Dr. Zawar Nazakat Ali
You have medical related any question ask me
Contact number 03150038893
skin problems
hair's problem
poly cyst ovaries (pcos..)
pregnancy problem
va**na tightening (seal pack)
22/12/2020
اسان جي معاشري جو بيڪار عڪس
تبديلي اچي نه ٔ پئي اچي وئي آهي 😄😄😄
اسان ته دھڪا کائي کائي تنگ ٿي ويا آھيون
ڪا ماسي جي گھر وئي ھئي
ڪا گنوار پٽڻ وئي ھئي
ڪنھن کان مس ڪال لڳي وئي
ڪنھن جو رڪشي م ڪرايو ختم
ٿي ويو ھيو ۽ پوء ھنن ويچارين جا
عشق ٿي ويا ۽ انھي ھڪ اڌ ڏينھن واري
عشق ھنن کي شادي ڪرڻ تي مجبور ڪيو
پرمائٽ راضي ڪون ھئا جنھن جي ڪري ھنن وڃي
سنڌ جي مختلف ڪورٽن م شاديون ڪيون آھن
ھاڻي سماج ھنن جو دشمن ٿي پيو آھي ھنن کي
پنھنجا مائٽ مارڻ چاھين ٿا
ھاڻي ھي مھانڊا چون ٿا اسان کي تحفظ ڏيو،
19/12/2020
حضرت موسیٰ علیہ سلام، نے اٙللّٰہ تعالیٰ سے پوچھا. یااٙللّٰہ جب آپ اپنے بندے پر مہربان ہوتے ہیں. تو کیا عطا کرتے ہو. اٙللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا.
اگر شادی شدہ ہو تو بیٹی، حضرت موسیٰ نے پھر کہا. یا اٙللّٰہ اگر ذیادہ مہربان ہو تو. اٙللّٰہ تعالیٰ نے پھر فرمایا. تو میں دوسری بھی بیٹی عطا کرتا ہوں. حضرت موسیٰ نے پھر فرمایا. یا اٙللّٰہ اگر سب سے ذیادہ بہت ذیادہ مہربان ہوتے ہو تو پھر. تو اٙللّٰہ تعالیٰ نے پھر فرمایا. ٰ اے موسیٰ میں تیسری بھی بیٹی عطا کرتا ہوں. اٙللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ جب میں اپنے بندے کو بیٹا عطا کرتا ہوں. تو اس بیٹے کو بولتا ہوں جاو اور اپنے باپ کا بازو بنو. اور جب بیٹی عطا کرتا ہوں. تو مجھے اپنی خُدائی کی قسم کہ میں اس کے باپ کا بازو خود بنوں گا.
بیٹی اٙللّٰہ کی رحمت ہوتی ہے اللہ پاک سب بہن بیٹیوں کا نصیب اچھا کرے آمین❤️
کسی نے مولا علی عہ سے پوچھا
18/12/2020
This post for Legends 🙊🙊🤣🤣
17/12/2020
نوابشاهه
ڪجھ ڏينھن اڳ نوابشاھ شھر اندر زرداري برادري جي نوجوانن تي ضيا لنجار پاران ڪوڙي منگڙت دھشتگردي جي ايف آئي آر داخل ڪرائي وئي ھئي جنھن ۾ لنجار طرفان ڄاڻايو ويو ته منھنجي گھر جي مٿان گنڈن فائرنگ ڪئي آھي جڏھن ته ھن جديد دور ۾ ھر ماڻھو جي گھر اڳيان سي سي ٽي وي ڪيمرہ لڳل ھوندا آھن مگر اھي به ظاھر نه ڪيا ويا آھن ساڙ ھدس ۽ منافقت جي انتھا اھا آھي جو زرداري قبيلي جي ٽڪرن تي پليل نمڪ حرام کتا پنھنجي اھدي جو ناجائز استعمال ڪندي ۽ نوابشاهه پوليس ونگار وهندي بنا ڪنھن دير جي زرداري برادري جي پڙھيل لکيل نوجوانن مٿان ڪوڙي ايف آئي آر داخل ڪري ورتي
جنھن خلاف پوري برادري ۾ ھڪ غم ۽ گسي وارو ماحول ڇانيل آھي
جنھن ڪري اڄ نوابشاھ پريس ڪلب اڳيان زرداري يوٿ فارم جي صدر علي زرداري جي اعلان تي بچھیری دادو مورو نوابشاهه سانگھڙ ۽ ٻين ضلعن جي ماڻھن وڏي تعداد ۾ شريڪ ٿي احتجاجي مظاهرو ڪيو
