Organic Eats
This Page will give you the Information of Science & Health to Help people to gain Knowledge.
26/08/2025
امریکہ کے ایک پچپن سالہ آدمی کو ایک کالا جادو کرنے والے نے بد دعا دی کہ تم جلد مر جاؤ گے اور تمہیں کوئی بچا نہیں سکے گا. "*
" دن بدن آدمی کی حالت بگڑتی گئی یہاں تک کہ اس کا تیس کلو وزن کم ہو گیا. "
"اسے ہسپتال لے کر گئے, تمام رپورٹس کلئیر تھیں. جس ڈاکٹر کو اس کا کیس دیا گیا اس نے اس مریض کی بیوی سے علیحدگی میں پوچھا کہ کیا کچھ ایسا ہے جو اس سب کی وجہ ہے؟
اس نے بتایا کہ ایک کالے علم والے نے اسے موت کی بد دعا دی تھی۔ ڈاکٹر نے اگلے دن نرس سے ایک انجیکشن لانے کو کہا. اور مریض کو بتایا کہ میں اس کالا جادو کرنے والے سے ملا ہوں اسے پولیس کی دھمکی دی تو اس نے بتایا کہ اس نے تم پر چھپکلی کے انڈے پھینکے تھے ان میں سے ایک چھپکلی تمہارے جسم میں ہے اور اندر سے تمہیں ختم کر رہی ہے. اس انجیکشن سے تمہیں الٹی آئے گی. اور وہ چھپکلی باہر آجائے گی."
" آدمی کو الٹی آئی اور ڈاکٹر نے آنکھ بچا کر اس میں چھپکلی ڈال دی. اس کے بعد حیرت انگیز طور پر وہ آدمی ٹھیک ہوتا چلا گیا اور لمبی زندگی جیا. "
قصہ مختصر.......
" ہم بیماریوں سے نہیں مرتے ہم اپنے دماغ کے ہاتھوں مرتے ہیں, یہ ہمیں یقین دلا دیتا ہے کہ اب ہم نہیں بچیں گے. اسی لیے ایک آدمی جب لیور کینسر سے مرا تو اس کے پوسٹمارٹم میں پتا چلا وہ ٹیومر تو بہت چھوٹا تھا, اور پھیل بھی نہیں رہا تھا. وہ آدمی اس لیے مرا کیونکہ اس نے سمجھ لیا تھا کہ وہ اس کینسر سے جلد مر جائے گا. "
بات کرتے ہیں عادات کی....
فرض کریں...
مجھ سے صبح اٹھا نہیں جاتا. یعنی دیر تک سونے کی عادت....
" تو بتاؤ میں کیسے اپنی یہ عادت بدلوں. "
کچھ کہیں گے کہ " کچھ دن جلدی اٹھنے کی کوشش کریں, عادت بن جائے گی. "
" کتنے دن؟ "
" کچھ لوگ کہتے ہیں اکیس دن اور کچھ کے مطابق ساٹھ دن لگتے ہیں عادت بدلنے میں. "
" اور مجھے لگتا ہے ہم ایک لمحے میں اپنی عادت بدل سکتے ہیں. "
" اگر ول پاور اسٹرانگ ہو تو ہم آج ہی اپنی عادت بدل سکتے ہیں."
" ہم اپنی ول پاور اسٹرانگ کرتے ہیں. کرنا ہے تو بس کرنا ہے.
1۔ روزانہ ایک دیسی ڈلی لہسن ضرور کھائیں.
2۔ ناشتے میں ابلے ہوئے انڈے کا استعمال لازمی کریں۔
3۔ ناشتے کے وقت ایک سیب کا استعمال کریں۔
4۔ گھی کی روٹی کی بجائے خشک روٹی استعمال کریں۔
5۔ دن میں 12 گلاس پانی ہر صورت پیئں۔
6۔ ایک دن چھوڑ کر تخم ملنگہ یا اسپغول چھلکا کا استعمال کریں۔
7۔ادرک۔ سونف۔ دار چینی۔ پودینہ۔ چھوٹی الائچی۔
تمام چیزیں تھوڑی مقدار میں لیں۔زیادہ نہ لیں۔انکا قہوہ بنا کے ایک ایک کپ پیئں۔ آدھا لیموں ملا لیں۔ایک دن چھوڑ کر ایک دن پیئں,
8- روزانہ پانچ یا سات کجھوریں کھائیں..
