل حیاتین اور معدنیات (منرلز) کا مجموعہ ہے ۔اس میں کثیر مقدار میں بیٹا کیروٹین (BETACAROTENE)ہوتی ہے۔
بیٹا کیروٹین جسم میں جا کر حیاتین الف میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔یہ بالوں کے لیے نہایت مفید حیاتین قرار دی جاتی ہے۔
سرسوں کے تیل میں فولاد ، چربیلا تیزاب (فیٹی ایسڈ)، کیلسےئم اور میگنیز ے ئم جیسی اہم معدنیات پائی جاتی ہے ، جو بالوں کی نشوونما میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
سرسوں کا تیل بالوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری غذائی اجزا فراہم کرتا ہے ، جس کی وجہ سے بال گرنا بند ہوجاتے ہیں ۔
یہ گنج پن کو ختم کرنے میں نہایت موٴثر ٹانک کا کام سر انجام دیتا ہے اور خشک وبے رونق بالوں کو چمک دمک وتروتازگی عطا کرتا ہے ۔
یہ تیل سر کی جِلد میں تعدیے کے باعث ہونے والی خارش کے خلاف مدافعت کرتا اور اس سے نجات دلاتا ہے ۔
بالوں میں تیل لگانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ تیل کو ہلکا سا گرم کرکے اُس سے پندرہ منٹ تک سر کا خوب مساج کیا جائے۔
بالوں کو ڈھانپ لیں اور دوتین گھنٹے بعد سرد ھو لیں ۔
یہ عمل بالوں کو ہر قسم کے جِلدی تعدیے سے بچا کر انھیں لمبا،گھنا اور خوب صورت بنا تا ہے ،جس سے بال گرنا بند ہوجاتے ہیں۔
سرسوں کے تیل کی باقاعدگی سے سر میں مالش کرنے سے قبل ازوقت سفید ہونے والے بالوں کے مسئلے سے بھی نجات مل سکتی ہے اور بال قدرتی طور پر سیاہ و چمک دار ہو سکتے ہیں ۔ہر دوسرے دن سونے سے پہلے سرسوں کے تیل سے سر کی مالش کریں ،کچھ دنوں میں ہی آپ کو واضح فرق محسوس ہوگا اور بال سیاہ ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط بھی ہو جائیں گے ۔سرسوں کا تیل بالوں کو صحت مند بناتا ہے ۔
سرسوں کے تیل کو صرف سردیوں میں ہی استعمال کریں تو زیادہ بہتر ہو گا ،اس لیے کہ ا س کی تاثیر گرم ہوتی ہے اور سر د موسم میں اس کا استعمال جِلد اور بالوں کے لیے موٴثر ثابت ہوتا ہے۔
اس تیل میں سے مخصوص سی خوشبو یا مہک نکلتی ہے ،جو بہت سے افراد کو نا گوار گزرتی ہے اور وہ اسے استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں ،لیکن انھیں اس کی مہک کے بجائے اس کے فوائد پر نظر رکھنی چاہیے ۔سرسوں کا تیل مفید تیلوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔
23/08/2019
#کلونجی Black Seed
٭ کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے ٭
(بخاری،Volume 7, Book 71, Number 592 :
Tirmidhi, Vol. 4, Book 2, Hadith 2041
ابن ماجہ، مسند احمد)
حضرت ابو ہریرہؓ راوی ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: کلونجی میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے (بخاری، ابن ماجہ، مسند احمد)
قدیم اطباء کلونجی اور اس کے بیجوں کے استعمال سے خوب واقف تھے۔ وہ کلونجی کے بیج کو معدے اور پیٹ کے امراض مثلاً ریاح، گیس کا ہونا، آنتوں کا درد، نسیان، رعشہ، دماغی کمزوری، فالج اور افزائش دودھ کے لیے استعمال کراتے تھے۔
