Hakeem Shahzad Khan
السلام علیکم میرا نام حکیم شہزاد خان ہے اور میں مہر طب والجرا ت ہوں میں ایک کوالیفائیڈ حکیم ہوں
09/01/2025
سفوف شوگر خاص
اجزاء:
کریلا خشک
تخم سرس
میتھی دانہ
جامن گھٹلی
برگ نیم
کلونجی
اندرجوتلخ
گوند کیکر
افسنتین
کالی زیری
گڑمار بوٹی
کرنجوہ
شاہ بلوط
تخم نیم
ثناء مکی
کشتہ بیضہ مرغ
کشتہ صدف
17 دیسی جڑی بوٹیوں سے تیار شدہ نسخہ جو کہ اسکے استعمال سے آپکا شوگر پوری طور پر کنٹرول میں رہے گی اور نہ اس دوا کی کوئی سائیڈ ایفیکٹ ہے حتیٰ کہ ڈاکٹری میڈیسن لینے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی انشاء اللہ۔
یہ دوا خالص جڑی بوٹیوں سے تیار کیا گیا ہے اسے آپ کسی بھی لیبارٹری میں چیک کر سکتے ہیں۔
زیابیطس جس کو ہو شوگر ایک ایسا جان لیوا مرض ہے جس کی وجہ سے مریض انتہائی تکلیف میں مبتلا رہتا ہے جو کہ نفسیاتی طور پر بھی مریض کے متاثر ہونے کی نشانی ظاہر کرتی ہیں۔
فوائد:
*زیابیطس شکری کے لئے ازحد مفید ہے۔
*خون کو صاف کرتا ہے.
*مثانہ و گردوں کو تقویت دیتی ہے۔
*پیشاب کا بار بار آنا، ہاتھ پاؤں کا جلنا اور سن ہوجانا، وزن کا کم ہونا اور عام جسمانی کمزوری کیلئے ازحد مفید ہے۔
*جریان، احتلام، سرعت انزال اور عورتوں میں لیکوریا اور جملہ امراض میں مفید ہے۔
*بواسیر اور جلدی امراض کے لئے بھی یہ دوا ازحد مفید ہے۔
ترکیب استعمال: 1 چائے والا چمچ نہار منہ صبح ناشتے سے 20 منٹ پہلے استعمال کریں۔ دن میں ایک ہی مرتبہ اور اگر شوگر لیول ہائی ہے تو 2 ٹائم بھی استعمال کر سکتے ہو
حکیم
ڈاکٹر و حکیم شہزاد خان (فاضل طب والجراحت)
90 Days Course Price 2000/-
Whatsapp No:03007599613
29/08/2024
بھگندر- ناسور - فسچولا- ( FISTULA )
تینوں ایک ہی پھوڑے یا نالی دار زخم کے نام ہیں جو مقعد اور بڑی آنت کے گرد یا اندر نالی نما ہوتا ہے۔ ایسے زخم بند نہیں ہوتے اور نہ کھلے بلکہ دو اعضاء کا آپس میں غیر فطری ربط کرتے ہیں جس سے دونوں سے مواد رستا ہے یا ایک عضو کا مواد دوسرے عضو پہ گرتا ہے۔ بھگندر کے زخم کا رخ کبھی اندر کی طرف کبھی باہر اور کبھی مشترک بھی ہو سکتا ہے۔ اس زخم کے کئی ایک چھوٹے چھوٹے سوراخ جس میں سے پتلا لیسدار مادہ ، خون، یا پیپ رستی رہتی ہے۔
اگرآغاز مرض میں درست علاج نہ ہو سکے تو بگڑ کے یہی زخم ناسور (خطرناک پھوڑا) کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور ساتھ ہی گھاؤ لگا کے ریکٹم یعنی مقعد میں سوراخ کر دیتا ہے۔ جس کے بعد باہر کی جانب متعفن مادے پیپ یا انتہائی صورت میں جب امعاۓ مستقیم تک زخم پھیلتا اور براز بھی نکلنا شروع ہوجائے تو ایسا خطرناک نالی دار زخم یعنی فسچولا کینسر یا موت کا سبب بھی ہو سکتا یے۔ فسچولا بادی بواسیر، پھنسی، موعد کی خارش و جلن، فشر سے الگ تکلیف ہے