9- صبح کے وقت بھگو کے رکھے ھوئے بادام چھیل کر کھائیں 12 عدد
10- بوتل اور ڈبے والے juices ترک کر دیں۔ بہت نقصان دہ ہیں۔ان کی جگہ گھر میں Fresh juice بنا کر پیئں۔
11- روزانہ اپنے ہاتھ کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلووں پر تیل لگا کر سوئیں۔ ناف میں تین قطرے تیل ڈالیں۔ کافی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے!
12- تلاوت قرآن پاک، پانچ وقت نماز پابندی سے پڑھیں اور جو تھوڑا سا وقت جب بھی ملے اللہ کا ذکر کریں۔۔۔تمام امت مسلمہ کے لئے دعائے خیر کریں!!! اللہ آپ کیلئے آسانیاں فرمائے آمین ۔
06/04/2025
پاکستان میں غذائیت کے نام پر ملنے والا زہراوراسٹرابری اور دیگر پھلوں کی حقیقت
اہم نوٹ:مجھ پر سازشی، ایجنٹ یا پروپیگنڈا کرنے والا لیبل لگانے سے پہلے براہ کرم پوری پوسٹ پڑھیں اور دیے گئے تحقیقاتی لنکس کا مطالعہ کریں۔
پاکستان میں کاروبار کا جو ماڈل اپنایا گیا ہے، وہ ایک خودکش ماڈل ہے—آج کا فائدہ، کل کی بربادی۔ ہم نے زمین سے لے کر کھانے کی میز تک ہر چیز کو زہر آلود کر دیا ہے، اور جب نقصان ہوتا ہے تو حیرانی کا اظہار کرتے ہیں۔
اس کاروباری ماڈل کی حالیہ مثال اسٹرابری کی ہے جسے ہمارے کسان بھائیوں نے ایک فروٹ کی جگہ زہر بنا دیا ہے.
اسٹرابری قدرت کا ایک نایاب تحفہ ہے، جو نہ صرف ذائقے میں لاجواب ہے بلکہ صحت کے لیے بھی بے شمار فوائد رکھتی ہے۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے، جو جسم میں مضر فری ریڈیکلز کو ختم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس میں وائٹامن C، فائبر، اور فولیٹ وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں، جو قوت مدافعت بڑھاتے ہیں، جِلد کو جوان رکھتے ہیں اور دل کی بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
اسٹرابری میں موجود polyphenols اور anthocyanins دماغی صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں، جو یادداشت کو بہتر بناتے اور نیورولوجیکل بیماریوں کے خطرات کم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ جسم میں انسولین کی حساسیت کو بڑھاتی ہے، جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ پھل اپنے خالص ترین، قدرتی انداز میں انسانی صحت کے لیے حیرت انگیز فوائد رکھتا ہے، مگر ہم نے اسے بھی زہر میں بدل دیا۔
کیسے ہم نے اسٹرابری کو زہر میں بدلا؟
اسٹرابری ایک نازک پھل ہے، جو قدرتی طور پر 24 سے 48 گھنٹوں میں نرم پڑنے لگتی ہے۔ مگر مارکیٹ میں دستیاب اسٹرابری پانچ سے سات دن تک بالکل تازہ دکھائی دے رہی تھی۔ یہ کیسے ممکن تھا؟
پاکستانی مارکیٹ میں موجود اسٹرابری پر لیب میں کی گئی ریسرچ سے پتہ چلا کہ:
1. اینٹی فنگل کیمیکلز کا بے تحاشا استعمال
اسٹرابری کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے Fludioxonil اور Iprodione جیسے کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن پاکستان میں ان کی مقدار عالمی معیار سے تین گنا زیادہ پائی گئی۔
