Munir Ahmed
Touch and hold a clip to pin it. Unpinned clips will be deleted after 1 hour.
04/04/2026
کہانی: دعاوں کا سایہ ❤️
ہر صبح فجر کی اذان کے بعد، علی آہستہ آہستہ اپنی دادی کے کمرے کی طرف جاتا تھا۔
دروازہ کھولتے ہی وہ دیکھتا کہ دادی جان اپنی جائے نماز پر بیٹھی دعا مانگ رہی ہوتی ہیں۔
علی خاموشی سے ان کے پاس بیٹھ جاتا، ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتا اور محبت سے چوم لیتا۔
دادی مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتیں اور کہتیں:
"بیٹا، اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے، کامیاب کرے، اور تمہاری زندگی آسان بنائے۔"
علی کو شاید ان دعاوں کی گہرائی کا اندازہ نہ ہو،
لیکن اسے یہ ضرور معلوم تھا کہ دادی کے ساتھ یہ چند لمحے اس کے دن کا سب سے خوبصورت حصہ ہیں۔
وقت گزرتا گیا، مگر علی کی یہ عادت نہ بدلی۔
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ دنیا کی سب سے قیمتی چیز
ماں باپ اور بزرگوں کی دعا ہوتی ہے۔
✨ جو لوگ اپنے بڑوں کی قدر کرتے ہیں،
ان کی زندگی میں برکت خود بخود آ جاتی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ایران کے زیرِ کنٹرول آبنائے ہرمز کس کے نام پر ہے؟
تاریخی روایات کے مطابق “ہرمز” فارس کی مجوسی فوج کے ایک جرنیل کا نام تھا، جو سرحدی علاقے کاظمہ کا گورنر تھا۔ سن 12 ہجری / 633 عیسوی میں خلیفۂ اول ابوبکر صدیقؓ نے عراق کی مہم کے لیے سپہ سالار خالد بن ولیدؓ کو روانہ فرمایا۔
جنگ سے پہلے ہرمز نے حضرت خالدؓ کو مبارزے کی دعوت دی، جسے آپؓ نے قبول کیا۔ میدانِ جنگ میں دونوں آمنے سامنے آئے، تلواروں کا تبادلہ ہوا، اور بالآخر حضرت خالدؓ نے ہرمز کو قتل کر دیا۔ ہرمز کے قتل کے بعد فارسی فوج کا حوصلہ ٹوٹ گیا، اور مسلمانوں کو واضح فتح حاصل ہوئی۔ یہی فتح بعد میں عراق میں اسلامی فتوحات کے آغاز کا سبب بنی۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا کے کئی علاقوں میں فتوحات کے بعد نام تبدیل ہوئے، مگر یہ اہم ترین آبی گزرگاہ آج بھی اسی شکست خوردہ جرنیل کے نام سے جانی جاتی ہے: آبنائے ہرمز۔ حوالہ: تاریخ الطبری , الکامل فی التاریخ
#آبنائےہرمز
30/03/2026
Munir Ahmed
*_انسان اچانک نہیں مرتا، بلکہ تنہا، تھوڑا تھوڑا مرتا ہے، جب اُس کا کوئی دوست چلا جاتا ہے تو وہ تھوڑا سا مر جاتا ہے۔ جب اُس کا کوئی پیارا اُسے چھوڑ جاتا ہے تو تھوڑا سا اور مرجاتا ہے۔ جب اُس کا کوئی خواب پورا نہیں ہوتا تو وہ تھوڑا سا اور مر جاتا ہے۔ پھر آخر میں اِن سب مرے ہوئے ٹکڑوں کو ڈھونڈنے کے لئے موت آتی ہے۔ اور وہ اِن سب کو سمیٹ کر لے جاتی ہے۔"💔🫠_*
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے
جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے
اس کی وہ جانے اسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا
تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
25/02/2023
inspired by Moon
*Supper Dupper Demanding Article 🌹*
🌹 Handwork Zaari Beads Work Embroided & Tilla Work Kattan Silk Shirt
🌹pLain Kattan silk Trouser 🌹 Organza Embroided Duppata
*Quality is our First Priority Alhmdulilah 😍❤️*
Wholesale Price *2450+150=2600* RS Final
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Sadiqabad
