Life of Mooms With Asma

Life of Mooms With Asma

Share

This page is only for female and girls.

06/07/2023

ایک مشہور مصنف نے اپنے مطالعے کے کمرےمیں قلم اٹھایا اور ایک کاغذ پر لکھا:

گزشتہ سال میں، میرا آپریشن ہوا اور پِتا نکال دیا گیا، بڑھاپے میں ہونے والے اس آپریشن کی وجہ سے مجھے کئی ہفتے تک بستر کا ہو کر رہنا پڑا۔

اسی سال میں ہی میری عمر ساٹھ سال ہوئی اور مجھے اپنی پسندیدہ اور اہم ترین ملازمت سے سبکدوش ہونا پرا۔ میں نے نشرو اشاعت کے اس ادارے میں اپنی زندگی کے تیس قیمتی سال گزارے تھے۔

اسی سال ہی مجھے اپنے والد صاحب کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا۔

اسی سال میں ہی میرا بیٹا اپنے میڈیکل کے امتحان میں فیل ہو گیا، وجہ اس کی کار کا حادثہ تھا جس میں زخمی ہو کر اُسے کئی ماہ تک پلستر کرا کر گھر میں رہنا پڑا، کار کا تباہ ہوجانا علیحدہ سے نقصان تھا۔

صفحے کے نیچے اس نے لکھا؛

آہ، کیا ہی برا سال تھا یہ!!!

مصنف کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ اُس کا خاوند غمزدہ چہرے کے ساتھ خاموش بیٹھا خلاؤں کو گُھور رہا تھا۔ اُس نے خاوند کی پشت کے پیچھے کھڑے کھڑے ہی کاغذ پر یہ سب کچھ لکھا دیکھ لیا۔ خاوند کو اُس کے حال میں چھوڑ کر خاموشی سے باہر نکل گئی۔ کچھ دیر کے بعد واپس اسی کمرے میں لوٹی تو اس نے ایک کاغذ تھام رکھا جسے لا کر اُس نے خاموشی سے خاوند کے لکھے کاغذ کے برابر میں رکھ دیا۔ خاوند نے کاغذ کو دیکھا تو اس پر لکھا تھا

اس گزشتہ سال میں آخر کار مجھے اپنے پتے کے درد سے نجات مل گئی جس سے میں سالوں کرب میں مبتلا رہا تھا۔

میں اپنی پوری صحت مندی اور سلامتی کے ساتھ ساٹھ سال کا ہو گیا۔ سالوں کی ریاضت کے بعد مجھے اپنی ملازمت سے ریٹائرمنٹ ملی ہے تو میں مکمل یکسوئی اور راحت کے ساتھ اپنے وقت کو کچھ بہتر لکھنے کیلئے استعمال کر سکوں گا۔

اسی سال ہی میرے والد صاحب پچاسی سال کی عمر میں بغیر کسی پر بوجھ بنے اور بغیر کسی بڑی تکلیف اور درد کے آرام کے ساتھ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

اسی سال ہی اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو ایک نئی زندگی عطا فرما دی اور ایسے حادثے میں جس میں فولادی کار تباہ ہو گئی تھی مگر میرا بیٹا کسی معذوری سے بچ کر زندہ و سلامت رہا۔

آخر میں مصنف کی بیوی نے یہ فقرہ لکھ کر تحریر مکمل کی تھی کہ :

واہ ایسا سال، جسے اللہ نے رحمت بنا کر بھیجا اور بخیرو خوبی گزرا۔................................................
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ ﴿٧٣﴾

"اور بے شک تیرا رب تو لوگوں پر فضل کرتا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے" (سورة النمل"

05/07/2023

امام طبرانی کی کتاب میں ایک واقعہ پڑھا آنسو ہیں کہ رک نہیں رہے
آپ بھی پڑھیں

حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ، دروازہِ رسول الله ﷺ پر کلمہ پڑھنے آئے
اور مسلمان ہونے کے بعد نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کرنے لگے

