Doll mania
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Doll mania, Beauty, cosmetic & personal care, defence, Lahore.
14/02/2025
subscribe 🥰🙏
Tour to lyall pur Galaria | restaurant🍴| shopping in galaria | mini vlog | Big sales on dresses | Tour to lyall pur Galaria | faislabad west cannal road | mini vlog | Big sales on dresses |Hi! I hope you would like this video. Thanks for watching.. I am f...
Mri pelvis scan | health beauty ✨❤😍🥼💉🩺👥
medicos daily routine 🥼🩻
مکمل اقساط
خوفناک کہانی۔
پرانا درخت۔
وہ ایک بہت بڑا گھر تھا۔ کمرے پکے تھے۔ مگر صحن اینٹوں سے بنا ہوا تھا۔ وہاں ایک درخت تھا۔ جس پر جلے ہوئے انار اگتے تھے۔ نہ اس گھر کا سودا ہوتا تھا۔ اور نہ ہی اس میں کوئی رہ پاتا تھا۔ اس گھر کے مالک کے بارے میں مشہور تھا کہ اس نے اپنے قبضے میں جنات کو رکھا ہوا تھا۔ اور ان سے اپنے کام نکوالتا تھا۔ لیکن مرنے سے پہلے وہ انہیں آزاد نہیں کر پایا تھا۔ تب سے آج تک وہ گھر ویسا ہی ویران تھا۔ اتنا پرانا اور خستہ ہونے کے باوجود آج بھی وہ پہلے کی طرح صاف ستھرا اور ویسا ہی تھا جیسا فضل دین کی وفات کے دن تھا۔ 200 سال گزر چکے تھے۔ آج بھی سب ویسا ہی تھا۔ ہر سال 21 سویں روزے وہاں دیگیں پکتی تھیں۔ خوشبوئیں آتی تھیں۔ اور پھر عصر کے بعد رونے کی آوازیں۔
آج تک اس گھر میں کوئی ایک لمحہ بھی نہیں گزار سکا۔ اس شہر میں سب گھر پکے اور جدید ڈیزائین سے بنے ہوئے تھے۔ مگر وہ گھر ابھی بھی ویسا ہی تھا۔ وہ انار کا درخت کالے پھلی اگاتا۔ جو باہر سے بھی کالے دکھتے تھے اور اندر سے بھی کالے ہوتے تھے۔ ایک بار ایک مسافر وہاں رات قیام کرنے کی نیت سے آیا۔ مگر اندر قدم رکتھے ہی اس گھر کی زمین اوپر نیچے ہونے لگ گئی۔ وہ گبھرا کر وہاں سے بھاگ نکلا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔//////////////////۔۔۔۔۔۔۔۔۔/////
غزل نے سب باتیں سن لی تھیں۔ اسنے اب گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کیا۔ اور رات کو وہ اپنے جمع پونجی کے ساتھ اس گھر سے بھاگ نکلی۔ کراچی سے لاہور پہنچتے تک صبح ہو چکی تھی۔
وہ سرکاری ہسپتال سے آگے شروع ہونے والی کچی آبادی کی طرف چل دی۔ جہاں سب گھر پکے بنے ہوئے تھے۔ مگر وہ کافی دیہاتی علاقہ لگ رہا تھا۔ وہ وہاں پہنچی۔ اپنا پورا وجود ایک کالی بڑی چادر میں لپیٹے منہ کو چادر سے چپھائے وہ ڈری سہمی ادھر ادھر دیکتھی محتاط ہو کر چل رہی تھی۔ سب لوگ اس نوجوان وجود کو حوس بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ وہ گوری رنگت نہیں تھی۔ مگر اس سانولے رنگ میں اسکی بھری ہوئی جسامت اور سنہری چمک دار آنکھیں بہت دلکش تھیں۔ وہ بہت مشکل سے چل رہی تھی۔ وہ جیسے ہی اس گلی سے مڑی تین لڑکے اسکی سمت بھاگے۔ وہ سرپٹ اپنی عزت بچاکر وہاں سے بھاگی۔ چپھنے کے لیے وہ جلدی سے فضل دین کے گھر چلی گئی۔ اور اندر سے کنڈی لگا کر نیچے بیٹھ کر زور زور سے سانس لینے لگی۔ اسکی چادر کندھوں سے ڈھلک کر اسکے جسم سے نیچے گر چکی تھی۔ اچانک اس محسوس ہوا کہ کوئی اس کو گھور رہا ہے۔ وہ گبھرا کر اٹھی اور چادر کو اپنے اوپر اچھے سے اوڑھ لیا۔ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ گھر بلکل صاف تھا اور خالی تھا۔ سب کمروں کو تالے لگے ہوئے تھے۔ اور سامنے فضل دین کی بلیک اینڈ وائٹ تصویر لگی ہوئی تھی۔ جسکے آس پاس گلاب کے تازہ پھول گرے پڑے تھے۔ اسے لگا یہ گھر خالی ہے۔ اور یہاں وہ اپنا ٹھکانہ کچھ دن کے لیے بنا سکتی ہے۔ یہ خیال آتے ہی وہ اٹھی اور گھر کا جائزہ لینے لگی۔
اسنے گھر کا جائزہ لیا۔ لکڑی کے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی سامنے اینٹوں کا صاف صحن تھا۔ اس سے آگے ایک برآمدہ تھا۔ جس میں ایک ہی لائن میں تین کمرے تھے۔ اور پھر ساتھ کونے میں بائین طرف چھوٹا سا کمرہ کچن تھا۔جس میں برتن پوری نفاست سے صاف ستھرے پڑے تھے۔ گھر کے دائین جانب آخری کونے میں باتھ روم تھا۔
