The Man who Semendonor
If you are childless. This is because childless people do not have the ability to do so by nature, then we can help you with full consent.
we would like to donate semen. Take special care of privacy.
29/08/2025
Allow Your Sons Hold Their P***s And Teach Them What It Means...
Tell him: This is your p***s. It’s not a toy. It’s not a weapon.
It’s a part of you, sacred, not shameful. Purposeful, not playful.
Let your sons hold their pen!ses
Not in shame. Not in secrecy. Not as a tool for destruction but with understanding, with clarity, and with purpose.
Because if we do not teach them what they carry between their legs, someone else will.
And when the world steps in, it won’t come with wisdom, it’ll come with warped definitions of masculinity, reckless pride, and empty conquest.
You see, we can’t fix the brokenness in our men until we start raising better boys.
We can’t complain about monsters we didn’t stop from forming.
So teach your sons early.
Let him know that it’s not his license to dominate, but a reminder of the discipline he must carry.
Teach him that manhood isn’t measured by how many girls he can “conquer,” but by how many boundaries he can honor.
Yes, tell him it is not a crime for a man to marry as a virgin.
Purity is not gendered. Restraint is not weakness. Self-control is strength.
Let him understand that what’s in his trousers does not make him an “odogwu" his choices do.
His respect for women does. His ability to walk away when everyone else is bragging does.
That pen!s he carries can either build a legacy or burn one down.
It can create life or destroy destinies.
So teach him...
“Just because you can doesn’t mean you should.”
“Just because someone is willing doesn’t mean it is right.”
Let him know that touching a woman who is not his wife is not an adventure, it’s compromise. It’s confusion. It’s consequence.
Teach him that pleasure without responsibility is a path to pain.
And that every time he sleeps around, he doesn’t prove his masculinity, he loses a piece of himself.
Boys must be taught before they become men.
Because by the time the beard grows and the muscles fill out, the damage may already be done.
Don’t let society teach your son that manhood is recklessness.
Let him hear from you that real men protect, not prey. They lead with honor, not ego. They master themselves, not others.
Let him grow up knowing that his body is not just his own, it is a vessel of purpose.
Let him rise with the understanding that s*x is not sport, and women are not trophies.
Because until we raise our sons right, we will keep raising men who break instead of build.
29/08/2025
13/07/2025
DNA
22/06/2025
جسمانی رطوبتوں یا سیالوں سے الرجی
جسمانی رطوبتوں میں پائے جانے والے مخصوص الرجین سے بھی الرجی پیدا ہو سکتی ہے۔ الرجین وہ مادے ہوتے ہیں جو زیادہ تر لوگوں کے لیے بے ضرر ہوتے ہیں لیکن الرجی والے لوگوں کے مدافعتی نظام کو زیادہ رد عمل کا باعث بنتے ہیں۔