کلونجی کو ثابت اور پیس کر ہر دو طرح سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی مقدارِ استعمال چوتھائی چمچی سے زیادہ نہیں ہو نی چاہیے۔ نہار منہ شہد میں ملا کر کھائیں یا سالن میں ڈال کر، آپ اس کے فوائد سے مکمل مستفید ہو سکتے ہیں
کلونجی ایک قسم کی گھاس کا بیج ہے۔ اس کا پودا سونف سے مشابہ، خود رو اور تقریباً سَوا فٹ بلند ہوتا ہے۔ کلونجی کے ان بیجوں کی خصوصی مہک ہوتی ہے۔ اسے ادویات کے علاوہ کھانے اور اچار وغیرہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
شعبہ طب میں اسے مصفی دوائی کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
کلونجی کے بیجوں میں فاسفورس، فولاد، اور کاربو ہائڈریٹ کے مرکبات شامل ہوتے ہیں۔
کلونجی کی کیمیاوی تجزیے سے معلوم ہو ا اس میں کیروٹین پایا جاتا ہے جو جگر میں پہنچ کر وٹامن اے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
ان کے علاوہ بھی بہت سے ایسے مرکبات کلونجی میں پائے جاتے ہیں ، جو نظام انہظام کے لیے مفید ہیں۔
یہ بولی امرض کو دور کرتا ہے۔
یہ جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے علاوہ ہر قسم کے امراض کے علاج میں معاون ہے۔
کلونجی کے تیل میں ساٹھ فیصد لینو لیٹک ترشہ (Linoletic Acid) اور تقریباً ۲۱ فیصد Lipase کیمیاوی مادہ پایا جاتا ہے۔ یہ گرم درجہ حرارت میں جسم کو ٹھنڈا رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کلونجی میں پائے جانے والے خصوصی مادے Saponin Vlatile Oil اورNigelline پائے جاتے ہیں جو مختلف بولی امراض میں کارگر ہوتے ہیں۔
اسی لئے نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ کلونجی کو اپنی غذا میں شامل کرو کہ یہ موت کے سوا تمام امراض کے علاج کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مختلف امراض میں کلونجی کے استعمال کی ترکیب حسب ذیل ہے۔
نظام ہضم کیلئے مفید
کلونجی نظام ہضم کی اصلاح کے لئے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ ریاح، گیس اور بد ہضمی میں اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ وہ لوگ جن کو کھانے کے بعد پیٹ میں بھاری پن، گیس یا ریاح بھر جانے اور اپھارے کی شکایت محسوس ہوتی ہو، کلونجی کا سفوف تین گرام کھانے کے بعد استعمال کریں تو نہ صرف یہ شکایت جاتی رہے گی بلکہ معدے کی اصلاح بھی ہوگی۔
دمہ، کھانسی اور الرجی:
ان امراض سے نجات کے لئے ایک کپ گرم پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل چالیس روز تک استعمال کریں۔ سرد اشیاء کھانے سے پرہیز کریں۔
ذیابیطس (شوگر):
ایک کپ قہوہ (کالی چائے)نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ روغنی خوراک بالخصوص تلی ہوئی اشیا کھانے سے پرہیز کریں۔ اگر ذیابیطس کے لئے پہلے سے کوئی دوائی کھا رہے ہوں تو اسے جاری رکھیں۔ البتہ بیس روز بعد خون میں شوگر کا لیول چیک کروائیں۔ ۔
جوڑوں کا درد:
ایک چمچہ سرکہ، نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچہ شہد ملا کر صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل استعمال کریں۔
یادداشت میں کمی:
یاد داشت میں اضافہ کے لئے ایک کپ پانی میں دس گرام پودینے کے پتے ابال لیں۔ اس پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار پئیں۔ یہ علاج بیس روز تک جاری رکھیں۔