2. کیڑے مار زہریلی ادویات
پاکستان میں سبزیاں اور پھل اگانے کے لیے Chlorpyrifos, Cypermethrin, اور Malathion جیسے زہریلے کیمیکلز عام طور پر استعمال ہوتے ہیں، جو انسانی جسم میں پہنچ کر جگر اور گردوں پر تباہ کن اثرات ڈالتے ہیں۔
3. مصنوعی رنگ اور چمک
کچھ کسانوں نے اسٹرابری کو زیادہ سرخ اور چمکدار بنانے کے لیے Erythrosine (Red No. 3) جیسے کیمیکلز کا چھڑکاؤ کیا، جو کہ دماغی صحت اور ہارمونی نظام کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
یہ زہر ہمارے جسم میں کیا کر رہا ہے؟
جگر اور گردوں پر حملہ: یہ زہریلے کیمیکلز جسم میں داخل ہو کر hepatic toxicity پیدا کرتے ہیں، جس سے جگر متاثر ہوتا ہے اور گردوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔
ہارمون سسٹم کی خرابی: بہت سے کیڑے مار زہر endocrine disruptors ہوتے ہیں، جو ہارمون سسٹن کو متاثر کرتے ہیں، جس سے مردوں میں اسپرم کی کمزوری، خواتین میں ہارمونی عدم توازن اور بچوں میں غیر معمولی نشوونما جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
دماغی مسائل اور یادداشت کی کمزوری: تحقیق بتاتی ہے کہ زیادہ مقدار میں organophosphate pesticides کا استعمال نیورانز (دماغی خلیات) کو نقصان پہنچاتا ہے، جس سے یادداشت کمزور ہونے، توجہ کی کمی، اور نیورولوجیکل بیماریاں جیسے پارکنسنز اور الزائمر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
کینسر کا بڑھتا ہوا خطرہ: WHO کے مطابق، Malathion اور Chlorpyrifos جیسے کیڑے مار ادویات کینسر کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہیں، کیونکہ یہ جسم میں DNA mutations پیدا کر سکتی ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں صرف اسٹرابری نہیں، ہر چیز زہریلی ہو چکی ہے.
اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف اسٹرابری کے ساتھ ہے، تو ذرا دھیان دیں کہ ہم روزانہ کیا کھا رہے ہیں:
دودھ میں یوریا، واشنگ پاوڈر، اور فارملین شامل کیے جا رہے ہیں۔
مرچ، ہلدی، اور دھنیا پاوڈر میں اینٹوں کا برادہ، لکڑی کا برادہ، اور کیمیکل رنگ ملائے جا رہے ہیں۔
دالیں چمکدار بنانے کے لیے زہریلے پالش کیمیکلز سے لیس کی جا رہی ہیں۔
گھی اور آئل میں صنعتی کیمیکلز شامل کیے جا رہے ہیں جو دل کی بیماریوں اور کولیسٹرول کا سبب بنتے ہیں۔
چینی میں سلفر ڈائی آکسائیڈ اور بلیچنگ ایجنٹس ڈالے جا رہے ہیں، جو آنتوں کے کینسر کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
یہ صرف خوراک نہیں، ہم نے اپنا پورا نظام زہر آلود کر دیا ہے۔ ہم خود کو، اپنی زمین کو، اور اپنی معیشت کو زہر دے رہے ہیں۔
اور پھر جب کوئی صحت مند خوراک مانگے تو کہتے ہیں: "بھائی! پاکستان میں یہی چلتا ہے، ورنہ کھانے کو کچھ نہیں ملے گا!"