برطانیہ میں ایک کیس میں، میووں سے الرجی والی ایک خاتون کو ایک ایسے شخص کے ساتھ جنسی تعلق کرنے کے بعد دانے نکلے اور ان کا دم گھٹنے لگا جس نے صرف چند گھنٹے قبل مختلف قسم کے گری دار میوے کھائے تھے۔
اگرچہ اس شخص نے اس دوران اپنے دانتوں، ناخنوں اور جلد کو صاف کیا تھا، لیکن گری دار میوے سے شدید الرجی والے کچھ لوگوں کو بوسہ کرتے ہوئے بھی الرجی پیدا ہوتے دیکھا گیا ہے۔
تاہم، گری دار میوے کھانے کے بعد بوسہ کرنے سے الرجک ردعمل کے معاملات عام ہیں۔
تاہم، بعض اوقات پھل، سبزیاں، سمندری غذا اور دودھ کے استعمال کے بعد تھوک سے الرجی بھی دیکھی گئی ہے۔
اینٹی بائیوٹک سے الرجی والی خواتین کو یہ دوائیں لینے والے لوگوں کے ساتھ سیکس اور (ممکنہ طور پر) اورل سیکس کے بعد الرجک رد عمل پیدا ہوتا ہے۔
لیکن ان خارجی الرجیوں کے علاوہ، بعض جسمانی رطوبتوں میں موجود بعض پروٹین بھی ردعمل کو متحرک کر سکتے ہیں۔
سپرم اس طرح کے سب سے عام سیالوں میں سے ایک ہے۔
سیمین الرجی (سیمینل پلازما انتہائی حساسیت) اس کے سامنے آنے کے بعد مختلف علامات کا سبب بنتی ہے۔
یہ خارش والی جلد کے دانوں سے لے کر ممکنہ طور پر جان لیوا الرجک رد عمل تک ہیں جسے اینافلیکسز کہا جاتا ہے۔ یہ وہ حالت ہے جب مدافعتی نظام الرجین پر زیادہ رد عمل ظاہر کرتا ہے، جس کی وجہ سے جسم میں اچانک اور تیزی سے مختلف علامات پیدا ہوتی ہیں۔
سنہ 2024 کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق، اگرچہ 100 سے کم کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں، لیکن یہ عام طور پر 20 سے 30 سال کی عمر کے لوگوں میں دیکھا جاتا ہے۔
اس حسّاسیت کو اکثر سیمینل پلازما میں موجود پروسٹیٹ کے مخصوص اینٹیجن سے جوڑا گیا ہے۔ یہ سیال سپرم میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے اور الرجی اس پروٹین سے ہوتی ہے سپرم سے نہیں۔
22/06/2025
پیچیدہ جذباتی اثرات
اس معاملے سے متاثر ہو کر، جانکووسکی اور ان کے ساتھیوں نے ایک مطالعہ کیا جو 2017 میں شائع ہوا تھا۔ ان کے مطالعے میں شامل 25 فیصد ماہر امراض جلد نے ایسے معاملات دیکھے تھے تاہم زیادہ تر کو ایسی حالت کے ہونے کا شبہ تھا۔
اس کے جذباتی اثرات پیچیدہ ہو سکتے ہیں، اور دونوں پارٹنرز کو متاثر کر سکتے ہیں۔ جذباتی اثر مریض اور ساتھی دونوں کے لیے پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
اس تحقیق کے مطابق متاثرین کو سیکس کے بعد لالی، خارش، جلن، سوجن اور دانے نکلنے کی شکایت ہوتی ہے۔ اس کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ سروائیکو-ویجائنل سیال سے الرجی اتنی ہی عام ہے جتنی کہ سپرم سے الرجی۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ صرف امریکہ میں کئی ہزار افراد کو متاثر کرتی ہے۔
سپرم اور سروائیکو ویجائنل فلوئڈ سے الرجی کے درمیان ایک فرق یہ ہے کہ کنڈوم علامات سے زیادہ راحت نہیں دے سکتے کیونکہ وہ رانوں کے آس پاس کے حصے کو نہیں ڈھانپتے۔
ان لوگوں کے لیے جو اپنے ساتھی کے کسی خاص پہلو سے الرجک ہیں، اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ مورا کا خیال ہے کہ سپرم کے لیے ان کی حسّاسیت نے ان کے بچے پیدا نہ کرنے کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔
اگرچہ مورا کا رشتہ محفوظ ہے اور ان کے ساتھی کنڈوم استعمال کرنے میں خوش ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ پریشان ہیں کہ مجھے ان کے سپرم سے الرجی ہے، لیکن وہ اس کے لیے مجھے الزام نہیں دیتے۔‘
22/06/2025
علاج کیا ہیں؟
ایک علاج میں برنسٹین نے مریض کے ساتھی کی سپرم کو اس کی جلد میں انجکشن لگایا تاکہ اسے غیر حسّاس بنایا جا سکے۔
