Healthy Society Pakistan

Healthy Society Pakistan

Share

"HEALTHY SOCIETY PAKISTAN" IS A WELFARE ORIENTED ORGANIZATION CREATED WITH AN AIM OF BUILDING SOCIETY HEALTHY IN ALL RESPECTS OF LIFE. I

04/07/2025

Today at China Park.. ❤️

04/07/2025

Zuhair at China Park

02/07/2025

Involve children in healthy activities at early age....

02/07/2025

Health is nothing, But a Happy Mind
"Healthy Society Pakistan"
❤️❤️❤️

22/09/2024

پیارے دوستو،

ہیلتھ سوسائٹی پاکستان (HSP) کا آج کا منی جوائنٹ سیشن ہر لحاظ سے شاندار رہا۔ HSP کی تعلیمات کے مطابق خدمت خلق کا مظاہرہ واقعی غیر معمولی تھا۔

پارک کے اندر غزنوی پارک کے ممبران کی طرف سے لوبیا چاٹ اور چائے جیسے شاندار کھانوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ کچوری، کھجور اور اویس بھائی کے گھر کے باغات سے اور تازہ ناریل ہمارے اراکین کی شاندار مہمان نوازی کو ظاہر کرتا ہے۔ غزنوی پارک اور چائنہ پارک کے بھائیوں نے بہترین خدمات انجام دیں، اور غزنوی اور چائنا پارک دونوں کے ممبران کیطرف سے محبت اور مہمان نوازی کا ایک خوبصورت مظاہرہ تھا۔

میں خاص طور پر مسٹر اویس کا مزیدار ناریل اور ان کا تازہ پانی پیش کرنے اور مسٹر سلمان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے میزبان پارکس کے دیگر اراکین کے ساتھ مہمان نوازی میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ آپ سب اپنی کاوشوں کے لیے بے پناہ تعریف کے مستحق ہیں۔

میں تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ہمیشہ HSP کے ان ممبران کو یاد کرتے ہیں جو مختلف وجوہات کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکے۔

بہت شاباش اور ہمیں اسی طرح اچھی کوششیں جاری رکھنی چاہیں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں ہمیشہ خوش و خرم اور صحت مند زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ہیلتھی سوسائٹی پاکستان زندہ باد!

دل کی گہرائیوں سے،
اپکا بھائی،
ایم زاہد مقصود
👍🥥☕ 🙏🧘‍♂️🌹🌴🇵🇰

Photos from Healthy Society Pakistan's post 22/09/2024

پیارے دوستو،

ہیلتھ سوسائٹی پاکستان (HSP) کا آج کا منی جوائنٹ سیشن ہر لحاظ سے شاندار رہا۔ HSP کی تعلیمات کے مطابق خدمت خلق کا مظاہرہ واقعی غیر معمولی تھا۔

پارک کے اندر غزنوی پارک کے ممبران کی طرف سے لوبیا چاٹ اور چائے جیسے شاندار کھانوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ کچوری، کھجور اور اویس بھائی کے گھر کے باغات سے اور تازہ ناریل ہمارے اراکین کی شاندار مہمان نوازی کو ظاہر کرتا ہے۔ غزنوی پارک اور چائنہ پارک کے بھائیوں نے بہترین خدمات انجام دیں، اور غزنوی اور چائنا پارک دونوں کے ممبران کیطرف سے محبت اور مہمان نوازی کا ایک خوبصورت مظاہرہ تھا۔

میں خاص طور پر مسٹر اویس کا مزیدار ناریل اور ان کا تازہ پانی پیش کرنے اور مسٹر سلمان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے میزبان پارکس کے دیگر اراکین کے ساتھ مہمان نوازی میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ آپ سب اپنی کاوشوں کے لیے بے پناہ تعریف کے مستحق ہیں۔

میں تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ہمیشہ HSP کے ان ممبران کو یاد کرتے ہیں جو مختلف وجوہات کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکے۔

بہت شاباش اور ہمیں اسی طرح اچھی کوششیں جاری رکھنی چاہیں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں ہمیشہ خوش و خرم اور صحت مند زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ہیلتھی سوسائٹی پاکستان زندہ باد!