یہی سوچ ہمیں لے ڈوبے گی۔ آج یورپی یونین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک ہماری زرعی مصنوعات لینے سے انکار کر رہے ہیں کیونکہ ہم خود اپنی زمین کو زہریلا کر چکے ہیں۔ جو فصلیں پاکستان میں عام آدمی کھا رہا ہے، وہی فصلیں اگر کسی ترقی یافتہ ملک میں ٹیسٹ کرائی جائیں تو سیدھا کچرے میں پھینک دی جائیں گی۔
کیا ہمیں جاگنے کی ضرورت ہے؟ نہیں، بلکہ ہلایا جائے گا!
یہ نظام خود کو تباہ کرنے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب دنیا ہمیں صرف "زہریلی خوراک تیار کرنے والا ملک" کہے گی، جہاں عوام کا جسمانی اور دماغی زوال کاروباری لالچ کی بھینٹ چڑھ چکا ہوگا۔
یہ وقت ہے کہ:
زرعی شعبے میں سخت قوانین لائے جائیں۔
زہریلی کھادوں اور کیڑے مار ادویات کے غیر ذمہ دارانہ استعمال پر سخت پابندیاں لگائی جائیں۔
عوام کو آگاہی دی جائے کہ وہ زہریلے پھل اور سبزیاں خریدنا بند کریں۔
اپنے اور اپنے خاندان کو ان زہریلے کیمیکلز سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پھلوں اور سبزیوں کو صحیح طریقے سے صاف کریں۔ کچھ آسان طریقے اپنا کر ہم کافی حد تک اس خطرے کو کم کر سکتے ہیں:
1. سرکے اور پانی سے دھونا – ایک پیالے میں پانی لیں اور اس میں تھوڑا سا سفید یا سیب کا سرکہ ڈال کر پھلوں اور سبزیوں کو 15-20 منٹ کے لیے بھگو دیں۔ اس کے بعد انہیں صاف پانی سے دھو لیں۔ یہ نہ صرف کیمیکلز کو کم کرتا ہے بلکہ جراثیم بھی مار دیتا ہے۔
2. بیکنگ سوڈا کا استعمال – اگر آپ کے پاس سرکہ نہیں ہے تو ایک لیٹر پانی میں ایک چمچ بیکنگ سوڈا ڈال کر سبزیوں اور پھلوں کو کچھ دیر بھگو کر رکھیں، پھر دھو لیں۔ یہ بھی زہریلے اثرات کو کم کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے.
3. نمک ملے پانی میں دھونا – اگر سرکہ یا بیکنگ سوڈا نہیں ہے تو ایک لیٹر پانی میں دو چمچ نمک ڈال کر سبزیوں کو دھو سکتے ہیں۔ یہ بھی نقصان دہ کیمیکلز کو ہٹانے میں مدد دیتا ہے۔
4. برش یا اسکریبر کا استعمال – سیب، کھیرے، آلو اور گاجر جیسی سبزیوں اور پھلوں کو برش سے رگڑ کر دھونا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے سطح پر لگی ہوئی مضر چیزیں نکل جاتی ہیں۔
5. چھیل کر یا ابال کر کھائیں – جہاں ممکن ہو، سبزیوں اور پھلوں کے چھلکے اتار کر یا انہیں ہلکا سا ابال کر استعمال کریں تاکہ کسی حد تک کیمیکل کا اثر کم ہو سکے۔
یہ چھوٹے مگر مؤثر اقدامات ہمیں اور ہمارے بچوں کو زہریلے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اگر ممکن ہو تو کوشش کریں کہ قابلِ اعتماد ذرائع سے سبزیاں اور پھل خریدیں اور بازار کے چمکدار نظر آنے والے پھلوں سے ہوشیار رہیں، کیونکہ زیادہ چمک کا مطلب اکثر زیادہ کیمیکل ہوتا ہے۔ اپنی صحت کو خود محفوظ بنائیں!