’’رسول الله ﷺ ایک بات پوچھنی ہے‘‘
حضور ﷺ نے فرمایا ’’پوچھو‘‘
کہنے لگے ’’یا رسول الله ﷺ دور جاہلیت میں ہم نے جونیکیاں کی ہے
اُن کا بھی الله ہمیں آجر عطا کرے گا، کیا اُسکا بھی آجر ملے گا‘‘
تو نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’تُو بتا، تُو نے کیا نیکی کی‘‘
تو کہنے لگے
’’یا رسول الله ﷺ میرے دو اونٹ گم ہوگئے میں اپنے تیسرے اونٹ پر بیٹھ کر
اپنے دو اونٹوں کو ڈھونڈنے نکلا، میں اپنے اونٹوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جنگل کے اُس پار نکل گیا، جہاں پرانی آبادی تھی۔ وہاں میں نے اپنے دو اونٹوں کو پا لیا۔ ایک بوڑھا آدمی جانوروں کی نگرانی پر بیٹھا تھا۔ اُس کو جا کر میں نے بتایا کہ یہ دو اونٹ میرے ہیں، وہ کہنے لگا یہ تو چرتے چرتے یہاں آگئے تھے تمہارے ہیں تو لے جاؤ، اُنہی باتوں میں اُس نے پانی بھی منگوا لیا، چند کھجوریں بھی آ گئیں۔ میں پانی پی رہا تھا، کھجوریں بھی کھا رہا تھا کہ بوڑھے کے گھر سے ایک بچے کے رونے کی آواز آئی تو بوڑھا پوچھنے لگا
’’بتاؤ بیٹی آئی کہ بیٹا‘‘
میں نے پوچھا بیٹی ہوئی تو کیا کرو گے کہنے لگا اگر بیٹا ہوا تو قبیلے کی شان بڑھائے گا، اگر بیٹی ہوئی تو ابھی یہاں اُسے زندہ دفن کرا دوں گا۔ اِس لیئے کہ
میں اپنی گردن اپنے داماد کے سامنے جھکا نہیں سکتا۔ میں بیٹی کی پیدائش پر آنے والی مصیبت برداشت نہیں کر سکتا۔ میں ابھی دفن کرا دوں گا۔‘‘
حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ فرمانے لگے
’’یا رسول الله ﷺ، یہ بات سن کے میرا دل نرم ہوگیا، میں نے اُسے کہا پھر پتہ کرو بیٹی ہے کہ بیٹا ہے؟ اُس نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ بیٹی آئی ہے
میں نے کہا کیا واقعی تو دفن کرے گا
کہنے لگا ہاں ! میں نے کہا دفن نہ کر، مجھے دے دے، میں لے جاتا ہوں
یا رسول اللّٰه ﷺ وہ مجھے کہنے لگا
اگر میں بچی تم کو دے دوں تو تم کیا دو گے؟
میں نے کہا، تم میرے دو اونٹ رکھ لو،بچی دے دو۔
کہنے لگا، نہیں،دو نہیں یہ جس اونٹ پہ تو بیٹھ کے آیا ہے یہ بھی لے لیں گے
حضرت صعصعہ بن ناجیہ ؓ عرض کرنے لگے ایک آدمی میرے ساتھ گھر بھیجو
یہ مجھے گھر چھوڑ آئے میں یہ اونٹ اُسے واپس دےدیتا ہوں
یا رسول اللّٰه ﷺ، میں نے تین اونٹ دے کر ایک بچی لے لی، اُس بچی کو لاکے میں نے اپنی کنیزکو دیا۔ نوکرانی اُسے دودھ پلاتی، یا رسول الله ﷺ وہ بچی میرے داڑھی کے بالوں سے کھیلتی، وہ میرے سینے سے لگتی
حضور ﷺ پھر مجھے نیکی کا چسکا لگ گیا۔ پھر میں ڈھونڈنے لگا
کہ کون کون سا قبیلہ بچیاں دفن کرتا ہے۔
یا رسول الله ﷺ، میں تین اونٹ دے کے بچی لایا کرتا۔
یا رسول الله ﷺ میں نے 360 بچیوں کی جان بچائی ہے۔
میری حویلی میں تین سو ساٹھ بچیاں پلتی ہیں۔
حضور ﷺ مجھے بتائیں، میرا مالک مجھے اِس کا اجر دے گا ؟
کہتے ہے حضور ﷺ کا رنگ بدل گیا، داڑھی مبارک پر آنسو گرنے لگے، مجھے سینے سے لگایا، میرا ماتھا چوم کے فرمانے لگے،’’یہ تو تجھے اجر ہی تو ملا ہے
رب نے تجھے دولتِ ایمان عطا کر دی ہے ‘‘

نبی کریم ﷺ فرمانے لگے
’’یہ تیرا دنیا کا اجر ہے اور تیرے رسولﷺ کا وعدہ ہے، قیامت کے دن رب کریم تمہیں خزانے کھول کے دے گا۔‘‘

05/07/2023

🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣🤣
جنگل میں ایک چیتا چرس پینے کی تیاری کررہا تھا کہ اچانک چوہا آگیا اور بولا: بھائی نشہ چھوڑ دو زندگی بہت پیاری ہے آؤ میرے ساتھ دیکھو جنگل کتنا خوبصورت ہے۔۔۔!!!
‏چیتے کو چوہے کی بات اچھی لگی وہ چرس چھوڑ کر ساتھ ہو لیا...