برآمدے میں ایک چارپائی رکھی ہوئی تھی۔ وہ اس پر بیٹھ گئی۔اور سوچنے لگی۔ وہ کہاں جائے گھر میں تو اس کے بھاگ جانے کی خبر دور دور تک پھیل گئی ہو گئی۔ اور تایا جی اس کو ڈھنڈ رہے ہونگے۔ اسے اپنے لڑکی ہونے پر بہت رونا آیا۔ یہاں بھی سب درندے تھے۔ عزت بچا کر یہاں آئی تھی۔ اور اب یہی پھنس گئی تھی۔ نہ رہنے کو جگہ تھی۔ نہ کھانے کو کچھ ۔ نہ پیسے۔ جو تھوڑے سے تھے وہ کرائے میں خرچ ہوگئے۔ اب اسکی جان آدھی ہو رہی تھی۔ اس سے بھوک برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ وہ اٹھی اور کچن میں ناامیدی سے گئی۔ وہاں سائیڈ پر ڈرم رکھا ہوا تھا۔ اس میں اس نے جھانکا تو اندر چاول پڑے تھے۔ اسے خوشی ہوئی۔ اس نے انھیں نکالا اور صحن میں لگے نلکے سے دھویا اور پھر آگ جانے کے لیے لکڑیاں اکٹھی کیں۔ یہاں سب موجود تھا۔ مگر گھر میں کوئی نہیں تھا۔ حیرت تھی کہ جو بھی تھا اپنے گھر کا دروازہ لگائے بنا ہیچلا گیا تھا۔ خیر اس نے سوچا جب تک اس گھا کا مالک آ نہیں جاتا وہ یہیں رہے گی اور پھر اس کے آنے پر اس سے معزرت کے گی اور اسے کام والی کے طور پہ رکھ لے یہ کہے گی۔ یہ سوچتے ہوئے اس نے آگ جلانی شروع کی۔ لیکن اس نے کبھی آگ نہیں جلائی تھی۔ تو اس سے جل نہیں رہی تھی۔ لیکن اچانک ہی آگ جلنے لگی۔ وہ حیران ہوئی اور چاول ابلنے کے لیے رکھ دیے۔ کچھ دیر بعد چاول ابل گئے۔ اس نے اتارے اور پیٹ بھر کر کھائے۔ اور خدا کا شکر ادا کیا۔ مگر اس تمام واقعے میں اسے بار بار لگا کوئی اسے دیکھے جا رہ ہے۔ مگر گھر میں اسکے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ رات ہوئی اب سونے ک مسلہ تھا۔ اتنی ٹھنڈ میں وہ کیسے سوتی ۔ وہ بھی باہر۔ خیر وہ اپنے چادر اوڑھ کر لیٹ گئی۔ خیر اسے نیند کہں آنی تھی۔ رات بھرٹھٹھرتے ہوئے اس کی آنکھ لگ گئی۔ صبح اس کی آنکھ دیر سے کھلی۔تو فیکھا اسخے پاس آگ جک رہی تھی۔ جس کیتپش سے وہ سارےلی رات سکون سے سو پائی تھی۔ اسے حیرانی ہوئی آخر یہ سب کیسے ہو رہا ہے۔
کافی دن گزر گئے۔ وہ باقاعدگی سے وضو کر کے پانچ وقت کی نماز پڑھتی۔ اور وہی رہنے لگی۔ اسے وہاں رہتے مہینہ ہو گیا تھا۔ مگر گھر کے مالکان نہیں آئے۔ تھے۔ اب جنوری شروع ہوچکا تھا۔ اس سے اس ٹھنڈ میں باہر چارپائی پر سونا ناممکن ہو گیا تھا۔ اپنے ساتھ کسی کے ہوبے کا چلنے پھرنے کا آحساس اسکو ہر وقت ہوتا رہتا تھا۔
جنوری کی پہلی شام وہ کچن سے باہر آئی۔ تو درمیان والے کمے کا دروازہ کھل ہوا تھا۔ وہ ڈرتے ڈرت اندر آئی تو اندر بھی اینٹوں کا صاف فرش تھا۔ اور وہاں پورا کمرہ خالی تھا۔ صرف ایک جائے نماز پڑی تھی۔ اور ایک سفید سوٹ۔ بلکل نیا۔ اور زنانہ۔
اسنے خوشی خوشی بنا سوچے سمجھے چارپائی اندر لگائی۔ مگر اب وہ لحاف کہاں سے کائے گئی۔
غزل نے پھر سے کمرے سے باہر آکر ہر جگہ نظر دوڑسئی تو اس سامنے درخت پر بوسیدہ کمبل نظر آیا۔ اسنے اس وہاں سے اتارا اور اندر رکھا۔ پھر وہ نہائی اور بغیر سوچے سمجھے وہ سفید سوٹ پہن لیا۔ وہ نہا کر باہر آئی۔ اور دھوپ میں بیٹھ گئی۔ اسکی وہاں آنکھ لگ گئی۔
۔۔۔۔۔۔////////////۔۔۔۔۔۔۔۔۔/////////۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرن بھاگتی ہوئی کمرے میں آئی۔
ابو وہ وہ غزل پورے گھر میں کہیں نہیں ہے۔
اعظم:یہ کیا کہہ رہی ہو؟
کمرے میں نہیں تو پھر کہاں جا سختی ہے۔
شہزاد: کمینی بھاگ گئی ہے۔ گھر سے۔ اپنے یار کے ساتھ۔
تینوں بھائی بندوقیں لے کر گھر سے نکلے۔ مگر انہیں غزل کہیں نہ ملی۔ تھک ہار کر وہ آئے۔ اور آتے ہی عورتوں کو کوسنا شرواع کر دیا۔شہزاد نے تو اپنی بیوی کا قتل خود ہی کیا تھا۔ اور اعظم اور سخاوت رن مرید تھے۔ غزل کے باپ کو صرف اپنے تینوں بیٹوں سے محبت تھی۔ بیٹی خو وہ حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔ اعظم کی بیوی کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ اسکی تینوں بیٹیاں شہزاد کے تینوں بیٹوں کے ساتھ شادی کر کیں۔ اس لیے وہ ہر ممکن کوشش کرتی تھیں ان تینوں کو پٹانے کی۔
مگر وہ غزل کی شادی اپنے بیٹے سے نہیں کرنا چاہتی تھیں۔
سخاوت کی بیوی کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔
انہوں نے غزل کو بہت ڈھنڈا۔ مگر وہ نہ ملی۔ آج اسکا نکاح تھا۔ اعظم کے دوست کے بیٹے کے ساتھ۔ جسکی یہ تیسری شادی تھی۔ اور اسکے بارے میں مشہور تھا کی وہ شادی صرف پئسے کے لیے کرتا ہے۔ اپنی بیوی کی وڈیوز بنا کر انہیں بیچتا ہھ۔ غزل وہاں سے بھاگ نکلی۔
_____////////______//////_____/////
اس کو یہ دوسرا مہنیہ ہونے والا تھا اس گھر میں رہتے۔ ڈرم ہر وقت چاولوں سے بھرا رہتا تھا۔ آج اسکے دل میں گوشت کھانے کی بڑی تمنا ہوئی۔ اچانک باہر دروازہ بجا۔ اس نے کھولا تو سامنے ایک بچا ڈرا سہما ہاتھ میں ایک پلیٹ پکڑے کھڑا تھا۔ اسنے وہ غزل کو دی اور اپنے گھر کی طرف بھاگہ۔ غزل نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور پلیٹ کھولی تو اندر پکا ہوا گوشت تھا۔ اس نے جی بھر کر کھا یا۔ اب آئے دن اس پلیٹ میں کھانے کی کوئی نہ کوئی چیز موجود ہوتی۔ایک دن محلے کے سب لوگ اس گھر کے پاس آئے اور دروازہ بجایا۔ غزل نے دروازہ کھولا تو باہر اتنے سارے لوگ دیکھ کر گبھرا گئی۔ ان میں سے ایک۔ کون ہو تم؟ کہاں سے آئی ہو ؟ اور کیا کر رہی ہو اکیلی اس گھر میں ۔ یہاں تو آج تک کوئی نہیں رہ سکا۔
غزل نے ہکلا کر جواب دیا۔ میں یہاں دو مہینوں سے رہ رہی ہوں۔
