Romaisa Bhatti
میں گھر بھر کی لاڈلی رومیصہ �
سوشل میڈیا کے نیکوکار ۔۔۔
فیس بک اور سوشل میڈیا کے نام سے کائنات میں ایک نیا سیارہ وجود میں آیا ہے جہاں صرف نیک لوگ بستے ہیں فرشتہ نما انسان ۔۔ گمان غالب ہے یہ جنتی ارواح ہیں جنکے ہاتھ میں ہر وقت تسبیح اور پیروں کے نیچے مصلیٰ دبا ہوتا ہے ایک دوسرے کو صرف تبلیغ کرتے ہیں ۔ ہر بات بسم اللہ سے شروع ہوتی ہے ماشاءاللہ پہ وقفہ اور الحمداللہ پہ ختم ہوتی ہے معاملات میں بالکل کھرے ہیں لین دین کا کوئی فراڈ نہیں ۔ حاجات سے لا غرض , ہر کوئی اونچےشملے والے خاندان سے تعلق رکھتا ہے بہترین اخلاقیات سے مرصع لوگ ۔۔ اچھی اچھی باتیں کرتے ہوئے بولیں تو باتوں سے زعفران کی خوشبو آئے ۔۔ گلاب و موتیا کے پھول کلیاں جھڑیں ۔۔ کوئی گالی تھپڑ دے تو ہنستے ہنستے جوابی دوسرا گال پیش کرنا ہی اخلاقیات ہیں ۔۔
لیکن اس نومولود سیارے سے باہر نکلیں تو پتہ چلتا ہے دنیا تو دنیا میں ہی بس رہی ہے ۔۔۔ گندے مندے لڑتے جھگڑتے لوگ ۔۔۔ پھر یہ گولہ نہ زمین پہ نہ آسمان پہ آخر کس جہان میں بس رہا ہے ۔
Copied
ساری دنیا کے رہنماؤں کی رہنمائی کُچھ نہیں کر سکتی اگر آپ خود کُچھ نہ کرنا چاہیں
صبح بخیر...
قرض ھنسنا!
یہ قرض کی وہ قسم ہے جس میں جب بھی قرض خواہ مقروض سے اپنی رقم کا تقاضہ کرتا ہے
تو وہ ھنسنا شروع کردیتا ہے-
😂😆🙏
09/11/2023
لیجیے ہم اپنی آفر کے ساتھ حاضر ہیں۔
پچھلے دو ماہ پیج بوسٹنگ پر خرچ کرنے کے بعد ارادہ کیا تھا یہ بجٹ آئندہ ماہ سے اپنے ساتھ اعتماد کرنے والے کسٹمرز کو ریلیف دیا جائے گا
یہ ڈسکاؤنٹ آفر اب تک ہم سے جڑے آن لائن کسٹمرز کے لیے ہی تھی۔
خاص طور پر جو ابتدا سے اب تک ھم خریداری کرتے رھے ہیں مگر پھر مشورے کے ساتھ اسے ہر خاص و عام کے لیے کر دیا گیا
اس آفر کی ترتیب یہ ہے کہ ہماری ان تمام پراڈکٹس پر اتوار تک 350 کا ڈسکاونٹ ہے۔
البتہ جو یہ آفر والی پوسٹ شئیر کرکے سکرین شاٹ واٹس ایپ کریں گے ان کو 450 کا خصوصی ڈسکاونٹ ملے گا۔
پوسٹ شئیر کرنے والے اور بغیر شئیر والے تمام ریٹس پوسٹ میں دیکھ سکتے ہیں۔
اصول و ضوابط:
●کوئی بھی کسٹمر ہر ایک پراڈکٹ ایک ایک کلو ہی خرید سکتا ھے ایک کلو سے کم یا زائد نہیں خرید سکتا۔
●یہ پراڈکٹس اگر ایم اینڈ پی کورئیر سے منگوائیں تو ڈیلوری فری ہے۔
●کسی اور کورئیر سے منگوانے پر وزن کے مطابق ڈاک خرچ لگے گا۔
●اس آفر کے تحت اتوار تک بکنگ جاری رہے گی اور اتوار رات 12 بجے کے بعد یہ آفر ختم ہو جائے گی۔
●کسی بھی پراڈکٹ کا اگر سٹاک ختم ہوگیا تو اس پر سے آفر بھی ختم ہو جائے گی۔