عام جسمانی کمزوری:
نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل میں ایک چمچہ شہد ملا کر دن میں ایک مرتبہ استعمال کرنے سے عام کمزوری اور اس کا باعث بننے والے دیگر امراض دور ہو جاتے ہیں۔
دردِ سر:
پیشانی اور کانوں کے قریب کلونجی تیل سے مالش کے علاوہ نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل دن میں دو بار پئیں۔
سانس اور دمے کی تکلیف دور کرنے کیلئے
سانس کی تکلیف، دمے کا مرض، گردے اور جگر کی خرابی ہو یا دوران خون میں نقص کے سبب یا پھر دل کے عارضے ہوں، ان تمام بیماریوں کا موثرعلاج چُٹکی بھر کلونجی کے بیج یا اس کے خالص تیل کے چند قطروں کا مسلسل استعمال ہے۔
بلڈ پریشر کنٹرول کرنے میں مفید
اگر کلونجی کا باقاعدگی سے استعمال کیا جائے تو یہ جسم میں کولیسٹرول کو ختم کرکے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتی ہے، ایک تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کلونجی کے استعمال سے دمہ کنٹرول کرنے میں بہت مدد ملتی ہے جبکہ گلے کے ورم میں بھی یہ بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔گرم چائے یا کافی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ڈال کر دن میں دو بار استعمال کریں۔ اسی کے ساتھ روزانہ دو جوے لہسن بھی استعمال کریں۔
بالو ں کا گرنا:
نیبو کے عرق سے سر کی اچھی طرح مالش کریں۔ ۱۵ منٹ کے بعد بالوں کو شیمپو سے دھو کر اچھی طرح خشک کریں۔ پھر پورے سر پر کلونجی کے تیل کی مالش کریں۔ ایک ہفتہ تک روزانہ کے علاج سے بالوں کا گرنا بند ہو جاتا ہے
کانوں میں درد، پیپ کا بہنا، سماعت میں کمی:
کلونجی کے تیل کو گرم کر کے ٹھنڈا کر لیں۔ متاثرہ کان میں دو قطرے ڈالیں۔
چہرے کی رنگت میں نکھار لانے کیلئے
چہرے کی رنگت میں نکھار اور جلد صاف کرنے کے لئے کلونجی کو باریک پیس کر گھی میں ملا کر روغن زیتوں میں ملا کر استعمال کیا جائے تو اور زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ آج کل نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں کیل ، دانوں اور مہاسوں کی شکایت عام ہے۔ وہ مختلف بازاری کریمیں استعمال کر کے چہرے کی جلد کو مزید خراب کر لیتے ہیں۔ ایسے نوجوان بچے بچیاں کلونجی باریک پیس کر ، سر کے میں ملا کر سونے سے پہلے چہرے پر لیپ کریں اور صبح چہرہ دھولیا کریں۔ چند دنوں میں بڑے اچھے اثرات سامنے آئیں گے اس طرح لیپ کرنے سے نہ صرف چہرہ کی رنگت صاف و شفاف ہو گی اور مہانسے ختم ہو ں گے بلکہ جلد میں نکھار بھی آئے گا.
دانتوں کے امراض:
دانتوں کی کمزوری، دانتوں سے خون نکلنے، ناگوار بو آنے یا مسوڑھوں کے سوج جانے کی صورت میں ایک پیالی دہی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل کھا لیں۔
خون کی کمی (انیمیا):
پودینہ کے پتوں کی ایک شاخ کو پانی میں اُبال کر ایک پیالی جوس بنائیں۔ نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل پئیں۔ یہ نسخہ ۲۱ دن تک استعمال کریں۔
پیٹ میں کیڑے:
ایک چمچہ سرکہ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں تین بار صبح ناشتہ سے قبل، دوپہر اور رات میں استعمال کریں۔ یہ علاج ۱۰دن تک جاری رکھیں۔
