Dilltangedum Beauty
New things come on the way so visit the page and follow thank you.
کتنے مرد حضرات ہیں جن کو بالغ ہوتے ہی "سورۃ المائدہ" کی تفسیر پڑھائی گئی اور کتنی عورتیں ہیں جن کو بالغ ہوتے ہی "سورۃ النور"کی تفسیر پڑھائی گئی۔
جانتا ہوں ،بہت کم ہیں۔
مگر دوسری طرف دیکھیں..!
کتنے مرد ہیں جنہوں نے والدین سے بالغ ہونے کے بعد سنا کہ تمہاری کوئی ایسی ویسی بات نہ سنوں؟اور کتنی عورتیں ہیں جنہوں نے بالغ ہونے کے بعد والدین سے سنا کہ ہماری عزت کی لاج رکھنا، تمہاری ایسی ویسی کوئی بات نہ سنوں ؟
جانتا ہوں یہ تعداد کافی زیادہ ہے۔
کیونکہ ہمارے یہاں "شریعت" نہیں سکھائی جاتی،
والدین اور خاندان کی "عزت" و "حرمت" بچانے کا درس دیا جاتا ہے۔
یہ تک نہیں سمجھایا جاتا کہ تم قیمتی ہو... اپنی حفاظت کرنا،
مگر بالغ ہوتے ہی کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے،
وہ وقت جب انسان پر جذباتی وابستگی کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے، اس وقت آزاد پنچھی کو رسیوں میں جکڑنے کی کوشش کی جاتی ہے،اور محبت کے متلاشی وہ پنچھی، جن کی رگوں میں جوان خون دوڑ رہا ہوتا ہے وہ زور آزمائی کرتے ہیں،
پھر رسی ٹوٹ جاتی ے،
اور کبھی کبھار گلے کا پھندہ بھی بن جاتی ہے۔
اگر "حبل اللہ" یعنی "اللہ کی رسی" یعنی قرآن کے حصار میں اولاد کو اور خود کو رکھتے تو ایسا ہرگز نہ ہوتا کیونکہ وہ رسی بہت مضبوط ہوتی ہے،جو دلوں کو جوڑتی ہے،رشتوں کو جوڑتی ہے اور صراطِ مستقیم پر چلاتی ہے۔
_____
جوان ہوتی اولاد کو شریعت سکھائیں۔
بیٹے کو سورۃ المائدہ جبکہ بیٹی کو سورۃ النور سکھائیں۔
انہیں بتائیں کہ یہ وقت اگر اللہ پاک کی خاطر گزارا تو مستقبل بہت خوبصورت ہو گا ۔
انہیں بتائیں کہ ان کے پاس بہترین حلال آپشنز موجود ہیں اور انہیں اپنے جذبات حرام تعلقات میں ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔
انہیں بتائیں کہ ہم مل کر تمہارے لیے بہترین فیصلہ کریں گے جو تمہارے لیے اچھا ہو گا اور جس میں تمہاری خوشی ہو گی۔
انہیں بتائیں کہ حرام حلال کی لذت ختم کر دے گا۔
____
حقوق و فرائض محض مرضی مسلط کرنے کے متعلق نہیں ہیں اور نہ ہی تربیت محض دو تین احکام سنا دینے کا کام ہے۔
اس سسٹم کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے
کہ والدین اپنی خواہشیں خود پوری نہیں کرتے
ان کی خواہشیں بچوں سے جڑی ہوتی ہیں،
(اتنے سالوں سے پالا ہے ،کیا مجھ پر اس کا حق نہیں کہ اپنی مرضی کی بہو لاؤں یا مرضی کا داماد چنوں)
اپنی زندگی کا فیصلہ خود نہیں کرتے
(ان کے والدین نے کیا ہوتا ہے)
اس لیے بچوں کی زندگی کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں،
انہیں اپنے سٹینڈرڈ کی بہو چاہیے ہوتی ،یا پسند کا داماد چاہیے ہوتا۔۔بچوں کی پسند سے فرق نہیں پڑتا۔۔
یہ چین یونہی چلتی رہے گی۔۔۔اور کسی کی زندگی کی ڈور اس کے ہاتھ میں نہیں ہو گی۔یہ جعلی رسیاں بنتی رہیں گی،ٹوٹتی رہیں گے۔
مگر ہم "حبل اللہ" کو نہیں تھامیں گے،
کیونکہ اسے تھامنے کے لیے بہت سی چیزیں چھوڑنی ہوں گی۔
جیسا کہ "معاشرہ کی فرسودہ روایات" جو ہماری روحوں کو تباہ کر چکی ہیں۔
منتخب
وتر کسے کہتے ہیں ؟؟
جانتے ہو وتر میں ہم ہر روز اللّٰهِ رب العزت سے ایک وعدہ کرتے ہیں اور وہ وعدہ بھی عبادت کی سب سے آخری ایک رکعت میں ہوتا ہے !!
