Alshafa herbal product
we provide information people about disease and different helth products and multivitamin with used in our daily life for fitness
06/11/2023
Your Ultimate Weight Loss Guide ~ موٹاپے کو دور کریں #healthtips #weightloss 🌟 Ready to embark on a transforma...
27/09/2023
https://youtu.be/oha5xNLjmnY?si=pE0XT46omgsMzcvD
Eye Flu - Conjunctivitis : Myths, Causes, Symptoms, Precautions and Treatments👀 :"Separate fact from fiction when it comes to Eye Flu, commonly known as Conjunctiviti...
26/09/2023
https://youtube.com/shorts/wuv7Yhei0QA?si=SKS_PCi0TOdBAnor
Kidney Health Secrets: Understanding Symptoms & Solutions | Urdu/HIndi #healthtips #kideny Dive deep into the world of kidney health with our informative short video! Discover ...
10/09/2023
https://youtu.be/fWD7sAopu-0?si=kmIGrSEtUdfPC7D8
Spice Up Your Health: Turmeric's Miraculous Effects #healthtips #turmeric #hafizhariz Discover the incredible world of turmeric and its numerous health benefits in our ...
12/05/2021
عید الفطر کے دن جب مسلمان عید گاہ میں جمع ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے:
”یہ ہیں میرے وہ بندے جو عبادت میں لگے ہوئے ہیں اور بتاو؟کہ جو مزدور اپنا کام پورا کر لے اس کا کیا صلہ ملنا چاہیے؟ جواب میں فرشتے فرماتے ہیں کہ جو مزدور اپنا کام پورا کر لے اس کا صلہ یہ ہے کہ اسے اس کی پوری پوری مزدوری دے دی جائے۔ اس میں کوئی کمی نہ کی جائے۔ اللہ تعالیٰ پھر فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ یہ میرے بندے ہیں، میں نے رمضان کے مہینے میں ان کے ذمے ایک کام لگایا تھا کہ روزہ رکھیں اور میری خاطر کھانا پینا چھوڑ دیں اور اپنی خواہشات کو ترک کر دیں، آج انہوں نے اپنا فریضہ مکمل کر دیا۔ اب یہ اس میدان کے اندر جمع ہیں اور مجھ سے دعا مانگ رہے ہیں۔ میں اپنی عزت و جلال کی قسم کھاتا ہوں، اپنے علو مکان کی قسم کھاتا ہوں کہ آج میں سب کی دعاوں کو قبول کروں گا اور میں ان کے گناہوں کی مغفرت کروں گا اور ان کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دوں گا۔
"چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ:
”جب روزہ دار عید گاہ سے واپس جاتے ہیں تو اس حالت میں جاتے ہیں کہ ان کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے۔“
09/05/2021
شب قدر
رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی سب سے اہم فضیلت وخصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایک ایسی رات پائی جاتی ہے، جوہزار مہینوں سے بھی زیادہ افضل ہے اور اسی رات کو قرآن مجید جیسا انمول تحفہ دنیائے انسانیت کو ملا۔اللہ سبحانہ وتعالی نے اس رات کی فضیلت میں پوری سورة نازل فرمائی، جسے ہم سورۃ القدر کے نام سے جانتے ہیں۔
ارشاد باری تعالی ہے!
ہم نے اِس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے (1) اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ (2) شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے(3) فرشتے اور روح اُس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں (4) وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
شب قدر کو جبرائیل امین فرشتوں کے جھرمٹ میں زمین پر اتر آتے ہیں۔ وہ ہر اُس شخص کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں، جو کھڑے بیٹھے (کسی حال میں) اللہ کو یاد کر رہا ہو۔
اللّٰہ پاک اس رات کے صدقے ہم سب کی بخشش فرمائے۔ آمین
08/05/2021
آ ڈر کے لیے ابھی رابطہ کریں۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوں گے اللہ پاک سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے
اب گرمیوں کا موسم ہے جون جولائی میں اس کی شدت اور بڑھ جاتی ہے اور کچھ ہماری خوراک اس طرح کی ہے کہ اکثر لوگ معدہ اور جگر کی گرمی میں مبتلا رہتے ہیں
جب معدہ میں گرمی بڑھ جاتی ہے تو بھوک کی کمی ہوجاتی ہے
اور جب جگر گرمی حرارت کا اضافہ ہوجاتا ہے تو خون میں صفرا زیادہ مقدار میں شامل ہونے شروع ہو جاتا ہے اور اگر یہی حرارت مستقل طور پر ہے تو خون میں صفرا کی مقدار بڑھتی جاتی ہے اور اسی لئے LFT کا ٹیسٹ ایبنارمل آتا ہے
اور پھر ہیپاٹائٹس اے کی شکایت ہوجاتی ہے جیسے عام زبان میں پیلا یرقان بھی کہتے ہیں
جیسا کہ مشہور ہے کہ حرارت سے چیزیں اپنے حجم میں بڑھتی ہی پھیل جاتی ہیں جب گرمی گرمی زیادہ ہو جائے تو جگر بھی اپنے حجم میں بڑھ جائے گا خیر یہ ایک الگ مضمون ہے اس پر پھر کبھی تفصیل سے بات ہوگی
آپ لوگوں کو میدے اور جگر کی گرمی اور ان جیسے عوارض سے بچنے کے لئے ایک آسان اور تیز بہدف نسخہ بتاتا ہوں
نسخہ درج ذیل ہے
طباشیر
بالنگو
تخم ریحان
گوند کیکر
گوند کتیرا
چھلکا اسپغول
بادرنجبویا
اور صندل سرخ
یہ تمام چیزیں ایک ایک تولہ لینی ہے پیس کر چھان کر محفوظ کرلیں
مقدارخوراک 1 ماشہ صبح و شام خالی پیٹ ایک ماشہ شربت نیلوفر شربت بزوری یا کسی اور شربت کے ساتھ بھی استعمال کی جا سکتی ہے
اگر شربت دستیاب نہ ہو تو آپ لوگوں پانی سادہ کے ساتھ بھی استعمال کرسکتے ہیں
دعاؤں میں یاد رکھئے گا
الشفاء ہربل
رحم كى رسولى
عورتوں کے امراض میں سے اجکل یہ مرض عام ہوتا جارہا ہے اس مرض سے کافی عورتوں کی تعداد متاثر ہے اور صحیح علاج نہ ہونےکی وجہ سے عورتیں اولاد کی نعمت سے محروم ہیں .