بھگندر یا فسچولا بننے کے کئی ایک سبب ہو سکتے ہیں جس میں تیز مرچ مصالحہ، مقعد صاف نہ ہونا، میلا کچیلا ماحول، آلودہ غذائیں، آلودگی، زہریلی اشیاء کھانا، طویل وقت کیلیے کرسی یا بیٹھنے کا کام۔ بواسیر، پیچس، مقعد کی پھنسیاں ، سوزش ریکٹم، قبض کشاء ادویات کھانا، کثرت مباشرت، گھوڑ سواری، غذا میں بادی اشیاء گوشت، بیگن وغیرہ کھانا ۔ آتشک یا بواسیری زہر کا اثر۔
ھوالشافی
حنظل - زیری سیاہ - کوڑ انڈیا
ہم وزن کاسفوف کریں 1ماشہ صبح و شام ہمراہ شیر
شیریں سے لیں۔
ھوالشافی
رسکپور- کتھ سفید - آملہ سار- کی گولیاں برابر مرچ سیاہ بنائیں دن تین مرتبہ دودھ گھی دیسی سے کھائیں۔ حکیم محمد رمضان خان
ھوالشافی
مفرد اعضاء والوں کیلئے اور آسان نسخہ کہ تریاق ۴ یا اکسیر ۵ بھی مفید رہے گا
مرہم سندوری
سندھور 2 تولہ, تلوں کا تیل 5 تولہ, نیلاتھوتھا آدھا ماشہ, کڑاھی میں تیل ڈال کر نارمل آگ پہ رکھیں, جب خوب گرم ہو جائے تو سندھور ڈال دیں, جوش آنے پر اتار لیں بعد نیلاتھوتھا باریک ڈال کے سیاہ ہونے تک ہلاتے رہیں, ٹھنڈا ہونے پہ دانہ گندم یا حسب ضرورت بھگندر کے پھوڑے پہ رات روزانہ ٹھیک ہونے تک لگائیں۔
قدیمی شفاءخانہ تلیری بائی پاس مظفرگڑھ
ڈاکٹر و حکیم شہزاد خان
03007599613
29/08/2024
Follow me for more details
22/08/2024
نوجوانوں کے لئے ایک چھوٹی سی لائف اسٹائل چینج کی تجویز ہے۔
آپ کہتے ہیں ہم تو کم کھاتے ہیں ، پھر بھی وزن بڑھتا ہے، یا وزن بڑھ ہی نہیں رہا۔
چڑچڑا پن اور تھکن طاری ہے۔مگر نیند نہیں آتی۔ موڈ سوئنگز ہوتے ہیں۔ بھوک لگتی بھی ہے تو گھر کا کھانا کھانے کا جی نہیں چاہتا۔
جلد اور بال اچھے نہیں ہیں۔
میں دیکھتی ہوں کہ نوجوان پانی بہت کم پیتے ہیں۔
انرجی ڈرنکس، کوک پیپسی، مک ڈانلڈ، کے ایف سی یا ریستورانوں سے ملک شیکس اور ٹھنڈے مشروبات لے کر پیتے ہیں۔
“میں نے تو ایک چھوٹا سا مک ڈانلڈ کا چاکلیٹ ملک شیک لیا تھا۔
یا ایک فریپ،
یا ایک کین پیپسی۔ اتنی تھوڑی مقدار سے کیا ہوتا ہے؟”
“پھر سارا دن کچھ نہیں کھاؤں گی/کھاؤن گا اور توازن ہوجائے گا”۔
کیا آپ کو علم ہے کہ ایک گلاس کوک یا پیپسی میں ،
ایک چھوٹے مک ڈانلڈ ملک شیک یا فریپ میں۔
انرجی ڈرنکس میں ۔
تقریبا آدھا گلاس شکر ہوتی ہے!!!
