help for missing children in Quetta
jitna ho sakay logo ki madad karay
اس ویڈیو میں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی ایک پریس کانفرنس کے دوران استعفیٰ کے مطالبے پر اپنا سخت اور واضح مؤقف پیش کر رہے ہیں۔ ان کے بیان کی روشنی میں درج ذیل الفاظ ان کی شخصیت اور موقف کی عکاسی کرتے ہیں۔
وہ اقتدار یا کرسی کو عارضی سمجھتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اصل اہمیت بلوچستان کے لوگوں کی خدمت کرنے کی ہے، نہ کہ عہدے سے چمٹے رہنے کی۔ امن کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار ہے انہوں نے واضح کیا کہ اگر ان کے استعفے یا جان دینے سے بھی بلوچستان میں امن قائم ہو سکتا ہے تو وہ اس کے لیے سب سے پہلے تیار ہے۔
وہ تنقید، گورننس کی بہتری، اور کرپشن کی نشاندہی کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اسے اپوزیشن کا اصل کام سمجھتے ہیں، لیکن لاشوں پر سیاست کرنے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
وہ شہداء کے خون اور ان کے لواحقین کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے ان کے تمام جائز مطالبات کو پورا کرنے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں
📢 کوئٹہ کے سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال: غریب مریض کہاں جائے؟
کوئٹہ میں ایک بار پھر سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں، جس کی وجہ سے غریب اور بے بس مریض خوار و خوار ہو رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی ڈاکٹرز اپنے پرائیویٹ کلینکس اور ہسپتالوں میں باقاعدگی سے بیٹھ رہے ہیں اور فیسیں بٹور رہے ہیں، لیکن سرکاری ہسپتال میں ڈیوٹی کرنا ان کی انا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
غریب مریض کہاں جائے؟ جو شخص دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے، وہ پرائیویٹ ہسپتالوں کے لاکھوں روپے کے اخراجات کیسے برداشت کرے؟
مسیحائی یا تجارت؟ ہڑتال کرنا ڈاکٹروں کا حق ہو سکتا ہے، لیکن مریضوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر اپنے مطالبات منوانا کہاں کی انسانیت ہے؟
💡 حکومت کے لیے ایک متبادل حل:
حکومتِ بلوچستان کو اب اس بلیک میلنگ کا مستقل حل نکالنا ہوگا۔ ڈاکٹروں کو مستقل (Permanent) نوکریوں کے بجائے کنٹریکٹ (Contract Basis) پر بھرتی کیا جائے۔
پالیسی واضح ہونی چاہیے: جو ڈاکٹر ہڑتال کرے، ڈیوٹی سے غائب ہو یا مریضوں کا علاج کرنے سے انکار کرے، اسے فوری طور پر نوکری سے فارغ کیا جائے اور اس کی جگہ نئے، مخلص اور ضرورت مند نوجوان ڈاکٹرز کو موقع دیا جائے۔
جب تک ہسپتالوں کو سیاست سے پاک نہیں کیا جائے گا، غریب اسی طرح سسک سسک کر دم توڑتا رہے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت سخت فیصلے کرے!
قلات کی رہائشی شاہ بی بی اور رخسانہ عزیز کی پریس کانفرنس
کوئٹہ: میرے بھائی عبدالسلام نیچاری کو تین ماہ قبل بیدردی سے قتل کیا گیا، رخسانہ عزیز
کوئٹہ: میرے بھتیجی لائبہ ستار کو 19 مارچ کو نامعلوم افراد نے اغواء کیا،رخسانہ عزیز
کوئٹہ: گھر میں کلعدم تنظیم کے نام پرچی بھیجی کہ آپ کی کلعدم تنظیم کے پاس گئی ہے،رخسانہ عزیز
کوئٹہ: تحقیقات کے لیے سیکورٹی فورسز سے رابطہ کرنے پر بتایا گیا کہ لڑکی کلعدم تنظیم کے پاس بلکہ عبدالسلام نامی شخص نے اغواء کیا ہے، رخسانہ عزیز
کوئٹہ: اس قبل عبدالسلام نے رشتہ ہم نے انکار کیا، رخسانہ عزیز
کوئٹہ: رشتہ نہ دینے پر عبدالسلام لڑکی کے والد اور میرے بھائی کو گولی مار کر قتل کیا، رخسانہ عزیز
کوئٹہ: احتجاج کرنے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج اور ملزم کی گرفتار کرنے کی یقین دہانی کرائی، رخسانہ عزیز
کوئٹہ: تین ماہ گزر گئے مگر تاحال ملزم گرفتار نہ ہوسکا، رخسانہ عزیز
کوئٹہ: ملزم عبدالسلام پولیس محکمے میں ملازم تھا، رخسانہ عزیز
کوئٹہ: لاپتہ لڑکی لائبہ تاحال بازیاب نہ ہوسکی، رخسانہ عزیز
کوئٹہ: لواحقین کا وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ اور آئی جی پولیس سے واقعے میں ملوث ملزم کے گرفتاری کی اپیل
کوئٹہ: اگر میرے بیٹے کے قاتل کو گرفتار نہ کیا گیا تو میں خود پر تیل چھڑک کر آگ لگا دوں گی، والدہ شاہ بی بی
کوئٹہ: ہمیں بتائیں ہم کس سے انصاف طلب کریں، شاہ بی بی
کوئٹہ: قلات پولیس دندناتے ملزمان عبدالسلام اور اسکے بھائی طیب کو گرفتار نہیں کررہے ہیں، شاہ بی بی
محترم جناب وزیر اعلیٰ بلوچستان،
السلام علیکم!