تو تم نہیں جانتی یہ گھر آسیب زدہ ہے ہزاروں لوگوں کی جان لے چکا ہے۔ کوئی یہاں 3 دن سے زیادہ نہیں رہ سکتا ۔ تم کیسے زندہ ہو۔ تمہی ہو وہ جو لوگوں کو مار کر کھا جاتی ہو۔ تمہیں ہم نہیں چھوڑیں گے۔
غزل نے خوف کے مارے دروازہ بند کر دیا۔ وہ اتنے سارے لوگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔خوف کے مارے اسکی گھگھی بند ہوگئی۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اب وہ کہاں جائے گی۔ یہ لوگ تو اسے ہی چڑیل سمجھ رہے تھے۔ اور سب کس قدر غلاظت سے اسے دیکھ رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوگوں نے فیصلہ کیا کہ پہلے اس لڑکی کو اس گھر سے باہر نکالیں گے اور پھر سارے محلے کے سامنے اسکی عزت کی دھجیاں اڑائیں گے۔ جب اسکی بس ہو جائے گی تو اسکو جلا کر جشن منائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔________________________
غزل ان سب کے ناپاک ارادوں سے بے خبر اندر کمرہ بند کیے سو رہی تھی۔ رات کے دو بجے وہ سفاک لوگ اس گھر میں کود پڑے۔ انہوں نے مل کر اس گھر میں اسے ڈھنڈنا شروع کیا۔ مگر تینوں کمروں کو تالے لگے ہوئے تھے۔ وہ پورے گھر میں کہیں نہیں تھی۔ وہ سب واپس چلے گئے۔ صبح غزل نے خوف زدہ دروازہ کھولا اور باہر آئی ۔ جنوری کی آخری شامیں بہت خنک اور سرد تھیں۔ وہ ادھر ادھر دیکھتی باہر آئی۔ اچانک باہر سے آگ کے شعلے نظر آئے۔ یقینا لوگوں نے اس گھر کو آگ لگا دی تھی۔ لیکن تھوڑی ہی دیر بعد ہر طرف تیز آندھی چل پڑی۔ وہ آگ اڑ آڑ کر لوگوں کے اوپر انکے گھروں کیں گرنے لگی۔ بہت سے لوگ جھلس گئے۔ جو رات نا پاک ارادوں کے ساتھ اس گھر میں گھسے تھے۔ بہت سے گھر جل گئے۔ پھر تیز بارش ہوئی اور آگ ٹھنڈی ہو گئی۔ گھرمیں کسی چیز کو بھی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ سب ٹھیک تھا۔ وہ پرسکون وہاں رہنے لگی۔ مگر اب اسے یقین ہو چلا تھا۔ اس گھر میں ضرور کچھ ہے۔ مگر وہ اسکی حفاظت کر رہا ہے۔
خیر فروری شروع ہوا۔ وہ ابھی بھی اسی لحاف اور دو جوڑوں میں زندگی گزار رہی تھی۔
اچانک ایک رات اس نے کچھ آوازیں سنیں۔ خوف کی ایک لہر اسکے جسم میں دوڑ گئ۔ اس میں ہمت نہ تھی کہ وہ آٹھ کر دیکھ سکے۔ ساری رات اس نے جاگ کر گزاری۔ صبح ڈرتے ڈرتے اسنے دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسکے پاوں تلے زمیں نکل گئی۔
سامنے فرش پر خون ہی خون پڑا تھا اور سامنے ایک نوجوان کی لاش پڑی تھی۔
غزل نے بھاگ کر کمرہ بند کیا اور اندر بیٹھ گئی۔ باہر خان بخش کے بیٹے کے دوستوں نے سارے شہر میں خبر پھیلا دی ۔ کہ وہ رات کو اس گھر میں اس لڑکی کو لٹنے گئے تھے۔ مگر کسی نے اسکے بیٹے کو زور سے زمین پر پٹکا اور وہ مر گیا۔ ہم بہت مشکل سے جان بچا کر بھاگے ہیں۔
_________________________________
جوان بیٹے کی موت نے خان کو ہلا دیا۔ اس نے اس گھر کا دروازہ توڑنا چاہا مگر رک گیا۔ اسے یاد آیا یہی حرکت اسکے باپ نے بھی کی تھی ملیحہ کے ساتھ۔ اور وہ دروازہ اسکو زور سے زمین پر پٹخ گیا تھا۔ اور وہی اسکی موت واقع ہو گئی تھی۔
اسے لگا وہ ملیحہ ہے۔ یا اسکی بیٹی ہے۔ اور کہیں وہ اس شہر سے بدلہ لینے تو نہیں آئی۔
ملیحہ کا سوچ کر ہی وہ خوفزدہ ہو گیا۔ اور گزرے وقت میں کھو گیا۔ جب وہ آج سے 25 سال پہلے اسی گھر میں ایک مجبور لڑکی آئی تھی۔ خان اسکے حسن میں کھو کر اپنی نیت خراب کر چکا تھا۔
رات کو اسنے اس گھر میں چھلانگ لگائی۔ مگر اس درخت تک پہنچتے ہی وہ بے ہوش ہو گیا۔ صبح اس گھر کے باہر وہ اپنے باپ کی لاش کے ساتھ موجود تھا۔ وہ ملیحہ کے ساتھ تو کچھ نہ کر پایا تھا۔ مگر اسنے ہر جگہ اسکو خونی چڑیل کہہ کر بدنام کر دیا تھا۔ لوگوں نے اسکے کہنے پر اس گھر کو آگ لگا دی۔ مگر وہ بھی غزل کی طرح بچ گئی۔ ایک آندھی نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ مگر وہ ملیحہ پھر کہاں گئی۔ کوئی نہیں جانتا۔
_________________________________
خان اپنے بیٹے کی لاش کے ساتھ گھر پہنچا۔ اسکے گھر میں کہرام مچا تھا۔ اور وہ کسی صدمے سے باہر نہیں آرہا تھا۔
غزل تک بھی یہ باےلت پہنچ گئی۔ محلے میں شورو غل بہت تھا۔ ہر جگہ نارے تھے۔ اس خونی عورت کو مارو ۔ نکاکو یہاں سے۔ غزل ان سب کی آوازوں سے بے حد خوفزدہ تھی۔ مگر آج اسکو گزرے تمام واقعات کی وجہ سے ایک اطمینان تھا۔ کہ جو بھی ہو شاید یہ گھر اسکا محافظ بنا ہوا ہے۔
وہ وضو کر کے آئی تو دوسرے کمرے کا دروازہ بھی کھل چکا تھا۔ وہ اندر گئی۔ وہاں ایخ خوبصورت عورت کی تصویر تھی۔ جس نےوہ سفید لباس پہنا تھا۔ وہ ٹھٹھک کر وہی رک گئئ۔ یہ تصویر، یہ عورت ۔۔ ۔۔۔ یہ یہاں کیسے۔
نہیں۔۔۔۔
یہ یہ تو۔۔۔ ،،
میری ماں ہے۔