بے خوابی:
آرام دہ نیند کے لئے رات کھانے کے بعد نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ایک چمچہ شہد میں ملا کر پئیں۔
23/08/2019
تلبینہ کیا ہے؟
تلبینہ جو کا اور جو کے آٹے کا ایک کھیر نما دلیہ ھے جو دودھ، کجھور، اورشھد کو ملا کر بنتا ھے
(ذیابیطس کے مریض کھجور نہ ڈالیں اگر مجدول کھجور میسر ہے تو لے لیں اس میں کارب اور شکر کی مقدارِ کم ہوتی ہے۔ شہد خالص استعمال کریں بازار سے ملنے والا شہد صرف شکر کا پانی ہے اگر خالص شہد نہ ہو تو تلبینہ اس کے بغیر بنائیں )
شکر کے مریض صرف نمکین دلیہ بغیر دودھ شھد اور کجھور استعمال کریں وہ فائدہ دیتا ھے
جدید طبی تحقیقات نے تلبینہ کو حیرت انگیز غذا اور وسیع الفوائد دوا کے طور پہ تسلیم کیا ھے تلبینہ ایک مکمل غذا ھے جو پورے بدن اور انسانی اعصابی اور مدافعاتی نظام پہ نہ صرف حیرت انگیز اثرات مرتب کرتا ھے بلکہ اسے مضبوط کرتا ھے اور ایسی صورتحال میں کہ کوئی دوا فائدہ نہ کر رھی ھو تو یہ مریض کو دوبارہ اپنے پاوں پہ کھڑا کرتا ھے
اجزاء
جو کا دلیہ 50 گرام
دودھ تازہ 300 ملی لیٹر
کجھور عمدہ 11 دانے
(شکر کے مریض صرف نمکین دلیہ بغیر دودھ شھد اور کجھور استعمال کریں)
شھد خالص دو کھانے کے چمچ
زیتون کا تیل ایک کھانے کا چمچ
تلبینہ کے تمام اجزاء اپنی مثال آپ ہیں لیکن میں صرف ایک جز جو کے بارے میں یہاں بات کرنا چاھتا ھوں جو تقریبا ساری دنیا میں پایا جانے والا اناج ھے اور ساری دنیا کسی نہ کسی طرح اسے اپنی خوراک کا حصہ بناتی ھےلیکن برصغیر پاک و ھند میں عوام اسے ناقابل خوراک چیز تصور کرتی ھے اناج اور دال کے ابواب میں شاید ھی کوئی جنس جو جتنی طاقت اور حکمت کے لیے ھوئے ھو صرف مثال کے لیے بیان کرتا ھوں کہ جو میں دودھ سے زیادہ کیشیم اور پالک سے زیادہ فولاد پایا جاتا ھے اور باقی متفرق معدنیات بھی جو میں پائے جاتے ہیں جو جو کومقوی اعضائے رئیسہ بناتے ہیں مزاج میں معتدل سرد ھونے کہ وجہ سے مقوی جگر اور جگر کی جملہ کمزوریوں اور بیماریوں کو نا صرف دور کرتا بلکہ اسے نئی زندگی دیتا ھے- مقوی اعصاب ھے غم تشویش اور ڈپریشن کو دور کرتا ھے
جو یا تلبینہ کا سب سے اھم فائدہ میٹابولزم نظام کی بحالی ھے ہمارے آرام دہ طرز زندگی اور غیر متوازن خوراک کی وجہ سے ھمارے نوجوانوں کا میٹابولزم سسٹم 60 اور 70 سال کے بوڑھوں کی طرح ھو گیا ھے تلبینہ میٹابولزم سسٹم کی سرعت اور کام کو بحال کر کاے تمام اعضائے رئیسہ کو ان کی اصل کام کرنے کی صلاحیت پہ لاتا ھے
پکانے کا طریقہ
تلبینہ کے بنانے میں جو کے آٹے اور جوکا ذکر ملتا ھے میرا تجربہ یہ ھے کہ جب جو کا دلیہ مشین سے بنوائیں تو اس میں کچھ مقدار آٹا بن جاتا ھے اسے دلیہ سے جدا نہ کریں بڑے شھروں میں رھنے والے بڑے سٹورز سے خالص جو کا دلیہ لیں امپورٹڈ اور ڈبہ بند سے احتراز فرمائیں حکماء حضرات زراعتی علاقوں سے بارانی جوحاصل کر کے خود دلیہ بنوائیں اس کی افادیت زیادہ ھے
جو گندم کے مقابلے میں پکانے میں زرا سخت ھوتا ھے لہذا 100 گرام جو کا دلیہ(یا پکانے کا ایک چمچہ) لے کر اسے گرم پانی میں ایک گھنٹہ پہلے بگھو دیں نرم ھونے پر چولھے پر چڑھا دیں دو سے تیں کپ پانی ڈالیں اور ھلکی آنچ پے پکنے دیں