‏تھوڑی آگے جا کر ایک ہاتھی شراب کی بوتل کھولنے کی کوشش کررہا تھا

‏چوہا پھر بولا: انکل نشہ چھوڑ دو ! زندگی بہت پیاری ہے آؤ میرے ساتھ دیکھو جنگل کتنا خوبصورت ہے،
‏ہاتھی کو چوہے کی بات بھا گئی اور وہ بھی ساتھ چل پڑا۔۔۔!!!

‏آگے جاکر دیکھا کہ شیر ہیروئن کی پُڑیا ہاتھ میں اٹھائے نشہ کرنے کی تیاری کررہا ہے
‏چوہا اسکے پاس گیا اور بولا: او جنگل کے بادشاہ

‏نَشہ وَشہ چھوڑو زندگی بہت پیاری ہے آؤ میرے ساتھ دیکھو جنگل کتنا خوبصورت ہے۔۔!!!
‏شیر نے چوہے کو غصے سے دیکھا اور زور سے ایک تھپڑ رسید کیا
‏ہاتھی اور چیتا حیران ہوئے اور پوچھا :
بادشاہ سلامت !چوہے نے تو بہُت اچھی بات کی ہے، تھپڑ کیوں مارا اسے ؟

‏شیر بولا:
یہ کمینہ بھَنگ پی کر دوسروں کو ساری رات گھماتا رہتا ہے...!😛🤣😛🤣

03/07/2023

آنکھیں نم کرنے والا اور
ایمان کو تازہ کر دینے والا واقعہ ۔ ۔ ۔ اگر ٹائم ہو تو ضرور پڑہیں پلیز،
سرکارِ دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے درمیان تشریف فرما تھے کہ ایک یتیم جوان شکایت لیئے حاضر خدمت ہوا۔ کہنے لگا یا رسول اللہ؛(صلی اللہ علیہ والہ وسلم) میں اپنی کھجوروں کے باغ کے ارد گرد دیوار تعمیر کرا رہا تھا کہ میرے ہمسائے کی کھجور کا ایک درخت دیوار کے درمیان میں آگیا۔ میں نے اپنے ہمسائے سے درخواست کی کہ وہ اپنی کھجور کا درخت میرے لیئے چھوڑ دے تاکہ میں اپنی دیوار سیدھی بنوا سکوں، اُس نے دینے سے انکار کیا تو میں نے اُس کھجور کے درخت کو خریدنے کی پیشکش کر ڈالی، میرے ہمسائے نے مجھے کھجور کا درخت بیچنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔
سرکار صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُس نوجوان کے ہمسائے کو بلاوا بھیجا۔ ہمسایہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُسے نوجوان کی شکایت سُنائی جسے اُس نے تسلیم کیا کہ واقعتا ایسا ہی ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اُسے فرمایا کہ تم اپنی کھجور کا درخت اِس نوجوان کیلئے چھوڑ دو یا اُس درخت کو نوجوان کے ہاتھوں فروخت کر دو اور قیمت لے لو۔ اُس آدمی نے دونوں حالتوں میں انکار کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی بات کو ایک بار پھر دہرایا؛ کھجور کا درخت اِس نوجوان کو فروخت کر کے پیسے بھی وصول کر لو اور تمہیں جنت میں بھی ایک عظیم الشان کھجور کا درخت ملے گا جِس کے سائے کی طوالت میں سوار سو سال تک چلتا رہے گا۔
دُنیا کے ایک درخت کے بدلے میں (آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی) جنت میں ایک درخت کی پیشکش ایسی عظیم تھی جسکو سُن کر مجلس میں موجود سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دنگ رہ گئے۔ سب یہی سوچ رہے تھے کہ ایسا شخص جو جنت میں ایسے عظیم الشان درخت کا مالک ہو کیسے جنت سے محروم ہو کر دوزخ میں جائے گا۔ مگر وائے قسمت کہ دنیاوی مال و متاع کی لالچ اور طمع آڑے آ گئی اور اُس شخص نے اپنا کھجور کا درخت بیچنے سے انکار کردیا۔
مجلس میں موجود ایک صحابی ابا الدحداح رضی اللہ تعالی عنہ آگے بڑھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عرض کی، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم، اگر میں کسی طرح وہ درخت خرید کر اِس نوجوان کو دیدوں تو کیا مجھے جنت کا وہ درخت ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جواب دیا ہاں تمہیں وہ درخت ملے گا۔
