skyshortss.com

skyshortss.com

Share

Best Emotional Novels
WhatsApp status
Quotations

Photos from skyshortss.com's post 06/02/2023

Shopify
Dropshipping
Course.
Build Your Dropshiping Business
From Pakistan.
Store Scaling
from 0 to 150 Orders Per Day.
Complete Store Automation and Cash
Flow Management.

31/12/2022

Best indian street food

06/10/2022

محبت لا حاصل

اس وقت وہ پنجاب یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں بیٹھی اپنے ساتھ ہونے والے ماضی کے اس حادثے کے بارے میں سوچ رہی تھی

جس نے اسکی اور اسکی بہن کی زندگی بدل کر رکھ دی تھی ۔۔۔

وہ سوچ رہی تھی کہ کب اسکی بہن زندگی کی طرف واپس آئے گی اور کب وہ ماضی کے حادثے کو بھولے گی اور معمول کی طرح اپنے دل میں اللہ سے دعا کرکے اٹھی اور اپنا آنسو جو غلطی سے بھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ نکلے صاف کیا اور کلاس کی طرف چل دی۔۔۔۔۔۔

جونہی وہ کلاس میں انٹر ہوئی ایک لڑکے نے اسے دیکھتے ہی سیٹی بجائی جبکہ باقی کلاس کو تو مانو جیسے سانپ سونگھ گیا ۔۔ چونکہ سر فاروق کے آنے میں ابھی ٹائم تھا اس لئے وہ اس لڑکے کے ل بل ک مقابل کھڑی ہوئی اور اس سے پوچھا۔۔۔۔۔۔

نئے آئے ہو کیا؟؟ ؟؟؟

جواب میں وہ لڑکا اسے غور سے دیکھنے لگا۔ گندمی رنگت۔۔

لمبے بال جن کی پونی ٹیل بنائی ہوئی تھی۔لمبی اور گھنی پلکیں، گلابی ہونٹ، تیکھے نین نقش، پتلی سی ناک، بھوری آنکھیں جن کی چمک میں انسان کھو جائے،، لائٹ پنک کلر کی شرٹ کے نیچے سفید کیپری پہنے اور ڈوپٹے کو مفلر کے انداز میں لپیٹا ہوا ۔۔۔

وہ واقعی خوبصورت لگ رہی تھی۔ ہ فع ی ش نے اس کے آگے چٹکی بجائی اور وہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا۔

اس نے پھر سے اپنا سوال دھرایا ۔۔۔۔۔

نئے آئے ہو کیا؟؟؟؟؟

حارب ۔۔۔۔ حارب نام ہے میرا ۔۔۔ کل ہی یونیورسٹی جوائن کی ہے۔۔۔۔

حارب نے یہ بولتے ہی ہ فع ی ش کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا۔۔ فعہ ی ش نے حیرانگی سے حارب کو دیکھا باقی کلاس کا حال بھی مختلف نہ تھا۔ فعہ ی ش نے کلاس کے ایک لڑکے کو بلایا اور اس سے پوچھا۔۔۔۔

کیوں عمر مجھے یہ ہاتھ تھامنا چاہیے؟ ؟؟

عمر جو ہ فع ی ش سے چار فٹ دور کھڑا تھا نے ایک نظر ہ فع ی ش کو دیکھا اور پھر حارب کو دیکھ کر اپنی گردن منفی میں ہلا دی کیونکہ اسے اچھی طرح یاد تھا جب عمر نے دور سے ہی اسے ہاتھ ہلایا اور آنکھ ماری تھی دو دن ہوسپٹل میں رہ کر آیا تھا۔

حارب نے غصے سے عمر کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے زور سے دھکا دیا اور ہ فع ی ش کی کلائی تھام لی۔

تمام لڑکیوں نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا کیونکہ ان کو پتہ تھا اب کیا ہونے والا ہے۔

ٹھیک اگلے پانچ منٹ بعدحارب کلاس کے سامنے مرغا بنا ہوا تھا۔۔۔۔۔

ہوا یوں کہ جیسے ہی حارب نے ہ فع ی ش کی کلائی پکڑی ہ فع ی ش نے اپنا سراسکی ناک پر مارا حارب نے جلدی سے ہ فع ی ش کی کلائی چھوڑ دی ۔۔

ہ فع ی ش نے پے در پے تین چار نچنچز پ حارب کے پیٹ پر مارے جونہی حارب نے اپنا پیٹ پکڑا ہ فع ی ش نے اسکی شرٹ کو پیچھے سے پکڑا اور زور سے اوپر کو کھینچا ۔۔

جس کے نتیجے میں اس کی شرٹ پھٹ گئی ۔ پھر ہ فع ی ش نے ایک زور دار کک اس کی کمر پر لگائی اور وہ لڑکھڑاتا ہوا ڈائس پر جا گرا۔