دل کی گہرائیوں سے،
اپکا بھائی،
ایم زاہد مقصود
👍🥥☕ 🙏🧘‍♂️🌹🌴🇵🇰

02/06/2024

☆☆"مدھم ہوتے ہوئے لوگوں کی کہانی"☆☆
تحریر: مونا شہزاد، کیلگری، کینیڈا۔
وہ دانت پیس کر غرائی:
"اماں جی! اس کھانے میں زہر نہیں ہے ۔کھانا ہے تو کھا لو۔"
وہ انتہائی شدید غصے میں تھی۔ اس کے ماتھے پر بل پڑے ہوئے تھے۔اس نے اماں جی کے آگے کھانا پٹخ دیا اور اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ کھانا کھانے میں مشغول ہوگئی۔ اماں جی کے بیٹے کے چہرے پر بھی بیزاری کے تاثرات گہرے تھے۔ وہ گاہے بگاہے ماں پر شعلہ بار نظر ڈالنا بھول نہیں رہا تھا۔ اماں جی نے سہم کر کھانا کھانا شروع کردیا تھا۔ میں ان کی بالکل برابر والی میز پر اکیلی بیٹھی تھی۔ میری آنکھیں رو رو کر بری طرح سوج چکی تھیں ۔ میں اڑتالیس گھنٹے کا سفر کر کے پچھلی رات ہی پاکستان پہنچی تھی۔ میرے دونوں والدین شدید علیل تھے ۔میں اباجی کی بیماری کے باعث اسپتال میں ان کے ساتھ مقیم تھی، مجھے اباجی کے چہرے پر کھنڈی موت کی زردی نے دہلا دیا تھا۔ مجھے عزرائیل کی گہری چاپ سنائی دے رپی تھی۔ میرے اعصاب ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے۔ میرا جسم دکھ رہا تھا اور میری روح کرلاتی پھر رپی تھی۔ اباجی کے اصرار پر میں اسپتال میں واقع کینٹین میں کھانا کھانے آئی تھی۔ میرے سامنے نعمت موجود تھی مگر بھوک ندارد تھی۔ میں زبردستی خود کو سمجھا بجھا کر کھانا کھلا رہی تھی۔۔ میری توجہ غیر ارادی طور پر ہی اس خاندان کی طرف مبذول ہوگئی۔ میں نے اماں جی کی جانب غور سے دیکھا مجھے ان کے کھانے کے طریقے سے ایک غیر معمولی سا احساس ہوا۔غیر ارادی طور پر میری توجہ اس خاندان کے بات چیت پر مبذول ہوگئی۔
بہو بہت ہی تلخ لہجے میں کہہ رہی تھی:
"مجھے لگتا ہے کہ یہ سب کیا دھرا تمھاری بہن کا ہے۔ وہ ہی تمھاری ماں کو سکھاتی پڑھاتی رہتی ہے۔ ارے بھلا کیسے کوئی باتھ روم جانا بھول سکتا ہے۔اپنے بچوں کو میں سنبھالوں یا تمھاری ماں کے گند۔سونے پر سہاگہ اماں جی ہر وقت مجھ پر شک کرتی رہتی ہیں کہ میں انھیں زہر دے رہی ہوں۔ ارے بھلا ان کے پاس کون سا خزانہ ہے جو میں نے انھیں مار کر لوٹ لینا ہے۔"
بیٹا بے زاری سے بولا:
"بس کر نا میرا دماغ کھا۔ آگے ہی اسپتال کے بل نے میری مت مار رکھی ہے۔ بس اب نہیں دوبارہ اتنے مہنگے اسپتال میں آنا۔ کوئی علاج نہیں ان ڈاکٹروں کے پاس۔ "
مجھے فوری طور پر اندازہ ہوگیا کہ اماں جی Alzheiemer کی مریضہ تھیں۔ابھی میں اسی سوچ میں گم تھی کہ اماں جی کو ٹھسکہ لگ گیا۔ کھانستے کھانستے ان کی حالت بری ہوگئی۔ان کا بیٹا اور بہو بادل ناخواستہ اٹھے اور اماں جی کی خبرگیری کرنے لگے۔ مجھے اس وقت شدت سے احساس ہوا کہ پاکستان میں زہنی بیماریوں کو کسی طور پر بیماری نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ایک "ڈھونگ" ، "تماشا" ،"چالبازی"، "جادو ٹونا"، "نظر بد" جیسے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ ہمارے لوگوں کے لئے ماہر نفسیات ابھی تک "پاگلوں کا ڈاکٹر " ہی ہے۔ میں نے اسی وقت تہیہ کیا تھا کہ اس بارے میں ضرور قلم اٹھاوں گی۔
اس لئے آج ہم بات کریں گے۔
Dementia, Alzheiemer.