●شئیر کی گئی پوسٹ کا لنک پرسنل میں دینا ھو گا اور اس پوسٹ کو 24 گھنٹے تک کم از کم اپکی وال پر رھنا چاھئیے۔
●یہ آفر کچھ جینٹس اور لیڈیز سوٹس پر بھی ھو گی مگر وہ صرف ھمارے واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کسٹمر کے لیے ھو گی آپ بھی لنک لے کر ایڈ ھو سکتے ہیں۔
09/11/2023
آپ سب کی فرمائش پر خصوصی ڈسکاؤنٹ
گول مٹول ہونے کے بہت سے فوائد ہیں جو ویٹ لاس انڈسٹری نے دنیا سے اوجھل رکھے ہیں۔
ہم جب زمین پر یا لکڑی کی کرسی پر بیٹھیں تو الگ سے کشن کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جب کوئی ہگ کرے تو ہم “سافٹ” سے ہوتے ہیں 😍 ہم پانڈا کی طرح کیوٹ نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ہم ڈھیر سارے ہوتے ہیں اس لیے دور سے ہی نظر آ جاتے ہیں۔ ہم “مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نئیں مردا” کا چلتا پھرتا ثبوت ہوتے ہیں۔ کوئی مائی کا لال ہمیں ہماری جگہ سے ایک انچ نہیں ہلا سکتا۔ ہمارے بچے زیادہ کانفیڈینٹ ہوتے ہیں کیوںکہ غصہ آیا ہو تو ہم بھاگ کر دو لگا نہیں سکتے اور جب تک بچے ہاتھ لگتے ہیں ہمیں یہ بھول جاتا ہے کہ غصہ آیا کیوں تھا۔ ہمارے اوپر چونکہ ان بلٹ سویٹر ہوتا ہے اس لئے ہمیں سردی کم لگتی ہے۔ ٹیکے کو ہڈی تک پہنچنے کا راستہ نہیں ملتا اس لیے ہم درد سے بچ جاتے ہیں۔ ہم مزے سے ڈھیلے ڈھالے کمفرٹیبل کپڑے پہن سکتے ہیں۔ جس دعوت میں جاؤ کیلوریز کا دو جمع دو کا وخت نہیں پڑا ہوتا۔ کھل کے کھاتے ہیں، کھل کے جیتے ہیں۔ بندہ ایویں خواہ مخواہ کھاتے پیتے گھر کا لگتا ہے۔
نیّر تاباں
انسانی عادتوں کے ماہرین نے ڈیٹا کی بنیاد پر ریسرچ کی ہے اور معلوم ہوا دنیا میں 99 فیصد غلط فیصلے دن دو بجے سے چار بجے کے درمیان ہوتے ہیں‘ یہ ڈیٹا جب مزید کھنگالا گیا تو پتا چلا دنیا میں سب سے زیادہ غلط فیصلے دن دو بج کر 50 منٹ سے تین بجے کے درمیان کیے جاتے ہیں۔
یہ ایک حیران کن ریسرچ تھی‘ اس ریسرچ نے ”ڈسین میکنگ“ (قوت فیصلہ) کی تمام تھیوریز کو ہلا کر رکھ دیا‘ ماہرین جب وجوہات کی گہرائی میں اترے تو پتا چلا ہم انسان سات گھنٹوں سے زیادہ ایکٹو نہیں رہ سکتے‘ ہمارے دماغ کو سات گھنٹے بعد فون کی بیٹری کی طرح ”ری چارجنگ“ کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم اگر اسے ری چارج نہیں کرتے تو یہ غلط فیصلوں کے ذریعے ہمیں تباہ کر دیتا ہے‘ ماہرین نے ڈیٹا کا مزید تجزیہ کیا تو معلوم ہوا ہم لوگ اگر صبح سات بجے جاگیں تو دن کے دو بجے سات گھنٹے ہو جاتے ہیں۔