رسولی مردوعورت کے جسم پر کہیں بھی ہوسکتی ہے دورحاضر میں رسولیوں کے مریض پڑھتے جارہے ہیں . اس کی خاص وجہ ہمارا رہن سہن اور ترش اور تزابیت والی غذا و آدویہ ہیں جس کی وجہ سے انسان کے اندر طبعی حرارت کی کمی ہوجاتی ہے اور مادے اندر رکنا شروع ہوجاتے ہیں .
وہ رسولیوں یا پتھریوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے جہاں ماده رکے گا تو اس مقام کے نام سے مادے کا نام رکھا جاتا ہے مثلاً رحم کی رسولی ، جگر کی رسولی ، دماغ میں رسولی پیٹ میں رسولی پستانوں کی رسولیاں یعنی جسم کے کسی بھی عضو میں رسولی ہو سکتی ہے .رسولی ہونے کی صورت میں رسولی کی ساخت دیکھنا پڑتی ہے نرم یا سخت ہے اس کا ساخت اور مقام کے لحاظ سے علاج تجویز کیا جاتا ہے .
رسولیوں کی کئی قسم کی اقسام نظر آہیں لیکن دو بڑی طرح کی اقسام دیکھنے میں آئیں اول ایسی رسولیاں جو تیزی سے بڑھتی ہیں اور دوم ایسی رسولیاں جو بہت کم رفتار سے بڑھتی ہیں اس کے علاوه رسولیوں کی دو بڑی صورتوں میں اول ایسی رسولیاں جن میں درد ہوتا ہے اور دوم ایسی رسولیاں جن میں کسی قسم کا درد تکلیف نہیں ہوتی . بغیر درد والی رسولیاں سال ھا سال جسم میں رہتی ہیں ان کی نشونما بھی کم ہوتی ہے اور یہ درد تکلیف بھی نہیں کرتی . یہ تھا رسولی کا مختصر تعارف ہمارا موضوع ہے رحم کی رسولی اب آتے ہیں
اس کے اسباب اور علاج کی طرف رحم کا مزاج (صفراوی ) گرم ہے . لہذا حرارت کی کمی یا تسیکن غدد کی وجہ رحم ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور اپنے مخصوصه افعال انجام دینے سے قاصر ہوجاتا ہے مثلاً اگر حیض خون ہونے لگے تو رحم روک نہیں سکتا اگر بندش ہوجائے خارج نہیں کرسکتا . اور اگر رسولی جیسا ماده رحم میں رک جائے تو اسے بھی خارج نہیں کرسکتا یعنی رحم کے ذمہ جو بھی کام ہے وه نہیں کرسکتا . . صرف اس لیے اس کا طبعی مزاج جو گرم ہے وہ حرارت کی کمی کی وجہ سے سرد پڑ گیا اور حرارت کی کمی سے کسی قسم کا کام نہیں کرسکتا اس کا صحیح علاج کرنے سے اس مرض سے نجات مل سکتی ہے . . . . . . .
ہمارے گھروں میں جو غذا استعمال بوتی وہ اکثر خشک اور سرد ہوتی ہیں برائلر مچھلی انڈے کریلے آلو فاسٹ فوڈ اور تمام کولڈ ڈرنکس یہ سب خشک گرم اور خشک سرد ہے اور باقی رہ گئے چاول وہ جس طرح پکائے جاتے ہیں وہ بھی سوداوی ہوجاتے ہیں ان کی غذاؤں کی وجہ رسولیاں پتھریاں اور ھارٹ اٹیک پڑھتے جارہے ہیں صفراوی اور بلغی سبزیوں کا استعمال برائے نام ہی رہ گیا ہے علاج میں بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ رسولی کا نام : سنتے ہی مریضہ انتہائی پریشان ہوجاتی جس کی وجہ سے سوداوی تحریک اور زیادہ ہوجاتی ہے اور علاج کرنے میں مشکل آتی ہے . اس کا علاج انتہائی احتیاط اور توجہ کیا جائے اور مریض پرھیز نہ کرنے اُس کا علاج نہ کرے تو بہتر ہے علاج کے لیے جگر اور غدد کو تحریک میں لائے گرم تر اور گرم خشک ادویہ دیں اس کے نسخہ جات تو کافی سارے ہیں چند ایک حاضر ھیں
حب رسولی . رس کپور ایک تولہ دار چکنا ایک تولہ ہڑتال ورقیہ ایک تولہ ان سب کی عرق ھلدی سہ آتشہ 2 بوتل میں رگڑائی کریں رگڑائی کے بعد ھلدی چالیس تولہ میں رگڑائی کریں خوراک ایک رتی مناسب بدرقہ کے ساتھ دیں اور اس کے ساتھ مرض کی مناسبت سے اکیسر پانچ اور غدی عضلاتی مسل بھی دیں سکتے ہیں اور اس کے ساتھ غدی قوه بھی دیں اجوائن پانچ گرام .