11 عدد کجھور کو گرم پانی میں بگھوئیں جب دلیہ پک رھا ھو تو گٹھلی نکال کر کجھور کو چھوٹا کاٹ کر ڈال دیں
جب دلیہ نیم پختہ ھو جائے تو دودھ بھی ڈال دیں پکانے کے دوران مسلسل چمچ ہلاتے جائیں تاکے دلیہ برتن کے پیندے سے چپک نہ جائے دلیہ اس طرح پکانا ھے کہ دلیہ کے دانے خوب پک کر دودھ کے ساتھ مل کر گم ھو جائیں اور پکا ھوا دلیہ پتلا رقیق پھرنی کی شکل میں ھو سخت ھونے سے بچائیں جب مکمل پک جائے تو دوچمچ شھد اور ایک چمچ زیتون کا تیل ڈال کر تھوڑا پکا کر اتار لیں میٹھا دیکھ لیں اگر زیادہ لگے تواگلی بار شھد اور کجھور کم کر لیں کم ھو تو اگلی بار بڑھا لیں حسب عادت ٹھنڈا یا گرم باطبیعت استعمال کریں
نوٹ:
تیل زیتون کوتلبینہ میں شامل کرنا میری اپنی اختراع ھے وجہ اسکی تیل زیتون ایک محرک(Activator) اور عمل انگیز(Catalyst) ھے جو جس بھی خوراک اور دوا میں شامل ھو جائے اسکی افادیت کو چار چند بڑھا دیتا ھے
طریقہ استعمال اور فوائد
بہترین وقت صبح کا ناشتہ ھے رات کے کھانے کے طور پہ بھی استعمال ھو سکتا ھے مریض حضرات دن کو دو یا تین بار یا جب دل چاھے کھا سکتے ہیں نیز استعمال اور فوائد کو میں نے مندرجہ ذیل چار بڑے گروپ میں تقسیم کیا ھے
1 چھوٹے بچے (ایک سال سے پندرہ سال تک)
ایسے بچے جو کمزوری، خوراک کی کمی، انیمیا یا آئرن کی کمی یا کسی بھی وجہ یا بیماری سے جسمانی طور پر کمزور ھوں یا ذہنی طور پر پسماندہ ھوں اور پڑھائی میں اچھے نہ ھوں اور سبق یاد رکھنے یا کمزور یاداشت رکھتے ھوں ان کے لیئے تلبینہ ایک بہترین خوراک اور دواء ھے والدین اور خاص کر مائیں ایک بات سمجھ لیں پاکستان میں تقریبا 60 فیصدبچے خوراک کی کمی یا آئرن کی کمی کا شکار ہیں اور بچے میں آئرن کی کمی خون کی کمی پیدا کرتی ھے اور آئرن اور خون کی کمی کا دماغی استتعاعت اور کارکردگی سے بہت ہی گہرا تعلق ھے خون اور آئرن کی کمی والے بچوں کی یاداشت متاثر ھوتی ھے اور وہ بچے آھستہ آھستہ تعلیم میں پیچے رہ جاتے ہیں
ایسے بچوں کو صبح ناشتے میں تلبینہ دیں یا جس وقت بچے خوش ھو کر پیٹ بھر کے کھائیں اور ایک اضافہ نوٹ کریں تیل زیتون کے ساتھ دو کھانے کے چمچ گائے کا خالص گھی بھی شامل کریں انشا اللہ دو ماہ میں آپکا بچہ صحت مند اور پڑھائی میں بہترین کارکردگی دینا شروع کرے گا اور کمزوری کی علامات ختم ھو جائیں گیں
نیز حاملہ، کمزور یا کم وزن خواتین بھی یہی ترکیب استعمال کریں اور پانی نہ ڈالیں دودھ کی مقدار زیادہ کریں
2 نوجوان خواتین و حضرات ورزش کار، کمزور یا کم وزن (سولہ سال سے 25 سال تک)
ایسے خواتین و حضرات جو کسی بھی وجہ سے کمزور یا کم وزن، خون کی کمی، معدے کی خرابی، جگر کی خرابی اور کمزوری، کسی بھی قسم کا ڈپریشن یا غم دماغی کمزوری کا شکار ھوں یا بیماری کے بعد بحالی کی حالت میں ھوں وہ تلبینہ استعمال کریں
اور ایسے نوجوان جو روز اس پیج پہ مردانہ کمزوری یا عمومی کمزوری کا بتا کر نسخہ پوچھتے ہیں تلبینہ ان کے لیے ھے تلبینہ ایک یا دو وقت استعمال کریں خوب ورزش کریں ایک بات ذہن نشیں کر لیں اچھی سے اچھی خوراک اور دوائی بیکار ھے اگر آپ نے ٹی وی کا ریموٹ یا فیس بک چھوڑ کر میدان کا یا جیم کا رخ نہ کریں