کمرے میں اس تصویر کے علاوہ ایک ماجھائے پھولوں کا گلدان اور بھجی ہوئی موم بتیاں پڑی تھیں۔
غزل بے ہوش ہوگئی۔
دو دن بعد اسے ہوش آیا۔ تو وہ اپنے کمرے میں چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی۔ اس خے سرہانے اسکی ماں ملیحہ بیٹھی تھی۔ غزل کو لگا وہ خواب دیکھ رہی ہے۔ اسکی ماں تو مر گئی تھی۔ وہ تو گھر سے بھاگ گئی تو اور اسکے باپ نے اسے ڈھنڈ کر وہی قتل کر دیا تھا۔
ملیحہ: میری بچی میں زندہ ہوں۔ مری نہیں تھی۔ مخں بھی اس گھر میں آئی تھی تمہاری طرح اور عمر نے مجھے پناہ دی تھی۔ وہی تمہاری بھی حفاظت کر رہا تھا۔
غزل اپنی ماں سے لپٹ کر بحد روئی۔ اور اپنے اوپر ہوئے یر ظلم کا بتایا۔
غزل: ماں تم بھاگہلی کوں تھی۔؟
میں بھاگی نہیں تھی۔ تمہارے باپ نے مجھے اپنے دعستوں کو ہر رات بیچنے اور پیسے کمانے کا فیصلہ لیا تھا۔ یہاں آکر بھی مجھے کمینے لوگ ہی ملے۔ مگر میری حفاظت عمر نے کی۔
غزل: یہ عمر کون ہے؟
ایک خوبصوت نوجوان لڑکا اندر داخل ہو۔۔
جب میں اس گھر میں آئی یہ تب بچہ تھا۔ مگر اب یہ بڑا ہوچکا ہے۔
غزل اسکو دیکھ کر جھنیپ گئی۔
مگر آپ دونوں اتنے وقت سے کہاں تھی مجھے نظر نہیں آئے۔ اور مجھے لگتا تھا کوئی میرے علاوہ بھی اس گھر میں رہتا ہے۔
ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ور بات بدل دی۔ اب وہ تینوں اس گھر میں رہنے لگے تھے۔ عمر غزل کا بہت احترام کرتا تھا۔ غزل کواسکی ہر ادا بھانے لگی تھی۔ ملیحہ ہت کمزور اور لاغر ہوچکی تھی۔ عمر اسکا خیا سگے بیٹوں کی ظرح رکھتا تھا۔
غزل کے ذہن میں بہت سوالات تھے۔ مگر اسکا جواب دینے کو کوئی تیار نہ تجا۔ اور یہ تیسرا کمرہ کب کھلے گا۔ وہ اکثر یہں سوچتی رہتی۔
آہستہ آہستہ دن گزرنے لگے۔ اور گرمیاں آنے کگیں۔۔عمر کی ہر عادت بہت خوبصورت تھی۔ غزل کے دل کو وہ ہمیشہ بھاتا تھا۔ سب سے اہم بات وہ نظریں جھکا کر رکھتا تھا۔
_________________________________
غزل کے جانے کے بعد اسکے باپ کو وہ پورے پیسے واپس کرنے پڑے۔
وہ بہت تیش میں تھا۔ ادھر اعظم کی بیوی نے اکے کان میں یہ بات ڈال دی کہ اب اسکی بڑی بیٹی صنم کی شادی اکسے بڑے بیٹے عمران سے ہو جانی چاہیے۔ غزل کے باپ کو کوئی اعتراض نہ تھا۔ جب اسنے یہ بات عمران سے کی تو اسنے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مجھے صنم جیسی لڑکیاں پسند نہیں ۔ جو ہر لڑکے سے فری ہو جایئں۔ میں اپنی مرضی سے شادی کروں گا۔ مجھے پہلے غزل کو ڈھنڈنا ہے۔
تم پاگل ہو ۔ وہ اپنے یار کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ اسے ڈھنڈنے کا فائدہ۔
عمران: مجھے سمجھ نہیں آتا۔ آخر وہ بھاگی کیوں؟
شہزاد(باپ): ہکلا کر کمینی ماں جیسی جو تھی۔
ماں کا نام سن کر عمران ہمیشہ کی طرح غصے میں آگیا۔
اور وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔ رات کو وہ تینوں بھائی اکٹھے بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ عمران غزل نے پورے شہر میں ہماری عزت کی دھجیاں اڑا دیں۔
شانی:بھائی وہ بھاگی کیوں۔
علی: جیسا سارے گھر کا سلوک تھا اس نے بھاگ کر ہی اچھا کیا۔
بھلا کوئی باپ بیٹی پر ایسے ظلم بھی کر سکتا ہے۔ کبھی کوئی بولا ہم میں سے اسکے حق میں۔
عمران سوچ میں گم ہو گیا۔
میں اسکو ڈھنڈ کر ہی رہوں گا۔ اور وہی قتل کر دوں گا۔ ہماری عزت دو کوڑی کی کر دی اس نے۔
عمران یہ کہ کر چلا گیا۔
اب اس نے اسکی تلاش ہر جگہ شروع کر دی۔
ایک دن اسکے دوست کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ وہ اسکا جگری دوست تھا۔
وہ فوری لاہور کے لیے نکل گیا۔ وہاں اپنے دوست کے گھر پہنچا۔ اسکا باپ گم سم بیٹھیا تھا۔
عمران نے سلام دعا کے بعد حادثے کی وجہ پوچھی۔ تو خان نے سوچوں میں گم کہا ۔ وہ ڈائن میرے دوسرے بیٹے کو بھی نگلنے لگی تھی۔ خان کے بیٹے کی ٹانگ بری طرح جل چکی تھی۔
_____________////_________________
عمران: کیا کہ رہے ہیں چچا جی ۔ کون چڑیل۔ کس نے کی اسکی ایسی حالت ؟
خان: وہ خونی عورت۔ میرے پہلے بیٹے کو بھی لے ڈوبی۔ اب میرا آخری سہارا بھی چھین لینا چاہتی تھی۔
وہ اس پرانے گھر میں رہتی ہے۔
عمران باہر نکلا۔ وہ گھر اسکو آج بھی یاد تھا۔ بچپن میں جب وہ یہاں آیا تھا۔ تو اس گھر میں لگے کالے انار دیکھ کر وہ بہت حیران ہوا تھا۔ مگر وہ اسکی حقیقت سے واقف تھا۔ اس گھر کو لے کر بہت کہانیاں مشہور تھیں۔
وہ واپس آیا۔ تو خان باقی مہمانوں کو دیکھنے باہر جا چکا تھا
کمرے میں صرف وہ اور اسکا دوست ذیشن تھے۔
عمران: سچ سچ بتا کیا۔ ارادے تھے تیرے وہاں جاتے ہوئے۔
اب اب تیرے سے کیا چھپانا۔
وہ وہاں چڑیل نہیں۔ اپسرا رہتی ہے۔ آہ۔۔ بس ایک بار مل جائے۔
عمران: اب شرم کر اپنی تیری 3 بہنیں ہیں۔
یہ بتا یہ ٹانگ اس نے جلائی ہے۔