اس سے پہلے کہ ہ فع ی ش کو مزید غصہ آتا حارب نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر اس کے سامنے کئے اور بولا۔۔۔۔

ایم سوری سسٹر ۔۔۔

پلیز مجھے معاف کردو ۔

میں آئندہ ایسا کچھ نہیں کروں گا۔۔۔۔

فعہ ی ش نے نخوت سے اسے دیکھا پھر کلاس کی طرف منہ کر کے بولی۔۔۔۔۔

آئی تھینک اسکو مرغا بنا کہ پوری یونیورسٹی کا چکر لگوانا چاہیے کیا خیال ہے؟؟؟

فعہ ی ش نے خود ہی جواب دے کر حارب کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر ڈر اور خوف واضع تھا۔

اور اس سے پہلے اپنی بات پرعمل کرتی ۔

حارب جلدی سے اس کے قدموں میں بیٹھ گیا اور بولا۔۔۔۔

پلیز سسٹر ایسا نہ کرو ۔۔۔

میں پوری یونیورسٹی میں بدنام ہو جاوں گا

میرے ابا نے بڑی محنت کر کے یہاں بھیجا ہے۔۔۔۔

پلیز معاف کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب لڑکیوں کو چھیڑتے ہو تب تم لوگوں کو اپنے ماں باپ یاد کیوں نہیں آتے۔۔

تب اس کی محنت یاد کیوں نہیں آتی ۔۔

گھر میں تمہاری بہن بھی تو ہوگی ۔

اگر اس کے ساتھ کوئی یہ سب کرے تو تمہیں کیش لگے گا؟؟؟

خیر سزا تو میں پھر بھی تمہیں دوں گی ۔

اور جا کر ساری کلاس کے سامنے مرغا بنو ۔۔

فعہ ی ش اپنے غصے کو بمشکل ضبط کرتے ہوئے بولی۔

حارب جلدی سے جا کر مرغا بن گیا۔۔۔

اور پوری کلاس قہقہوں سے گونج اٹھی۔۔

اور ہاں ایک بات اور ہر روز اسی طرح سر فاروق کے آنے سے پہلے تم مرغا بنو گے لیکن شرٹ پہن کر۔۔

اور اگر تم نے اپنی سزا میں ذرا سی بھی کوتاہی کی تو یاد رکھنا ہ فع ی ش اسد جہانگیر تمہیں چھوڑ ے گی نہیں ۔۔۔۔۔

فعہ ی ش اپنی بات مکمل کر کے مڑنے ہی لگی تھی جب کچھ یاد آنے پر پھر پلٹی۔۔۔۔

جاو کسی سے شرٹ لے کر پہنو۔۔

کیونکہ آج کے لئے کافی سبق سیکھ لیا ہے۔۔۔۔

یہ کہہ کر وہ اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔

حارب جلدی سے اٹھا اور کلاس کے ایک لڑکے سے جیکٹ لے کر پہنی اور اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد حارب نے اپنے ساتھ بیٹھے لڑکے سے پوچھا۔۔۔۔

یہ ہ فع ی ش اسد ہے کوی؟؟؟

بلیک بیلٹ ہے اور نہلے پہ دہلہ پانچ ماہ کی آرمی ،، میجر ریٹائرڈ اسد جہانگیر کی بڑی بیٹی ٹریننگ بھی لی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور پوچھتا سر فاروق کلاس میں انٹر ہوئے اور سب اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی وہ اپنے آفس میں داخل ہوا سامنے کرسی پر

علی کو سوتے دیکھ کر مسکرایا اور خود سے بڑبڑایا ۔۔

تو کبھی نہیں سدھر سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔

سدھر سکتا ہوں بشرطیکہ کوئی سدھارنے والی آجائے۔۔۔۔۔

علی نے اس کی بڑبڑاہٹ سنی اور جلدی سی آنکھیں کھول کر بولا۔ وھاج کو پتہ تھا کہ وہ سویا نہیں ہے بس سونے کی ایکٹنگ کر رہا ہے تا کہ وہ اس کو مسکراتا ہوا دیکھ سکے۔۔۔

علی نے اسکی مسکراہٹ کو دیکھا اور دل ہی دل میں اللہ سے دعا کی کہ یہ مسکراہٹ ہمیشہ قائم رہے۔۔۔

پھر تیرے سدھرنے کے کوئی چانسز نہیں کیونکہ تجھ جیسے گدھے کو کوی اپنی لڑکی دے گا؟؟؟؟؟۔

وھاج ٹیبل سے ایک فائل اٹھا کر علی کے سامنے چیئر پر بیٹھتے ہوئے بولا۔

علی نے وھاج کو مصنوعی گھوری سے نوازہ اور دانت پیستے ہوئے بولا ۔۔

آپکی اطلاع کے لئے بتا دوں میجر صاحب کہ کل میری منگنی ہے اور وہ بھی اس شہر کے مشہور انڈسٹریل شاذر شاہ کی چھوٹی اور لاڈلی بیٹی مومنہ شاہ سے۔۔۔۔۔۔