ورزش کرنے والے نوجوان یا کھلاڑی اسے استعمال کر سکتے ہیں یہ آپ کے وزن کو برابر رکھ کر آپکا انرجی لیول بڑھاتا ھے اس کیٹیگری میں لوگ کجھور اور دودھ کو بڑھا کر اچھے نتائج حاصل کر سکتے ہیں باڈی بلڈنگ زیادہ جسمانی ورزش والے حضرات 7 عدد چھلے ھوے بادام پیس کر شامل کریں اس سے انرجی لیول اور پروٹین بڑھ جائے گا
3 نوجوان خواتین و حضرات جو وزن کو کم کرنا چاھیں (سولہ سال سے 25 سال تک)
تمام دنیا میں جو یا جو کا دلیہ یا جو کی روٹی یا دوسری جو سے بنائی گئی مصنوعات وزن کو کم کرنے کے لیے افادیت کے لحاظ سے اول نمبر پہ ہیں جو آپ کا وزن کم کرنے میں دو طرح سے کام کرتا ھے ایک تو میٹابولزم کی بحالی سے آپ کے جسم میں توانائی یا کلوریز کی خرچ ھونے کی رفتار کو تیز کرتا ھے اور آپکا وزن کم ھونا شروع ھو جاتاھے
دوسرا جو زیادہ ریشہ دار (High fiber Diet) جو معدے اور جسم پائی جانے والی چکنائی اور دوسرےفاسد مادوں کو جسم سے خارج کرتی ھے
جو یا تلبینہ جگر کے افعال کو بہتر بناتا ھے جس سے آپکے جسم میں چکنائی کو ھضم کرنے کی صلاحیت اور معدے کی ھاضمیت ٹھیک کام کرتی اور آپکا وزن کنٹرول ھونا شروع ھوتا ھے
اور تلبینہ میں موجود شھد توانائی کو بڑھاتا ھے اور وزن کو کم کرنے میں مدد دیتا ھے
آپ کو صرف یہ کرنا ھے تلبینہ بناتے وقت کجھور مت ڈالیں اور شھد کی مقدار بڑھا دیں اور اگر چاھیں تو دودھ کی مقدار بھی کم کر دیں یا بازار سے کم چکنائی والا دودھ(Skimmed milk) لے کر وہ استعمال کریں اور خوراک دو وقت کریں ایک صبح ناشتہ اور رات کا کھانا اور کوشش کریں کہ تلبینہ کے علاوہ رات کو اور کچھ مت کھائیں بہت بھوک کی صورت میں صرف کوئی پھل لے سکتے ہیں اور دوپہر کا کھانا بھی سبزی سلاد اور کم چکنائی والی خوراک اور کوشش کریں کے کھانا زیتون کے تیل میں پکائیں ھلکی ورزش کریں وزن دنوں میں کم ھونا شروع ھو جائے گا
4 بزرگ خواتین و حضرات (پچاس سال سے اوپر )
بزرگ خواتین اور حضرات کے لیئے یہ قدرت کا خاص تحفہ ھے تمام قسم کی کمزوری جو کسی بھی دوائی سے ختم نہیں ھوتی تلبینہ اسے کنٹرول کرتا ھے پیر سالی میں جب جگر تازہ خون بنانا بالکل کم کر دیتا ھے تلبینہ آپ کے Hbکو بڑھا کر مطلوبہ سطح تک لے جاتا ھے
اور پیر سالی میں پائی جانی والی بے وجہ پریشانی اور ڈپریشن کو ختم کرتا ھے ھاضمے کے مسائل حل ھو جاتے ہیں اور جسم میں توانائی اور ٹہراو لاتا ھے
صرف شکر کے مریض کجھور اور شھد کا استعمال اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے کریں جنہیں شھد اور کجھور ممنوع ہو وہ شکر کے مریض صرف نمکین دلیہ بغیر دودھ شھد اور کجھور استعمال کریں وہ فائدہ دیتا ھے
اور آخر میں ایک گزارش تلبینہ کو استعمال کرتے یا کراتے ھوئے بطور سنت استعمال کرنے کی نیت کریں اللہ آپ کو صحت بھی عطا کرے گا ان شاء اللّه اور میرے اور آپ کےمحبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پہ عمل کرنے کا اجر و ثواب بھی
جزاک اللہ خیرا
22/08/2019
Respond herbal massage oil perfect against everyday aches and pains. Respond helps to maintain healthy joints and muscles.