ذیشان: نہیں تیرا بھائی گیا تھا، اسکے گھر مگر آچانک کہیں سے آگ نے اپنی لپیٹ میں لے کیا۔
اچھا سن کیاجو خان نے کہا وہ سچ تھا۔
ہے تو کچھ ایسا ہی۔ وہ کڑکی بڑے دنوں سے آئی ہوئی ہے یہاں۔ مگر کبھی باہر نہیں نکلی۔ نہ کھانے کی لیے نہ ویسے۔
عمران: کیا؟
مطلب واقعی کچھ ہے اس میں۔۔۔
ہاں۔۔
پھر اب تو اور پنگے مت لینا۔
یار مجھے بس اس کے پاس چھوڑ آ۔
فضول باتیں بند کر۔
ذیشان کے ذہن میں عمران کی چھوٹی بہن آئی۔ وہ بھی تو اب بہت بڑی ہو چکی ہو گی نا۔
مگر اس میں اس سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ وہ جانتا تھا۔ عمران اپنے گھر کی عورتوں کے معاملے میں کتنا جزباتی تھا۔
مگر اس نے بات بدل کر پوچھا۔
تیری گھر والے کیسے ہیں اب۔؟
تو نے شادی ہی نہیں کی ابھی تک۔
عمران : نہیں بس ایسے ہی۔ سب ٹھیک ہیں۔
اچھا چل آرام کر ۔ کراچی کا سفر بہت زیادہ ہے۔ تو تھک چکا ہو گا۔
_____________€__////_______////////
ماں اسکی اتنی جرت ۔ وہ مجھے انکار کر رہا ہے۔ کس بنا پر۔ مجھے آوارہ کہنے کی اسکی ہمت بھی کیسے ہوئی۔
ماں: بیٹی حوصلہ کر وہ ابھی ڈسڑرب ہے۔ غزل مل جائے۔ پھر وہ ٹھیک ہو جائے گا۔
دیکھ تجھے ہزار مرتبہ سمجھایا ہے میں نے ۔ اس کے سامنے اپنے کزنوں اور دوستوں سے دور رہا کر۔ مگر تو اپنی حرکتوں سے باز نہ آنا۔
صنم۔: اماں میں بتا رہی ہوں۔ عمران سے مجھے لینا دینا نہیں ہے۔ مجھے صرف یہ گھر اور دولت چاہیے۔
ارے تو فکر ہی نہ کر۔ عمران تیرے سے ہی شادی کر گا۔
لیکن کیا پتہ وہ اپنی اس غریب ماسی سے آج بھی ملتا ہو۔
جس کی بیٹی سے اسکی ماں نے اسکا رشتہ پکا کر دیا تھا۔
ماں: ارے نہ تو وہ ماں ہے اب اور نہ ہی وہ اسکا پیکہ۔اب صرف ہم ہیں۔ جتنی نفرت اسکے ذہن میں ہم نے غزل اور اسک ماں کے لیے بھر دی ہے نہ وہ اب اس طرف جائے گا ہی نہیں۔ بس اپنے چچا کی بات ید رکھنا۔ اور عمران اور باقی دونوں کو اس لڑکے کا نہ پتا چلے۔
صنم: کس لڑکے کا؟
ماں: ارے۔ شمشیر کا۔ جس سے اسکی شادی کرنی تھی۔
اگر وہ تینوں میں سے کوئی بھی حقیقت جان گیا تو سب کام سے جائیں گے۔
پرانا درخت
قسط نمبر 8۔
ارے آپ فکر ہی نہ کریں۔ کسی کو کچھ نہیں پتہ چلے گا۔
_____//////______/////////________
عمراں صبح گھر سے باہر بکلا۔ تو خودبخود اسکی نظریں اس گھر کی طرف چلی گئیں۔ وہ اس طرف گیا اور غور سے دیخھنے لگا۔ اس نے اس گھر کا دروازہ بجایا۔ غزل ابھی نماز پڑھ کر اٹھی ہی تھی۔
ارے اتنی صبح صبح کون آگیا۔
اس نے ڈرتے ہوئے دروازہ کھولا۔ سامنرے عمران کو دیکھ کر وہ حیران اور خوفزدہ ہو گئی۔
عمران پہلے حیران ہوا اور پھر غصے میں آگیا۔
غزل نے دروازہ بند کرنا چاہا تو اس نے دھکا لگاکر پورا کھول دیا اور اند آکراسے بالوں سے پکڑ لی۔
ہماری عزت خراب کر کے یہاں بیٹھی ہو۔ شور سن خر ملیحہ باہرآئی۔
وہ عمران کو نہ پہچان سکی۔ وہ جب سب چھوڑ کر آئی تھی تو وہ 8 سال کا تھا۔ مگر عمران آج بھی وہ چہرہ نہیں بھولا تھا۔
اسنے غزل کے بال چھوڑے اورحیرانو پریشان ماں خو دیکھنے لگا۔
ملیحہ بھاگ خر غزل کے پاس آئی۔ اورعمر کو آوازیں دینے لگی۔ دوسرے کمرے سے عمر بھاگ کر آیا۔ اور ان دونوں کو اپنی پیچھے لے کیا۔
کون ہو تم اور یہاں کیا کر رہے؟
عمراں: اچھا تو اس کے لیے تو ہماری عزتوں کو اڑا خر آئی ہے۔
غزل: عمران بھائی میں نے کچھ نہیں کیا۔
ملیحہ: عمران ۔ میرا بچہ ۔
تم میرے عمران ۔ وہ آگے بڑھی ۔ مگر عمران پیچھے ہٹ گیا۔
مر گیا آپکا عمران ۔ جو خد کی اسی پر بیٹی کو لگا دیا۔
کیا کیا میں نے۔
عزت بچائی تھی خود کی۔
اور میری بیٹی نے بھی وہی کیا۔ تمہرا باپ پہلے میرا سودا کرنا چاہتے تھا۔اور اب تم اور وہ میری بیٹی کا۔
عمران ۔ کیا کہا کون سا سودا؟
کیسا سودا ۔ میرا باپ اور میں ایسا کیوں کریں گے۔ ۔
خون سا سودا کیا تھا آپ کا انہوں نے اور اسکا؟؟
عمران۔ رو پڑا۔ آپ نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اپنے عاشق کے لیے بچے چھوڑ دیئے۔
ملیحہ: ہنس کر ۔ اپنے باپ سے پوچھ اپنی تائی سے پوچھ۔ تیرا باپ مجھے اپنے دوستوں کے ہاتھوں بیچنا چاہتا تھا۔ اسکے فیصلے کو نا مان کر میں وہں سے بھاگی تھی۔ اپنی عزت بچا کر۔ اور اب تم سب نے غزل کو اس جواری کے پاس 10 لاکھ کے عوض بیچنا چاہا۔
اور وہ وہاں سے بھاگ نکلی۔ قسمت اسے یہاں لائی۔اور وہ بچ گئی۔
عمران ماں کی بات سن کر سکتے میں آگیا۔
اسے یقین نہیں آیا ۔ یہ سب سچ ہے۔ اسکا باپ ایسا کر سکتا ہے۔
نہیں تم جھوٹ بول رہی ہو۔ تم کو تو ابو نے مار دیا تھا۔ تم زندہ کیسے ہو۔
ملیحہ۔ ہوں۔ وہ یہں کہ سکا تھا ۔ اپنے کرتقت نہ بتا سکا تو مجھ پر ہی الزام لگا سکا۔ یہ کہ کر ملیحہ غزل خو لے کر اندر چلی گئی۔ عمرن الٹے پیر واپس آگیا۔ اور وہاں سے دقر نہر کے پاس جا کر طیٹھ گی۔ اور سر ہاتھوں میں دے لیا۔ یہ سب کیا ہے۔ میری ماں زندہ ہھ۔