ہمارا دماغ اس کے بعد آہستہ آہستہ سن ہونا شروع ہو جاتا ہے اور ہم غلط فیصلوں کی لائین لگا دیتے ہیں چناں چہ ہم اگر بہتر فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں دو بجے کے بعد فیصلے بند کر دینے چاہئیں اور آدھا گھنٹہ قیلولہ کرنا چاہیے‘ نیند کے یہ30 منٹ ہمارے دماغ کی بیٹریاں چارج کر دیں گے اور ہم اچھے فیصلوں کے قابل ہو جائیں گے‘ یہ ریسرچ شروع میں امریکی صدر‘ کابینہ کے ارکان‘ سلامتی کے بڑے اداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سی ای اوز کے ساتھ شیئر کی گئی۔
یہ اپنے فیصلوں کی روٹین تبدیل کرتے رہے‘ ماہرین نتائج نوٹ کرتے رہے اور یہ تھیوری سچ ثابت ہوتی چلی گئی‘ ماہرین نے اس کے بعد ”ورکنگ آوورز“ کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا‘آفس کے پہلے تین گھنٹے فیصلوں کے لیے بہترین قرار دے دیے گئے‘ دوسرے تین گھنٹے فیصلوں پر عمل کے لیے وقف کر دیے گئے اور آخری گھنٹے فائل ورک‘ کلوزنگ اوراکاؤنٹس وغیرہ کے لیے مختص کر دیئے گئے‘ سی آئی اے نے بھی اس تھیوری کو اپنے سسٹم کا حصہ بنا لیا۔
مجھے جنرل احمد شجاع پاشا نے ایک بار بتایا تھا‘ امریکی ہم سے جب بھی کوئی حساس میٹنگ کرتے تھے تو یہ رات کے دوسرے پہر کا تعین کرتے تھے‘ میں نے محسوس کیا یہ میٹنگ سے پہلے ہمارے تھکنے کا انتظار کرتے ہیں چناں چہ ہم ملاقات سے پہلے نیند پوری کر کے ان کے پاس جاتے تھے۔میں نے برسوں پہلے ایک فقیر سے پوچھا تھا ”تم لوگ مانگنے کے لیے صبح کیوں آتے ہو اور شام کے وقت کیوں غائب ہو جاتے ہو“ فقیر نے جواب دیا تھا ”لوگ بارہ بجے تک سخی ہوتے ہیں اور شام کو کنجوس ہو جاتے ہیں‘ ہمیں صبح زیادہ بھیک ملتی ہے“ ۔
مجھے اس وقت اس کی بات سمجھ نہیں آئی تھی لیکن میں نے جب دو بجے کی ریسرچ پڑھی تو مجھے فقیر کی بات سمجھ آ گئی‘ آپ نے بھی نوٹ کیا ہوگا آج سے پچاس سال پہلے لوگ زیادہ خوش ہوتے تھے‘ یہ شامیں خاندان کے ساتھ گزارتے تھے‘ سپورٹس بھی کرتے تھے اور فلمیں بھی دیکھتے تھے‘کیوں؟ کیوں کہ پوری دنیا میں اس وقت قیلولہ کیا جاتا تھا‘ لوگ دوپہر کو سستاتے تھے مگر انسان نے جب موسم کو کنٹرول کر لیا‘ یہ سردی کو گرمی اور گرمی کو سردی میں تبدیل کرنے میں کام یاب ہو گیا تو اس نے قیلولہ بند کر دیا چناں چہ لوگوں میں خوشی کا مادہ بھی کم ہو گیا اور ان کی قوت فیصلہ کی ہیت بھی بدل گئی۔
ریسرچ نے ثابت کیا ہم اگر صبح سات بجے اٹھتے ہیں تو پھر ہمیں دو بجے کے بعد ہلکی نیند کی ضرورت پڑتی ہے اور ہم اگر دو سے تین بجے کے دوران تھوڑا سا سستا لیں‘ ہم اگر نیند لے لیں تو ہم فریش ہو جاتے ہیں اور ہم پہلے سے زیادہ کام کر سکتے ہیں‘ پوری دنیا میں فجر کے وقت کو تخلیقی لحاظ سے شان دارسمجھا جاتا ہے‘ کیوں؟ ہم نے کبھی غور کیا‘ اس کی دو وجوہات ہیں‘ ہم بھرپور نیند لے چکے ہوتے ہیں لہٰذا ہمارے دماغ کی تمام بیٹریاں چارج ہو چکی ہوتی ہیں اور دوسرا فجر کے وقت فضا میں آکسیجن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور آکسیجن ہمارے دماغ کے لیے اکسیر کاد رجہ رکھتی ہے۔