بڑھاپے کے وہ عفریت ہیں جو خوبصورت اور رنگ برنگے لوگوں کو بے رنگ بنا دیتے ہیں۔جب آپ کے والدین بھولنے لگیں، چھوٹی چھوٹی باتیں بار بار تفصیل سے دہرانے لگیں، مزاج میں ترشی اور تلخی آنے لگے، اکثر اوقات کھانا کھانا، باتھ روم جانا بھولنے لگیں تو انھیں الزام مت دیجئے ۔ وہ آپ کو تنگ نہیں کررہے وہ جان بوجھ کر کچھ نہیں کررہے ،وہ بے بس ہیں کیونکہ شہزادے یا شہزادی کے دماغ میں وقت کی سوئیاں ثبت ہوچکی ہیں ، اب وہ وقت کی حدود سے نکل چکے ہیں۔ اب ماضی اور حال کی حدبندی ختم ہوچکی ہے۔اب ہر جانب ایک لامتناہی خلا ہے۔ رنگ کب کے اڑ چکے ہیں۔ہر طرف اب صرف سیاہ اور سفید رنگ کی حکمرانی ہے۔ Dementia اور Alzheiemer کا عفریت دانت نکوسے اپنی حکمرانی پر نازاں ہوتا ہے۔
آپ نے اکثر بوڑھوں کو شک کرتے ہوئے دیکھا ہوگا کہ ان کے بچے انھیں مارنا چاہتے ہیں۔ کچھ بزرگ نام بار بار بھول جاتے ہیں۔ کچھ بزرگ اپنی مال متاع کو ہر وقت سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔کچھ چلنے میں دشورای محسوس کرنے لگتے ہیں۔ کچھ حال کو بھول کر ماضی میں جینے لگتے ہیں۔ یہ سب نشانیاں ALZHEIEMER کی ہیں۔
الزائمیر درحقیقت Dementia کی ایک قسم ہے۔ اس کا نام ڈاکٹر الزائمیر کے پیچھے الزائمیر رکھا گیا جس نے 1906 میں اس بیماری کو پکڑا ۔ انسانی دماغ میں ایک سو بلین خلئیے ہوتے ہیں۔انسانی دماغ ایک فیکٹری کی طرح ہوتا ہے ۔جس میں خلیوں میں توڑ پھوڑ، مرمت، توانائی کی پیداوار، معلومات کی سٹوریج، برقی رابطے سب کچھ چل رہا ہوتے ہے۔ جب انسانی دماغ میں plaque جمع ہونے لگتی ہے اور خلیے ایک دوسرے سے entangled ہونے لگتے ہیں تو سمجھیں شارٹ بریک کی سی کیفیت برپا ہونے لگتی ہے۔ ہمارا brain جسم کی ریاست کا بادشاہ king ہے۔ الزائمیر کنگ کو بے دست و پا کردیتا ہے۔ الزائمیر کا آغاز بھولنے کی بیماری سے ہوتا ہے۔ پھر روئیے میں تبدیلی، moodiness, شک، ماضی اور حال کے امتیاز کا ختم ہوجانا، باتھ روم جانے کی حاجت کے احساس کا خاتمہ، ( جس کے نتیجے میں accidents)چلنا بھول جانا، جسم کا balance ختم ہوجانا۔کھانا کھانا بھول جانا، choke ہوجانا۔ جیسی علامات سے ہوتا ہے۔ عام طور پر آٹھ سے دس سال میں اس کا مریض دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ اس مرض کا آغاز عام طور پر ساٹھ سال کی عمر کے لوگوں سے ہوتا ہے۔مگر حال ہی میں چند کیسز جوان لوگوں کے بھی پکڑے گئے ہیں۔ یہ ایک ایسا مرض پے جو انسان سے اس کی رعنائی، شادابی سب کچھ چھین لیتا ہے۔
میں نے اپنی نانی اور دادی دونوں کو آخری عمر میں اس کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔ وہ خواتین جن کے وقار کی مثالیں لوگ دیتے تھے۔ وہ آخری عمر میں اس مرض سے ہار گئی تھیں۔ میری دادی جب مجھ سے پوچھتی تھیں:
"تم کون ہو؟"
تو میرا دل خون کے آنسو رو پڑتا تھا۔ ان کا میت ان کا زکا اس دور میں ان کے لئے زندہ تھا جس کو وہ چوبیس سال کی عمر میں بیوہ ہوکر کھو بیٹھی تھیں۔