میری بہن بد کردار مہیں ہے۔ مگر میرا باپ ہے۔
کیا واقعی ایسا ہیہے۔
نہیں اگر یہ سب سچ ہے تو میں اپنی ماں اور بہن پر ہوئے ہر ظلم کا بدلہ لوں گا۔ ابو سے بھی اور باقیوں سے بھی۔ انکی ہی زبان میں دوں گا۔ غزل ساری زندگی ہمارہ محبت کو ترستی رہی۔ مگر اسے ماں جیسی کہ کر کتنا شک اسکے دل میں ڈال دیا گیا تھا۔ کہ اسکے رشتے کی بات سن کر وہ اس لڑکے کی جانچ پڑتال بھی خہ کر سکا تھا۔
///__^^_//////_____^///////////////___
شہزاد عمران کو کئی فون کر چکا تھا۔ مگر وہ جواب نہیں دے رہا تھا۔ وہ اگےلے دن پھر ملیحہ سے ملنے گیا۔ مگر آج اسکے احساسات اور جزبات ماں اور بہن کے لیے بدل چکے تھے۔ اس نے ملیحہ اور غزل سے پاوں میں بیٹھ کر معافی مانگی۔
ماں تم میرے ساتھ گھر چلو۔ میں تمہارے ساتھ ہوئی ہر زیدتی کا بدلہ لوں گا۔
ملہیحہ: نہیں۔ بیٹا ۔ میرا اور میری بچی کا اس گھر سے کوئی وسطہ نہیں ہے۔
عمران۔ میں آپ دونوں کے ساتھ ہوئے ہر ظلم کا بدلہ لوں گا۔
ملیحہ۔ مجھے اپنی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ میں غزل کو محفوظ ہاتھوں میں سونپنا چاہتی ہوں۔
عمران۔ میں اسکی حفاظت کروں گا۔
ملیحہ۔ اتنے سال اپنی بہن کے ساتھ رہ کر بھی اس پر اعتبار نہیں آیا۔ وہ نہ قدم اٹھاتی تو آج۔۔۔۔
نہیں۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے۔
عمر ہر لحاظ سے ٹھیک ہے ۔ وہ بہت غیرت مند ہے۔ وہ اپنی چیز کی حفاظت خود ہی کر لے گا۔
عمران ۔ خاموش ہوگیا۔ اگلی صبح غزل اٹھی تو ہر جگہ شورو غل تھا۔ شادیانے بجائے جا رہے تھے۔ ڈھول کی تھاپ پے لڑکیاں رقص کر رہی تھی۔
غزل ہکا بکا تھی۔ بھلا اس گھر میں کون آسکتا ہے۔
ملیحہ: یہ سب تمہرے اور عمر کے نکاح پر اکٹھے ہوئے ہیں۔
غزل کو خوبصورت سرخ جوڑا پہنایا گیا۔ اور پھر ان دونوں کا نکاح ہو گیا۔
غزل کو اس تیسرے کمرے میں لایا گیا۔ وہ بہت خوبصورتی سے سجایا گیا۔ تھا۔ ہر طرف پھول بکھرے ہوئے تھے۔ کمرے میں سب سامان سرخ و سفید تھا۔ اسے بیڈ پر بٹھا کر لڑکیاں چلی گیئں۔
عمر آیا اور غزل کو منہ دکھائی میں ایک خوبصورت پتھر دیا۔ اور کہا یہ ہمیشہ تمہاری حفاظت کر گا۔
اب غزل کی زندگی بیت حد تک کر پر سکون ہو چکی تھی۔ اکثر سوال آج بھی اسکے ذہن میں تھے۔ مگر وہ اسکا جواب کس سے مانگتی۔
دن گزرتے گئے۔
عمران واپس جا چکا تجھا۔ صنم کی ہر ممکن کوشش ہوتی تھی کہ وہ عمران کو اپنی مٹھی میں لے لے۔ اب عمران نے اپنا حربہ آزمایا۔
اور صنم سے بات چیت کرنے لگا۔ صنم جہاں جاتی ہر بات پر ٹوکنا۔ موبائل دکھائو۔ یہ کس لڑکے کا نمطر ہے۔ خالہ زاد ہے سگا بھائی نہیں اسکے ایسے تصویر کیوں بنائی ہے وغیرہ وغیرہ۔
صنم چڑ گئی تھی۔ عمران اندر ہی اندر ہنستا رہتا تھا۔ بلکہ اسکو کہتا شادی کے بعد تو تمہیں کسی لڑکی سے بھی نہیں ملنے دوں گا۔
آخر کا صنم نے خود تنگ آکر انکار کر دیا۔
عمران کی تمام حرکتوں سے شانی اور علی بھی واقف تھے۔ اس شام وہ تینوں بیٹھے زور زور سے قہقیے لگا رہے تھے۔ عمران نے شانی اور علی کو ساری حقیقت بتائی۔
وہ لوگ بھی اپنی ماں سے منئلے کو بے چین ہوگئے۔ وہ تینوں اگلی صبح کسی کو بتائے بغیر لاہور کے لیے نکل پڑے۔
اور شام تک لاہور پہنچے۔ وہ دونوں اپنی سے لپٹکر بہت روئے۔ اور غزل سے بھی مافعیاں مانگی۔
عمران نے صنم کے ساتھ اپنی ساری حرکتیں انھیں بتائی۔ عمر سمیت سب بہت ہنسے۔ کچھ ہی دنوں میں وہ سب بہت اچھے دوست بن گئے تھے۔ مہینے گزرنے لگے۔ ان تینوں کا لاہور آنا جانا لگا رہا۔
شہزاد کو شک ہوتا یہ کہاں گئے رہتے ہیں ہر وقت۔
اللہ تعالی نے غزل اور عمر کو بیٹی سے نوازا۔ جو ہوبہو عمر کی کاپی تھی۔
مگر آنکھیں غزل جیسی تھیں۔ عمران اور دونوں بھائی۔ اپنے بھانجے کو دیکھنے آئے۔ وہ سب اس سے مل کر بہت خوش تھے۔
گھر جا کر عمران نے اپنی خالہ زاد آسیہ سے شادی کی بت بتائی۔ صنم کے انکار کے بعد باقی تینوں بہنیں بھ اب اس سے شادی کو تیار نہ تھیں۔ مجبورا اسکا رشتہ آسیہ سے طے ہو گیا۔ آعظم کو اپنے بھائی کی دولت ڈوبتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اسنے صنم کا یونورسٹی جانا موبائل چلانا بند کر دیا۔ اور اسے عمران کی بات ماننے کو کہا۔ مگر اسے بری عادتوں کی کت تھی وہ کیسے ختم ہوتی۔ اسنے چھپ کر موبائل لے کیا۔ اور رات بھر اسے چلانے لگی۔
ادھر عمران اپنی کلوتی خالہ کے گھر بار بار جانے لگا۔ اور اسکو ملیحہ کے زندہ ہونے کی خبر دی۔ وہ تڑپ اٹھی اپنی بہن سے ملنے کو۔ کچھ دنوں بعد عمران اپنی خالہ آسیہ اور اسکے بھائی کے ساتھ لہور گیا۔ ملیحہ اپنے تمام کھوئے یوئے رشتے پا کر بہت خوش تھی۔
اس نے اسی مہینے آسیہ کے نکاح کی ڈیٹ فکس کر دی۔