ان موقعي تي سندن چوڻ ھيو ته اسان جي برادريءَ جي ماڻھن مٿان مسلسل لنجار لابي ڪوڙيون ۽ منگھڙت ڳالھيون فحلائي رھيا آھن احتجاج ڪندڙ آصف علي زرداري ۽ پيپلزپارٽي جي چيئرمين بلاول ڀٽو زرداري کي اپيل ڪئي آھي ته ھن جو نوٽيس ورتو وڃي ۽ ضيا لنجار خلاف قانوني ڪارروائي ڪري گرفتار ٿيل ذوالفقار زرداري کي آزاد ڪيو وڃي
14/12/2020
بچے دانی میں گلٹیاں ہونے کی درد ناک علامات۔
فائبورائڈ کیا ہیں؟
فائبورائڈ عورتوں کے بچے دانی (یوٹرس) کے اندر یا اوپر پیدا ہونے والی غیرمعمولی گلٹیاں ہوتی ہیں۔ بعض اوقات یہ گلٹیاں بڑی ہوجاتی ہیں جس سے پیٹ میں شدید درد اور ہیوی پیریڈز آتے ہیں۔ بعض اوقات ان کی کوئی علامات بھی ظاہر نہیں ہوتیں۔ بچے دانی میں گلٹیاں یا ٹیومر عام طور پر بے ضرر ہوتے ہیں اور ان میں کینسر کی علامات نہیں ہوتیں۔ ایک تحقیق کے مطابق 70 سے 80 فیصد خواتین میں 50 سال کی عمر کے بعدبچے دانی میں یہ گلٹیاں ہو جاتی ہیں جن کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔
فائبورائڈ کی وجوہات:
فائبورائڈ کے بننے کی وجوہات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکیں لیکن کچھ چیزیں ان کی افزائش میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
1۔ہارمونز:
اووری میں بننے والے دو قسم کے ہارمونز ایسٹروجن اور پروگیسٹرون ہر ماہواری کے ساتھ یوٹرس کی لائننگ کو بڑھاتے رہتے ہیں اور فائبورائڈ کی افزائش کا باعث بن سکتے ہیں۔
2۔فیملی ہسٹری:
بچے دانی کی یہ بیماری موروثی بھی ہو سکتی ہے۔ اگر آپ کی ماں، نانی یا بہن کو یہ بیماری ہے تو آپ کو بھی ہوسکتی ہے۔
3۔ حمل:
دوران حمل ایسٹروجن اور پروگیسٹرون کی افزائش مین اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس لیے دوران حمل فائبورائڈ بننے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔
کن عورتوں کو بچے دانی میںفائبورائڈ کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے؟
جن خواتین میں ذیل میں لکھی وجوہات میں سے کچھ موجود ہیں ان میں فائبورائڈ ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ ۔ حمل ۔ فیملی ہسٹری ۔ ۳۰ سال سے زیادہ عمر ۔ زیادہ وزن ہونا
#علامات:
بچے دانی میں فائبورائڈ کی علامات ان کے سائز،جگہ اور تعداد کے حساب سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر ٹیومر چھوٹا ہے یا آپ کی ماہواری بند ہونے والی ہے تو ان کی علامات ظاہر نہیں ہوںگی۔ ماہواری بند ہونے کے بعد یہ فائبورائڈ سکڑ بھی سکتے ہیں۔ ۔ پیریڈز میں ہیوی بلیڈنگ ہونا یا جمع ہوا خون آنا۔ ۔ کمر کے نچلے حصے یا پیڑو میں درد ہونا۔ ۔ پیریڈز کے درد میں اضافہ ہونا۔ ۔ پیشاب زیادہ آنا۔ ۔ پیریڈز زیادہ دن تک آنا۔ ۔ پیٹ کا نچلا حصہ بھرا ہوا یا اس میں دبائو محسوس ہونا۔ ۔ پیٹ کا بڑھ جانا یا سوجن ہونا۔
:
فائبورائڈ کے لیے گائنوکولوجسٹ سے رابطہ ضروری ہے۔ اس کے لیے یوٹرس کا سائز ، شیپ اور کنڈیشن دیکھی جاتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں۔اس کی تشخیص کے لیے الٹراسائونڈ کیا جاتا ہے جس کے ذریعے یوٹرس کو اندر سے دیکھا جاتا ہے کہ اس میں کوئی فائبرائڈ تو نہیں۔ اس کے علاوہ ایم آر آئی کے ذریعے بھی یوٹرس، اووری اور پیلوس کے دوسرے حصوں کی تصویریں لی جاتی ہیں۔
#علاج:
بچے دانی میں فائبورائڈ کے علاج کا تعین ڈاکٹر مریض کی عمر، صحت (health) اور فائبورائڈ کے سائز کی بنیاد پر کرتا ہے۔ دوائوں کے ذریعے ہارمون لیول کو متوازن کیا جاتا ہے جس سے فائبورائڈ سکڑ جاتے ہیں۔ بڑے سائز یاذیادہ مقدار میں ہونے والے فائبورائڈ کو سرجری کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ اگر حالت زیادہ تشویشناک ہو اور دوسرے علاج کارگر ثابت نہ ہوں تو فائبورائڈ کے ساتھ یوٹرس بھی نکال دیا جاتا ہے۔
10/12/2020
جواب دے یا شئیر لازمی کریں
10/12/2020
Prolapse of Uterus.
اکثر عورتوں میں پائی جانے والی خطرناک بیماری( رحم کا ٹل جانا یا اپنی جگہ سے ہٹ جانا) قابل علاج مرض ہے۔
رحم 8رباط (لیگا منٹس) سے بندھا ہوا پیڑو کے اندر اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے ان میں سے دو رباط حقیقی اور چھ رباط غیر حقیقی ہوتے ہیں۔ ان رباط میں ڈھیلاپن یاکسی خرابی کے سبب رحم اپنی جگہ سےہٹ جاتاہے۔
(اقسام ) رحم کے اپنی جگہ ہٹنے یا ٹلنے کی 8 اقسام ہیں یہاں ہم ایک اہم اور زیادہ پائی جانے والی قسم کی وضاحت کرتے ہیں۔
خروج رحم:
رحم کا جزوی یا مکمل طورپر فر ج سے باہر آ جا نا۔ (Prolapses)
اس مرض میں رحم کے رباط ڈھیلے ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے رحم اپنی سے کھسک کر وجائنا میں میں آ جاتا ہے اور کئی بار وجائنا کے راستے باہر آ جاتا ہے۔ کئی بار رحم کے علاوہ پیڑو میں موجود دیگر اعضاء بھی وجائنا کے راستے باہر نکل سکتے ہیں اصطلاحاً انہیں بھی خروج رحم ہی کہاجاتا ہے۔
براڈلیگامنٹس کی کمزوری کی وجہ سے رحم نیچے اتر کر مہبل میں آ جاتا ہے اس کے عموماً تین درجات ہوتے ہیں:
1۔ رحم بہت کم نیچے کی طرف جھکتا ہے اور اس میں صرف نیچے دبانے والا معمولی سا احساس ہوتا ہے، اسے Relaxation کا مرحلہ کہتے ہیں۔
2- اس درجے میں رحم اس قدر نیچے اتر آتا ہے کہ بعض اوقات وجائنا کے سوراخ تک پہنچ جاتاہے یہ درجہ Prolapsus Uteri کہلا تا ہے۔
3۔ اس درجے میں مکمل رحم مہبل کے سوراخ سے باہر آ جاتا ہے اور مہبل الٹ کر باہر آ جاتی ہے اس درجہ کو Procedentia Uteri کہتے ہیں۔
علامات:
۔۔۔ مریضہ ج**ع کےعمل سےبالکل قاصرہوتی ہے۔
۔۔۔ بظاہر معا ئنہ کرنے سے رحم وجائنا میں نظر آ تا ہے۔
۔۔۔ کمر اور کولہے میں شدید درد جو رانوں اور پنڈلیوں تک محسوس ہو۔
۔۔۔ پیشاب رک جاتا ہے یا تکلیف سے آتا ہے۔