میری نانی ایک پرجلال اور دبنگ خاتون تھیں۔جن کے آگے ہم سب سر تسلیم خم کئے رکھتے تھے مگر میرے کینیڈا آنے کے بعد انھیں بھی الزائمیر ہوگیا تھا۔ کبھی کبھی وہ فون پر مجھے پہچان لیتی تھیں ورنہ زیادہ اوقات یہی پوچھتی رہتیں۔
"کس کی بیٹی ہو تم؟"
یہ ایک سوال نہیں ایک صدا ہوتی ہے جو دل کو چیر جاتی ہے۔جن لوگوں کا عروج آپ نے دیکھا ہوتا ہے انھیں یوں بےچین اور لاپتہ دیکھنا آسان کام نہیں ہے۔ الزائمیر ایک ایسا ڈاکو ہے جو ایک شخص سے اس کی پہچان، محبتیں، رفاقتیں، ناراضگیاں، دکھ،پریشانیاں سب کچھ چھین لیتا ہے اور اس کے بعد صرف ایک سادہ سلیٹ باقی رہ جاتی ہے جس پر کوئی رنگ،کوئی ہندسہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔
میرے اباجی کو بھی بیماری کے آخری دنوں میں الزائمیر ہوگیا تھا۔ کینسر ان کے دماغ میں اس بری طرح سرایت کرچکا تھا کہ پندرہ دنوں کے اندر اندر وہ حال کو خیرباد کہہ گئے تھے۔جب وہ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہتے تھے:
"اے بیٹے! تمھارا نام مجھے یاد نہیں آتا۔"
تو میرے دل پر وار ہوتا تھا۔ وہ مجھے میری خالاوں کے نام سے پکارتے جو ان کی ماموں زاد بہنیں بھی تھیں۔ مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ پندرہ دن پہلے مجھے میرے نام سے پکارنے والے اباجی اب کہیں مدہم ہوتے جارہے تھے۔جس ہاتھ کو میں نے پکڑ کر چلنا سیکھا تھا اب وہ بے بس ہوچکا تھا۔میرے ابا اب میرے ابا نہیں رہے تھے۔وہ ایک خالی سلیٹ بنتے جارہے تھے۔میرے زہین فطین ، شاعر ، کیمسٹ ابا کہیں گم ہوگئے تھے ۔میں شدت سے اس سلیٹ کو رنگوں اور عبارتوں سے سجانا چاہتی تھی مگر تقدیر میری ہر کوشش کو مٹا رہی تھی۔ یہاں تک کہ میری واپسی کا دن آپہنچا۔ میں جب آخری بار اباجی کو ملی تو اس روز انھوں نے نیم غنودگی میں میرا، میرے شوہر اور بچوں کے نام لئیے اور دعائیں بھی دیں۔ اس کے بعد مجھے کبھی ان سے ملنا نصیب نہیں ہوا۔ ہم پردیسی زرتار خوابوں کے سوداگر اس بیوپار کی بہت بڑی قیمت چکاتے ہیں۔ ہمارے پیروں میں بیڑیاں پڑ جاتی ہیں۔ہم خانہ بدوش دور دیسوں کے ہی ہوجاتے ہیں اور انھی دیسوں میں ہم خاک میں مل جاتے ہیں۔ہمیں نہارتی آنکھیں مٹی میں مل جاتی ہیں ۔ہم سر جھکائے پھر کوہ ندا کی پکار پر دوڑے واپس چلے آتے ہیں۔یہ کہانی میرے قریبی رشتوں کی ہے جنھیں میں نے مدہم ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
یہ سب لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ اگر آپ کے والدین میں سے کوئی الزائمیر کا شکار ہے تو صبر و برداشت کے ساتھ اس کے ساتھ معاملہ فرمائیں۔ اس بیماری کو "ڈھونگ" یا "آسیب" نا سمجھیں۔بلکہ اس بات کو سمجھیں کہ الزائمیر کے باوجود بے رنگ ہونے کے باوجود وہ آپ کا اپنا پیارا ہی ہے۔ ان کی اجنبیت کو اپنی انا کا روگ مت بنائیں۔بس نرمی سے ہاتھ تھامے راہگزر پر چلتے جائیں۔ مدہم ہوتے ہوئے لوگوں کے دکھ کو محسوس کیجئیے۔ایک خودمختار شخص سے ایک لاپتہ شخص بننے تک کا سفر بہت ہی تکلیف دہ ہوتا ہے۔
دعاوں میں یاد رکھیں۔
اللہ نگہبان۔