دعائے قنوت ایک عہد ہے اللّٰهِ رب العزت کے ساتھ ایک معاھدہ ہے ایک وعدہ ہے !!
الّٰلھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ !! اے اللّٰهِ رب العزت ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں !!
وَنَسْتَغْفِرُکَ !! اور تیری مغفرت طلب کرتے ہیں !!
وَنُؤْمِنُ بِکَ !! اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں !!
وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْکَ !! اور تجھ پر ہی توکل کرتے ہیں !!
وَنُثْنِی عَلَیْکَ الْخَیْر !! اور تیری اچھی تعریف کرتے ہیں !!
وَنَشْکُرُکَ !! اور ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں !!
ولا نَکْفُرُکَ !! اور ہم تیرا انکار نہیں کرتے !!
وَنَخْلَعُ !! اور ہم الگ کرتے ہیں !!
وَنَتْرُکَ مَنْ یّفْجُرُکَ !! اور ہم چھوڑ دیتے ہیں اس کو جو تیری نا فرمانی کرے !!
اللھُمَّ ایّاکَ نَعْبُدُ !! اے اللّٰهِ رب العزت ہم خاص تیری ہی عبادت کرتے ہیں !!
وَلَکَ نُصَلّیْ !! اور تیرے لئے نماز پڑھتے ہیں !!
وَنَسْجُدُ !! اور ہم تجھے سجدہ کرتے ہیں !!
وَاِلَیْکَ نَسْعٰی !! اور ہم تیری طرف دوڑ کر آتے ہیں !!
وَنَحْفِدُ !! اور ہم تیری خدمت میں حاضر ہوتے ہیں !!
وَ نَرْجُوا رَحْمَتَکَ !! اور ہم تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں !!
وَنَخْشٰی عَذَابَکَ !! اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں !!
انّ عَذَابَک بِالْکُفّارِ مُلْحِقْ !! بے شک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے !!
کبھی کبھی کچھ باتیں بڑی دیر سے پتہ چلتی ہیں یا شاید پتہ تو ہوتی ہیں لیکن ان کی اصل سے ان کے راز سے واقف ہونے کا بھی کوئی وقت کوئی لمحہ ہوتا ہے سارا علم کتابوں میں تو نہیں ہوتا نا کچھ دلوں پر اترتا ہے !!