میٹھے مشروبات یعنی جوس وغیرہ میں موجود سادہ شکر خون میں پہنچتے ہی گلوکوز کا طوفان کھڑا کردیتی ہے۔ آپ کے انرجی جنریٹرز کنفیوز ہو کر بے کار ہونے لگتے ہیں۔ بے چارہ جگر کاربوہائیڈریٹ اور چربی کو توڑ کر توانائی پیدا کرنے کے بجائے، شکر کے اس طوفان کو اسٹور کرنے میں مصروف ہوجاتا ہے۔ چونکہ یہ سادہ شکر ہے، لہاذا پیکنگ ساری جلدی ہوتی ہے اور پھر دوبارہ بھوک لگتی ہے، مگر صرف کاربوہائڈریٹ کی بھوک۔
غیر ضروری شکر اور کاربوہائٹڈیٹ ہمارے جسم کو بوڑھا کرنے بلکہ “جلانے” میں اس طرح کردار ادا کرتی ہے، جس طرح آپ کچی گلابی مرغی روسٹ کرنے اوون میں رکھ کر نکالتے ہیں تو وہ پک کر براؤن ہوجاتی ہے۔
اس عمل کو
Glycosylation
کہتے ہیں۔ ہمارے اعضاء مستقل شکر کے میٹابلولزم سے ایسے ہی پکتے رہتے ہین۔ بڑھاپا ایک قدرتی عمل ہے مگر کاربوہایٹدریٹ کا زیادہ استعمال اس عمل کو تیز تر کردیتا ہے اور سیل ڈیتھ کے پراسس کو بڑھا دیتا ہے۔
اس کے بجائے ۔۔۔آپ ایک خوبصورت سی دو لٹر پانی کی بوتل خرید لیجیے ۔ جو مستقل آپ کے ساتھ رہے۔ اس کی قیمت آپ کے سافٹ ڈرنکس کی ایک یا دو بوتلوں کے برابر ہوگی۔
اپنے آپ کو پابند کیجیے کہ دن میں گھونٹ گھونٹ ہی سہی ایسی دو بوتلیں مکمل کرنی ہیں۔ جب میٹھے مشروب کی کریونگ ہو۔ پانی پئیں۔
آپ کے دماغ سے شکر کا سینٹر آہستہ آہستہ غیر متحرک ہوجائے گا۔
انرجی ڈرنکس میں انرجی دینے والے کوئی کیمکلز نہیں ہوتے بلکہ دماغ کو متحرک کرنے والے کیمکل ہوتے ہیں۔ جیسے چائے ۔ یا نشہ آور ادویات۔ ذہن کو طاقت اور مستعدی کا تاثر دیتی ہیں۔
ایک تبدیلی سے شروع کیجیے۔
ہمارے دور میں شکر کا نشہ غیر محسوس طور پر عام کردیا گیا ہے۔ اور ہمیں علم تک نہیں کہ یہ بھی سلو ہوائزن ہے۔
قدیمی شفاءخانہ تلیری بائی پاس مظفرگڑھ
ڈاکٹر و حکیم شہزاد خان
03007599613
❚█══INSPIRE══█❚ WhatsApp Group Invite
22/08/2024
تشخیص کیسے کریں؟ ( How to diagnose )
پہلی بات تشخیص اور علاج کرنے کا کام ڈاکٹر کا ہوتا ہے ،اور مریض کا کام پرہیز کرنا اور ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرنا ہوتا ہے۔
باقی ڈاکٹر حضرات کو کسی مرض کی درست اور اچھی تشخیص کے لیے درج ذیل 3 چیزیں کرنی پڑتی ہیں،
1:پہلے مریض کی مکمل ہسٹری لینا یہ بہت اہم ہوتا ہے ۔
2: دوسرا مرض کی نوعیت کے حساب سے جسمانی معائنہ کرنا
3: تیسرا مرض کی نوعیت کے حساب سے لیب ٹیسٹ یا الٹراساؤنڈ ، سی ٹی اسکین وغیرہ کروانا
1: مریض کی مکمل ہسٹری لینا کسی مرض کی تشخیص کے لیے بہت ہی ضروری ہوتی ہے ,