ابا الدحداح رضی اللہ تعالی عنہ اُس آدمی کی طرف پلٹے اور اُس سے پوچھا میرے کھجوروں کے باغ کو جانتے ہو؟ اُس آدمی نے فورا جواب دیا؛ جی کیوں نہیں، مدینے کا کونسا ایسا شخص ہے جو اباالدحداح رضی اللہ تعالی عنہ کے چھ سو کھجوروں کے باغ کو نہ جانتا ہو، ایسا باغ جس کے اندر ہی ایک محل تعمیر کیا گیا ہے، باغ میں میٹھے پانی کا ایک کنواں اور باغ کے ارد گرد تعمیر خوبصورت اور نمایاں دیوار دور سے ہی نظر آتی ہے۔ مدینہ کے سارے تاجر تیرے باغ کی اعلٰی اقسام کی کھجوروں کو کھانے اور خریدنے کے انتطار میں رہتے ہیں۔
ابالداحداح رضی اللہ تعالی عنہ نے اُس شخص کی بات کو مکمل ہونے پر کہا، تو پھر کیا تم اپنے اُس کھجور کے ایک درخت کو میرے سارے باغ، محل، کنویں اور اُس خوبصورت دیوار کے بدلے میں فروخت کرتے ہو؟
اُس شخص نے غیر یقینی سے سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف دیکھا کہ کیا عقل مانتی ہے کہ ایک کھجور کے درخت کے بدلے میں اُسے ابالداحداح رضی اللہ تعالی عنہ کے چھ سو کھجوروں کے باغ کا قبضہ بھی مِل پائے گا کہ نہیں؟ معاملہ تو ہر لحاظ سے فائدہ مند نظر آ رہا تھا۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور مجلس میں موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گواہی دی اور معاملہ طے پا گیا۔
ابالداحداح رضی اللہ تعالی عنہ نے خوشی سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھا اور سوال کیا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جنت میں میرا ایک کھجور کا درخت پکا ہو گیا ناں؟
آپ صلی اللہ علی والہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ ابالدحداح رضی اللہ تعالی عنہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے حیرت زدہ سے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے جو کچھ فرمایا اُس کا مفہوم یوں بنتا ہے کہ؛ اللہ رب العزت نے تو جنت میں ایک درخت محض ایک درخت کے بدلے میں دینا تھا۔ تم نے تو اپنا پورا باغ ہی دیدیا۔ اللہ رب العزت جود و کرم میں بے مثال ھے اُنہوں نے تجھے جنت میں کھجوروں کے اتنے باغات عطاء کیئے ہیں کثرت کی بنا پر جنکے درختوں کی گنتی بھی نہیں کی جا سکتی۔ ابالدحداح (رضی اللہ تعالی عنہ) میں تجھے پھل سے لدے ہوئے اُن درختوں کی کسقدر تعریف بیان کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی اِس بات کو اسقدر دہراتے رہے کہ محفل میں موجود ہر شخص یہ حسرت کرنے لگا اے کاش وہ ابالداحداح ہوتا۔
ابالداحداح رضی اللہ تعالی عنہ وہاں سے اُٹھ کر جب اپنے گھر کو لوٹے تو خوشی کو چُھپا نہ پا رہے تھے۔ گھر کے باہر سے ہی اپنی بیوی کو آواز دی کہ میں نے چار دیواری سمیت یہ باغ، محل اور کنواں بیچ دیا ہے۔
بیوی اپنے خاوند کی کاروباری خوبیوں اور صلاحیتوں کو اچھی طرح جانتی تھی، اُس نے اپنے خاوند سے پوچھا؛ ابالداحداح کتنے میں بیچا ہے یہ سب کُچھ؟
ابالداحداح رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے یہاں کا ایک درخت جنت میں لگے ایسے ایک درخت کے بدلے میں بیچا ہے جِس کے سایہ میں سوار سو سال تک چلتا رہے۔
ابالداحداح رضی اللہ تعالی عنہ کی بیوی نے خوشی سے چلاتے ہوئے کہا؛ ابالداحداح، تو نے منافع کا سودا کیا ہے۔ ابالداحداح، تو نے منافع کا سودا کیا ہے۔
مسند احمد ٣/١٤٦،
تفسیر ابن کثیر جز ٢٧، صفحہ ٢٤٠