یہ کب ہوا؟؟؟

وھاج شاک کی کیفیت میں بولا۔

علی نے اس کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھے اور بڑے مزے سے بولا۔

دو دن پہلے میں نے مومنہ کو پرپوز کیا۔

اس نے اپنے پیرنٹس سے بات کی میں نے اپنے بابا سے بات کی اور بابا کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا اس لئے انہوں نے مومنہ کے پیرنٹس سے مل کر کل کی ڈیٹ فائنل کر لی۔۔۔

جونہی علی نے اپنی بات مکمل کر وھاج کی طرف دیکھا تو ڈرتے ہوئے ایک نظر بند دروازے کو بھی دیکھا۔ کیونکہ وھاج نے

اپنے ہاتھ میں جوتا پکڑا ہوا تھا جو علی کو اس وقت کسی بندوق کی گولی سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ اور اوپر سے وہ علی کو ایسے گھور رہا تھا

جیسے کوئی پولیس والا قتل کے ملزم کو گھورتا ہے۔۔



چل علی کلمہ پزھ لے آج تجھے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔۔۔۔۔۔

علی خود سے بڑبڑایا ۔

جونہی وھاج علی کی طرف بڑھا علی اپنی جگ سے اٹھا اور بولا۔۔۔۔

دیکھ وجی (وھاج )بیٹھ کر بات کرتے ہیں اس طرح جوتے کی زبان میں کوی بات کرتا ہے اور ویسے بھی کل میری منگنی ہے تو کیوں تم نے اپنی ہونے والی بھابھی سے بدعائیں لینی ہیں ؟؟

وھاج نے علی کی ایک نہ سنی اور اسکی پٹائی شروع کر دی۔۔۔

جب وھاج تھک گیا تو پانی پینے کے لئے پیچھے ہٹا ۔

اور علی نے موقعہ غنیمت دیکھتے ہوئے چہرے پر بیچارگی سجائی اور دونوں ہاتھ وھاج کے سامنے جوڑتے ہوئے بولا۔

دیکھ بھائی تو جیتا میں ہارا ۔۔اب معاف کر دے ۔۔

اور آئندہ سے میرے باپ کی توبہ جو میں تجھ سے کچھ چھپاوں۔۔

پلیز میرے یار رحم کر اپنے اکلوتے دوست پر کیوں میرے آنے والے چنا منا کی بدعائیں بھی لینا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔



وھاج نے جوتا نیچے رکھا اور علی کی طرف دیکھا جو چہرے پر دنیا بھر کی مسکینی سجائے کھڑا تھا۔

وھاج علی کے کان کے پاس جاکر سرگوشی والے انداز میں بولا ۔ مجھے نعمان سر (علی کے والد )نے سب کچھ بتا دیا تھا تیرے پرپوزل سے لے کر تیری منگنی تک

ای یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ سب کچھ میری مرضی سے طے ہوا ہے۔۔۔۔۔

وھاج بولکر پیچھے ہٹا تو علی کی طرف دیکھا جو خونخوار نظروں سے وھاج کو گھور رہا تھا ۔۔

بے غیرت انسان پھر اس چھترول کا مطلب؟؟؟؟

مطلب صاف ہے کہ تو آئندہ مجھ سے کچھ نہیں چھپائے گا۔۔۔۔۔۔

وھاج نے اطمینان سے جواب دیا۔اور دوبارہ سے چیئر پر بیٹھ گیا۔ تم اور تمہارے نعمان سر جینے نہیں دو گے مجھے۔۔۔

علی دانت پیستے ہوئے بولا ۔ ہاں بل کل ایسا ہی ہے۔۔۔۔۔۔

وھاج نے اسے مزید چڑایا۔ اللہ کرے تیری بیوی ایسی ہو جو تجھے تیری نانی یاد کروا دے۔ اللہ کرے وہ تیری اتنی چھترول کرے اتنی کرے کہ تو کانوں کو ہاتھ لگائے ۔۔۔۔۔

علی چڑتے ہوئے بولا۔ آمین۔۔۔۔۔

وھاج نے اس مزید زچ کیا۔ علی کو غصہ آرہا تھا اس کے ڈھیٹ پن پر اس لئے اس نے نہ

تاہ اور پانی سے بھرا جگ وھاج پر الٹ دیا۔ وھاج نے ایک نظر اپنے کپڑوں کو دیکھا اور پھر علی کی طرف غصے سے دیکھا

مطلب صاف تھا بیٹا اب بچ کہ دیکھا۔۔۔

علی نے جونہی وھاج کے تیور دیکھے جلدی سے پانی سے بھرا گلاس اپنے اوپر الٹ لیا۔۔ پھر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ایک ساتھ قہقہہ لگایا

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Sheikhupura?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


Farooqabad
Sheikhupura
39500