پہلے مریض کی جنس، عمر , قد اور وزن کو دیکھا جاتا ہے ، کیونکہ کافی بیماریاں انسان کی جنس، عمر اور وزن کے زیادہ یا کم ہونے سے منسلک ہوتی ہیں۔ اور مریض شادی شدہ ہے یا نہیں اور مریض کونسا کام کرتا ہے یہ بھی پوچھا جا سکتا ہے۔
اس کے بعد مریض کے مرض کی نوعیت کے حساب اسکے موجودہ مسئلے یا علامتوں کی ہسٹری لی جاتی ہے، کہ کونسی کونسی علامتیں ہیں اور کتنے کتنے ٹائم سے علامتیں ہیں۔
جیسے اگر کسی کو بخار ہو ، پھر اس سے پوچھا جاتا ہے کہ ہلکا بخار ہے یا تیز اور کتنے ٹائم سے بخار ہے ، ٹھنڈ والا بخار ہے یا نہیں ؟ اور دن کے کس ٹائم بخار زیادہ ہوتا ہے؟ اور بخار کے ساتھ کوئی اور منسلک علامتیں تو نہیں جیسے کھانسی، بلغم ، سانس۔کی تنگی ، الٹی اور جسم یا پھٹوں میں درد، وغیرہ وغیرہ
اور اگر کسی کو معدے یا پیٹ کا کوئی مسلئہ ہو تو پھر اس سے یہی پوچھا جاتا ہے کہ پیٹ کا مسلئہ کتنے ٹائم سے اور کس وجہ سے شروع ہوا تھا ،اور پیٹ کے کس حصے میں درد یا تکلیف ہوتی ہے ،اور معدے کا درد دائیں بائیں چیسٹ اور کندھے کی طرف پھیلتا تو نہیں ، اور پیٹ کا درد لیٹنے ، بیٹھنے یا اٹھنے سے زیادہ یا کم تو نہیں ہوتا، وزن کم تو نہیں ہو رہا پہلے سے، اور معدے میں درد کھاتے ٹائم یا کھانے کے فوراً بعد ہوتا ہے یہ پھر کھانے کے 2 ، 3 گھنٹے بعد پیٹ میں درد ہوتا ہے ، بھوک کیسی ہے ، قبض یا موشن کا مسلئہ تو نہیں ، اگر موشن کا مسلئہ ہے تو پھر دن میں کتنی دفعہ موشن آتے ہیں اور موشن کے ساتھ خون تو نہیں اتا۔۔۔
اور پیٹ کے مسئلے کے ساتھ کوئی اور منسلک علامتیں تو نہیں جیسے سر درد، بلڈ پریشر کا زیادہ یونا، کمزوری تھکاوٹ ، نیند کا مسلئہ ، ناامیدی، بے چینی وغیرہ وغیرہ
اگر کسی مریض کو جنسی مسلہ ہو تو پھر اس سے تفصیلاً جنسی مسائل کی ہسٹری لی جاتی ہے۔اسی طرح ہر مرض کی تفصیلاً ہسٹری لی جاتی ہے۔
موجودہ مسئلے کی ہسٹری کے بعد مریض کی ماضی والی ہسٹری لی جاتی ہے جیسے اس کو پہلے کہیں ٹی بی ،دمہ، شوگر ، بلڈ پریشر ، یرقان ، وغیرہ تو نہیں
پھر اس کے بعد میڈیسن کی ہسٹری لی جاتی ہے، یہ بھی کلینیکل اہم ہوتی ہے،کہ پہلے کونسی میڈیسن کس مرض کے لیے کھائی تھی اور کتنے ٹائم سے کھائی تھی، اور پہلے کونسے کونسے لیب ٹیسٹ کروا چکے ہیں اور مریض کو کسی خاص میڈیسن سے الرجی کا مسلئہ تو نہیں۔
اس کے بعد مریض سے اسکی فیملی اور سوشل ہسٹری لی جاتی ہے کہ اس فیملی میں کسی کو تھاڑائیڈ کا مسلئہ ،دل کے اٹیک کا مسلئہ یا کوئی اور آٹو امیون بیماری تو نہیں ۔
