Abe hayat

Abe hayat

Share

healthy mind and keep healthy lifestyle

06/06/2026

12/05/2026

Es Bhai ki awaz Alla hukam tak pohnchni chahye AP b ye video please share Karen. JazakAllah

07/03/2026

Ameen

26/01/2026

آرام: ایک میٹھا زہر
آرام (Comfort) آپ کا دوست نہیں، آپ کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یہ وہ دھوکہ ہے جو آپ کو آہستہ آہستہ ذہنی طور پر مفلوج کر دیتا ہے۔ یاد رکھیں، ایک بہترین زندگی کبھی بھی نرم بستر پر نہیں ملتی، بلکہ وہ اس تکلیف اور تھکن کے پیچھے چھپی ہوتی ہے جس سے آپ جی چراتے ہیں۔
کمزوری کی آواز پہچانیں
وہ لمحہ جب آپ کہتے ہیں "آج موڈ نہیں ہے" یا "کل سے پکا شروع کروں گا"—یاد رکھیں، یہ آپ کا شعور نہیں، بلکہ آپ کے اندر کا وہ بزدل انسان بول رہا ہے جو آپ کو عام (Ordinary) رکھنا چاہتا ہے۔
تبدیلی کا راستہ: نظم و ضبط (Discipline)
خود پر ترس کھانا چھوڑ دیں: دنیا کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کتنے تھکے ہوئے ہیں۔
مشکل راستہ چنیں: جب آپ جان بوجھ کر وہ کام کرتے ہیں جس سے آپ ڈرتے ہیں، تو آپ کی ذہنی حدیں (Mental Limits) ٹوٹنا شروع ہو جاتی ہیں۔
پہچان بدلیں: جس دن آپ نے اپنے آرام پر "ڈسپلن" کو فوقیت دے دی، اسی دن آپ کی غلامی کی زنجیریں کٹ جائیں گی۔
حدیں صرف ایک وہم ہیں جو آپ نے خود اپنے گرد پال رکھا ہے۔ اٹھیں، تکلیف کو گلے لگائیں اور خود کو ایک نئی پہچان دیں۔

03/09/2025

سائنسی دنیا میں مسلمان سائنسدانوں کے کارنامے اور ان کے نام ، اے آئی سے بنی وڈیو

19/07/2025

کیا آپ نے شداد کی جنت کے متعلق کبھی پڑھا ہے نہیں تو
آئیے آپ کو آج شداد کی جنت کے متعلق کچھ دلچسپ و عجیب بتاتے ہیں۔