03/02/2024
23/11/2023

*The surprise has arrived!*

The director of the George Washington University School of Medicine maintains that the brain of an elderly person is much more practical than is commonly believed. At this age, the interaction of the left and right hemispheres of the brain becomes harmonious, which expands our creative possibilities. That is why among people over the age of 60 you can find many personalities who have just started their creative activities.

Of course, the brain is no longer as fast as it was in youth. However, it gains in flexibility. Therefore, with age, we are more likely to make the right decisions and less exposed to negative emotions. The peak of human intellectual activity occurs around the age of 70, when the brain begins to work in full force.

Over time, the amount of myelin in the brain increases, a substance that facilitates the rapid passage of signals between neurons. Due to this, intellectual abilities increase by 300% compared to the average.

Also interesting is the fact that after 60 years a person can use 2 hemispheres at the same time. This allows you to solve much more complex problems.

Professor Monchi Uri, from the University of Montreal, believes that the elderly brain chooses the path that consumes less energy, eliminates the unnecessary and leaves only the right options to solve the problem. A study was conducted in which different age groups participated. The young people were very confused while passing the tests, while those over 60 years old made the right decisions.

Now, let's look at the characteristics of the brain between the ages of 60 and 80. They are really pink.

*CHARACTERISTICS OF THE BRAIN OF AN OLDER PERSON.*

*1.* The neurons of the brain do not die, as everyone around you says. The connections between them simply disappear if one does not engage in mental work.

*2.* Distraction and forgetfulness arise due to an overabundance of information. Therefore, you do not need to focus your whole life on unnecessary trifles.

*3.* From the age of 60, a person when making decisions does not use only one hemisphere of the brain, like young people, but both.

*4. Conclusion:* if a person leads a healthy lifestyle, is mobile, has viable physical activity and is fully mentally active, *intellectual abilities DO NOT decline with age, they simply GROW,* reaching a peak at the age of 80-90 years.

*HEALTHY TIPS:*
*1)* Don't be afraid of old age.
*2)* Strive to develop intellectually.
*3)* Learn new crafts!
*4)* Take an interest in life, meet and communicate with friends, make plans for the future, travel as best you can.
*5)* Don't forget to go to shops, cafes, shows.
*6)* Don't shut up alone, it's destructive for anyone.
*7)* Be positive, always live with the thought: following: *_"all good things are still ahead of me!"_*

*SOURCE: _New England Journal of Medicine._*

Please pass this information along to your 60, 70 and 80 year old family and friends so they can be proud of their age 🥰🥰

02/02/2023

Joint session
Full of Healthy Activities & Fun
HILAL PARK
Sunday, Feb 5 0800 hrs

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


MA Jonah Road
Karachi
740000