اور اس کے بعد مریض سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ وہ سگریٹ ، تمباکو ، شراب یا کوئی اور نشہ تو نہیں کرتا۔۔۔
مکمل ہسٹری لینے کے بعد مریض کے مرض کی نوعیت کے حساب سے جسمانی معائنہ کیا جاتا ہے، جنرل معائنہ میں مریض کے ناخن، آنکھوں کا رنگ، چہرا، جلد کا کلر، پائو کا معائنہ وغیرہ دیکھا جاتا ہے۔ اگر کسی کو سینے کا مسلئہ ہو تو پھر اس کے چھاتی کا معائنہ کیا جا سکتا ہے۔
باقی مریض کا ٹمپریچر ، بلڈ پریشر ، نبض اور سانس کی رفتار کو بھی دیکھا جا تا ہے۔
(اب آپ لوگ کہو گے کہ پاکستان میں تو کافی ڈاکٹر اتنا تفصیل سے ہسٹری تو نہیں لیتے ہیں ، لیکن مریض کے مرض کی نوعیت کے حساب سے مختصر ہسٹری لی جا سکتی ہیں)
مکمل ہسٹری اور ضروری جسمانی معائنہ کے بعد آخر پہ مریض کو اس کے مرض کی نوعیت کے حساب سے لیب ٹیسٹ ، الٹراساؤنڈ وغیرہ یا پھر میڈیسن اڈوائز کی جاتی ہے ، چھوٹے موٹے مسلئے میں لیب ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر کلینیکل تشخیص کر سکتے ہیں۔
، لیکن سیریئس مسئلے یا دائمی مسلئے کی تشخیص کے لیے لیب ٹیسٹ ،الٹراساؤنڈ اسکین وغیرہ درست تشخیص کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں۔ جیسے معدے کے مسلئے میں پیٹ کا الٹراساؤنڈ ، معدے کی اینڈوسکوپی اور ضروری بلڈ ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔
اس پوسٹ کا مقصد یہ ہے کہ ہمیشہ اپنے مرض کی درست تشخیص کروا کے علاج کروائیں اور فیس بک یا سوشل میڈیا پہ چند علامتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میڈیسن کے استمعال سے پرہیز کریں، اور سیلف میڈیکیشن سے بھی پرہیز کرنا چاہیے ،
قدیمی شفاءخانہ تلیری بائی پاس مظفرگڑھ
ڈاکٹر و حکیم شہزاد خان
03007599613
❚█══INSPIRE══█❚ WhatsApp Group Invite
*سفوف پین کلر*
براے درد جوڑ. مہرے گیپ
درد بدن و مہروں کا اپنی جگہ سے سلپ ہو جانا۔
اور جنرل کمزوری..
ہڈیوں کا کمزور ہونا۔
ڈسک سلپ.
کمر کا درد.
مہروں کا ھلنا.
ہڈیوں کا بھربھرا ہونا۔
ہڈیوں کا کمزور ہو جانا خاص طور پر شوگر کے مریض۔
عورت و مرد دونوں یہ دوا استعمال کر سکتے ہیں کسی بھی قسم کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہے ۔.
۔
ان تمام امراض کے لئے نسخہ پیش خدمت ہے
اجزاء نسخہ.
اسگندھ ناگوری. سورنجان شیریں. سونٹھ.
زیرہ سفید.,
قسط شیریں.
موصلی سفید اصل انڈین.
بدھارا.
ترکیب تیاری۔
سب ادویات برابر وزن سفوف بنا لیں۔
مقدار خوراک. آدھا چمچ صبح و شام ھمراہ دودھ کھانے کے آدھا گھنٹہ بعد استعمال کریں۔
بہت سے مہنگے نسخوں سے بہت زیادہ بہتر ثابت ہو گا.
