Hafiz Muhammad Naeem ul Hassan
Health Care And Islamic Information...
ایک دوسرے سے پیار کریں، کیونکہ جدائی کبھی وارننگ نہیں دیتی... ایک دوسرے سے اس کا حال دریافت کرتے رہیں، کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ آخری کال یا ملاقات کب ہوگی... ایک دوسرے کے ساتھ برداشت کا برتاؤ کریں، کیونکہ لفظ "کاش" جانے والے کو واپس نہیں لا سکتا۔
اور یاد رکھیں کہ زندگی میں ایک مہربان لفظ مردے کی پیشانی پر بوسے دینے سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔
14/12/2023
ہاں میں نے دیکھا ہے یہاں ہر کوئی چاہتا ہے کہ باتوں کو بھلایا جائے، غلطیوں پر درگزر کیا جائے، کسی کا احساس کیا جائے، دل پاک اور پھر صاف رکھا جائے، اعلی ظرفی کا مظاہرہ کیا جائے، کسی سے آگے بڑھ کر بات کی جائے، گلے لگایا جائے، آگے بڑھ کر تھاما جائے، حق بات کو تسلیم کیا جائے سب سے بڑھ کر اپنی غلطی کو، اچھا گمان کیا جائے، پردہ پوشی کی جائے، موقع فراہم کیا جائے....بس بات یہ ہے صاحب سب کچھ ہو! مگر کرنے والا کوئی دوسرا شخص ہو میں نہیں🍁۔۔۔۔ آہ ! دنیا اور دنیادار۔۔۔🤐
✍️حافظ محمد نعیم الحسن
*والدین کے ضروری فیصلے اور اولاد کی نافرمانیاں*
ثانیہ پیدا ہوئی تو اس کی خالہ نے دیکھتے ہی کہہ دیا کہ یہ میری بہو بنے گی۔ تھوڑی بڑی ہوئی تو انگوٹھی بھی خالہ نے پہنا دی اور عیدوں پر جوڑے بھی خالہ کے گھر سے آنے لگے۔ بچپن سے جوانی تک اس کا نام ہر جگہ ارسل کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔ اور اس نے اسے خوش دلی سے قبول کیا تھا ۔ شادی کی عمر ہوئی تو ارسل نے کہہ دیا کہ میں ثانیہ سے شادی نہیں کرونگا۔ خالہ نے اپنی بہن سے آ کر معذرت کر لی کہ میرا بیٹا نہیں مان رہا۔ ثانیہ کی ماں پہلے ناراض ہوئی لیکن بہن سے کب تک کٹ کے رہ سکتی تھی۔ لیکن ثانیہ کے دل پر کیا بیتی اور کیسے اس کے بچپن سے جوانی تک کے سپنے چکنا چور ہوئے اس کا اندازہ شاید کوئی نہ کر سکے۔ اس کا ہر ایک رشتے سے اعتبار ہی اٹھ گیا۔ دل ایسا چکنا چور ہوا کہ زندہ لاش نظر آنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت سے گھروں میں ایسی ہی کہانیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
جہاں ارسل رشتہ نہ توڑے وہاں ثانیہ یا اس کے گھر والے بھی توڑ دیتے ہیں لیکن اذیت دونوں صورتوں میں دوسرے فریق کو برابر ہوتی ہے۔
ایک چیز جو ہمارے معاشرے میں والدین اور بزرگوں کو سمجھ نہیں آرہی وہ یہ کہ نہ وہ اپنی زندگی جیتے ہیں نہ بچوں کو ان کی زندگی جینے دیتے ہیں۔ جو خود ان کے اپنے خواب ہوتے وہ خود پورے کرنے کی بجائے اپنے بچوں کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ ان کا رشتہ ان کی پسند سے نہیں ہوا تو اب اپنے بچوں کا رشتہ بچوں کی مرضی کی بجائے اپنی مرضی سے طے کر دیتے ہیں۔ حالانکہ جس کا رشتہ ہونا ہے سب سے پہلے اور سب سے اہم اس کی رائے ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر کوئی ڈاکٹر یا پائلٹ یا انجینئیر بننا چاہتا تھا ، نہیں بن سکا تو اب اپنے بچوں پر جتنی بھی سختی کرنی پڑے اور جیسے بھی انھیں مجبور کرنا پڑے کرے گا۔ ایسے ہی خواہش اپنی کے اپنی بہن یا اپنے بھائی سے جڑے رہیں تو اپنے بچوں کے رشتے وہاں کر دیں گے چاہے بچے اس پر بالکل بھی راضی نہ ہوں۔ پھر یہ شکایت بھی کہ بچے نافرمان ہو گئے ہیں، ہماری بات نہیں مانتے۔
یہ بات سب سے پہلے آج کل کے والدین کے لیے ہے کہ اپنے فرائض اور حقوق کا صحیح تعین کیجیے۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ آپ کے فرائض کیا ہیں، پہلے وہ پورا کیجیے۔ پھر یہ دیکھیے کہ آپ کے حقوق کیا ہیں۔ کیا کوئی ایسا حق تو نہیں ہے جو آپ کا حق نہیں ہے لیکن آپ زبردستی اپنے بچوں سے وہ وصول کر رہے ہیں۔ اس سے آپ کے لیے تو پریشانی ہوگی ہی لیکن اپنے بچوں کی بھی زندگی تباہ کر دیں گے۔ اس کا خمیازہ آپ کو، آپ کی اولاد کو اور ان کے ساتھ جڑے سب لوگوں کو بھگتنا ہو گا۔ معاشرے میں پھیلی چڑچڑے پن کی بڑی وجوہات میں سے ایک بزرگوں کے زبردستی کے فیصلے بھی ہوتے ہیں۔ خدارا ہوش کے ناخن لیجیے۔ آپ اپنی زندگی جی چکے ۔ اب اپنی اولاد کو اپنی زندگی جینے دیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*🤲❗❗❗*
07/12/2023
ایک صحتمند مرد کے عورت سے ج**ع کرنے کے بعد جو منی خارج ہوتی ہے اس میں 400 ملین سپرمز موجود ہوتے ہیں۔ لہذا ، منطق کے مطابق، اگر اس مقدار میں نطفہ کو رحم میں جگہ مل جاتی ہے تو 400 ملین بچے پیدا ہوجاتے!
جبکہ یہ 400 ملین اسپرم ، ماں کی بچہ دانی کی طرف پاگلوں کی طرح بھاگتے ہیں، اور اس دوڑ میں صرف 300 یا 500 سپرمیے ہی بچ پاتے ہیں۔
اور باقی؟ وہ راستے میں ہی تھکن یا شکست سے مر جاتے ہیں۔ یہ 300-500 سپرمیے ہیں، جو بیضہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک، جی ہاں صرف ایک بہت ہی مضبوط سپرمیہ ہوتا ہے، جو بیضہ میں داخل ہوکر فرٹیلائز ہوتا ہے ، یا بیضہ میں پہنچ کر اپنی نشست بنالیتا ہے۔
کیاآپ جانتے ہیں وہ خوش نصیب، فاتح اور مضبوط ترین سپرمیہ کون ہے؟
وہ خوش نصیب سپرمیہ آپ، میں، یا ہم سب ہیں۔
کیا آپ نے کبھی اس عظیم جنگ کے بارے میں سوچا ہے؟
جب آپ بھاگے "تو آنکھیں، ہاتھ، پاؤں، سر نہیں تھے، پھر بھی آپ جیت گئے!
جب آپ بھاگے تو آپ کے پاس سرٹیفکیٹس نہیں تھے، آپ کے پاس دماغ نہیں تھا، لیکن آپ پھر بھی جیت گئے!
جب آپ بھاگے تو آپ تعلیم یافتہ نہیں تھے، کسی نے آپ کی مدد نہیں کی تھی لیکن آپ جیتے۔
آپ کے وجدان کی نظر میں صرف منزل تھی جب آپ بھاگے اور آپ ایک ہی ذہن کے ساتھ بھاگے تھے، آپ کا عزم صرف وہ منزل تھی اور آپ آخر میں جیت گئے۔
اس کے بعد ، بہت سے بچے ماں کے پیٹ میں کھو گئے۔ لیکن آپ موجود رہے ، آپ نے اپنے 9 مہینے پورے کیے۔
اور آج ......
آپ گھبراتے ہیں جب کچھ ہوتا ہے تو آپ مایوس ہوجاتے ہیں، لیکن کیوں؟ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آپ ہار گئے؟ آپ نے اعتماد کیوں کھو دیا ہے؟ اب آپ کے پاس دوست، بہن بھائی ، سرٹیفکیٹس، سب کچھ ہے۔ یہاں ہاتھ پاؤں ہیں، تعلیم ہے، منصوبہ بندی کرنے کے لیے بہترین دماغ ہے، مدد کرنے کے لئے لوگ موجود ہیں، پھر بھی آپ نے امید ختم کردی ہے۔
جب کچھ ہوتا ہے تو آپ کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟
آپ کیوں کہتے ہیں کہ میں زندہ نہیں رہنا چاہتا؟
آپ نے کیوں کہا کہ میں ہار گیا؟
ایسی ہزاروں چیزوں کو اجاگر کرنا ممکن ہے ، لیکن آپ مایوس کیوں ہوگئے؟
آپ فرسٹریٹ کیوں ہوئے؟ آپ شروع میں جیتے، آپ آخر میں جیتے، آپ بیچ میں جیت جاتے ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Address
Okara
56180

02/05/2024
08/01/2024