29/03/2024
وزیر کی جان پہ بنی ہوئی تھی، فقیر بات ہی نئیں سُن رہا تھا ، اۤخر طویل مِنت سماجت کے بعد فقیر نے سر اٹھایا ،
ہاں بول کیا کہنا ہے ؟
وزیر نے ہاتھ جوڑے اور بتانا شروع کیا
ایک مہینہ پہلے ہمارے بادشاہ سلامت نے اچانک دربار میں ایک سوال اچھالا کہ کامیاب کردار کے لئے تربیت زیادہ کارآمد ہے یا خاندان اور خون ؟ میرے ایک ہم منصب وزیر نے جھٹ کہا کہ عالی جاہ ! تربیت
جبکہ میں نے اُجلت میں کہا جناب ! خاندان اور ماحول ، خون اچھا ہو تو ماحول تربیت پر فوقیت رکھتا ہے
بادشاہ سلامت نے ہماری طرف رعونت سے دیکھا اور فرمایا تم دونوں کو اپنا اپنا جواب عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا جو ثابت نہ کر سکا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا اور اس کے لئے ہمیں ایک ماہ کی مہلت دے دی
ہم دونوں اپنے جواب کی عملی تعبیر تلاشنے میں لگ گئے ، میں سوچ سوچ کے پاگل ہونے کے قریب تھا مگر کچھ سمجھ میں نئیں آرہا تھا ، کہ 24 دن بعد اچانک میرے ہم منصب وزیر نے میری موت کے پروانے پر دستخط کرتے ہوئے دربار میں اپنے جواب کو عملی طور پر ثابت کرنے کی اجازت چاہی ، اجازت ملنے پر اس نے دربار میں کھڑے ہو کر تالی بجائی تالی بجتے ہی ایک ایسا منظر سامنے آیا کہ بادشاہ سمیت تمام اہلِ دربار کی سانسیں سینہ میں اٹک گئیں، دربار کے ایک دروازے سے 100 بِلیاں منہ میں پلیٹیں لئے جن میں جلتی ہوئی موم بتیاں تھیں ایک قطار میں خراماں خراماں چلتی دربار کے دوسرے دروازے سے نکل گئیں، نہ پلیٹیں گریں اور نہ موم بتیاں بچھیں، دربار تعریف و توصیف کے نعروں سے گونج اٹھا ، میرے ہم منصب نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا ، حضور ! یہ سب تربیت ہی ہے کہ جس نے جانور تک کو اس درجہ نظم و ضبط کا عادی بنادیا ، بادشاہ نے میری جانب دیکھا
مجھے اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی میں دربار سے نکل آیا تبھی ایک شخص نے آپ کا نام لیا کہ میرے مسئلے کا حل آپ کے پاس ہی ہوسکتا ہے میں 2 دن کی مسافت کے بعد یہاں پہنچا ہوں، دی گئی مدت میں سے 4 دن باقی ہیں اب میرا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے
فقیر نے سر جھکایا اور آہستہ سے بولا واپس جاؤ اور بادشاہ سے کہو کہ 30 ویں دن تم بھرے دربار میں ماحول کی افادیت ثابت کرو گے
مگر میں تو یہ کبھی نہ کر سکوں گا۔ وزیر نے لا چارگی سے کہا
اۤخری دن مَیں خود دربار میں آئوں گا۔ فقیر نے سر جھکائے ہوئے کہا
وزیر مایوسی اور پریشانی کی حالت میں واپس دربار چلا آیا
مقررہ مدت کا اۤخری دن تھا دربار کھچا کھچ بھرا ہوا تھا وزیر کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا سب کی نظریں باربار دروازے کی طرف اٹھتی تھیں کہ اچانک ایک مفلوک الحال سا شخص اپنا مختصر سامان کا تھیلا اٹھائے دربار میں داخل ہوا ، بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا ، وقت کم ہے میں نے واپس جانا ہے اس وزیر سے کہو تربیت کی افادیت کا ثبوت دوبارہ پیش کرے،تھوڑی دیر بعد ہی دوسرے وزیر