تیار شدہ دستیاب ہے
قدیمی شفاءخانہ تلیری بائی پاس مظفرگڑھ
ڈاکٹر و حکیم شہزاد خان
03007599613
20/08/2024
گھٹیا ۔ جوڑوں کے درد و سوزش کا مرض -
عرصہ قبل کہا جاتا تھا کہ یہ مرض عمر رسیدہ افراد ہی کو متاثر کرتا ہے،مگر اب بچوں اور جوانوں کو بھی گٹھیا متاثر کر سکتا ہے ۔
گٹھیا،جسے طبی اصطلاح میں گاؤٹ (Gout) کہا جاتا ہے،عرفِ عام میں جوڑوں کا درد،جوڑوں کی سوزش یا ہڈیوں کی آتش زنی کہلاتا ہے۔یہ ایک ایسا مرض ہے،جس کی شرح ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں یکساں ہی پائی جاتی ہے۔کچھ عرصہ قبل کہا جاتا تھا کہ یہ مرض عمر رسیدہ افراد ہی کو متاثر کرتا ہے،مگر اب بچوں اور جوانوں کو بھی گٹھیا متاثر کر رہا ہے۔
ہمارے یہاں گٹھیا کے مرض سے متعلق معلومات اور طبی سہولتوں کے فقدان کے سبب مریض اس وقت معالج سے رجوع کرتے ہیں،جب مرض شدت اختیار کر لیتا ہے۔جیسا کہ بیشتر عمر رسیدہ افراد ابتدائی علامات ظاہر ہونے پر عمر کا تقاضا خیال کرتے ہوئے نظر انداز کر دیتے ہیں،مگر جب چال ڈھال میں ٹیڑھا پن نمایاں ہو جاتا ہے اور روزمرہ کے امور انجام دینے میں مشکل ہونے لگتی ہے،تب معالج سے رابطہ کیا جاتا ہے۔
عام طور پر موٹاپے میں مبتلا افراد اس مرض کا جلد شکار ہو جاتے ہیں اور ان میں علامات کی شدت بھی زیادہ پائی جاتی ہے۔
یوں تو گٹھیا کے مرض کی کئی اقسام ہیں،مگر ہمارے یہاں جوڑوں کی ملائم و خستہ ہڈیوں کا گلنا (Osteoarthritis) اور جوڑوں کا پتھرا جانا (Rheumatoid Arthritis) جیسی دو اقسام عام ہیں۔جوڑوں کی ملائم و خستہ ہڈیوں کے گلنے کا مرض جوڑوں کی چکنائی کم ہونے کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔
اس کا شکار زیادہ تر 60 برس سے زیادہ عمر کے افراد ہوتے ہیں،لیکن فربہ افراد میں 40 برس کی عمر کے بعد اس سے متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔مرض کی ابتدائی علامات میں تھکن اور جوڑوں میں درد و سوزش شامل ہیں۔مرض لاحق ہونے کی عمومی وجوہ باقاعدگی سے ورزش یا چہل قدمی نہ کرنا،ناقص غذا اور ذہنی دباؤ وغیرہ ہیں۔اس مرض میں ہڈیوں کے جوڑ متورم اور ہڈیوں کے سرے گھس جانے کی وجہ سے چلنے پھرنے،اُٹھنے بیٹھنے اور جوڑوں کو حرکت دینے میں شدید تکلیف محسوس ہوتی ہے۔
اگر ابتدائی مرحلے میں اس مرض کا علاج نہ کیا جائے تو جوڑ اکڑ جاتے ہیں اور حرکت کے قابل نہیں رہتے۔
گٹھیا سے متاثرہ مریضوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ روزانہ چہل قدمی کریں،تاکہ مرض شدت اختیار نہ کر سکے اور اگر وہ موٹاپے کا شکار ہیں تو اس طرح ان کا وزن بھی قابو میں رہے گا۔بعض کیسوں میں بڑی عمر کے افراد کے لئے چہل قدمی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے،کیونکہ اس طرح گھٹنے کی ہڈی رگڑ کھانے سے جوڑوں کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔
بہتر ہو گا کہ معالج سے مشورہ کر لیا جائے۔جوڑوں کا پتھرانا اصل میں جوڑوں کی جھلی کی سوزش کا عارضہ ہے،جس میں جوڑ کی جھلی متورم ہو کر ملائم و خستہ ہڈی (Cartilage) کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔یہ مرض خاص طور پر انگلیوں کے جوڑوں کو متاثر کرتا ہے،جس کی وجہ سے انگلیاں ٹیڑھی میڑھی اور بدوضع ہو جاتی ہیں۔جوڑوں کے پتھرا جانے کی قسم لاحق ہونے میں عمر کی کوئی قید نہیں،البتہ فربہ افراد کو یہ قسم جلد متاثر کرتی ہے۔