میں اس پیغام کے ذریعے آپ کی توجہ پشین میں نادرا (NADRA) کے دفتر میں پیش آنے والے ایک انتہائی افسوسناک اور تشویشناک واقعے کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں تعینات ایک ذمہ دار افسر سائلین (عوام) کے ساتھ انتہائی بدتمیزی، غیر پیشہ ورانہ اور توہین آمیز رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
عوام سرکاری دفاتر میں اپنے جائز قانونی کاموں کے لیے آتے ہیں، لیکن افسران کا ایسا اخلاق سوز رویہ نہ صرف ان کی تذلیل کا باعث بنتا ہے بلکہ حکومت اور عوام کے درمیان فاصلوں کو بھی بڑھاتا ہے۔ جب نادرا جیسے حساس اور عوامی نوعیت کے اداروں میں ایسے بد اخلاق افسران تعینات ہوں گے، تو عام شہری انصاف اور مدد کے لیے کہاں جائے گا؟
آپ سے دردمندانہ اپیل ہے کہ:
اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور مذکورہ افسر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔
تمام سرکاری دفاتر بالخصوص نادرا پشین میں نگرانی کا نظام بہتر کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی افسر شہریوں کے ساتھ ایسا سلوک نہ کر سکے۔
صوبے بھر کے سرکاری ملازمین کے لیے اخلاقی تربیت اور پبلک ڈیلنگ کے اصولوں پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جائے۔
بلوچستان کی عوام آپ سے امید رکھتی ہے کہ آپ اس بدسلوکی کے خلاف سخت ایکشن لیں گے اور عوام کے وقار کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔
ویڈیو میں موجود شخص مہنگائی، حکومت کی معاشی پالیسیوں اور بجٹ کے تناظر میں ملک کے غریب طبقے کی مشکلات کی عکاسی کر رہا ہے۔ وہ اپنے غصے اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم کو چیلنج دے رہا ہے کہ وہ ایک عام آدمی کی اجرت پر زندگی گزار کر دکھائیں۔
کسی بھی ملک میں جب معاشی حالات دباؤ کا شکار ہوں، تو عوام میں اس طرح کا ردعمل اور مایوسی فطری بات ہے۔ حکومتوں کا بنیادی فرض شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا اور ان کے مسائل کا حل نکالنا ہوتا ہے تاکہ غریب اور متوسط طبقے پر بوجھ کم کیا جا سکے۔
کوئٹہ :نوجوان ہمسائے کی فائرنگ سے شدید زخمی، زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا*
کوئٹہ:معمولی تنازع پر ہمسائے کی فائرنگ سے سیکنڈ ایئر کا طالبعلم زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا تفصیلات کے مطابق جان محمد روڈ حمید اسٹریٹ کے رہائشی وسیم جدون کے صاحبزادے عبداللہ جدون پر ہمسایہ عصمت عدوزئی نے اندھا دھند فائرنگ کر دی 20سالہ نوجوان زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہے جبکہ عصمت عدوزئی واقعہ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا درایں اثنا زخمی نوجوان کے والد وسیم جدون نے آئی جی پولیس محمد طاہر ‘ ڈی آئی جی عمران شوکت اور دیگر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ میں نامزد ملزمان کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا اور انہیں انصاف دلایا جائے
30/05/2026
تلاش ورثا
یہ بچہ کلی بلال آباد شيخ عمر روڈ پے موجود ہے جو کہ پشتو زبان بولتا ہے اپنے گھر کا پتہ نہیں جانتا ہے جن کا ہے اس نمبر پہ رابطہ کرے
03327818832
پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئر کریں شکریہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Quetta