02/07/2023

‏برازیل کے مشہور مصنف پاؤلو کہولو کی ایک کہانی
" باپ اخبار پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا مگر اس کا چھوٹا بیٹا اسے تنگ کرنے میں لگا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ مکمل یکسوئی سے اخبار نہیں پڑھ پا رہا تھا بالآخر باپ نے تنگ آ کر اخبار میں سے کچھ حصہ کاٹا جس پر دنیا کا نقشہ بنا ہوا تھا پھر ‏اس نقشے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا اور بیٹے کو کہا کہ اسے ترتیب دے اور وہ دوبارہ اپنا اخبار پڑھنے لگ گیا
ابھی پندرہ منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ بیٹے نے نقشہ دوبارہ ترتیب دے دیا
باپ نے حیرت زدہ ہو کر بیٹے سے پوچھا
" کیا آپ کی والدہ نے آپ کو جغرافیہ سکھایا ہے؟"
‏بیٹے نے جواب دیا
"نہیں، مگر کاغذ کے دوسری طرف انسان کی تصویر تھی جب میں نے انسان کو دوبارہ بنایا تو دنیا دوبارہ آباد ہو گی"
یہ ایک بے ساختہ جملہ تھا لیکن یہ ایک خوبصورت اور گہرے معنی کے ساتھ تھا کہ جب انسان کو دوبارہ تعمیر کیا تو آپ نے دنیا کو دوبارہ تعمیر کیا.

02/07/2023

دوپہر کے ساڑھے بارہ بجے ہیں ، جون کا مہینہ ہے ، سمن آباد میں ایک ڈاکیہ پسینے میں شرابور بوکھلایا بوکھلایا سا پھر رہا ہے محلے کے لوگ بڑی حیرت سے اس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔۔اصل میں آج اس کی‌ڈیوٹی کا پہلا دن ہے۔۔وہ کچھ دیر ادھر ادھر دیکھتا ہے پھر ایک پرچون والے کی دکان کے پاس سائیکل کھڑی کر کے دکان دار کی طرف بڑھتا ہے
"قاتل سپاہی کا گھر کون سا ہے ؟ "
اس نے آہستہ سے پوچھا۔۔
دکان دار کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔۔اس کی آنکھیں خوف سے ابل پڑیں۔۔
قق قاتل سپاہی۔۔ مم مجھے کیا پتا ؟ اس نے جلدی سے دکان کا شٹر گرا دیا۔۔
ڈاکیہ پھر پریشان ہو گیا۔۔اس نے بہت کوشش کی کہ کسی طریقے سے قاتل سپاہی کا پتا چل جائے لیکن جو کوئی بھی اس کی بات سنتا چپکے سے کھسک جاتا۔۔ڈاکیہ نیا تھا نہ جان نہ پہچان اور اوپر سے قاتل سپاہی کے نام کی رجسٹری آکر وہ کرے تو کیا کرے کہاں سے ڈھونڈھے قاتل سپاہی کو؟؟اس نے پھر نام پڑھا نام اگرچہ انگلش میں تھا لیکن آخر وہ بھی مڈل پاس تھا، تھوڑی بہت انگلش سمجھ سکتا تھا بڑے واضح الفاظ میں۔۔
قاتل سپاہی " غالب اسٹریٹ ، سمن آباد "لکھا ہوا تھا۔۔دو گھنٹے تک گلیوں کی خاک چھاننے کے بعد وہ ہانپنے لگا ، پہلے روز ہی اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔۔اب وہ اپنے پوسٹ ماسٹر کو کیا منہ دکھائے گا۔۔اس کا حلق خشک ہو گیا اور پانی کی طلب محسوس ہوئی وہ بے اختیار اٹھا اور گھر کے دروازے پر لگی بیل پر انگلی رکھ دی۔۔اچانک اسے زور دار جٹھکا لگا۔۔جھٹکے کی اصل وجہ یہ نہیں تھی کہ بیل میں کرنٹ تھا بلکہ بیل کے نیچے لگی ہوئی پلیٹ پر انگلش میں " قاتل سپاہی " لکھا ہوا تھا۔۔
خوشی کی لہر اس کے اندر دور گئی۔۔اتنی دیر میں دروازہ کھلا اور ایک نوجوان باہر نکلا۔۔ڈاکیے نے جلدی سے رجسٹری اس کے سامنے کر دی۔۔
کیا آپ کا ہی یہ نام ہے ؟
نوجوان نے نام پڑھا اور کہا نہیں یہ میرے دادا ہیں۔۔
ڈاکیے نے جلدی سے پوچھا ۔۔'' کیا نام ہے ان کا ؟"
نوجوان نے بڑے اطمینان سے کہا :
قتیل شفائی۔
Qatil Shiphai

تحریر: گل نوخیز اختر

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Multan
60000