تیزپات دو پتے زعفران آدھا گرام پانی دو گلاس میں ابالیں ایک گلاس رہ جانے پر گڑ ملاکر دن میں ایک کپ پلائیں . انشا الله اس علاج سے فائده ہوگا - آخری بات اس مضمون میں آسان سے آسان الفاظ استعمال کرنےکی کوشش کی گئی ہیں اس لیے اہل علم سے معذرت کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان کے زوق کے مطابق بات نہ ہو .
الشفاء ہربل
●☆- مردوں کے امراض ۔۔۔۔مردانہ افزائش نسل کا نظام
مردانہ افزائش نسل نظام میں خصیوں کی اہمیت پرابلمز
اسباب اور علاج معالجے پر مبنی معلوماتی تحریر ☆●
●- خصیے (Te**is) اسے عام طور پر فوطہ ، اور خصیہ کہا جاتا ہے. یہ دو چھوٹی بیضوی شکل کی منی پیدا کرنے والی سفید گلٹیاں ہیں. ہر ایک خصیہ پر چھ غلاف ہوتے ہیں. ہر ایک خصیہ جوانی میں ڈیڑھ انچ لمبا، ایک انچ چوڑا اور سوا انچ موٹا اور اس کا وزن تقریباً نصف چھٹانک ہوتا ہے. بایاں خصیہ نسبتاً بڑا ہوتا ہے. ان کی اندرونی رطوبت مرد میں ہارمونز پیدا کرتی ہے اور سیدھی خون میں شامل ہوتی ہے. بیرونی رطوبت میں منی ہوتی ہے جومنوی ڈوری (نالیوں )کے ذریعے جاکر اوپر جمع ہوتی رہتی ہے. مرد کے انزال کے وقت مثانہ کا منہ بند ہوجاتا ہے تاکہ منی پیشاب سے متاثر نہ ہو۔
●- ایپی ڈائی ڈیمس (Epididymis) خصیوں کی خلفی سطح سے ملحق جسم، یہ ٹیوبولز پر مشتمل ہوتا جس کے ذریعے کرم منی (Spermatozoa)خصیوں سے حبل المنی تک منتقل ہوتے ہیں اور یہ شکل میں مستطیل نما ہوتا ہے۔
●- حبل المنی (Vasa defrensia)خصیے کی اخراجی نالی ، ان کی تعداد دو ہوتی ہے. ہر نالی تقریباً دو فٹ لمبی ہوتی ہے. خصیوں میں منی پیدا ہوکر ان نالیوں کے ذریعے کیسۂ منی میں میں جا کر جمع ہوجاتی ہے۔
●- اسکروٹم (Sc***um) نر میں یہ تھیلی پائی جاتی ہے اور اس کو صفن کہتے ہیں. اس کے اندر نر کے دونوں خصیے ہوتے ہیں۔
●- کیسۂ منی (Seminal vesicles) یہ دو ٹیوبولر غدود ہیں جو مرد کے مثانہ کے پیچھے ہوتے ہیں. اس کی قنات حبل المنی سے ملتی ہیں اور انزالی قنات بناتی ہیں. کیسۂ منی کا سیال، منوی سیال کا ایک خاص جزو ترکیبی ہے۔
●- غدۂ قدامیہ (Prostate gland)مرد میں مثانہ کی گردن اور پیشابی راستے کو چاروں طرف سے گھیرنے والا، تین لختے والا ایک غدودجو قناتوں کے ذریعے پیشابی راستے کے پروسٹیٹ والے حصے میں کھلتا ہے. اس سے ایک پتلا اور ہلکا الکلائن سیال ریزش کرتا ہے جس سے منی کا ایک حصہ بنتا ہے۔
●- منوی ڈوری (Spermatic cord) ایک ڈوری جو بطنی پیغولی حلقے کو خصیوں سے جوڑتی ہے اور حبل المنی، خونی رگوں، لمفی رگوں اور اعصاب سے ملکر بنتی ہے جو خصیوں اور ایپی ڈائی ڈیمس کی تکمیل کرتی ہے۔
●- قضیب (Pen*s)اعضائے تناسل میں قضیب کو خاص اہمیت حاصل ہے. یہ وہ مخصوص عضو ہے جس کے ذریعے مرد کا مادۂ تولید عورت کی بچہ دانی تک پہنچتا ہے. اس کی بناوٹ میں شرائین، وریدیں، اعصاب، جھلیاں، جسم اسفنجی اور نالی شامل ہیں۔
●☆- اح**امNocturnal emission
• تشخیص:بچپن کی نا زیبا حرکتوں کے سبب اکثر یہ مرض پیدا ہوجاتا ہے.اور بعض دفعہ سوزش بھی کارفرما ھوتی ھے۔۔ رات کے خواب میں عورت کا دیدار ہوکر انزال ہوجاتا ہے. کبھی کبھی بغیر خواب دیکھے ہی اح**ام ہوجاتا ہے، جسمانی کمزوری، سستی، پیشاب کا سوزش کے ساتھ آنا، کمر درد، برے خیال، کافی عمر تک کنوارا رہنا، فحش ناولیں وغیرہ پڑھنا، عورتوں کے درمیان زیادہ رہنا، ناچ، گانے اور گندی فلمیں دیکھنا، کھٹائی مرچ مسالہ کثرت سے استعمال کرنا، دن میں سونا، رات کو کافی دیر تک جاگنا، سوتے وقت زیادہ پانی پینا، سوتے وقت گرم گرم دودھ پینا اور پیتے ہی سوجانا. اگر مہینے میں ایک دو بار اح**ام ہوجائے تو کوئی مرض نہیں ہے۔
●☆- علاج ۔۔۔۔۔۔
پھلی ببول 10 گرام، چھال ببول 10 گرام، موصلی سفید 10 گرام، موصلی سیاہ 10 گرام، بیخ سنبل 10 گرام اندر جوشیریں 10 گرام، بہمن سرخ 10 گرام، گوند کیکر 10 گرام، گوند ڈھاک 10 گرام