Available in 08ml & 50ml Spray Bottle Packing.
Price
08ml 250/=
50ml 1000/=
Delivery Charges Applicable
Delivery Available for Nationwide.
Cash on Delivery.
Call/WhatsApp +923333410072
22/08/2019
#مورنگا
جدید سائنسی تحقیقات نے ایسے بہت سے درختوں، سبزیوں اور پھلوں کے بارے میں ہمیں بیش بہا معلومات کے حصول تک رسائی دی ہے جنہیں بجا طور پر “کرشماتی پودے” کہا جا سکتا ہے۔ جدید سائنسی تحقیقات کے نتیجے میں اہمیت حاصل کرنے والا ایک پودا “مورنگا” بھی ہے جسے عرف عام میں سوہانجنا بھی کہا جاتا ہے۔
سوہانجنا ایک ایسا پودا ہے جسے بجا طور پر غذائی، طبی اور صعنتی فوائد و اہمیت کا حامل پودا کہا جا سکتا ہے۔ اس پودے کی بہت سی اقسام ہیں تاہم “مورنگا اولیفیرا”( Moringa olifera) اس کی وہ قسم ہے جسکی غذائی اہمیت انسانوں اور جانوروں دونوں کے لئیے تسلیم شدہ ہے ۔
سوہانجنا میں غذائیت
سوہانجنا میں دودھ کے مقابلے میں سترہ گناہ زیادہ کیلشیم موجود ہوتا ہے۔ اسی طرح دہی کے مقابلے میں نو گنا زیادہ پروٹین، گاجر کے مقابلے میں چار گناہ زیادہ وٹامن اے، کیلے کے مقابلے میں پندرہ گناہ زیادہ پوٹاشیم اور پالک کے مقابلے میں انیس گنا زیادہ فولاد موجود ہوتا ہے۔ سوہانجنا میں کلَورَو جِینِک ایسِڈ (chlorogenic acid) جو چینی (Sugar) جذب کرنے کی رفتار کو کم کرتا ہے۔ اس سے خون میں شُوگر کم ہوتی اور ذیابیطس کے مرض میں بہتری آتی ہے۔
کیلشیم، وٹامنز اور پروٹینز کی وافر مقدار کے باعث بچوں کی بڑھوتری میں یہ پودا اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر بچوں کی خوراک میں اسے شامل کیا جائے تو نہ صرف انھیں مختلف بیماریوں سے تحفظ ملے گا بلکہ بچوں کی گروتھ بھی جلد ہوگی۔
نہ صرف پتے، بلکہ اس کرشماتی پودے کے ہر حصے میں اہم غذائی اور طبی فوائد کے حامل اجزا وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں جن میں وٹامنز، کیلسییم، میگنیشیم ، فاسفورس اور زنک وغیرہ شامل ہیں جو کہ بہت سی بیماریوں پر قابو پانے کے لئیے اہمیت کے حامل ہیں۔ جدید طب کے علاوہ سوہانجنا کے مختلف حصوں کا بطور دوا استعمال قدم حکما اور اطبا سے بھی ثابت شدہ ہے ۔ سوہانجنا کی خاص بات یہ ہے کہ اس پودے کا ہر حصہ، بیج، پتے، جڑ وغیرہ قابل استعمال ہے۔
سوہانجنا کے تمام حصوں کو بے شک و شبہ غذا کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پودے کا پھل پھلیوں کی صورت میں لگتا ہے جنہیں پکا کر سبزی ترکاری کے طور پر استعمال میں لانے کے علاوہ اچار کی صورت میں لمبے عرصے تک استعمال کے لئیے محفوظ کیا جاتا ہے ۔
اسی طرح اس کے پھول اور نوزائیدہ کونپلیں بھی پکانے کے کام آتی ہیں مگر انہیں زیادہ دیر تک پکانے سے انکی غذائی افادیت میں کمی آ جاتی ہے۔
اس کے علاوہ سوہانجنا کی سب سے زیادہ استعمال میں آنے والی نوعمر پودوں کی وہ جڑیں ہوتی ہیں جنہیں “سوہانجنے کی مولیاں” کہا جاتا ہے ۔ یہ بھی پکانے اور اچار بنانے کے لئیے استعمال ہوتی ہیں اور اس سے بننے والا اچار لذیذ ہونے کے ساتھ ساتھ صحت بخش اجزا سے بھرپور بھی ہوتا ہے۔