یہ ذہن کی مرغن غذا ہے چناں چہ ماہرین کا دعویٰ ہے آپ اگر بڑے فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو آپ یہ کام صبح بارہ بجے سے پہلے نمٹا لیں اور آپ کوشش کریں آپ دو سے تین بجے کے درمیان کوئی اہم فیصلہ نہ کریں کیوں کہ یہ فیصلہ غلط ہو گا اور آپ کو اس کا نقصان ہو گا
(منقول)
08/11/2023
پچھلے دو ماہ پیج بوسٹنگ پر خرچ کرنے کے بعد ارادہ کیا تھا یہ بجٹ آئندہ ماہ سے اپنے ساتھ اعتماد کرنے والے کسٹمرز کو ریلیف دیا جائے گا
یہ ڈسکاؤنٹ آفر اب تک ہم سے جڑے آن لائن کسٹمرز کے لیے ہی تھی۔
خاص طور پر جو ابتدا سے اب تک ھم خریداری کرتے رھے ہیں مگر پھر مشورے کے ساتھ اسے ہر خاص و عام کے لیے کر دیا گیا
اس آفر کی ترتیب یہ ہے کہ ہماری ان تمام پراڈکٹس پر اتوار تک 350 کا ڈسکاونٹ ہے۔
البتہ جو یہ آفر والی پوسٹ شئیر کرکے سکرین شاٹ واٹس ایپ کریں گے ان کو 450 کا خصوصی ڈسکاونٹ ملے گا۔
پوسٹ شئیر کرنے والے اور بغیر شئیر والے تمام ریٹس پوسٹ میں دیکھ سکتے ہیں۔
اصول و ضوابط:
●کوئی بھی کسٹمر ہر ایک پراڈکٹ ایک ایک کلو ہی خرید سکتا ھے ایک کلو سے کم یا زائد نہیں خرید سکتا۔
●یہ پراڈکٹس اگر ایم اینڈ پی کورئیر سے منگوائیں تو ڈیلوری فری ہے۔
●کسی اور کورئیر سے منگوانے پر وزن کے مطابق ڈاک خرچ لگے گا۔
●اس آفر کے تحت اتوار تک بکنگ جاری رہے گی اور اتوار رات 12 بجے کے بعد یہ آفر ختم ہو جائے گی۔
●کسی بھی پراڈکٹ کا اگر سٹاک ختم ہوگیا تو اس پر سے آفر بھی ختم ہو جائے گی۔
●شئیر کی گئی پوسٹ کا لنک پرسنل میں دینا ھو گا اور اس پوسٹ کو 24 گھنٹے تک کم از کم اپکی وال پر رھنا چاھئیے۔
●یہ آفر کچھ جینٹس اور لیڈیز سوٹس پر بھی ھو گی مگر وہ صرف ھمارے واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کسٹمر کے لیے ھو گی آپ بھی لنک لے کر ایڈ ھو سکتے ہیں۔۔۔
واٹس ایپ رابطہ:
+92 312 9188551
سنا تھا ناموں کے کاموں پر اثرات ہوتے ہیں. دیکھ بھی لیا. نام ہے میکس ویل. میکس مطلب میکسیمم یعنی فل، زیادہ سے زیادہ اور ویل مطلب اچھا.. تو اس نے کردکھایا زیادہ سے زیادہ بھی اور اچھا بھی.. اب ہم سوچ رہے کہ ہم اگر اپنے کھلاڑیوں سے ایسی کارکردگی کی آرزو رکھیں تو ان کیا نام ہونے چاہئیں. ہم نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی سہولت کے لیے کچھ نام سوچے ہیں..
ون ڈے بیٹرز کے لیے..