بہمن سفید 10 گرام،ورق سونا 3 گرام .عنبر 3 گرام ، چینی 100 گرام، بطریق سفوف بناکر محفوظ رکھیں ۔
مقدار خوراک، 3 گرام صبح و شام نہار منہ نیم گرم دودھ کیساتھ صرف پندرہ یوم استعمال کریں۔
●☆- ہدایات و تدابیر ۔۔۔۔
(١)سوتے وقت مریض زیادہ پانی نہ پیئے۔
(٢)زیادہ گوشت، مرچ ، مسالہ، چای کافی اور منشیات سے پرہیز کرے۔
• پیشاب کر کے سویا کرے۔
• برے خیالات و افکار سے پرہیز کرے۔
• جریانSpermatorrhoea
• تشخیص: جوانوں میں یہ مرض آج کل بہت زیادہ ہے. مشت زنی اس کا اہم سبب ہے. پاخانہ کرتے وقت زور لگانا، قبض سے پاخانہ آنے کی وجہ سے پیشاب کے ساتھ پہلے یا بعد میں منی خارج ہوجاتا ہے، مرض بڑھ جانے پر معمولی رگڑ، سائیکل اور گھوڑے کی سواری اور عورت کا خیال کرتے ہی انزال ہوجاتا ہے، کمر درد، سستی، جسمانی کمزوری، کام کرنے کو دل نہ چاہنا وغیرہ اس مرض کی اہم علامات ہیں۔
• علاج: (١) اس مرض میں کثرت اح**ام کی طرح علاج کیا جائے. جب اح**ام اور جریان کی بیماری دور ہوجائے تو منی کو گاڑھا کرنے والی مقوی ادویہ کا استعمال کرائیں،
• سوکھے آؤنلوں کو ہلکا کوٹ کر رات کو تازہ پانی میں بھگو دیں اور صبح خالی پیٹ چھان کر٣٠ ملی لیٹر ١٥ دن تک پلائیں۔
●- سرعت انزالPremature ej*******on
• تشخیص: یہ بہت ہی مایوس کن مرض ہے. جب مرد اپنی بیوی سے مباشرت کرنا چاہتا ہے تو ج**ع کرنے سے پہلے یا ج**ع کرتے ہی فوراً انزال ہوجاتا ہے، مرض زیادہ بڑھ جانے پر عورت کے پاس جاتے ہی انزال منی ہو کر قضیب ڈھیلا ہوجا تا ہے اور مرد کو عورت کے سامنے شرمندہ ہونا پڑتا ہے، عورت کی خواہش پوری نہیں ہو پاتی ہے اس لئے وہ شوہر سے نفرت کرنے لگتی ہے۔
• اسباب: یہ مرض بچپن کی بری عادتوں کے سبب یا غیر مناسب اور غیر طبعی جنسی افعال کی انجام دہی سے پیدا ہوتا ہے. جریان اور کثرت اح**ام کے اسباب، منی کا پتلا ہوجانا، منی کی زیادتی، زکاوت حس اور سوزاک وغیرہ ہیں۔
• علاج:
●☆- ھوالشافی ۔۔۔۔۔۔
تال مکھانہ10گرام،تخم خشخاش10گرام،تل سفید10گرام،مغز چرونجی10گرام
مغز پستہ10گرام،مغز پنبہ دانہ10گرام،مغز تخم خربوزہ10گرام،مغز تخم کسنبہ10گرام
چھوہارہ 25گرام،تج5گرام،مغزبادام20گرام،بیجبند5گرام، موصلی سیاہ5گرام
موصلی سفید5گرام،جلوتری5گرام، گوند کیکر5گرام،کتیرا5گرام
بہمن سرخ5گرام،بہمن سفید5گرام،دانہ الائچی خورد5گرام
مصطگی3گرام،کباب چینی3گرام،بوپھلی10گرام،سورنجاں3گرام
دارچینی3گرام، زنجبیل3گرام، عاقرقرحا5گرام،تخم کونچ10گرام ٫ کشتہ چاندی 5 گرام ۔
ترکیب تیاری،تمام ادویہ کو اچھی طرح صاف کرکے سفوف بنا لیں
مقدار خوراک، 6 گرام،صبح و شام خالی پیٹ تین پاؤ نیم گرم دودھ کیساتھ 21 یوم تک ۔
●- ناقص جنسی خواہش کی زیادتی
• Excecc and incomplete s*x desir
• علاج: (١)برے خیال،کافی عمر تک کنوارا رہنے، فحش ناول، ناچ ،گانے اور فلموں وغیرہ سے پرہیز کریں۔
●- مشت زنیMasturbation
• غیر طبعی طرائق جیسے ہاتھ سے قضیب کو ہلاکر یا رگڑ کر ج**عی لذت حاصل کرنے کے لئے اخراج منی کی نازیبا عادت سے تو جوان کی صحت تباہ ہوجاتی ہے، اس کا قضیب چھوٹا اور ٹیڑھا ہوجاتا ہے، اس سے وہ جوانی میں ہی شادی کے قابل نہیں رہتے اور کئی امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں. ایسے جوانوں کو اکیلا نہ رہنے دیں اور بری صحبت سے بچائیں۔
●- ہائیڈروسل، خصیوں کی جھلی میں پانی بھر جاناHydrocel
• اسباب: چوٹ لگنے، گھوڑے کی سواری کرنے یا سائیکل چلانے، کثرت ج**ع، فائیلیریا یا مقامی ورم، سارے جسم کی سوجن وغیرہ سے خصیوں کی ٹیونیکا ویجینلس جھلی میں پانی بھر جاتا ہے، خصیوں کی وریدیں سوج جاتی ہیں۔