اس پوسٹ کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کھانے پینے کی اشیاء، خاص طور پر پھلوں اور سبزیوں پر استعمال ہونے والے نقصان دہ کیمیکلز کے اثرات کو اجاگر کیا جائے۔ یہ تحریر میرے محدود مطالعے، تحقیق، اور مختلف رپورٹس کے تجزیے پر مبنی ہے۔ میں کسی حتمی دعوے کا دعویدار نہیں، اور ممکن ہے کہ مجھ سے غلطی ہو۔
میری نیت صرف شعور بیدار کرنا اور ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرانا ہے۔ اگر کسی کو اختلاف ہو تو یہ ایک علمی مکالمے کا حصہ ہے، اور میں ہر مثبت اور تحقیق پر مبنی تنقید کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ علم مستقل ارتقا پذیر ہے، اور میں بھی سیکھنے کے عمل میں ہوں۔
مختلف ریسرچز کے لنکس جو کیمیکل کے نقصانات پر کی گئی ہیں.
https://www.researchgate.net/publication/357193581_Determination_of_Pesticide_Residues_in_Strawberry_Fragaria_ananassa_Duch_from_Upper_Punjab_Districts_of_Pakistan
https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/39414624/
https://journals.internationalrasd.org/index.php/jmps/article/view/1173
https://www.food-safety.com/articles/9329-ewg-publishes-2024-dirty-dozen-list-of-produce-most-contaminated-with-pesticides
Comprehensive Nutrient Rich daily diet plan tailored for a fasting day!
---
Sahari (Pre-Dawn Meal)
Goal: Provide slow‐releasing energy, hydrate the body, and deliver a balanced mix of protein, healthy fats, and complex carbohydrates.
1. Hydration:
Start with 1–2 glasses of water immediately after waking to rehydrate and stimulate digestion.
2. Nuts & Dried Fruits:
Mix: A small handful combining almonds, walnuts (if available), raisins, and figs.
Benefits: Healthy fats, natural sugars, and fiber to gradually raise blood glucose and supply essential micronutrients.
3. Protein Options:
Eggs: 2 boiled or lightly scrambled eggs (with minimal oil and added veggies like spinach or tomato) for high-quality protein and nutrients.
Alternative: If you prefer plant protein, a small serving of moong dal chilla (lentil pancake) can be used.
4. Complex Carbohydrates & Fiber:
Whole Wheat Paratha with Vegetable Salan:
Choose a paratha made with whole wheat for added fiber.
Pair it with a lightly spiced vegetable curry (salan) prepared with a variety of seasonal vegetables (e.g., spinach, okra, or mixed veggies) using minimal oil and moderate salt.
5. Dairy & Legumes:
Dahi (Yogurt) with Channa (Chickpeas):
A serving of low-fat yogurt mixed with boiled chickpeas adds probiotics for gut health and extra protein and fiber.
Optional Addition: A small bowl of overnight-soaked oats with milk (or a dairy-free alternative) topped with a few chopped fruits or seeds (such as chia or flax) for extra fiber and omega-3 fatty acids.
6. Spices & Herbs:
Incorporate spices such as turmeric, ginger, and garlic in your vegetable salan or egg preparation. These have anti-inflammatory properties and support digestion.
---
Iftar (Evening Meal to Break the Fast)
Goal: Rehydrate gradually, replenish energy stores, and provide a balanced intake of protein, carbohydrates, and vegetables without overwhelming the digestive system.
1. Initial Rehydration:
Dates & Water: Begin with 2–3 dates and a glass of water. Dates offer natural sugars and minerals for a quick energy boost and rehydration.
2. Light Starter:
Soup: Enjoy a warm bowl of lentil (dal) or chicken soup with vegetables. This light starter helps prepare the stomach for the main meal and aids digestion.
3. Main Meal Components:
Lean Protein:
Options include grilled or lightly sautéed chicken, fish, paneer (for vegetarians), or dals.
Tip: Use heart-healthy oils (like olive or mustard oil) in moderation.
Complex Carbohydrates:
Include a serving of brown rice, whole wheat chapati, or a small portion of millets for slow-releasing energy.
Vegetables:
A generous serving of mixed vegetables (steamed or lightly cooked) to boost fiber, vitamins, and minerals.
Salad:
A fresh salad made with cucumbers, tomatoes, carrots, and a squeeze of lemon to aid digestion and enhance vitamin C intake.