قومِ ارم:۔
ان لوگوں کا تعلق قومِ عاد سے تھا اور وہ اِرم نام کی بستی کے رہنے والے تھے۔ وہ بستی بڑے بڑے ستونوں والی تھی۔ عماد جمع ہے عمد کی اور عمد کے معنی ستون کے ہیں۔ عاد کے نام سے دو قومیں گزری ہیں۔ ایک کو عادِ قدیمہ یا عادِ اِرم کہتے ہیں۔ یہ عاد بن عوض بن اِرم بن سام بن نوحؑ کی اولاد میں سے تھے۔ ان کے دادا کی طرف منسوب کرکے ان کو عادِ اِرم بھی کہا جاتاہے۔ اپنے شہر کا نام بھی انھوں نے اپنے دادا کے نام پر رکھا تھا۔ ان کا وطن عدن سے متصل تھا۔
ان کی طرف حضرت ہُودؑ علیہ السلام مبعوث کیے گئے تھے لیکن قومِ عاد کی بداعمالیوں کے سبب جب انھیں تباہ کردیا گیا تو حضرت ہُودؑ علیہ السلام حضر موت کی طرف مراجعت کر گئے۔ ان کی رہائش احقاف کے علاقے میں تھے۔ حضرت ہوُدؑ کی وفات یہیں پر ہوئی۔ احقاف میں بسنے والی اس قوم نے بہت ترقی کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو غیرمعمولی قدوقامت اور قوت عطا فرمائی تھی۔ ان میں ہر شخص کا قد کم از کم بارہ گز کا ہوتا تھا۔ طاقت کا یہ حال تھا کہ بڑے سے بڑا پتھر جس کو کئی آدمی مِل کر بھی نہ اٹھا سکیں، ان کا ایک آدمی
ایک ہاتھ سے اٹھا کر پھینک دیتا تھا۔ یہ لوگ طاقت و قوت کے بل بوتے پر پورے یمن پر قابض ہوگئے۔ دو بادشاہ خاص طور پر ان میں بہت جاہ جلال والے ہوئے۔ وہ دونوں بھائی تھے۔ ایک کا نام شدید تھاجو بڑا تھا۔ دوسرے کا نام شدّاد تھا جو اس کے بعد تخت نشین ہوا۔ یہ دونوں وسیع علاقے پر قابض ہوگئے اور بے شمار لشکر و خزانے اُنھوں نے جمع کر لیے تھے۔
عادِاِرم کا قصہ
شدّاد نے اپنے بھائی شدید کے بعد سلطنت کی رونق و کمال کو عروج تک پہنچایا۔ دنیا کے کئی بادشاہ اسکے باج گزار تھے۔ اُس دور میں کسی بادشاہ میں اتنی جرأت و طاقت نہیں تھی کہ اس کا مقابلہ کرسکے۔ اس تسلط اور غلبہ نے اس کو اتنا مغرور و متکبر کردیا کہ اس نے خدائی کا دعویٰ کردیا۔ اُس وقت کے علما و مصلحین نے جو سابقہ انبیا کے علوم کے وارث تھے، اسے سمجھایا اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو وہ کہنے لگا، جو حکومت و دولت اور عزت اس کو اب حاصل ہے، اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے کیا حاصل ہوگا؟ جو کوئی کسی کی خدمت و اطاعت کرتا ہے، یا تو عزت و منصب کی ترقی کے لیے کرتا ہے یا دولت کے لیے کرتا ہے، مجھے تو یہ سب کچھ حاصل ہے، مجھے کیا ضرورت کہ میں کسی کی عبادت کروں؟ حضرت ہُودؑ نے بھی اُسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن بے سُود۔
سمجھانے والوں نے یہ بھی کہا کہ یہ حکومت و دولت ایک فانی چیز ہے جبکہ اللہ کی اطاعت میں اُخروی نجات اور جنت کا حصول ہے جو دنیا کی ہر دولت سے بہتر اور زیادہ قیمتی ہے۔ اس نے پوچھا، یہ جنت کیسی ہوتی ہے؟ اس کی تعریف اور خوبی بتاؤ۔ نصیحت کرنے والوں نے جنت کی وہ صفات جو انبیائے کرام کی تعلیمات کے ذریعے ان کو معلوم ہوئی تھیں، اس کے سامنے بیان کیں تو اس نے کہا ”مجھے اس جنت کی ضرورت نہیں ایسی جنت تو میں خود دنیا ہی میں بنا سکتا ہوں۔“
شدّاد کی جنت