• علامات:خصیوں کی تھیلی میں پانی محسوس ہوتا ہے، خصیہ دان پھیل کر بڑا ہوجاتا ہے، درد، سوجن، چلنے میں تکلیف، بخار اور التہاب وغیرہ کی علامات پیدا ہوجاتی ہیں.بعض کا تو ٥٠ گرام سے٥ کلو گرام تک کا خصیہ دان ہوجاتا ہے، مریض میں تولید کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے، ٹارچ جلا کر دیکھنے پرخصیہ دان میں پانی کی لہریں صاف صاف محسوس ہوتی ہیں۔
• علاج:
خصیوں کے ورم کو تحلیل کرنے اور ان کے درد کو تسکین دینے کیلئے تمباکوکا سبز پتا نیم گرم کرکے خصیوں پر باندھتے ہیں
●- خصیوں کا نہ اترناUndescended Te**is
• حالت حمل میں جنین کے خصیے٧ ماہ تک ان کے شکم میں رہتے ہیں. ولادت سے ٢ ماہ پہلے خصیے نالی سے آہستہ آہستہ گھسک کر جنین کے پیدا ہوتے ہی کیسۂ خصیہ میں پہنچ جاتے ہیں، لیکن بعض بچوں میں ولادت کے بعد بھی خصیے، خصیہ دان میں نہیں اترتے اور شکم ہی میں پڑے رہتے ہیں۔
(١) جب تک بچے کی عمر ٦سال کی نہ ہوجائے تب تک کسی قسم کا علاج نہ کریں، لیکن اگر کوئی خاص مشکل پیدا ہو رہی ہوتو علاج کسی بھی وقت میں شروع کیا جا سکتا ہے۔
●- ورم خصیہOrchitis
• علامات: کیسۂ خصیہ کے التہاب کے ساتھ شدید درد، سختی ، جلد پر لالی اور چکنا پن دکھائی دیتا ہے. کبھی کبھی تو ناقابل برداشت درد ہوتا ہے۔
●- خصیوں میں دردPain in testicles
●- نامردی، ضعف قوت باہImpotency
• تشخیص: اس مرض میں ج**عی طاقت کم ہوجاتی ہے یا بالکل نہیں رہتی، بچپن کی نازیبا عادتوں، کثرت ج**ع اور مشت زنی وغیرہ سے قضیب کی کمزوری کے ساتھ انسان کا عصبی نظام (C.N.S.) بھی کمزور ہوجاتا ہے۔
• جریان، کثرت اح**ام، مشت زنی، نادرست طریقوں سے انزال منی کرنا اور مختصر عمر میں منی کا خرچ کرنا وغیرہ نامردی کے اہم اسباب ہیں۔
• بعض لوگ جو زیادہ دیر تک ج**ع پر قادر نہیں ہوتے یا جو شکی ہوتے ہیں اپنے آپ کو نامرد سمجھنے لگتے ہیں. مسلسل وہم کرنے سے بھی سالم انسان ج**ع کے لائق نہیں رہ جاتا . لاکھوں میں کچھ لوگ ہی ایسے ہوتے ہیںجن کو در حقیقت نامرد کہا جا سکتا ہے. کمزور جسم والے افراد یا ایسے افراد جن کو مقوی غذا نہیں ملتی، ج**ع کی پوری لذت حاصل نہیں کر سکتے ہیں. اس لئے وہ اپنے آپ کو نامرد سمجھنے لگتے ہیں. جسم کے مختلف حصے جیسے عصبی نظام(C.N.S.)، قلب اور جگر وغیرہ میں جب کوئی مرض ہوجاتا ہے تو انسان میں ج**عی قوت گھٹ جاتی ہے. اس لئے معالج کو مریض کی پوری ہسٹری جان کر اس کا علاج کرنا چاہیے۔ معالج کو مریض کے دل میں یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ ڈال دینی چاہیے کہ تم سالم ہو، مریض نہیں ہو اور جلد ہی صحت مند ہوجاؤ گے، تمھارا یہ مرض تو معمولی پرہیز سے ہی دور ہوجائیگا. دوا کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے. اس طرح مریض کے سارے وہم دور کر کے اس کو مناسب مقدار میں انڈے، گھی، دودھ ، حلوا،بادام، چھوہارے، ملائی، پھل اور مچھلی وغیرہ کھلائیں. ہوا میں رہنے ، ہلکی ورزش، بے فکری کی زندگی اور سیر و تفریح کا مشورہ دیں. ایسا کرنے سے کچھ ہی دنوں میں یہ مرض دور ہوجائے گا. ج**عی قوت کو بڑھانے والی، منی کو بڑھا نے والی اور گاڑھا کرنے والی ادویہ میں سے کسی ایک دوا کا استعمال کرائیں۔
• علاج: (١)باہری ممالک میں بہت سی دوائیاں مختلف ناموں سے تیار ہوتی ہیں. یہ اکثر نر بیل یا بھیڑ کے خصیوں سے تیار کی جاتی ہیں اور کھانے یا انجکشن کی شکل میں دستیاب ھیں ۔
●- ھوالشافی :
مغز جیا پوتا ٥ تولہ
خراطین مصفی! ٥ تولہ
تخم سرس ٥تولہ
مغز پنبہ دانہ ٥تولہ
مغز چرونجی ٥ تولہ
مغز فندق ٥تولہ
ستاور ٣تولہ
شقاقل ٣تولہ
تخم اوٹنگن ٣تولہ
جوھر خصیہ ٣تولہ
کشتہ مرجان ٣تولہ
ثعلب مصری ٧تولہ ثعلب پنجہ ٧تولہ
بیخ بدھارا ٥تولہ
اسگندھ ناگوری ٥تولہ
تودری سفید ٥تولہ
گوند کتیرا ٥تولہ
موصلی سفید٥تولہ
الائچی سفید ٥تولہ
سب اشیاء کھرل کر کے سفوف باریک بنالیں آدھی چمچ چاۓ والی صبح اور شام دودھ کے ساتھ۔۔
●- عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونا اورجنسی جوش و جزبہ کے احساسات فقدان ۔۔۔
عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونا یہ ہے کہ متعلقہ مَرد،جنسی ملاپ کے لئے اپنے عضو تناسل میں مطلوبہ تناؤحاصل نہ کر سکے یا اس تناؤ کوجنسی ملاپ کی تکمیل تک قائم نہ رکھ سکے۔ یہ کیفیت بڑی عمر کے مَردوں میں زیادہ عام ہے،تاہم یہ عام صورت حال کسی بھی عمر میں پیش آسکتی ہے۔ لیکن اگر ایسا بار بار یا مستقل طور پر ہوتا ہے تو اِس کے نتیجے میں ذہنی دباؤاور باہمی تعلقات کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔۔یہ خیال حالیہ برسوں میں تبدیل ہوگیا ہے۔اب یہ بات معلوم ہو گئی ہے کہ عضو تناسل میں تناؤ کا نہ ہونا یا اِسے قائم نہ رکھ پانے کے مسئلے کا تعلق نفسیاتی عوامل کے بجائے جسمانی عوامل سے زیادہ ہوتا ہے اوریہ کہ بہت سے مَردوں میں 80سال کی عمر تک بھی یہ صلاحیت معمول کے مطابق ہوتی ہے۔، اس کے علاج میں ادویات سےآپریشن تک بہت سےعلاج دستیاب ہیں جن کے ذریعے مَردمعمول کی جنسی سرگرمیاں کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔
عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونا :جسمانی اسباب
پرانے معالجین کا خیال تھا کہ عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کی بنیاد نفسیاتی عوامل ہوتے ہیں،لیکن یہ بات دُرست نہیں ۔اگرچہ خیالات اور جذبات عضو تناسل میں تناؤ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں تاہم تناہو پیدا نہ ہونے کا سبب جسمانی بھی ہو سکتا ہے مثلأٔ صحت کا کوئی پُرانامسئلہ یا ادویات کے ذیلی اثرات۔ بہت سے عوامل کا مشترکہ اثر عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کے مسائل پیدا کرتا ہے۔
●- اِس مسئلے کے عام اسباب
دِل کے امراض۔
ذیابیطیس۔مُٹاپا۔غذا کے ہضم ہونے اور اس کی جسم میں ترسیل کے مسائل .ہائی بلڈ پریشر. خون کی نالیوں میں رُکاوٹ ہونا
دِیگر اسباب
الکحل اور دِیگر منشّیا ت کا زیادہ استعمال .زیادہ تمباکو نوشی بعض تجویز کردہ ادویات۔
●- پراسٹیٹ کے سرطان کا علاج۔
ہارمونز کی بے قاعدگیاں مثلأٔ ٹیسٹوس ٹیرون کی مقدار میں کمی. .عضو تناسل کی ساخت کے اندر خرابی.توازن اور حرکت کی خرابی کا . مُدافعتی نظام کا مرکزی اعصابی نظام کو تباہ کرنا۔بعض اوقات عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونا کسی اور مرض کی علامت ثابت ہو سکتا ہے۔. نچلے پیٹ میں کئے جانے والے آپریشن یا زخم جو حرام مغزکو متاثر کرتے ہیں
عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونا:
●- نفسیاتی اسباب
عضو تناسل میں تناؤ کلیےمطلوبہ جسمانی کیفیتوں کے سلسلے کو جاری کرنے میں دِماغ اہم کردار ادا کرتا ہے، مثلأٔ جنسی جوش کےاحساسات کا شروع ہونا۔ جنسی احساسات میں بہت سے عوامل خلل ڈال سکتے ہیں اور تناؤ نہ ہونے کے معاملے کو مزید خرابی سے دو چار کرسکتے ہیں
۔اِن عوامل میں درجِ ذیل اسباب شامل ہیں
تھکن۔ذہنی دباؤ۔ تشویش۔ ڈپریشن۔
اپنے ساتھی سے بہت کم بات کرنا یا اُس سے اختلافات ہونا
عضو تناسل میں تناؤ نہ ہونے کے نفسیاتی و جسمانی عوامل ایک ساتھ مِل کر کام کرتے ہیں۔مثلا ایک معمولی جسمانی مسئلہ ،جنسی ردِّعمل کی رفتار کو سُست بنادیتا ہے اور اِس کے نتیجے میں تناؤ نہ ہونے کا مسئلہ مزید شدّت اختیار کو سکتا ہے۔اصل سبب کو دور کیۓ بغیر شافی اور دیرپا علاج ممکن نہیں ۔ بارھا ایسا ھوا کہ ذہنی دباٶ ڈیپریشن اور نفسیاتی عوامل کا علاج کیا گیا اور جنسی معاملات قوت باہ کی ادویہ استعمال کیۓ بغیر ھی ٹھیک ھوگۓ اسی طرح بہت دفع معدہ اور نظام انہظام کا علاج کرکے اح**ام اور جریان کو شفا ملی ۔۔اور یہ بات بھی مشاھدہ میں آئی کہ الکوحل اور تمباکو نوشی چھوڑنے والوں کا انتشار اور امساک بے پناه بڑھ گیا ۔۔ اور یہ تو مسلمہ حقیقت ھے کہ ذیابیطیس کو قدرتی ادویات سے جب کنٹرول کر لیا گیا تو ان کی جنسی کمزوری بھی دور ھوئی ۔۔ موٹاپا کے شکار لوگوں کی مردانہ کمزوری وزن کم کرلینے سے دور ھوئی