یہ طریقہ مردانہ پوسٹ آرگیزمک سنڈروم کے علاج سے ملتا جلتا ہے یہ ایک غیر معمولی حالت ہے جس میں مرد اپنے ہی سپرم سے حساسیت کا شکار ہوتے ہیں۔
’لیکن یہ مہنگا ہے، مریضوں کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی تھی کیونکہ نمونے تیار کرنے کا بہت کام لیبارٹری میں کیا جاتا تھا۔‘
برنسٹین اور ان کے ساتھیوں نے پایا کہ یہ علاج ایک بار کیے جانے پر بھی کارآمد ہے۔
سب سے پہلے انھوں نے نطفے کو سیمینل سیال سے الگ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے مریض کی شدت کے لحاظ سے سیمنل فلوئڈ کو دس ملین میں ایک حصہ یا ایک ملین میں ایک حصہ تک پتلا کیا۔
پھر پندرہ منٹ کے وقفے سے یہ محلول مریض کی اندام نہانی میں ڈالا گیا۔ مریض کی ذرخیزی بڑھانے کے لیے محلول میں سپرم کی مقدار بتدریج بڑھائی گئی۔ پورے عمل میں مریض کی نگرانی کی گئی۔ نتیجے کے طور پر، ’ان کے پورے جسم میں کوئی بڑا ردعمل نہیں تھا اور وہ غیر محفوظ جنسی تعلقات کے قابل ہو گئے تھے۔‘
اس مریض ساتھی کے ساتھ کم از کم ایسا ہی ہوا۔
سیمنل پلازما کی انتہائی حساسیت کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے اور غلط تشخیص کیا جاتا ہے۔ سیکس کے دوران جسم کے دیگر سیالوں کے تبادلے کے بارے میں بھی بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔
سروائیکو ویجائنل سیال سے ممکنہ الرجی کے بارے میں بھی تقریباً کوئی شائع شدہ تحقیق نہیں ہے۔ سروائیکو ویجائنل سیال خواتین کی طرف سے ان کے اندام نہانی سے خارج ہوتا ہے، جو اس علاقے کو چکنا کرتا ہے اور اسے جراثیم سے بچاتا ہے۔
جانکووسکی پولینڈ کی نکولس کوپرنیکس یونیورسٹی میں ڈرمیٹولوجی اور وینیرولوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ انھوں نے کم از کم ایک ایسے شخص کا علاج کیا ہے جو کئی دوسرے ڈاکٹروں کو دکھانے کے بعد ان کے پاس آیا تھا۔
مریض نے بتایا کہ سیکس کے تقریباً 30 منٹ بعد ان کا رضو تناسل سرخ ہو گیا اور خارش ہو گئی۔ اس کے بعد ان کے چہرے پر بھی خارش تھی۔ جانکووسکی کے مطابق مریض کا خیال تھا کہ یہ الرجی ہے لیکن ڈاکٹروں نے اس کا مذاق اڑایا اور ان کے خیال کو مسترد کردیا۔
تاہم، جانکووسکی نے جنسی سرگرمیوں کے دوران خواتین کی طرف سے پیدا ہونے والے سروائیکو-اندام نہانی کے سیال پر غور کیا۔
مریض علاج کے بعد بالآخر صحت یاب ہو گیا۔
22/06/2025
جوناتھن برنسٹین جو کہ امریکہ میں یونیورسٹی آف سنسناٹی کے کالج آف میڈیسن میں الرجی اور امیونولوجی پر توجہ مرکوز کرنے والے کلینیکل میڈیسن کے پروفیسر ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ سپرم الرجی والے لوگوں کے جسموں میں کیا ہوتا ہے۔ برنسٹین کے مطابق، جانوروں کے ماڈلز اور متاثرہ انسانوں کی کمی کی وجہ سے اس حالت پر کوئی بڑی تحقیق نہیں کی جا سکتی۔
سپرم الرجی کے معاملات جسم کے کسی مخصوص حصے میں ہو سکتے ہیں یا پھر پورے جسم میں بھی پھیل سکتے ہیں۔
جب یہ سپرم کے رابطے کی جگہ تک محدود ہوتا ہے، تو یہ اکثر اندام نہانی میں یا اس کے ارد گرد رپورٹ کیا جاتا ہے۔ علامات میں سیکس کے فوراً بعد شدید درد اور جلن ہونا شامل ہو سکتا ہے۔
لیکن سپین کے ایک کیس میں ایک خاتون، جنھیں اندام نہانی سے جنسی تعلقات کے بعد پہلے کبھی الرجی نہیں ہوئی تھی، وہ بے ہوش ہوگئیں۔
ان میں سپرم کے سیال کے لیے انتہائی حساسیت کی تصدیق ہوئی۔ امریکہ میں ایک عورت کو غیر جنسی حالت میں بھی سوجن اور دانے نکلنے کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی جلد پر سپرم لگ گئے۔