4. Portion & Preparation:
Emphasize moderate portions and avoid deep-fried or heavily processed foods to prevent digestive discomfort and blood sugar spikes.
--
Additional Considerations for Overall Health
1. Hydration:
Aim to drink plenty of water between iftar and sahari. You can also include herbal teas (without added sugar) and, occasionally, natural drinks like coconut water for electrolytes.
2. Balanced Macronutrients:
Ensure that every meal has a balanced ratio of proteins, complex carbohydrates, and healthy fats. This balance helps stabilize blood sugar levels and provides sustained energy.
3. Fiber & Micronutrients:
Incorporate a variety of fruits and vegetables across meals to meet daily fiber needs, support digestion, and supply vitamins and minerals.
Use traditional spices (turmeric, ginger, cumin, coriander) not only for flavor but also for their digestive and anti-inflammatory benefits.
4. Avoiding Excess Salt and Sugar:
Limit added sugars and salt in your meals. Traditional pickles and chutneys can be enjoyed in moderation, but always be mindful of their salt content to help manage blood pressure.
5. Meal Timing & Eating Pace:
Eat slowly and mindfully, allowing your body to properly digest food. Taking time between courses (even within a meal) can help reduce bloating and promote better nutrient absorption.
6. Personal Adjustments:
Adjust portion sizes and ingredients according to your personal energy requirements and any specific health conditions. For individualized advice, consider regular consultation with a healthcare provider, even as you follow this optimized plan.
Note: This plan includes my own research+ help of AI to do research and add more things necessary. You can add anything missing or I'll welcome any recommendations in the comments.
Thanks
22/01/2025
چوانڈو ٹین سنگاپور سے تعلق رکھنے والے فوٹوگرافر ہیں جو دیکھنے میں بیس بائیس برس کے لگتے ہیں لیکن حقیقت میں 58 برس کے ہیں۔
چوانڈو نے نہ کوئی سرجری کروائی، نہ ہی وہ فیس واش اور موسچرائزر کے علاوہ کوئی اور سکن کئیر پروڈکٹ استعمال کرتے ہیں، نہ ان کے پاس آبِ حیات جیسا کوئی خاص نسخہ ہے کہ فلاں قہوہ پینے، فلاں گولی کھانے سے ان کی ایجنگ رک گئی ہو ۔۔۔
اس کے برعکس ان کی صحت اور جوانی کا راز کچھ سیدھے سادے اصولوں پر بیس بائیس سال کی عمر سے مسلسل عمل کرنا ہے۔
چوانڈو ٹین کا ڈائیٹ میں دو چیزوں پر زور ہوتا ہے : پروٹین اور پروٹین کو ہضم کرنے کے لیے فائبر۔
وہ ناشتے میں دو ابلے ہوئے انڈے زردی سمیت اور چار ابلے ہوئے انڈوں کی صرف سفیدی کھاتے ہیں اور اس کے ساتھ دودھ پیتے ہیں۔
دوپہر کو وہ بھنا ہویا یا ابلا ہوا گوشت چاولوں کے ساتھ یا چاولوں کے بغیر کھاتے ہیں اور ساتھ میں ڈھیر سارا سلاد اور فروٹس۔