●- ھوالشافی
زعفران چار گرام ،جاوتری 4 گرام ،جائفل4 گرام ،مرچ سیاہ 4 گرام ، بہمن سرخ چار گرام بہمن سفید 4 گرام ، عاقرقرحا 4گرام، جند بیدستر 6 رتی ،قرنفل 4 گرام،تخم حرمل 6 گرام،تخم جوزماثل 4 گرام۔
ترکیب تیاری ۔
تمام ادویہ کو باریک کھرل مثل غبار کر کے شہد کی مدد سے حبِ نخودی بنالیں ۔
ترکیب استعمال ۔
ایک گولی صبح اور ایک شام ھمراہ شیر گاٶ ۔
پرہیز ۔
ترش، تیل والی اشیاءاور ج**ع سے پرہیز کریں ۔
فوائد ۔
انتشار تناٶ کامل ،باہ کو طاقت دیتا ہے مردانہ طاقت بڑھاتا ہے اور امساک کو بہت تیز کرتا ہے مادہ تولید کو گاڑھا کرتا ہے ۔جسمانی واعصابی اور مردانہ کمزوری بوجوہ زیابیطیس اور کثرتِ ج**ع کے لیۓ اکسیر کا درجہ ھے ۔
۔۔۔ اللہ جلّہ شانہ آپ سب کو اور مجھ کو دنیا اور آخرت کی بھلائیاں عطاء فرماۓ ۔۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین
الشفاء ہربل
کرونا وائرس اور عام فلو میں کیا فرق ہے؟
دونوں بیماریوں میں بہت سی علامات مشترک ہیں، تاہم کچھ ایسی علامات ہیں جن سے کرونا وائرس عام فلو سے الگ ہو جاتا ہے۔
کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری (کو وڈ 19) بھی ایک قسم کا فلو ہی ہے، اس لیے اس کی علامات عام فلو سے ملتی جلتی ہیں۔ تاہم کچھ چیزیں مختلف بھی ہیں۔ ہم نیچے دونوں کی ایک جیسی اور مختلف علامات کا جائزہ لیں گے۔
اس فہرست کی تیاری کے لیے ہم نے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، بیماریوں سے بچاؤ کے امریکی ادارے (سی ڈی سی) اور برطانوی ادارۂ صحت (این ایچ ایس) کی فراہم کردہ معلومات سے مدد لی ہے۔
اشتراک
دونوں بیماریاں چھوت چھات کی بیماریاں ہیں اور آسانی سے ایک شخص سے دوسرے کو منتقل ہو سکتی ہیں۔
کھانسی
بخار
بدن میں درد
نزلہ
ناک بند
اختلاف
جو لوگ کو وڈ 19 متاثر ہوتے ہیں، ان میں 80 فیصد سے زیادہ میں اوپر والی معمولی علامات ہی ظاہر ہوتی ہیں، اور وہ بغیر کسی علاج کے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایک قلیل تعداد ایسی ہوتی ہے جن میں مرض بڑھ کر پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب کرونا کی علامات عام فلو سے مختلف ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایسی مختلف علامات مندرجہ ذیل ہیں:
سانس لینے میں دشواری
عام طور پر کو وڈ 19 میں مبتلا ہونے کے پانچ سے دس دن کے اندر مریض کو سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پھیپھڑوں کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔
چھاتی میں درد یا دباؤ کی کیفیت
اس علامت کا تعلق بھی پھیپھڑوں کے متاثر ہونے سے ہے۔
چہرہ یا ہونٹ نیلے پڑ جانا
ایک بار پھر اس علامت کا مطلب یہ ہے کہ مریض کے پھیپھڑے اس حد تک متاثر ہو رہے ہیں کہ مریض کو کافی مقدار میں آکسیجن نہیں مل رہی۔
عام فلو سردیاں ختم ہونے کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ کم ہوتا جاتا ہے، اور آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ کب اس کا زور ٹوٹنا شروع ہو جائے گا۔ کو وڈ 19 کے ساتھ ایسا نہیں، یہ چونکہ نیا وائرس ہے، اس لیے اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس پر گرمیوں کا اثر کس حد تک ہو گا۔
عام فلو بچوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے اور زیادہ تر بچے ہی اسے بڑوں میں پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے مقابلے پر ابتدائی ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ کو وڈ 19 20 سال سے کم عمر افراد پر زیادہ اثرانداز نہیں ہوتا۔
فلو اور کو وڈ 19 کی علامات کی شدت کی شرح میں بھی فرق ہے۔