اگر اس کی ابتداء ہی میں تشخیص ہو جائے اور بروقت علاج بھی شروع کر دیا جائے تو مرض پر کسی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے،بہ صورت دیگر عمر بھر کی معذوری مقدر بن جاتی ہے۔
گٹھیا اور ہڈیوں کے دیگر امراض سے محفوظ رہنے کے لئے متوازن غذائیں،دودھ،پھل اور سبزیاں کھائی جائیں،وزن کو قابو میں رکھا جائے،ورزش روزانہ کی جائے،بازار کی تیار شدہ غذائیں کم سے کم کھائی جائیں اور پٹھوں کو مضبوطی کے لئے خاص قسم کی ورزشیں کی جائیں۔
طب یونانی میں اس کا علاج موجود ہے۔بعض مریض سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے والے ٹوٹکے آزماتے ہیں،جو قطعاً درست نہیں،کیونکہ ایک مستند طبیب معائنے کے بعد مریض کی علامات اور مرض کی نوعیت کی مناسبت سے ادویہ وغیرہ تجویز کرتا ہے،لہٰذا اپنا علاج خود کرنے کے بجائے مستند طبیب سے رجوع کرنا ہی مناسب ہوتا ہے۔
قدیمی شفاءخانہ تلیری بائی پاس مظفرگڑھ
ڈاکٹر و حکیم شہزاد خان
03007599613
02/08/2024
خواتین میں ماہواری کا آغاز عام طور پر 10 اور 16 سال کی عمر کے درمیان ہوتا ہے، یہ اوسطاً 12.4 سال بنتا ہے۔ یہ اکثر غیر متوقع طور پر ہوتا ہے اور عام طور پر بے درد ہوتا ہے۔
تاہم، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) نے حال ہی میں مشاہدہ کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں میں سب سے زیادہ متاثر ممالک میں ماہواری یا تو تاخیر سے آتی ہے یا توقع سے بہت پہلے ہوتی ہے۔
پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے جو اس عالمی بحران کا شکار ہیں۔ گزشتہ 50 سالوں کے دوران، ملک کے سالانہ اوسط درجہ حرارت میں تقریباً 0.5 ° C کا اضافہ ہوا ہے، جس کے ساتھ ہیٹ ویوز کی تعداد میں تقریباً پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔
ہارمونز اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے درمیان تعلق
زیادہ تر خواتین کے لیے، ماہواری عام طور پر 'بے درد' ہوتی ہے۔ کچھ، تاہم، شدید درد کا تجربہ کرتی ہیں. یہ dysmenorrhea کی علامت ہے — ماہواری کے دوران درد — کورٹیسول کے اخراج کی وجہ سے ہوتا ہے۔
کورٹیسول ایک ہارمون ہے جو سٹریس زدہ حالات کے دوران خارج ہوتا ہے اور خواتین کی اناٹومی میں کئی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ خون میں شوگر کی سطح، میٹابولزم، اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے، اور ایک سوزش کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ مزید یہ کہ ہارمون ماہواری کو متاثر کرتا ہے اور جسم کو حمل کے لیے تیار کرتا ہے۔
"طویل مدت یا تاخیر کی بنیادی وجہ کورٹیسول کا اخراج ہو سکتا ہے، جو موسم سے دوسرے موسم میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر، سردیوں میں، ریلیز زیادہ ہوتی ہے، جو سائیکل میں خلل ڈالتی ہے.
حکیم و ڈاکٹر شہزاد خان
قدیمی شفاءخانہ تلیری بائی پاس مظفرگڑھ
03007599613
12/04/2024
09/04/2024
Daily Quran quotes and sayings
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
نواب ٹائون
Muzaffargarh