ڈنر کے لیے وہ سب کچھ کھا لیتے ہیں لیکن صرف تیل اور مصالحے کم رکھتے ہیں۔
وہ ہر آدھے گھنٹے چالیس منٹ بعد پانی پیتے ہیں۔ شراب اور کولڈ ڈرنکس بالکل نہیں پیتے۔ چائے یا کافی بھی اگر پئیں تو دن میں صرف ایک بار اور وہ بھی اندھیرا ہونے سے پہلے پہلے۔ ڈنر کے بعد وہ دودھ کے ایک گلاس یا ہلکے پھلکے پھلوں کے علاوہ کچھ نہیں کھاتے پیتے۔
کچھ بھی ہوجائے، رات دس سے گیارہ کے درمیان سو جاتے ہیں اور صبح چھ سے سات کے درمیان اٹھ جاتے ہیں۔ نیند سات گھنٹے سے کم نہیں کرتے۔
وہ روزانہ دو مرتبہ نہاتے ہیں۔ ہفتے میں چار مرتبہ جم میں ایک گھنٹے کی ویٹ ٹریننگ کرتے ہیں۔ باقی تین دن ایک گھنٹہ سوئمنگ کرتے ہیں۔ ہفتے کے سات دن آدھے گھنٹے تک کسی قسم کی کارڈیو ٹریننگ کرتے ہیں خواہ وہ ٹریڈمل پر ہو، بائیسکل پر یا پارک میں جاگنگ۔
وہ ایزی گوئنگ ہیں، دوسروں کو کنٹرول کرنے کی کوشش نہیں کرتے جو چیز ان کے کنٹرول میں نہ ہو اس کے بارے پریشان نہیں ہوتے، جو لوگ انہیں پسند نہ ہوں ان سے نہیں ملتے اور جو کام پسند نہ ہو وہ نہیں کرتے۔ اپنا کھانا بنانے سے کپڑے استری کرنے تک، اپنی ذات کی حد تک زیادہ تر کام خود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان اصولوں کو جانتے سب ہیں لیکن عمل کم ہی لوگ کرتے ہیں۔ کریں بھی تو کچھ عرصہ کرکے چھوڑ دیتے ہیں۔
چوانڈو ٹین ہوں یا کوئی اور، جس نے بھی ان سیدھے سادے اصولوں پر مستقل مزاجی سے عمل کیا ہے وہ پلاسٹک سرجریوں اور حکیموں کے نسخوں کے بغیر ہی جوان، خوب صورت اور تگڑا رہا ہے۔
17/12/2024
The human brain requires around 2,000 liters of blood per day to function optimally.
The human brain requires around 2,000 liters of blood per day to function optimally. Here's how it works:
The brain depends on a continuous blood supply to deliver oxygen and glucose, which are essential for energy and proper functioning.
Your heart pumps about 5 liters of blood per minute, and roughly 15-20% of this output is directed to the brain. Over 24 hours, this amounts to approximately 2,000 liters.
This massive flow highlights how critical the circulatory system is for brain health. Even a few minutes without blood can cause severe damage due to oxygen deprivation.
Your brain is a blood-thirsty organ! To function properly, it needs an astonishing 2,000 liters of blood every single day—enough to fill a small tanker! This constant flow delivers oxygen and nutrients to keep your neurons firing and your thoughts sharp. Amazingly, even though the brain makes up only 2% of your body weight, it consumes 20% of your total oxygen and energy supply. The heart pumps tirelessly to ensure the brain gets what it needs, as even a brief interruption could lead to serious damage.
Impressed? share this on, stay connected, and let others learn this mind-blowing fact!