نے تالی بجائی اور دوبارہ وہی منظر پلٹا ، دربار کے دروازہ سے 100بلیاں اسی کیفیت میں چلتی ہوئی سامنے والے دروازے کی طرف بڑھنے لگیں، سارا مجمع سانس روکے یہ منظر دیکھ رہا تھا وزیر نے امید بھری نگاہوں سے فقیر کی طرف دیکھا ،جب بلیاں عین دربار کے درمیان پہنچیں تو فقیر آگے بڑھا اور ان کے درمیان جا کے اپنا تھیلا اُلٹ دیا تھیلے میں سے موٹے تازے چوہے نکلے اور دربار میں ادھر اُدھر بھاگنے لگے، بلیوں کی نظر جیسے ہی چوہوں پر پڑی انہوں نے منہ کھول دیئے پلیٹیں اور موم بتیاں دربار میں بکھر گئیں، ہر طرف بھگدڑ مچ گئی بلیاں چوہوں کے پیچھے لوگوں کی جھولیوں میں گھسنے لگیں، لوگ کرسیوں پر اچھلنے لگے دربار کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا،
فقیر نے بادشاہ کی طرف دیکھا بولا آپ کسی جنس کی جیسی بھی اچھی تربیت کر لیں اگر اسکے ساتھ اسے اچھا ماحول فراہم نہیں کریں گے تو تربیت کہیں نہ کہیں اپنا اثر کھو دے گی ۔کامیاب کردار کے لئے تربیت کے ساتھ ساتھ بہتر ماحول بے حد ضروری ہے ،اس سے پہلے کہ بادشاہ اسے روکتا فقیر دربار کے دروازے سے نکل گیا تھا
ہمارے ہاں تربیت کی ساری ذمے داری استاد پر ڈال دی جاتی ہے گھروں کا کیا ماحول ہے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی
منتخب
محسن وہ میری آنکھ سے اوجھل ہوا نہ جب
سورج تھا میرے سر پر مگر رات ہو گئی
❤️
18/03/2024
Who agreed?
تیری شرتوں پر ہی کرنا ہے اگر قبول
یہ سہولت تو مجھے سارا جہاں دیتا ہے
وقت گزر جاتا ہے مگر درد ٹھہر جاتا ہے
dill_tangedumbeauty 🫀
بعض اوقات انسان تھک جاتا ہے وقت سے، حالات سے، آپنے ذہن میں آنے والے سوچوں سے اور شاید خود سے بھی 💔
آپ نے حضرت ابراہیمؑ کے متعلق کبھی ایک بات نوٹ کی؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ان کی personality کے متعلق کافی کچھ بتایا ہےمثلاً دو جگہ تو یہ بتایا ہے کہ وہ ایک بہت ہی نرم دل کے مالک تھے ، ایک بہت پیار کرنے والی شخصیت، ایک رحمدل انسان۔
(التوبہ 09:114 ، ھود 11:75)
لیکن اگر آپ میری طرح قرآن پاک کو سٹڈی کر رہے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ قرآ ن پاک میں ان کی شخصیت کا ایک اور پہلو بھی نظر آتا ہے ۔
ایک متجسس شخصیت ، ایک curious personality ۔
مثلاً کبھی وہ ستاروں کی طرف دیکھ کر سوچتے ہیں کہ شاید یہ میرا رب ہے ، لیکن پھراسے غروب ہوتا دیکھ کر اس سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔
(الانعام 06:76)
پھر کبھی وہ چاند کو چمکتا دیکھ کروہ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شاید یہ میرا رب ہے لیکن وہ بھی غروب ہو جاتا ہے ۔
(الانعام 06:77)
صرف یہاں تک ہی نہیں بلکہ جب وہ سورج کو نکلتا دیکھتے ہیں تو اس کی بارے میں بھی تجسس کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ تو سب سے بڑا ہے ، شاید یہ میرا رب ہے لیکن بالآخر اسے بھی غروب ہوتا دیکھ کر اس سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں ۔ (الانعام 06:78)