کو وڈ 19 کے 80 فیصد مریضوں میں یا تو سرے سے کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں، یا اگر ہوں بھی تو معمولی ہوتی ہیں۔
15 فیصد مریضوں میں شدید علامات ہوتی ہیں، جنہیں آکسیجن کی ضرورت ھے، جب کہ پانچ فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جنہیں وینٹی لینٹر پر ڈالنا ضروری ہوتا ہے۔
فلو میں شدید متاثرین کی تعداد کہیں کم ہوتی ہے۔
فلو بچوں، حاملہ عورتوں، معمر اور پہلے سے بیمار افراد کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ اس کے مقابلے پر کو وڈ 19 معمر افراد پر زیادہ شدت سے حملہ آور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ پہلے سے بیمار لوگوں کو بھی خاص طور پر نشانہ بناتا ہے۔
دونوں بیماریوں کی شرحِ اموات میں بھی فرق ہے۔ فلو سے ہزار میں سے مریض ہلاک ہوتا ہے، جب کہ کرونا کی شرحِ اموات ایک فیصد سے لے کر تین فیصد تک ہے۔
ایک اور فرق یہ ہے کہ فلو کا ایک مریض اوسطاً 1.3 دوسرے لوگوں کو متاثر کرتا ہے، جب کہ کرونا وائرس تین لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلو کی نسبت کرونا وائرس تقریباً ڈھائی گنا زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے
Corona virus (part 4)
تشویش ناک بیماری
ایک اندازے کے مطابق اس بیماری میں مبتلا افراد میں سے صرف چھ فیصد کی حالت تشویش ناک حد تک پہنچی۔
اس وقت جسم نے کام کرنا چھوڑ دیا اور موت کے امکانات پیدا ہو گئے۔
مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت مدافعتی نظام بے قابو ہو کر گھومنے لگتا ہے اور پورے جسم کو نقصان پہنچاتا چلا جاتا ہے۔
اس کی وجہ سے جسم سیپٹیک شاک میں چلا جاتا ہے اور فشار خون خطرناک حد تک کم ہو جاتا ہے اور اعضا کام کرنا بند کر دیتے ہیں یا مکمل طور پر ناکارہ ہو جاتے ہیں۔
پھیپھڑوں میں انفلیمیشن کے سبب سانس کی شدید تکلیف پیدا ہوتی ہے اور جسم میں ضرورت کے مطابق آکسیجن نہیں پہنچ پاتی۔ اس کی وجہ سے گردوں کی صفائی کا عمل رک جاتا ہے اور آنتوں کی تہیں خراب ہو جاتی ہیں۔
ڈاکٹر بھرت پنکھانیا کا کہنا ہے کہ ’اس وائرس سے اس قدر انفلیمیشن ہوتی ہے کہ لوگ دم توڑ دیتے ہیں اور کئی اعضا کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔‘
اگر مدافعتی نظام اس وائرس پر قابو پانے میں ناکام ہوتا ہے تو یہ جسم کے ہر کونے میں چلا جاتا ہے جس سے مزید نقصان ہوتا ہے۔
اس مرحلے تک آتے آتے علاج بہت ہی سخت ہو سکتا ہے جس میں ای سی ایم او یعنی ایکسٹرا کورپوریئل ممبرین آکسیجینیشن شامل ہے۔
یہ ایک مصنوعی پھیپھڑا ہوتا ہے جو موٹی موٹی ٹیوبز کے ذریعے خون جسم سے نکالتا ہے ان میں آکسیجن بھرتا اور واپس جسم میں ڈالتا ہے۔
لیکن آخر کار نقصان ہلاکت تک جا پہنچتا ہے اور اعضا جسم کو زندہ رکھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔
ابتدائی اموات
ڈاکٹرز نے بتایا کہ ان کی بہترین کوششوں کے باجود کیسے کچھ مریض ہلاک ہوگئے۔
چین کے شہر ووہان کے ہسپتال میں جو پہلے دو مریض ہلاک ہوئے وہ پہلے صحت مند تھے، اگرچہ وہ طویل عرصے سے تمباکو نوشی کرتے تھے۔ اسی وجہ سے ان کے پھیپھڑے کمزور تھے۔
پہلے 61 سالہ ایک آدمی کو ہسپتال لانے تک شدید نمونیہ ہوگیا۔ انھیں سانس لینے میں شدید تکلیف تھی اور وینٹیلیٹر پر ڈالنے کے باوجود ان کے پھیپھڑے ناکارہ ہو گئے اور دل نے کام کرنا بند کر دیا۔ وہ 11 دن بعد مر گئے۔
دوسرے مریض 69 برس کے تھے انھیں بھی سانس کی تکلیف ہوئی۔ انھیں بھی مشینوں کی مدد سے زندہ رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ ناکافی ثابت ہوا۔ وہ شدید نمونیا اور سیپٹیک شاک کی وجہ سے اس وقت ہلاک ہوگئے جب ان کا بلڈ پریشر گر گیا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Sharqpur