19/11/2024
چاول کے پانی سے بال دھونا ایک قدیم اور مقبول گھریلو نسخہ ہے، خاص طور پر ایشیائی ممالک میں۔ یہ بالوں کی نشوونما، چمک، اور مضبوطی کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ چاول کے پانی میں موجود وٹامنز، منرلز اور اینٹی آکسیڈنٹس بالوں کی صحت کو بہتر بنانے میں مددگار ہوتے ہیں۔
فوائد:
1. بالوں کی نشوونما میں مدد: چاول کے پانی میں موجود امینو ایسڈز بالوں کی جڑوں کو مضبوط بناتے ہیں اور نشوونما کو تیز کرتے ہیں۔
2. چمکدار بال: اس میں موجود انوزیٹول (Inositol) بالوں کی ساخت کو بہتر بناتا ہے اور ان میں چمک لاتا ہے۔
3. بالوں کو مضبوط کرنا: پروٹین اور وٹامن بی کے اجزاء بالوں کو ٹوٹنے سے بچاتے ہیں۔
4. خشکی سے نجات: چاول کا پانی کھوپڑی کو ہائیڈریٹ کرتا ہے اور خشکی کم کرنے میں مددگار ہے۔
استعمال کا طریقہ:
1. ایک کپ چاول دھو کر اسے 2-3 کپ پانی میں 30 منٹ کے لیے بھگو دیں۔
2. پانی کو چھان کر الگ کر لیں۔
3. شیمپو کے بعد اس پانی کو بالوں پر ڈالیں اور 5-10 منٹ کے لیے چھوڑ دیں۔
4. صاف پانی سے دھو لیں۔
احتیاط:
چاول کے پانی کو زیادہ دیر کھوپڑی پر نہ چھوڑیں، کیونکہ یہ خشکی یا جلن پیدا کر سکتا ہے۔
اگر بال زیادہ خشک یا سخت محسوس ہوں، تو چاول کے پانی کا استعمال کم کریں۔
استعمال سے پہلے جلد یا کھوپڑی پر کسی الرجی کی شکایت ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
یہ طریقہ ہفتے میں 1-2 بار استعمال کرنا کافی ہوتا ہے۔
12/11/2024
لاہور، پاکستان کا دل اور ثقافتی دارالحکومت، آج دنیا میں فضائی آلودگی کے لحاظ سے سرِ فہرست ہے۔ IQAir کی رپورٹ کے مطابق، لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے، جس نے اس شہر کو سانس لینے کے لیے مضر بنا دیا ہے۔ مگر یہ صرف لاہور کا مسئلہ نہیں ہے – پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی فضائی آلودگی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور یہ پورے ملک کی صحت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
فضائی آلودگی کے اس بڑھتے ہوئے مسئلے کی وجوہات میں فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں، گاڑیوں کی بڑھتی تعداد، اور درختوں کی کمی شامل ہیں۔ یہ مسئلہ صرف ایک شہر تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ اسلام آباد، کراچی، فیصل آباد، اور پشاور جیسے بڑے شہر بھی آلودگی کے اثرات سے محفوظ نہیں ہیں۔
کیا ہم کچھ کر سکتے ہیں؟
1. لاہور ہو یا کراچی، ہمیں پورے پاکستان میں درختوں کی تعداد بڑھانی ہوگی۔ درخت آلودگی کو کم کرتے ہیں اور ماحول کو صاف رکھتے ہیں۔
2. پورے ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ گاڑیوں کی تعداد کم ہو اور دھویں کا اخراج بھی کم ہو۔
3. حکومت کو چاہیے کہ وہ فیکٹریوں کے دھویں کے اخراج کو محدود کرنے کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرے، اور پورے ملک میں ایسی مانیٹرنگ سسٹم بنائے جو فضائی آلودگی پر نظر رکھے۔
4. ہمیں پاکستان کے ہر کونے میں لوگوں کو فضائی آلودگی کے نقصانات اور اس کے تدارک کے بارے میں آگاہی دینی ہوگی۔ اگر عوام خود کو اس مسئلے کا حصہ سمجھیں گے، تب ہی ہم بہتری کی طرف بڑھ سکیں گے۔
فضائی آلودگی کا مسئلہ صرف لاہور تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ یہ ہمارا ملک ہے، اور ہمیں اپنی نسلوں کے لیے ایک صحت مند ماحول فراہم کرنے کے لیے ابھی سے کام کرنا ہوگا۔ پورے پاکستان میں آلودگی کو کم کرنے کے لیے ہمیں قومی سطح پر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ہم ایک صاف، سبز، اور صحت مند ملک کو دیکھ سکیں۔
کبھی سنا ہے کہ دنیا میں کوئی عورت۔۔۔۔ ہارٹ اٹیک سے مری ہو، ایک آدھ کو چھوڑ کر؟؟؟
ہارٹ اٹیک سے مرد مرتے ہیں، کیوں کہ مرد کے پاس۔۔۔۔۔ دل ہوتا ہے، دل۔۔۔۔۔🙃
فلمی ڈائیلاگ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Multan