چناچہ اس نے اپنے افسروں میں سے ایک سو معتبر افراد کو بلایا۔ ہر ایک کو ایک ہزار آدمیوں پر مقرر کیا اور تعمیر کے سلسلے میں ان سب کو اپنا نکتہ نظر اور پسند سمجھا دی۔ اس کے بعد پوری دنیا میں اس کام کے ماہرین کو عدن بھجوانے کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں اپنی قلمرو میں سب حکمرانوں کو یہ حکم دیا کہ سونے چاندی کی کانوں سے اینٹیں بنوا کر بھیجیں۔ اور کوہِ عدن کے متصل ایک مربع شہر (جنت) جو دس کوس چوڑا اور دس کوس لمبا ہو، بنانے کاحکم دیا۔ اس کی بنیادیں اتنی گہری کھدوائیں کہ پانی کے قریب پہنچا دیں۔ پھر ان بنیادوں کو سنگِ سلیمانی سے بھروادیا۔ جب بنیادیں بھر کر زمین کے برابر ہوگئیں تو ان پر سونے چاندی کی اینٹوں کی دیواریں چنی گئیں۔ ان دیواروں کی بلندی اس زمانے کے گز کے حساب سے سو گز مقرر کی گئی۔ جب سورج نکلتا تو اس کی چمک سے دیواروں پر نگاہ نہیں ٹھہرتی تھی۔ یوں شہر کی چاردیواری بنائی گئی۔ اس کے بعد چار دیواری کے اندر ایک ہزار محل تعمیر کیے گئے، ہر محل ایک ہزار ستونوں والا تھا اور ہر ستون جواہرات سے جڑاؤ کیا ہوا تھا۔
پھر شہر کے درمیان میں ایک نہر بنائی گئی اور ہر محل میں اس نہر سے چھوٹی چھوٹی نہریں لے جائی گئیں۔ ہر محل میں حوض اور فوارے بنائے گئے۔ ان نہروں کی دیواریں اور فرش یاقوت، زمرد، مرجان اور نیلم سےسجادی گئیں۔ نہروں کے کناروں پر ایسے مصنوعی درخت بنائے گئے جن کی جڑیں سونے کی، شاخیں اور پتے زمرد کے تھے۔ ان کے پھل موتی ویاقوت اور دوسرے جواہرات کے بنواکر ان پر ٹانک دیے گئے۔
شہر کی دکانوں اور دیواروں کو مشک و زعفران اور عنبر و گلاب سے صیقل کیا گیا۔ یاقوت و جواہرات کے خوب صورت پرندے چاندی کی اینٹوں پر بنوائے گئے جن پر پہرے دار اپنی اپنی باری پر آ کر پہرے کے لیے بیٹھتے تھے۔ جب تعمیر مکمل ہوگئی تو حکم دیا کہ سارے شہر میں ریشم و زردوزی کے قالین بچھا دیے جائیں۔ پھر نہروں میں سے کسی کے اندر میٹھا پانی، کسی میں شراب، کسی میں دودھ اور کسی میں شہد و شربت جاری کردیا گیا۔
بازاروں اور دکانوں کو کمخواب و زربفت کے پردوں سے آراستہ کردیا گیا اور ہر پیشہ و ہنر والے کو حکم ہوا کہ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوجائیں اور یہ کہ اس شہر کے تمام باسیوں کے لیے ہر وقت ہر نوع و قسم کے پھل میوے پہنچا کریں۔
بارہ سال کی مدت میں یہ شہر جب اس سجاوٹ کے ساتھ تیار ہوگیا تو تمام امرا و ارکان ِ دولت کو حکم دیا کہ سب اسی میں آباد ہوجائیں۔ پھر شدّاد خود، اپنے لاؤ لشکر کے ہمراہ انتہائی تکبر اور غرور کے ساتھ اس شہر کی طرف روانہ ہوا۔ بعض علما و مصلحین کو بھی ساتھ لیا اور راستے بھر اُن سے ٹھٹھّا و تمسخر کرتے ہوئے ان سے کہتارہا ”ایسی جنت کے لیے تم مجھے کسی اور کے آگے جھکنے اور ذلیل ہونے کا کہہ رہے تھے! میری قدرت و دولت تم نے دیکھ لی؟“
جب قریب پہنچا تو تمام شہر والے اس کے استقبال کے لیے شہر کے دروازے کے باہر آگئے اور اس پر زروجواہر نچھاور کرنے لگے۔ اسی نازو ادا سے چلتے ہوئے جب شہر کے دروازے پر پہنچا تو روایت ہے کہ ابھی اس نے گھوڑے کی رکاب سے ایک پاؤں نکال کر دروازے کی چوکھٹ پر رکھا ہی تھاکہ اس نے وہاں پہلے سے ایک اجنبی شخص کو کھڑے ہوئے دیکھا۔ اس نے پوچھا ”تُو کون ہے؟“
اس نے کہا ”میں ملک الموت ہوں۔“
پوچھا ”کیوں آئے ہو؟“
اس نے کہا”تیری جان لینے۔“ شداد نے کہا مجھ کو اتنی مہلت دے کہ میں اپنی بنائی ہوئی جنت کو دیکھ لوں۔ جواب ملا ”مجھ کو حکم نہیں۔“ کہا، چلو اس قدر ہی فرصت دے دو کہ گھوڑے پر سے اتر آؤں۔ جواب ملا ”اس کی بھی اجازت نہیں۔“ چناں چہ ابھی شداد کا