۔۔۔ پاخانہ تکلیف سے آتا ہے کیونکہ رحم کا بوجھ ریکٹم پر پڑتا ہے۔
۔۔۔ مریضہ ایسے محسوس کرتی ہے جیسے رحم کے راستے ہر چیز باہر آرہی ہے۔
۔۔۔ ورزش یا کوئی سخت کام کرنے سے علامات میں زیادتی واقع ہوتی ہے۔
وجوہات:
۔۔۔ لگاتار اور بار بار حاملہ ہونے والی خواتین۔
۔۔۔ بار بار اسقاط حمل ہونا۔
۔۔۔ مزمن قبض یا دیگر ہضم کے مسائل۔
۔۔۔ مزمن کھانسی۔
۔۔۔ وضع حمل کی بےاحتیاطیاں۔
۔۔۔ بھاری وزن اٹھانے سے۔
۔۔۔ کثرت ج**ع سے۔
۔۔۔ کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر ج**ع کرنے سے۔
۔۔۔ پیٹ میں بڑی بڑی رسولیوں کی وجہ سے۔
۔۔۔ جسمانی کمزوری کی وجہ سے رحم کے جوڑ ڈھیلے پڑ جانے سے۔
علاج:
عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ اس مرض کا علاج صرف آپریشن ہے جو کہ بلکل غلط سوچ ہے ہمارے ہاں بہت سی خواتین کاصرف ادویات سے ہی اس مرض کا علاج کیا گیا ہے۔ معالج کو چاہیے کہ اس مرض کے علاج میں رحم کے پٹھوں کی کمزوری کو سامنے رکھتے ہوئے پٹھوں کو سخت اور مضبوط کرنے کی ادویات استعمال کرواے رحم خود ہی اپنی جگہ واپس چلا جاتا ہے۔ یہ طریقہ ہمارا ذاتی تجربہ شدہ آپ بھی اس طریقہ کو اپنایں اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور شئیر ضرور کریں شاید کسی کی پریشانی دور ہو جاے شکریہ۔
10/12/2020
، ترجمہ :
تصویر میں بیٹھے ہوئے جوڑے کی داستان!! جن کا تعلق صوبہ سندھ کے شہر حیدر آباد سے تھا ، ڈاکٹر دیپک اور سنیتا، آپس میں کزن تھے، اور اسی طرح ہندو مذہب میں، فیمیل کزنس کو سگی بہن کی اہمیت دی جاتی ہے،اور کزنس کے ساتھ شادی کا رواج نہیں ہوتا، پر دونوں بچپن سے ہی اک دوجے کی محبت میں مبتلا رہے، ان کی یہ بچپن کی محبت ہی خاندان سے لاتعلقی کی وجہ بنی، جس کی وجہ سے ان کو کافی خاندانی مشکلات کا سامنا رہا خیر، دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے، رسم و روایات کو توڑنے کے باعث پورے خاندان سے ان کو دربدر کیا گیا.... اس سب کے باوجود بھی دونوں خوش رہنے لگے اور اپنی زندگی میں خوش باش تھے، دو ہزار پندرہ کے دن تھے کہ اچانک ان کی خوش باش زندگی کو کسی کی نظر کھا گئ، سندھ پولیس نے دیپک کو کسی جھوٹے مقابلے میں گولیاں مار کر، پوری زندگی کے لیے اپاہج بنا دیا ، جس کی وجہ سے سندھ پولیس نے دیپک کو دیت ادا کر کے کیس کو رفع دفع کر دیا، خیر بات کو لکھنے کا مقصد بتاتے چلیں کہ! کے ان دونوں کی زندگی کا بسر بہت مشکل سا ہوگیا، بلکہ زندگی ان کے لیے غذاب بن گئی، پھر انسان تو انسان ہے انسان کی ضروریات بدل جاتی ہیں، انسان کی خواہشات بدل جاتی ہیں انسان چاہ کر بھی تعلقات کو برقرار نہیں رکھ پاتا، آخر کب تک انسان کسی کی محبت میں مبتلا رہے، اور وفاداری کا دعوہ کرے، کیونکہ دیپک کی معذوری نہ صرف اس کے لیے بلکلہ اس کی وائف کے لیے بھی عذاب بن گئی تھی! آخرکار، اپنی