عمران نے عمر کے مشورے اور مدد سے ڈبے کا چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔ ان دونوں کا نکاح ہو گیا۔ اور عمران نے کچھ مہینے بعد شادی کرنے کی بات کی۔
عمران نے لاہور میں رہنا شراوع کر دیا تھا۔ شہزاد حیران تھا اسکا بیٹا نہ اسسے بات کر رہا ہے اور نہ واپس آرہا ہے۔ عمران کا کانٹیکٹ صرف شانی اور علی سے تھا۔ وہ انہیں لاہور آنے کی لیے تیار رہنے کی تاکید روزانہ کرتا رہتا تھا۔ اسکا ارادہ تھا جیسے ہی اسکا کارابر چل نکے گا تو وہ شانی اور علی کو بھی یہی بلا لے گا۔ اسے اب اس گھر دولت باپ ہر چیز سے نفرت تھی۔
سب پریشاب تھے کی آخر عمراں واپس کیوں نہیں آرہا ہے اور نہ ہی اپنے رہنے کی جگہ بتا رہا ہے۔
شانی اور علی ایسے ظاہر کرتے جیسے انہیں کچھ پتہ ہی نہ ہو ۔
آخر عمران کا کاروبار چمکنے لگا عمر کی مدد سے۔ اس نے پہلے فرصت میں شانی اور علی کو بغیر بتائے یہاں انے کے لیے کہا۔ وہ دونوں صبح صبح نکلے اور لاہور آگئی۔
سب بہت خوش تھے۔ غزل کی بیٹی رائمہ میں سب کی جان بستی تھی۔ مگر وہ عام طچوں کی طرح نہیں تھی وہ بہت جلدی بڑی ہو رہی تجی اور بہت کھاتی تھی عمر اسکی ہر حرکت سے لطف اندوز ہوتا تھا۔
آسیہ کی شادی عمران سے ہوگئی۔اور وہ لاہور آگئی۔
شہزاد اب پاگل ہونے کو تھا۔ تینوں بیٹے چلئے گئے تھے۔
عمران اور سونوں بھائیوں نے بے حد محنت کی اور اپنا چھوٹا سا خوبصورت گھر لے لیا اسی محلے میں۔
خان اور اسکا بیٹا با اس گھر کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ یہ پہلی بار تھا کہ کوئی یہاں رہ رہا تھا۔ رائمہ کو اس انار کے درخت کے نیچے کھیلنا بہت پسند تھا۔ حیرت کی بات تو یہ تھی وہ انار اب تھوڑے سے سرخ ہو چکے تھے۔
غزل کو اپنے بھائیوں کی اس قدر محبت پر حیرانی ہوتی۔ جو کبھی دیکھتے بھی نہیں تھے وہ آج اس کی بیٹی کو ہر وقت گود میں اٹھائے پھرتے تھے۔
عمران شانی اور علی کی محنت خوب رنگ لا رہی تھی ۔ انکا یہ ڈبے بنانے کا کاوبار خوب چل گیا تھا۔ وہ صبح اٹھتے اور سارا دن کام کر کے گھر آتے ۔ آسیہ ہر وقت انکی خدمت میں پیش پیش رہتی۔
ملیحہ ابھی بھی غزل اور عمر کے ساتھ ہی رہتی تھی۔ وہ اس گھر کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی۔ دوسرا سال شروع ہو چکا تھا۔ رائمہ 4 سال کی بچی لگنے لگی تھی۔ وہ باہر نکل جاتی تھی بچوں سے کھلینے اور شام کو ہر گھر سے اسکی شکایات آتی کبھی کوئی کہتا اسنے ہمارے بیٹے کو اٹھا خر زمین پر مارا اور کوئی کہتا سر پھاڑ دیا۔
رائمہ سے پوچھا جاتا تو کہتی کہ اس نے مارا تھا تو میں نے سبق سکھایا۔ اتنا صاف صاف وہ بولتی تھی کہ حیرانی ہوووتی۔ بھلا یہ ہے دو سال کی۔۔
وقت گزرتا رہا عمر اور غزل کے ہں دو جڑواں بچے ہوئے بیٹی اور بیٹا۔
رائمہ کی کوئی بھی عادت انسانوں جیسی نہیں تھی۔
ایک دن تو غضب خدا کا۔ گھر میں ملیحہ غزل اور بچے تھے۔ لکڑیاں نہیں جل رہی تھیں۔ بارشوں کی وجہ سے بھگ گئی تھیں۔
غزل اندر سے باہر آرہی تھی۔ جب اسنے دکھا رائمہ نے چولہے میں پھونک ماری اور تیز آگ جلنے لگی۔
غزل کے پاوں سن ہو گئے۔ رائمہ پیچھے مڑے بغیر باہر کھلنے چلئی گئی۔
غزل ابھی تک اسی حالت میں تھی۔ رات کو اسنے کمرے میں جاتے ہی عمر کو پکڑ لیا۔ اور پوچھنے لگی کون ہو تم ۔ غزل کی خوف سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔
عمر ۔ بیٹھو بتاتا ہوں۔ میں جن ہوں۔ اور میرے سب بچے بھی جن ہی پیدا ہون گے۔ ملیحہ نے منع کیا تھا تمہیں نہ بتاوں ورنہ تم ڈر جاو گئی۔
غزل پیچھے ہٹی۔ اسکی سانس رک رہی تھی۔ وہ اتنا وقت جس کے ساتھ رہی وہ ایک جن تھا۔ اسکی شادی محطت جن سے ہوئی۔ اور بچے بھی جن تھے۔
عمر ڈرو نہیں۔ ملیحہ اتنے سال سے یہاں رہ رہی ہے۔ تم ڈر گئی بس۔
جھوٹ کہ رہے تم ۔
ہاہاہا پھر رائمہ نے آگ کیسے جلائی۔
سنو وہ ایسے ہی بڑی ہوتی جائے گی۔تم بس اسکو ڈانٹنا کبھی مت ۔ جن ہے طیش میں آسکتی ہے۔
غزل کے چیرے پر خوف کے کئی سائے آئے۔ عمر دل ہی دل میں اپنی جھوٹ اور اسکی حالت پر مسکرا رہا تھا ۔
اچھا ادھر آکر بیٹھو۔
غزل بیٹھ گئی۔ میں تمہیں سب بتاتا ہوں۔ یہ کمرہ اس لیے بند تھا کی اس میں مجھے اپنی زندگی شروع کرنی تھی اور ساتھ ولا کمرہ تب کھلا جب ملیحہ عمرہ کر کے واپس آئی۔
تم تب یہاں آچکی تھی۔ میرا بسیرا س درخت پر ہے۔ میرے بچوں کے آجانے سے یہ درخت اب کھلنے لگا ہے۔ یعنی میرا آنگن اب بھر گیا ہے۔
اور بھی بہت کچھ ہے مجھے بتاو تم۔
ہاں سنو۔
یہ فضل دین کا گھر ہے۔ اس نے ایک جننی سے شادی کی تھی ۔ جسکی پہلے سے 5 اولاد تھی۔ میں اسکی ایک بیٹی کا بیٹا ہوں۔ اسکو خدا نے اولاد نہ دی تھی اس نے ان بچوں کی کفالت کی تھی وہ نہیں جانتا تھا کی وہ جننی ہے اور بچے بھی۔ وہ جب مرا تو اسکا جنازہ دو دن تک نہیں جانے دیا گیا تھا۔ ہم سب آج بھی روتے ہیں ہر 21 ویں روزے۔ یہ اسکی برسی کا دن ہوتا ہے۔ اسکے بعد ہمارا بسیرا س گھر سے اس درخت پر ہوگیا۔ فضل دین کے بعد اس گھر میں پہلی انسان ملیحہ تھی۔ اور پھر تم۔