ایک پاؤں رکاب میں اور دوسرا چوکھٹ پر ہی تھا کہ ملک الموت نے اس کی روح قبض کرلی۔
پھر حضرت جبرائیل ؑنے بڑے زور سے ایک ہولناک چیخ ماری کہ اسی وقت تمام شہر مع اپنی عالی شان سجاوٹوں کے ایسا زمین میں سمایا کہ اس کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ قرآن پاک میں اس کا ذکر اس طرح ہوا ہے:
ترجمہ:”وہ جو اِرم تھے بڑے ستونوں والے اور شہروں سے اس کے مانند کوئی شہر شان دار نہ تھا۔“
(پارہ 30۔ سورۃ فجر۔ آیت 7،8)
شداد اور اس کی جنت کا انجام
معتبر تفاسیر میں لکھا ہے کہ بادشاہ اور اس کے لشکر کے ہلاک ہوجانے کے بعد وہ شہر بھی لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل کردیا گیا۔ مگر کبھی کبھی رات کے وقت عدن اور اس کے اِردگرد کے لوگوں کو اس کی کچھ روشنی اور جھلک نظرآجاتی ہے۔یہ روشنی اُس شہر کی دیواروں کی ہوتی تھی ۔ حضرت عبداللہؓ بن قلابہ جو صحابی ہیں، اتفاق سے اُدھر کو چلے گئے۔ اچانک آپ کا ایک اونٹ بھاگ گیا، آپ اس کو تلاش کرتے کرتے ۔اُس شہر کے پاس پہنچ گئے۔ جب اس کے مناروں اور دیواروں پر نظر پڑی تو آپ بے ہوش ہو کر گِر پڑے۔ جب ہوش آیا تو سوچنے لگے کہ اس شہر کی صورتِ حال تو ویسی ہی نظر آتی ہے جیسی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے شداد کی جنت کے بارے میں بیان فرمائی تھی۔ یہ میں خواب دیکھ رہاہوں یا اس کا کسی حقیقت سے بھی کوئی تعلق ہے؟
اسی کیفیت میں اٹھ کر وہ شہر کے اندر گئے۔ اس کے اندر نہریں اور درخت بھی جنت کی طرح کے تھے۔ لیکن وہاں کوئی انسان نہیں تھا۔ آپؓ نے وہاں پڑے ہوئے کچھ جواہرات اٹھائے اور واپس چل دیے۔ وہاں سے وہ سیدھے اُس وقت کے دارالخلافہ دمشق میں پہنچے۔ حضرت امیرمعاویہؓ وہاں موجود تھے۔ وہاں جو کچھ ماجرا ان کے ساتھ پیش آیا تھا، انھوں نے بیان کیا۔ حضرت امیرمعاویہؓ نے ان سے پوچھا، وہ شہر آپ نے حالتِ بیداری میں دیکھا تھا کہ خواب میں؟
حضرت عبداللہؓ نے بتایا کہ بالکل بیداری میں دیکھا تھا۔ پھر اس کی ساری نشانیاں بتائیں کہ وہ عدن کے پہاڑ کی فلاں جانب اتنے فاصلے پر ہے۔ ایک طرف فلاں درخت اور دوسری طرف ایسا کنواں ہے اور یہ جواہرات و یاقوت نشانی کے طور پر میں وہاں سے اٹھا لایا ہوں۔
حضرت امیرمعاویہؓ یہ ماجرا سننے کے بعد نہایت حیران ہوئے۔ پھر اہلِ علم حضرات سے اس بارے میں معلومات حاصل کی گئیں کہ کیا واقعی دنیا میں ایسا شہر بھی کبھی بسایا گیا تھا جس کی اینٹیں سونے چاندی کی ہوں؟ علما نے بتایا کہ ہاں قرآن میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔ اس آیت میں ”اِرم ذات العماد۔“ یہی شہر ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو لوگوں کی نگاہوں سے چھپا دیا ہے۔ علما نے بتایا کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میری امت میں سے ایک آدمی اس میں جائے گا اور وہ چھوٹے قد، سرخ رنگ کا ہوگا، اس کے ابرو اور گردن پر دو تل ہوں گے، وہ اپنے اونٹ کو ڈھونڈتا ہوا اس شہر میں پہنچے گا اور وہاں کے عجائبات دیکھے گا۔ جب حضرت امیرمعاویہؓ نے یہ ساری نشانیاں حضرت عبداللہؓ بن قلابہ میں دیکھیں تو فرمایا، واللہ یہ وہی شخص ہے۔
(بحوالہ:تذکرۃ الانبیا- تحقیق شاہ عبدالعزیز دہلوی