ضروریات، اور آگے کی زندگی کو دیکھتے ہوئے سنیتا نے، آگے نکلنے کا فیصلہ کیا، اور سنیتا نے اسلام قبول کر کے شادی کے بندھن میں بندھ گئ ،اور ہمیشہ کے لیے اپنی راہیں جدا کر لیں . خیر عورت کے پاس، وفاداری کی دلیل جو مسیر تھی، اب وہ دلیل بے وزن ہو گئی! اور پہلے شوہر سے دوسرے شوہر کے ساتھ ملنے آگئے اب ڈاکٹر دیپک کے من میں کتنے سوالات ہونگے کیا اس کا دل فٹ نہیں رہا ہوگا کیا دیپک اپنے بچے کو کیا بتائے
سب باتیں اپنی جگہ پر لیکن اصل بات یہ ھے کہ سنیتا کو ھاء کورٹ کے حکم پر سندھ حکومت نے ھیلتھ ڈیپارٹمینٹ میں نوکری دی تھی جھاں پر اس کی دوستی یاری ایک مسلمان لڑکے سے ھوگئی اور یھاں سے سنیتا کی بیوفائی کا آغاز ھوگیا تھا پھر سنیتا نے دیپک کی طرف دھیان دینا چھوڑ دیا تھا اور دیپک لاچار انسان کچھ نھیں کرسکتا تھا اور سنیتا جی بھر کے اپنے دوست کے ساتھ رنگ رلیاں منا رھی تھی پھر آخر دیپک سے مکمل نجات حاصل کرنے کے لیے سنیتا مسلمان تک ھوگئی اور اپنے دوست کے ساتھ شادی کرلی۔ حقیقت میں دیپک اور سنیتا کے حالات اتنے خراب نھیں تھے نہ ھی کوئی فاکہ کشی تھی گھر اور سنیتا کو نوکری بھی تھی لیکن اصل بات یہ کہ سنیتا اپنے نئے دوست کے تعلق میں اس کی دیوانی ھوگئی تھی اور سنیتا کو دوست کے ساتھ جسمانی تعلق کے بغیر کوئی چین نھیں تھا اور وہ مکمل ایک فاحشہ کی طرح اس مرد کی بھوکی بن گئی تھی جس وجہ سے دیپک کے ھاتھ میں کچھ نھیں رھا تھا اور دیپک کچھ نھیں کر پا رھا تھا۔ کر بھی کیا سکتا تھا اس کی اصل طاقت سنیتا اس کی محبت اور پیار تھا جس کے لیے خاندان برادری تو دیپک سے پھلے ھی علیحدہ تھی لیکن جس کی وجہ سے خاندان برادری چھوڑی اس نے ھی چھوڑ دیا تو پھر دیپک کیا کرتا ۔ مجبور ھوکر دیپک نے خاموشی سے اپنے آپ کو ظاھری طور پہ سنیتا سے دور کیا ورنہ اصل میں سنیتا تو دیپک سے بھت پھلے دور ھوچکی تھی صرف ڈکلیئر اب ھوا ھے۔
دنیا کے سامنے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوگئی کہ عورت کی زندگی میں اچھے انسان سے زیادہ اچھے طاقتور مرد کی اھمیت زیادہ ھے۔
آج مجھے تو جون ایلیا کا اک شعر یاد آ گیا.
میں نے یہ کب کہا تھا محبت میں ہے نجات
میں نے یہ کب کہا تھا وفادار ہی رہو
02/12/2020
چہرے کے غیر ضروری بال ختم کرنے کے لئے آزمودہ ٹوٹکہ ۔
ملتانی مٹی ۔ 2 چائے کےچمچ
باڑ کے درخت کی گوند ۔ 1 چائے کا چمچ
اُبٹن ۔ 1 چائے کا چمچ
عرق گلاب حسبِ ضرورت
ان سب کو عرقِ گلاب کی مدد سے مکس کر کے پیسٹ بنا لیں ۔ اب اس پیسٹ کو آدھے گھنٹے کے لئے چہرے پہ لگا لیں ۔ 30 منٹ لگا رہنے کے بعد چہرے کو عرقِ گلاب سے دھو کر خشک کر لیں ۔ مہینے میں 3 سے 4 بار کرنے سے آپ کے چہرے کے غیر ضروری بال ختم ہو جائیں گے ۔
29/11/2020
26/11/2020
Hayee 😍😍
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Nawabshah