غزل کے لیے سب انکشافات بہت عجیب تھے۔ درخت پر موجود سب زندگیاں ا پنےکاموں میں مصرقف رہتی ہیں۔ مگر وہ اس گھر میں بھی پھرتی رہتی ہیں۔ جنہیں تم اکثر محسوس بھی کرتی رہی ہو۔۔۔۔
غزل یہ اب سن کر چپ کر گئی۔ اسے عمر پر حد سے بھی زیادہ یقین تھا۔ انہوں نے رائمہ کو اسکول میں داخل کروا دی تھا۔ عمران ابھی بھی بے اولد تھا
اس نے شانی کی شادی پر زور دیا۔
عمران کے کہنے پر شانہ اور علی اپنے باپ اور گھر والوں سے بات کرت تھے۔ اور انہیں کہتے تھے ہمیں یہاں کام مل گیا ہے۔ اس کیے یہی رہ رہے ہیں۔ ادھر سخاوت اور اعظم دونوں اپنی بیٹیوں کو تینوں بھائیوں سے بیاہنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ اس بات سے بے خبر عمران کی شادی کو دو ساک سے اوپر ہو رہے تھے۔
اط شانی کے نسبت ملیحہ نے طے کرنے کا فیصلہ کیا۔ عمر نے اپنے علم سے اسے ایک لڑکی کا پتہ دیا۔ جو یتیمی اور غربت کی وجہ سے 25 سال کی ہو کر ابھی بھی کنواری تھی۔ مگر سلجھی ہوئی۔ ہر وقت ممانی اور اسکے بچوں کی مار اور طعبے سنسنے کو ملتے تھے۔
جب تک ماں زندہ رہی وقت ٹھیک تھا۔ اب پچھکے سال اسکی وفات کے بعد ماموں نے اسے رکھنے خا احسان تو کیا تھا مگر نوکرانی کے طور پر۔
عمر نے ملیحہ کو خود کو غریب ترین بتانے کا کہا۔
سلمہ کی ممانی نے خوشی خوشی بات پکی خی۔ اور ہفتے بھر میں ہی نکاح ہو گیا۔ وہ بیاہ کر شانی خے گھر آ گئی۔ گھر تو چھوٹا تھا۔ مگر بہت خوبصورت تھا۔
سملہ کی ممانہلی نے گھر تک آنے کی زحمت بھی نہیں کی تھی۔ اس نے ملیحہ کے پٹھے لباس پر ہی اکتفا کیا تھا۔
اس طرح سلمہ اس گھر میں آگئی۔اور پھر اس سے ملنے کوئی نہ آیا۔
دن روز گزرتے رہے۔ ایک دن عمر عمران کے پاس آیا۔ اور اس سے کہا تم اپنے باپ پر مشکوک حرکتوں کا کیس کروا دو۔
وگرنہ تم سب بے موت مارے جاو گئے۔ ملک میں ان لوگوں کی مقبریاں ہو رہی ہیں جو لڑکیوں کو اغوا کر کے انکی جسم فروشی کرتے ہیں ۔ تمہارا باپ ان میں سے ایک ہے۔ تم تو واقف نہیں ہو لیکن جب قانون اسے پکڑے گا تو تم بھی مارے جاو گے کہ ساتھ رہتے تھے اور تمہیں پتہ ہی نہیں تھا۔
عمران سوچ کر دہل گیا کہ اسکا باپ اس حد تک گرا ہوا انسان ہے۔ اور پھر اسے یاد آیا کہ کیسے اسنے اسکی بہن اور ماں کو بیچنا چاہا تھا۔
اسکی رگیں تن گئی۔ اس نے پولیس میں اپنے باپ کے خلاف درخواست دے دی۔
اگلے ہی دن شہزار کو گرفتار کر لیا گیا۔ اگر عمران نے بیانات دیے۔
اس نے اپنے اور گھر والوں کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے باپ کے باپاک ارادوں کو اور برائی کو مٹانے کے لیے اسکی مقبری کی تھی۔
شہزاد کو 2 ہفتوں بعد پھانسی کی سزا ہوگئی۔
عمران نے کراچی سے ہر تعلق اور یاد توڑ دی تھی۔ شہزاد کی گرفتاری کی ایک رات پہلے صنم اپنے عاشقکے ساتھ بھاگ نکلی تھی۔
گھر میں اب کمانے والا تو سولی چڑھنے لگا تھا۔ باقی سب تو ہڈ حرام شیزاد کی حرام کمائی پر پل رہے تھے۔
اب ان سب کو لالے پڑنے لگے۔ عمران لوگوں کو فون کیا جاتا تو نمبر بند آتے۔ پھانسی سے ایک دن قبل عمران غزل اور ملیحہ کو لیے جیل آیا ۔ شہزاد اسے دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔ ملیحہ کو دیکھ کر اسکے حواس باختہ ہو گئے۔ عمران نے مخاطب ہو کر کہا۔
تمہیں باپ کہتے شرم آتی ہے۔ جس عورت کے کیے تو نے ہمارے دلوں میں نفرتیں ڈالی تھیں۔ وہ آج بھی اپبے کردار کے ساتھ سرخرو ہے۔ میں اپنی ماں اور بہن پر تجھ جیسے کا سایہ بھی نہ پڑنے دوں۔ یہ کہ کر وہ انہیں لیے وہں سے چلا گیا۔
_______//////_________//////______/
شہزاد کو پھانسی ہو گئی ۔ اس کی لاش اسکے گھر بھجیی گئی۔ کوئی اولاد دیکھبے نہ آئی۔
______/////_____///___///////____//
تین سال بیت گئے۔
اب یہ گھر آسیب زدہ نہیں رہا تھا۔ انار کا وہ پرانا درخت اب کھک اٹھا تھا۔ وہاں اب غزل اور عمر کے چار شریر بچوں کی اوازیں ہر وقت سنائی دیتی تھیں۔ وہ دن میں نجانے کتنی بار اس درخت کے قریب گھومتے تھے۔
آج سب ہسپتال میں موجود تھے۔ آسیہ نے اکھٹا تین بچوں جنم دیا۔
ملیحہ اپنے بچوں کو خوش دیکھ کر بہت خوش تھی۔
وہ آج بھی عمر کی بے حد مشکور تھی۔ جو انسان تو نہ تھا مگر انسانیت کا حق نبھا رہا تھا۔
۔۔
۔۔
۔۔۔
غزل اور ملیحہ کے سوا آج بھی کسی کو عمر کی حقیقت نہیں معلوم ہو سکی۔ غزل کو اب عمر سے عشق تھا۔ جس نے اسکو اسکا کھویا ہوا سب ملوا دیا تھا
ختم
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Defence
Lahore