19/07/2025

زیتون کے درختوں کے نیچے پودینہ اگانا دو "فاتح" ایک ساتھ زیتون کے ساتھ پودینہ اگانے کے فائدے
1. پودینہ زیتون کے درختوں کو سورج کی شدت سے قدرتی سایہ فراہم کرتا ہے۔
2. زمین میں غیر ضروری جڑی بوٹیوں کی نشوونما کو روکتا ہے۔
3. مٹی میں نمی برقرار رکھتا ہے اور پانی کے بخارات کے اخراج کو کم کرتا ہے۔
4. تیزی سے بڑھنے والی اضافی فصل کی وجہ سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔
5. پودینے کی خوشبو نہ صرف کیڑوں کو بھگاتی ہے بلکہ مٹی کی زرخیزی بھی بہتر بناتی ہے۔

17/07/2025
17/07/2025

غزل

میری مٹی کو دیمک کھا رہی ہے
یہ کیسی فکر ہے جو دہلا رہی ہے

بہت محتاط روش رکھی تھی میں نے
نہ جانے کس کی نظر بہکا رہی ہے

میں جونہی خود سے باہر نکلتی ہوں
کوئی آفت ہے جو مجھ پہ منڈلا رہی ہے

میں اپنے آپ میں ہی سمٹ رہی ہوں
یہ کیسی گرد چاروں طرف سے چھا رہی ہے

نا جانے کب ختم ہوگی خلش دلِ ناداں کی
میرے اندر ہی کوئی گھٹن پلتی جا رہی ہے

درِ یاد جبیں نے سبھی بند کیے تھے
تو پھر کیوں آج اسی کی یاد بہلا رہی ہے

16/07/2025

میاں نے کمال چالاکی سے کام لیتے ہوئے اپنی غیر نصابی سرگرمیوں کو زیادہ محفوظ بنانے کے لئے
فنگر پرنٹ سنسر والا فون خرید لیا۔ میں مسکرا کر رہ گئی۔
اسی رات میں نے Twin App انسٹال کی اور اپنی دوسری "ایشال علی" والی آئی ڈی سے انھیں انباکس کر دیا۔ جواب نہیں آیا۔
اگلے دن آفس ٹائم میں جواب آیا "وعلیکم السلام"
میں ایک بار پھر مسکرا کر رہ گئی اور میسج کیا "سر میں نے فیشن ڈیزائننگ میں ماسٹرز کیا ہے لیکن جاب نہیں مل رہی"
اپنی سیفٹی کرتے ہوئے پوچھنے لگے "آپ کو میری طرف کس نے گائیڈ کیا؟"
میں ان کے دفتر کے عملے کو جانتی تھی۔ لکھا "آپ کی کمپیوٹر آپریٹر عالیہ حیات کی چھوٹی سسٹر میری دوست ہے۔" میں نے جان بوجھ کر "چھوٹی" لکھا تھا 😏😏😏
کہنے لگے "آپ صبح اپنا سی وی میرے آفس ڈراپ کر دیجئے"
میں نے چال چلی "اچھا کل چھوٹے بھائی کو دے کر بھیج دوں گی"
ایک سیکنڈ میں جواب آیا "نہیں آپ خود آئیں"
میں ایک بار پھر مسکرا کر رہ گئی 😏😏😏
"ابھی فری ہوں میں ویسے" میں نے پتہ پھینکا۔
"میں بھی فری ہوں۔ آ جائیں" بےتابی ظاہر تھی۔
"لیکن مجھے صدر سے آنے میں بہت دیر لگے گی۔ تب تک آفس ٹائم ختم ہو جائے گا" میں نے گھیرا تنگ کیا۔
"اوہ۔ میں تھوڑی دیر میں اسی طرف جا رہا ہوں" ہائے اللہ۔۔۔ کتنے کمینے ہیں۔۔۔
"گلوریا جینز میرے گھر کے بالکل پاس ہے" میں نے سب سے مہنگے کیفے کا نام لیا۔