بہت زیادہ ترین
سمیٹو جٹ
لپیٹو گجر
رانا انے واہ
ٹیسٹ بیٹرز
محتاط میمن
صابر علی
دھیان خان
دیکھ بھال سنگھ
باؤلرز کے لیے
تیزخٹک
ایکوریٹ خان
باریک بین چوہدری
گھماؤ راؤ
چکری چن
آپ بھی حسب توفیق پاکستان کرکٹ بورڈ کی مدد کرسکتے ہیں
بہت زیادہ خیر اندیش
( ابن فاضل)
انسانی دماغ کا میموری کارڈ
2.5 پینٹا بائیٹ یعنی آلموسٹ 25 لاکھ GB کا ہوتا ہے
لیکن اس 25 لاکھ کی دھجیاں بکھیرنے کے لیے 1 محبوب ہی کافی ہوتا ہے🌚۔
07/11/2023
"اپنے روزمرہ کے معمولات کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں، مثال کے طور پر، ٹی وی پر بیٹھ کر کرسی دیکھیں۔"
➖ چارلس بوکوسکی
پوسٹ لازمی پڑھیں،اچھی لگی تو سوچا آپ سب سے بھی شیئر کروں
شروعات میں لگتا ہے، نومولود بچے کو سنبھالنا مشکل ہے۔
پھر لگتا ہے ایک سال کے بچے کو سنبھالنا زیادہ مشکل ہے۔
پھر لگتا ہے تین سال کے بچے کو،
پھر لگتا ہے پانچ سال کے بچے کو،
پھر لگتا ہے گیارہ سال کے بچے کو،
پھر لگتا ہے پندرہ سال کے بچے کو،
پھر انیس سال کے،
پھر بائیس سال کے،
پھر ستائیس۔
پھر تو لگتا ہے اب تو گیا بچہ ہاتھ سے۔
جب کہ مسئلہ بڑھتے ہوئے بچے نہیں۔
ہم خود ہیں۔
ہم یہ سیکھتے ہی نہیں کہ بچے کو کیا سکھانا ہے۔
اس لیے ہم زیادہ تر وقت ان کے برتاؤ جو قابو میں کرتے گذارتے ہیں۔
یہ کرو۔
یہ نہ کرو۔
جب کہ کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم انہیں بتائیں کہ کون سا کام کیسے کرنا ہے۔
لیکن جب ہم انہیں یہ نہیں سکھاتے اور چاہتے ہیں کہ وہ وہی کریں جو ہم کریں تو بچے ہو جاتے ہیں فرسٹریٹ۔
فرسٹریشن سے بنتی ہے ضد اور ضد سے بنتا ہے غصہ۔
آپ دیکھیں گے بہت ہی کم ایسے پیرینٹس ہوں گے جو یہ کہیں گے کہ ان کا بچہ غصہ نہیں کرتا یا ضدی نہیں ہے۔ ایسے بھی پیرنٹس ہیں لیکن بہت ہی کم۔
یہاں کمنٹس میں میری پوری فرنڈ لسٹ بھی یہ کہے کہ ہمارے بچے غصہ نہیں کرتے ضد نہیں کرتے تو وہ سب پیرنٹس مل ملا کر بھی بہت کم ہوں گے۔
یہ اب گھر گھر کا مسئلہ بن چکا ہے۔
مسئلہ تو بہت بڑا ہے لیکن اس کا حل مشکل ہے مگر ناممکن نہیں۔
بچوں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کے بجائے انہیں دنیا کو ایکسپلور کرنے دیں۔
جب ان سے کام غلط ہو گا وہ آپ کے ہی پاس آئیں گے۔
جب انہیں معلوم ہو گا کہ آپ کے پاس حل ہے تو وہ خودبخود آپ کی ہر بات مانیں گے۔
جب انہیں لگے گا آپ انہیں ڈانٹ مار کے بجائے حل بتائیں گے تو ان میں آپ سے ہر بات شئیر کرنے کا حوصلہ پیدا ہوگا۔
ان میں کچھ نیا کرنے کی ہمت آئے گی۔
وہ آگے بڑھیں گے۔
وہ کامیاب ہوں گے۔
وہ آپ کا مان بنیں گے۔
طوبیٰ منظور
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Karachi Pakistan Sindh
Karachi