اس کے نیم پختہ بیجوں کو توے پر بھون کر بھی کھایا جا سکتا ہے اور ان کا ذائقہ مونگ پھلی یا کاجو سے مشابہت رکھتا ہے ۔
تحقیقات کے مطابق سوہانجنا کی سب سے زیادہ غذائی اہمیت اس کے تازہ پتوں اور پھولوں میں ہوتی ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ اس کے پتوں کا استعمال خشک سفوف کی صورت میں کیا جاتا ہے۔
پتوں کو چھاوں میں سکھانے کے بعد پیس کر ہوا بند مرتبانوں میں محفوظ کر لیا جاتا ہے اور اطبا کے مطابق بچوں اور بڑوں میں اس سفوف کا استعمال قوت مدافعت بڑھانے کے علاوہ ذہانت میں اضافے کا سبب بھی بنتا ہے۔
پتوں کا رس نکال کر جراثیم کش محلول کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور زمین کی زرخیزی بڑھانے کے لیئے اس کے کچلے ہوئے پتوں کو مٹی میں ملانے سے بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔
دیہات میں آج بھی اس کے ان کِھلے پھولوں(ڈوڈیوں) کو سالن کے طور پر پکایا جاتا ہے جبکہ اس کی جڑوں کا اچار بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے مگر لوگ اس کے غذائی فوائد سے بے خبر ہیں۔
– سوہانجنا جسم کی قدرتی مدافعت بڑھاتا ہے۔ دودھ پلانے والی ماؤں کو زیادہ خوراک اور امائنو ایسڈز کی ضرورت ہوتی ہے جو اس پودے میں مناسب مقدار میں موجود ہیں جبکہ اس میں پایا جانے والا کیلشیم اور فولاد خواتین کو ہڈیوں کی کمزوری اور دیگر امراض سے محفوظ رکھتا ہے.
استعمال کا طریقہ
آپ کو اس کے استعمال کا طریقہ بتاتے ہیں
سوہانجنا کے درخت سے پتے یا شاخیں توڑ لیجیے۔
پتے شاخوں سے الگ کیجیے اور ان کو دھو کر خشک کر لیجیے۔
سائے میں پھیلا کر سکھا لیجیے۔
جب پتے سوکھ جائیں تو ان کو گرائنڈر میں پیس کر پاؤڈر بنا لیجیے اور کسی ایئر ٹائٹ جار میں محفوظ رکھیے۔
روزانہ صبح یا شام ایک چائے کا چمچہ پاؤڈر ڈیڑھ کپ پانی میں خوب اچھی طرح جوش دیجیے اور پھر چائے کی طرح پی لیجیے۔
چاہیں تو مٹھاس کے لیے ایک چمچ شہد بھی ملا سکتے ہیں۔
آپ اس مشروب میں گرین ٹی بھی ملا سکتے ہیں۔
شروع میں ایک چائے کا چمچ پینا شروع کیجیے بعد میں آپ دن میں دو مرتبہ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
زیادہ مقدار میں استعمال نہ کیجیے کہ یہ جسم سے زہریلے مادّے نکالنے کی طاقت رکھتا ہے اور زیادہ مقدار میں لینے کی صورت میں دست آور ہو سکتا ہے۔
جیسا کہ آپ نے پڑھا کہ اس میں تین سو بیماریوں کا علاج موجود ہے جن میں سے بیشتر ایسی بھی ہیں جو لا علاج ہیں۔بلڈ پریشر، کولیسٹرول، سوزش، جگر کی خرابی، شوگر، اینٹی آکسیڈنٹ یعنی بڑھاپے اور جھریوں کو روکنے والا، جوڑوں میں ورم اور سوزش، موٹاپا، دل کے امراض، دماغی صحت کے لیے بہترین، یادداشت کو انتہائی تیز کرتا ہے، نظر کی کمزوری دور کرتا ہے
تاہم حاملہ اور اولاد کی خواہش مند خواتین کو اس پودے کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Cantt Bazar Malir Cantt
Karachi