"ارے میری میٹنگ وہیں پر ہے۔ آپ کتنی دیر میں وہاں پہنچ سکتی ہیں؟" ہائے میں مر جاواں۔
"جی سر میں دس منٹ میں پہنچ سکتی ہوں" میں چوتھی بار مسکرا کر رہ گئی۔
"ٹھیک ہے اپنا سیل نمبر سینڈ کر دیں" میاں جی نے اپنی طرف سے گھیرا تنگ کیا۔
"جی سر" میں نے اپنا "ڈبل نمبر" والا نمبر بھیج دیا۔
پتا نہیں وہ گلریز کالونی سے دس منٹ میں کس جہاز پر سوار ہو کر گلوریا جینز پہنچ گئے۔ کمال ہے۔ ٹھیک دس منٹ بعد ایس ایم ایس الرٹ ملا "کہاں ہیں؟"
میں اس وقت ساتھ کے فلیٹ پر رہنے والی اپنی دوست ماریہ کا برقع اور نقاب پہنے اسی سے لیا ہوا آئی شیڈ لگا کر اسی کی نظر والی عینک پہن رہی تھی۔ ٹشوز لپیٹ کر ناک کی شیپ دے کر نقاب کے نیچے ناک اونچی کرکے لائنر سے آنکھیں لامبی کر چکی تھی۔ گلوریا جینز پہنچتے مزید آدھ گھنٹہ لگ گیا۔ اپنی گاڑی کی بجائے آٹو لیا تھا۔ اس دوران میاں جی سترہ میسج کر چکے تھے۔ اور میں ہر میسج پر مسکرا کر رہ جاتی۔
"کیسی ہیں آپ؟" بیٹھتے ہی پہلا سوال۔ ہائے کیا سٹائل تھا۔ گھر میں تو ایسا سٹائل کبھی بھول کر بھی نہ مارا انھوں نے۔
"جی سر میں ٹھیک" میں جو پیروڈی کی ماہر تھی رانی مکھرجی کی آواز اور انداز میں بولی۔
"کیا لیں گی؟" مجھ سے کبھی نہ پوچھا تھا کمینے۔۔۔ دل ہی دل میں پیچ و تاب کھا رہی تھی میں۔
"کریم برُول" میں نے فرنچ چلر کی فرمائش کی۔
"ٹو کریم برُول لارج" میاں جی نے ویٹر کو آرڈر کیا۔ حد ہے میٹھا کھانے سے مکمل پرہیز کرنے والا انسان اور فل سائز سخت میٹھا ڈیسرٹ 😡😡😡
اندر ہی اندر سانپ لوٹ رہے تھے میرے۔ جب بھی کہا باہر لے چلیں تب بہانہ "اس مہینے بجٹ ٹائٹ" اور آج نوکری دینے گلوریا جینز پہنچے ہوئے اوپر سے کریم برُول۔۔۔ مر جانیا خصماں نوں کھانیا 😡😡😡
میرے صبر کا پیمانہ الٹ کر نیچے جا گرا لیکن سوچا کریم برُول کیوں چھوڑوں۔ جونہی آرڈر سرو ہوا میں نے مسکراتے ہوئے نقاب الٹ دیا۔
میاں جی پر سکتہ سا طاری ہو گیا۔ میں مسکراتی ہوئی اپنا ٹمبلر خالی کرنے میں مصروف رہی۔ وہ چپ سادھے بیٹھے رہے۔
"گاڑی کی چابی دیں" کپ خالی کر کے میں نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔ انھوں نے چپ چاپ چابی نکال کر میز پر رکھ دی۔
"آٹو سے آ جانا" یہ کہہ کر میں چابی اٹھاتی "گلوریا جینز" سے باہر نکل آئی آج دوسرا دن ہے میاں جی آفس میں ہی سو رہے ہیں

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Sialkot?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Sialkot