جوناتھن برنسٹین کا کہنا ہے کہ یہ تیزاب کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ ان کے ایک مریض نے اسے ’اندام نہانی میں ہزاروں سوئیاں پھنسنے کی طرح‘ کے احساس کے طور پر بیان کیا۔
چونکہ سیمین الرجی کے ماہرین بہت کم ہیں اس لیے برنسٹین کے مریض دور دور سے آتے ہیں۔
برنسٹین زیادہ تر خواتین کو دیکھتے ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کے علاج سے سپرم کی الرجی والے کسی بھی فرد کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
برنسٹین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مریضوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے یا انھیں دوسرے علاج دیے جاتے ہیں کیونکہ ڈاکٹر نہیں جانتے کہ ان سے کیسے نمٹا جائے۔
مردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھنے والے مردوں میں سپرم الرجی کے حوالے سے اعداد و شمار کی شدید کمی ہے۔
برنسٹین کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسا کیس کبھی نہیں دیکھا۔
ان کی رائے میں ان علامات کی وجہ اندام نہانی کا خاص ماحول بھی ہو سکتا ہے۔
22/06/2025
کچھ خواتین کو سپرم سے الرجی کیوں ہوتی ہے؟
مورا کو لگتا ہے کہ کنڈوم نے ان کی جان بچائی۔ مورا اب 43 سال کی ہیں اور اوہائیو امریکہ میں رہتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انھیں یہ مسئلہ زندگی کے دوسرے عشرے میں ہونے لگا۔ غیر محفوظ سیکس کرنے کے بعد انھیں اپنی ٹانگوں کے اوپری حصوں میں جلن محسوس ہونے لگی۔
انتباہ: اس مضمون میں جنسی اصلاحات اور موضوعات کا ذکر کیا گیا ہے
مورا (رازداری کی وجہ سے نام تبدیل کر دیا گیا) کے لیے اپنے ساتھی کو اس کے بارے میں بتانا آسان نہیں تھا۔ اس لیے ان کے جانے کے بعد وہ خود کو اچھی طرح دھو لیتیں۔
انھوں نے ذاتی صفائی کے لیے بہت اقدامات کیے۔
لیکن حالات سدھرنے کے بجائے مزید خراب ہوتے گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، انھوں نے سوجن اور لالی بھی محسوس کرنا شروع کردی۔ یہ تب ہوتا جب ان کا جسم سپرم کے ساتھ رابطے میں آتا۔
رفتہ رفتہ ماورا کا اس شخص سے رشتہ ٹوٹ گیا۔ پھر وہ کسی ایسے شخص کو دیکھنے لگیں جو کنڈوم استعمال کرنے کی پابندی کرتا۔
وہ بتاتی ہیں ’پہلے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا، لیکن ایک دن ہم سیکس کے بعد بستر پر لیٹ گئے تو پھر سے وہی شکایت ہوئی۔‘
مورا، جنھیں دمہ اور دیگر الرجیز بھی ہیں، کا خیال ہے کہ اس دن کنڈوم لیک ہو گیا تھا۔ وہ اور اس کے اب طویل عرصے سے ساتھی دونوں کنڈوم استعمال کرنے میں پہلے کی نسبت زیادہ محتاط ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سپرم الرجی کے بارے میں اس وقت تک لاعلم تھیں جب تک یہ ان کے ساتھ نہیں ہوا۔
اگرچہ یہ کیسز کافی نایاب ہیں، کچھ لوگوں کے جسم اب بھی دوسرے انسانی جسموں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
اس مسئلے کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے اور اس سے نہ صرف صحت، بلکہ کام، رشتے اور متاثرہ فرد کی پوری زندگی متاثر ہوتی ہے۔ لیکن یہ حالت کیسے پیدا ہوتی ہے اور اس کے بارے میں کیا کرنا ہے یہ بڑی حد تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔
کیا یہ واقعی الرجی ہیں، یا یہ کچھ اور ہے؟ جیسا کہ سائنسدان اس حالت کے اسرار سے پردہ اٹھا رہے ہیں، انسانی جسم کی کیمسٹری اور انسانی جسم کی بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت کی خصوصیات کے بارے میں بھی نئی سمجھ پیدا ہو رہی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan
