Rafia's voice and writes

Rafia's voice and writes

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Rafia's voice and writes, Health/Beauty, Peshawar.

17/09/2025

اکثر یہی سوال کیا جاتا ہے کہ ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتی ایسا کیوں ہوتا ہے؟ قرآن اور حدیث سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ حرام کھانے والے کی دعائیں قبول نہیں ہوتی-تو اکثر سوال آتا ہے کہ ہمارا تو زریعہ معاش حلال ہے حرام تو نہیں- میں اپنے اس تحریر کے ذریعے آپ کو ایک ایسی بات بتانا چاہتی ہوں شاید اس پر کسی کا دھیان ناجاتا ہوں- ہم عورتیں بہت زیادہ غیبت کرتی ہیں اور قرآن مجید میں سورہ بنی اسرائیل میں آتا ہے کہ غیبت کرنے والا اپنے مردار بھائی کا گوشت کھاتا ہے- اب ظاہر ہے مردار تو حرام ہے چاہے جس بھی چیز کا گوشت ہو پھر اپنے مردار بھائی کا گوشت یہ تو اول درجے حرام ہوا تو اس لئے ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتی-
ہمیں چاہئے کہ جتنا ہوسکتا ہے غیبت سے بچنے کی کوشش کریں، خود بھی نا کریں اور جب دوسرے کر رہے ہوں تو ان کو بھی منع کرے-
از سیدہ رافعہ

پہلا قدم مشکل ہے 03/09/2025

پہلا قدم مشکل ہے Welcome to chand's World.Online Services,Free Courses,Shopping , new technology tips and tricks and literatures are available Here. online Academy

دیر ہورہی ہے 02/09/2025

https://chandonlinecademy.blogspot.com/2025/09/blog-post.html

دیر ہورہی ہے Welcome to chand's World.Online Services,Free Courses,Shopping , new technology tips and tricks and literatures are available Here. online Academy

24/07/2025

اولاد کی زیادہ تعداد اور ہمارا معاشرہ Welcome to chand's World.Online Services,Free Courses,Shopping , new technology tips and tricks and literatures are available Here. online Academy

24/07/2025

ادھورے خواب Welcome to chand's World.Online Services,Free Courses,Shopping , new technology tips and tricks and literatures are available Here. online Academy

20/04/2025

کوئی انسان برا نہیں ہوتا مگر کوئی کام ایسا کر لیتا ہے کہ وہ برا ہوتا ہے اس لیے کسی کو برا کہنے سے پہلے یہ سوچ لیا جائے کہ یہ جو برا کام ہے کہیں یہ ہم سے نا ہوجائے-
سیدہ رافعہ

20/04/2025

السلام علیکم!
#ڈپریشن
اس تحریر کو پورا پڑھیں کیونکہ میں اس سٹیج سے گزری ہوں-
جیسے کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ بہت ہی خطرناک بیماری ہے اور کبھی کبھار یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے-

1-ہر کسی پر اعتبار نہ کریں-
2-دوستی کرتے وقت اس بات کاخیال رکھیں کہ آپ کا دوست اپنی بہت زیادہ تعریف تو نہیں کرتا- ایسا شخص صرف اپنے میں میں رہتا ہے اور دوسروں کی خوشی کی پرواہ نہیں کرتا-
3- آپ اگر سٹوڈنٹ ہیں تو پڑھائی کو زیادہ سر پر سوار نہ کریں بس صرف محنت کریں اور کلاس میں لیکچر اچھے سے سنا کریں- اگر آپ کسی امتحان میں ناکام ہوگئے تو زندگی رک نہیں گئی بلکہ نا کامی ہی کامیابی کا اصل زینہ ہے-
4-کبھی خود کو کسی کے ساتھ کمپیئر نہ کریں اور اگر کوئی آپ کو کسی کے ساتھ کمپیئر کر رہا ہے تو اس کو اگنور کریں-
5-اگر آپ کو کسی سے محبت ہوجائے تو اس کو اپنے سر پر سوار نہ کریں اور ہاں یہ غلطی تو آپ کریں ہی نہ کہ اس کو اپنی قریبی دوست کو بتائیں-
6- اگر آپ کو کوئی اگنور کر رہا ہے تو آپ بھی اگنور کریں ان کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں پھر چاہے وہ آپ کے ماں باپ بہن بھائی ہی کیوں نہ ہوں، خود ہی ان کو قدر آجائے گی-
7- اپنی بوریت کو دور کرنے کیلئے کبھی بھی کسی انسان کا سہارا نہ لیں ورنہ تو وہ بندہ غرور میں آکر آپ کو نقصان ہی پہنچائے گا-
8- اگر آپ کا کاروبار اچھا نہیں جا رہا، آپ بے روزگار ہیں تو کبھی بھی پیسے والے بندے سے فریاد نہ کریں، وہ آپ کو زمانے میں رسوا کر دے گا-
9- آپ اپنا خیال خود رکھیں، کوئی دوسرا آپ کا خیال نہیں رکھتا-
10- اگر آپ کو یک طرفہ محبت ہے تو کبھی بھی اس کا اظہار نہ کریں-
11- کبھی بھی جلد بازی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ شیطان کا کام ہے-
12- لوگوں کو پہچاننے میں جلدی نہ کریں کیونکہ کچھ لوگ انسانی شکل میں بھیڑیے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ فرشتے بھی ہو سکتے ہیں-
13- اگر آپ کے بارے میں کوئی غلط سوچ رہا ہے یا کوئی غلط الزام لگا رہا ہے تو یہ اس کا مسئلہ ہے آپ کا نہیں-
14- جو شخص آپ کی چھوٹی سی بات کو پکڑ کر آپ سے تعلق ختم کرنے لگے ان کو صفائی مت دیں-
15- بہت ہی کم لوگوں کے ساتھ تعلق رکھیں، ہر کسی کو اپنا بایو ڈیٹا نہ دیں اور ہر کسی کو اپنی راز کی بات نہ بتائیں-
یہ تو وہی باتیں ہیں جو آپ کو ڈپریشن سے بچاتے ہیں-
16- کبھی بھی کسی سے امید نہ رکھیں-
17- آپ کے پاس جو ہے اسی پر خوش رہیں اور قناعت ہاتھ سے چھوٹنے نہ دیں-
18- صبر اور شکر دونوں ہی ایسی باتیں ہیں جو آپ کو دین اور دنیا میں کامیابی دیتا ہے-
19- دوسروں کے باتوں کو برداشت کریں اور کسی سے غصہ اور لڑائی مت کریں کیونکہ یہ چیز ڈیپرشن کی طرف لے جانے والی ہے-
20- اپنے بڑوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کی کوشش کریں کیونکہ وہ آپ کے ساتھ وہ معلومات شیئر کرتے ہیں جو گوگل کو پتہ نہیں ہوتا-
__________________________________
اگر آپ کو مندرجہ بالا پوائنٹس میں سے کسی بھی پوائنٹ کی غلطی ہو گئی ہے اور اس کی وجہ سے آپ ڈپریشن میں مبتلا ہو گئے ہیں تو
-
1- سب سے پہلے اپنے اللہ سے لو لگائیں، اللہ سے اپنے دل کی باتیں کریں، ان کے حضور اپنے گناہوں سے توبہ کریں- ذکر واذکار کی روٹین بنالیں- اللہ سے دعا کریں کہ وہ آپ کو اپنے تقدیر پر راضی رکھیں یہ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے وہ یہی دعا اللہ سے مانگتے تھے-
2- اپنے دل سے باقی لوگوں کی محبت نکال کر صرف اللہ کی، اس کے رسول کی اور اپنے خونی رشتوں اور کی محبت کو جگہ دینے کی کوشش کریں-
3- صرف انہی دوستوں کے ساتھ تعلقات رکھیں جو ہر حال میں آپ کے ساتھ ہوں- سوشل میڈیا کو کم سے کم استعمال کریں-
4- اگر آپ کی محبت کو کسی نے ٹکرا دیا ہوا ہے اور یہ بات آپ کے دماغ پر حاوی ہو کر آپ ڈپریشن میں مبتلا ہوگئے تو آپ یہ سوچیں کہ وہ آپ کے محبت کے قابل نہیں تھا-
5- ڈپریشن کے دوران کبھی بھی تنہائی میں اور فارغ مت بیٹھیں کیونکہ تنہائی اور فراغت میں شیطان اپنا وار آسانی سے کرتا ہے- آپ گھر کے کاموں میں حصہ لیں، چاہے آپ لڑکا ہو یا لڑکی، اپنے کمرے کی صفائی کریں، اپنے کپڑے خود استری کریں-
6-اگر آپ کے گھر میں گارڈن ہے تو آپ وہی تھوڑی دیر بیٹھ کر دل بہلائیں، پودوں کو پانی دیں، چڑیوں اور دیگر پرندوں کو کھانے پینے کے لیے دیں اس سے آپ کو سکون ملے گا -
7- شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں اچھے سے تیار ہو کر شرکت کریں اور لوگوں سے میل جول رکھیں- منہ بنا کر ایک طرف بیٹھ جانے سے آپ اور بھی ڈیپریس ہوں گے-
10- اگر کوئی آپ کا مذاق اڑا رہا ہے تو اڑانے دے کیونکہ ہر شخص اپنے ظرف کے مطابق بات کرتا ہے-
11- ہر کسی کو عزت دیں اور ہر کسی سے ہنس کر بات کریں یہ آپ کو سکون دے گا-
12- اگر کوئی آپ کو زیادہ تنگ کریں تو دل پر لینے کی ضرورت نہیں بلکہ اس سے کنارہ کشی اختیار کر لیں لیکن اگر وہ کسی طرح آپ کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تو اس کو آپ بھی تنگ کرنا شروع کر دیں کیونکہ جن پر خود گزرتی ہے ان کو ہی پتہ چلتا ہے کہ کسی کو تکلیف دینا کیا ہے، وہ خود ہی سدھر جائیں گے-
13- اگر آپ کو کوئی ہراساں کر رہا ہے چاہے وہ آپ کو کال کر کے تنگ کریں یا کہیں اور پر تو اپنے زہن پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت نہیں ڈائریکٹ پولیس کو کمپلین کریں اور اس کو ہر جگہ سے بلاک کریں-
15- اپنے ایمان کو مضبوط بنائیں، کوئی بھی مومن شخص ایک ہی جگہ سے یا ایک ہی شخص سے دھوکہ نہیں کھا سکتا اس لئے کسی پر دوبارہ اعتبار نہ کریں چاہے خون کے رشتے ہی کیوں نہ ہو-
16 - خوش رہنے کے کہیں سو طریقے ہیں وہ خود پر اپلائے کریں- کیونکہ کوئی اور آپ کو خوش نہیں کر سکتا جب تک آپ خود ہی خوش نہ ہوں - چھوٹی چھوٹی خوشیاں محسوس کریں- بڑی خوشی کے انتظار میں چھوٹی خوشی کو ضائع مت ہونے دیں -
17- آپ کا رونا خالص اللہ کے لیے ہونا چاہئے نہ کہ کسی اور کے لئے-
18- ڈیپرشن کے دوران صرف کسی ایسے بندے سے بات کریں جو آپ کو مزید دکھ نہ دیں -
19- اپنے آپ میں خود اعتمادی پیدا کریں، اللہ پر اور خود پر یقین رکھیں-
20- آپ کے اندر بہت ساری صلاحیتیں ہیں جو دوسروں میں نہیں خود میں تلاش کریں اور اس سے فائدہ اٹھائیں-
21- اپنی صحت کا خیال رکھیں اور ورزش اور واک کو اپنا معمول بنائیں-
از سیدہ رافعہ

10/12/2024
05/10/2024

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں برکت تو تین چیزیں زندگی سے نکال دے
1- میوزک
2- رشتہ داروں کے ساتھ بد سلوکی
3- کنجوسی

12/08/2024

ادھورے خواب
از سیدہ رافعہ
اس کے پیدائش کے دو ماہ بعد اس کی ماں کا انتقال ہو گیا- شروع شروع میں تو وہ گھر کا راج دلارا ہی رہا کیونکہ وہ اپنے باپ کا ایک لوتا بیٹا تھا- اس کا باپ اس کو سوتیلی ماں کے ظلم سے بچانا چاہ رہا تھا اس لئے دوسری شادی سے اجتناب کیا- لیکن جب اس نے ہوش سنبھالا تو سب نے اپنے تیور بدل دیے سوائے باپ کے- کیونکہ جب ناگن نے ڈسنا ہی ہوتا ہے تو پھر وہ ہر طرح ڈس ہی لیتا ہے - ہر کوئی اس کو بن ماں کا سمجھ کر اس پر ظلم کرنے کی کوشش کرتا رہا- لیکن جب اس کے والد گھر آتے سب کے رنگ روپ بدل جاتے--
ایک دن جب وہ اس قابل ہوا کہ اس کو سکول میں بٹھایا جائے - اس کے والد نے ایک اچھے سکول میں اس کی داخلہ کروانا چاہی، اس کو پرائیویٹ سکول میں بٹھانے کا خواب دکھایا گیا- اس نے داخلہ لینا چاہا ہی تھا کہ اس کی باپ کی نوکری چلی گئی- اب پرائیویٹ سکول کی فیس کون بھرتا - اس لئے اس کو سر کاری سکول میں بٹھایا - اس کے باپ نے نوکری کی تلاش کرنا چاہی تو نہ مل سکی اور وہ اب چھوٹی موٹی محنت مزدوری کرنے لگا - ان حالات میں چچیوں کے مظالم بھی اس پر بڑھتے گئے- اس کو تقریباً گھر کا نوکر ہی بنا دیا گیا تھا - اس کے دل میں یہ خواب ادھورا رہ گیا تھا کہ اس کو بھی ماں کا پیار ملے-
جب اس نے دسویں جماعت پاس کی اور وہ زندگی میں آگے بڑھنا چاہ رہا تھا، پڑھائی کے ساتھ ساتھ وہ اپنے پھیروں پر کھڑے ہو کر اپنے والد کا بوج ہلکا کرنا ہی چاہ رہا تھا کہ اس کے والد کا انتقال ہوا - اس کے زندگی میں ایک ایسا وقت آیا کہ بھیڑ میں ہوتے ہوئے وہ خود کو اکیلا محسوس کر رہا تھا، ہر کوئی اس کے قسمت کو کھوسنے لگا تھا-
خیر یہ دن بھی گزر گئے، اس نے محنت مزدوری شروع کی اور کالج میں داخلہ لینا چاہا تو اس کے چچا نے اس کو گھر سے نکال دیا- وہ اب بے گھر ہوچکا تھا، اب وہ کیا کرتا یا تو کالج میں داخلہ لیتا یا پھر رہائش کابندوبست کرتا- کوئی اس کے مدد کرنے والا نہیں تھا - اس کو اپنا یہ خواب بھی ادھورا ہی لگ رہا تھا لیکن اس نے سوچا کہ جو بھی ہمت نہیں ہاروں گا اور اس نے دھیاڑی ڈھونڈ لی- پہلی کمائی کو لے کر وہ اپنے ماں باپ کے قبر کے پاس لے کر گیا لیکن وہ ان دینے سے قاصر تھا- اس نے اللہ کی راہ میں وہ کمائی دینا چاہی- جیسے تیسے وقت گزر گیا، اس نے محنت کر کے اگلے سال کالج میں داخلہ لیا اور ایک چھوٹے سے کمرے میں رہائش کا بندوبست کیا - جب بارہویں جماعت پاس کرنے لگا تو اس نے چھوٹی موٹی نوکری تلاش کرنے شروع کی لیکن نہیں مل سکی - اس نے جیسے تیسے آگے پڑھنا شروع کیا- اب وہ پڑھ لکھ کر بہت بڑا افسر بننا چاہتا تھا - سولہ جماعتیں پڑھنے کے بعد ایک دن وہ ایک دفتر میں نوکری کے لئے جارہا تھا - راستے میں وہ یہی خیالی پلاؤ ہی پکا رہا تھا کہ ایک دن میں بہت پیسا کما لونگا اور بہت بڑا بنگلہ اور گاڑی لونگا لیکن کیا، اسی سوچ میں وہ سڑک پر جارہا تھا کہ اچانک ایک بس سے اس کی ٹکر ہوئی، اس کو ہسپتال لے جایا گیا وہاں پتہ چلا کہ اس کی ایک ٹانگ ضائع ہوگئی - اس کے افسر بننے کا خواب ادھورا رہ گیا -
ہسپتال سے فارغ ہوکر وہ لنگڑاتے ہوئے کسی ڈھنڈے کے دوبارہ سڑک پر آیا تو اس کو اس دنیا سے خوف آنے لگا تھا - وہ اپنے ماں باپ کے قبر کے پاس گیا وہاں ڈھیرا ڈالا اب اس کا آخری خواب یہ تھا کہ اس کی قبر بھی اس کے والدین کے قبر کے پاس ہو وہ دن کو کچھ نہ کچھ ادھر ادھر سے کھانے کے لئے تلاش کر ہی لیتا- اور اسی پر گزارہ کرتا- ایک دن وہ اسی طرح کچھ کھانے کی تلاش میں نکلا ہی تھا- ایک آدمی نے اس کو باسی کھانا دیا جس کی وجہ سے اس کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ وہی پر سڑک پر گر کر مر گیا - لوگوں کی بھیڑ اس کے قریب جمنے لگی لیکن اس میں کوئی اس کا اپنا نہیں تھا، اس کا نماز جنازہ پڑھانے کے بعد اس کو پاس والے قبرستان میں اپنے ماں باپ کے قبر سے میلوں دور دفنایا گیا -

12/08/2024

عنوان: پہلا قدم مشکل ہے
از: سیدہ رافعہ
آج دل میں کچھ لکھنے کا خیال آیا- قلم آٹھایا اور سوچنے لگی کہ کیا لکھوں، کیسے لکھوں، کس بارے میں لکھوں؟
پہلے کچھ ہچکچاہٹ محسوس ہونے لگی کہ مجھ سے نہیں ہو پائے گا- پھر کچھ سوچنے کے بعد خیال آیا اور لکھنا شروع کیا- اس دوران پہلا قدم لینا مشکل تھا اور جب ایک مرتبہ لے لیا گیا تو باقی آسان-
میرے عزیز ہم وطنوں! انسان کے لیے یہی پہلا قدم اٹھانا زندگی کے ہر معاملے میں مشکل ہوتا ہے- جب بادل اللہ کے حکم سے برسنے کا ارادہ کرتی ہے تو اول ہر ایک بوند برسنے سے ڈرتی ہے لیکن بادل کے ڈانٹنے پر ایک بہادر بوند پہلا قدم بڑی مشکل سے لیتا ہے لیکن پھر پتہ چلتا ہے کہ آگے سب کام آسان ہے-
اگر ہم اپنی ہی زندگی کی مثال لے لیں تو جب اول ہم پیدا ہوئے تو ہمارا جسم کمزور تھا، اٹھ بہٹھ مشکل تھا لیکن پھر جب ایک سال لگنے کے بعد بدن میں جو طاقت آتی ہے اور بچہ جب پہلا قدم لینے کی کوشش کرتا ہے تو اول روتا ہے لیکن جونہی وہ پہلا قدم لینے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اپنی کامیابی کی خوشی مناتے ہوئے ہنسنے لگتا ہے-
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلی مرتبہ وحی آئی تو تب وہ بھی گھبرا گئے کہ میں نے دین کی تبلیغ کرنی ہے اور یہ کام مشکل تھا اور ہے بھی- وہ گھر گئے اور چادر اوڑھ لی لیکن پھر اللہ نے وحی میں سورہ مزمل میں فرمایا کہ اپنی چادر ہٹا دو اور دین کی تبلیغ کرو تاجدارِ دوجہاں کے لیے یہ کام اول میں مشکل تھا لیکن اللہ نے حکم دیا انذِر عشیرتکم المقربین یعنی پہلے اپنے گھر والوں کو ڈراؤ اور پھر نبی کریم نے اپنا وہ مشن شروع کیا جس کے لیے دنیا بنی ہے اور ہر پیغمبر نے جو پیغام پہنچایا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشکل تھا اول لیکن پھر کچھ تکلیفیں برداشت کرنے بعد آپ پوری دنیا میں چھا گئے-
میرے عزیز ہم وطنوں! دنیا میں ہر پہلو میں پہلا قدم مشکل ہوتا ہے- انسان پر تکلیفیں گزرتی ہیں- زندگی کسی کی بھی آسان نہیں ہوتی ہر جو کامیاب آدمی ہے اس نے زندگی میں بہت سے مشکلات دیکھی ہوں گی- سونے کا نوالہ حاصل کرنے کے لیے پہلا مشکل قدم لینا ہی ہوگا- پہلے آپ کی زندگی میں کافی طوفان برپا ہوگا اس طوفان کے ذریعے آپ کی زندگی میں سیلاب آئے گا اس سیلاب کے سوکھنے کے بعد جو سونے چاندی جیسے دھات آپ کی زندگی میں آئیں گے وہی آپ کی کامیابی ہے-
میری آپ سب سے یہی گزارش ہے کہ جیسے نبی کریم کو اللہ نے حکم دیا تھا کہ چادر ہٹا کر کام پر لگ جائیں- ویسے میں بھی آپ سے یہی کہنے کے لیے یہی تحریر لکھ رہی ہوں کہ اپنی بستر سے الگ ہو جاؤ اور پہلا قدم لو اپنی زندگی میں کچھ کر دکھاؤ ورنہ قارون کی طرح زندگی اور مال دونوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا اور پھر پشیمانی کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا-
تو
قدم اٹھاؤ کامیابی کی طرف! پاؤں اٹھاتے ہوئے مشکل ہوتا ہے لیکن اس کو دوبارہ زمین پر ایک کامیاب انسان رکھتے ہیں-
والسلام!

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Peshawar