آپ کچھ نوٹس کر رہے ہیں ؟ He is pondering, He is curious ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ نبوت کے بعد بھی ان کی curiosity ، ان کا تجسس ختم نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ مجھے مردے زندہ ہوتے دیکھنے ہیں (البقرۃ 02:260) اور اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتے بھی ہیں کہ ابراہیم کیا تمہیں ایمان نہیں ہے ؟ تو وہ آگے سے جواب دیتے ہیں کہ ایمان تو ہے لیکن اے اللہ میرے دل کو سکون آ جائے گا ۔ (البقرۃ 02:260)
اور پھر چار پرندے ذبح کر کہ پہاڑوں پر رکھنے والا واقعہ ہوتا ہے کہ جو زندہ ہو کر ان کے پاس بھاگتے چلے آتے ہیں ۔ (البقرۃ 02:260)
لیکن اپنے اس پیٹرن میں مجھے جو سب سے خوبصورت بات نظر آ رہی ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان کے تجسس کو پورا کیا ۔
ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھا دیں تاکہ اسے پورا یقین آ جائے۔ (الانعام 06:75)
صرف ایک منٹ کے لیے امیجن کریں کہ انہوں نے کیا کیا مخلوقات دیکھ لی ہوں گی ۔
اگر آپ امیجن نہیں کر پا رہے تو میں آپ کو ایک hint دے دیتا ہوں ۔
عبدالرحمٰن بن عائش ایک تابعی تھے ، انہیں یہ بات ایک صحابی نے بتائی کہ ایک مرتبہ ہم صبح کے وقت محمد الرسول اللہؐ کے پاس گئے تو دیکھا کہ آپ کے چہرے پر ایک حیرت انگیز سی خوشی اور چمک نظر آ رہی ہے ۔
جب ہم نے پوچھا تو آپؐ نے ہمیں رات کو دیکھا اپنا ایک خواب سنایا کہ آج رات میں نے اپنے رب کو سب سے بہترین شکل میں دیکھا اور میں نے کہا کہ ...
اے اللہ میں حاضر ہوں ، اے اللہ میں حاضر ہوں ! اور پھر اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان اس طرح رکھا کہ مجھے اپنے سینے میں اس کی ٹھنڈک محسوس ہوئی اور اس وقت آسمانوں اور زمین کی ہر چیز میرے سامنے آ گئی ۔ (مسند أحمد 8979)
اور یہاں تک بتانے کے بعد پھر آپؐ نے الانعام کی وہی آیت تلاوت کی (جو میں نے ابھی آپ کو بتائی) کہ ہم نے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات دکھا دیں تاکہ اسے پورا یقین آ جائے ۔
اور اب آپ امیجن کریں کہ ابراہیمؑ کو کون کونسی مخلوقات دکھا دی گئی ہوں گی ۔
امیجن کریں کہ اس وقت ابراہیمؑ نے کیا کیا کچھ دیکھ لیا ہو گا کہ جس نے انہیں اتنا یقین دلا دیا کہ وہ اپنے بیٹے کو بھی قربان کرنے لگے تھے ۔
لیکن مزے کی بات کہ پیٹرن ، یہاں break نہیں ہوتا ۔
جس رات آپؐ معراج پر گئے تھےتو اس رات کے لیے سورۃ نجم میں بالخصوص ایک آیت آئی ۔ ایک ایسی آیت جو چھٹے اور ساتویں آسمان کے realm کے حوالے سے ہے۔
(سدرۃ المنتہیٰ اور جنت الماویٰ کے قریب) اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے کچھ نشانیاں دیکھ لیں ۔ (النجم 53:18)
ساتویں آسمان کے اوپر وہ جگہ ، جہاں بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں ، آپؐ نے ایک اور شخص کو بھی دیکھا تھا ۔ ایک ایسے نبی ، کہ جو نشانیوں کے بارے میں بہت متجسس ہوا کرتے تھے ۔۔۔ حضرت ابراہیمؑ ۔
لیکن دلچسپ بات تو یہ ہے کہ پیٹرن یہاں بھی break نہیں ہوتا ۔
حضرت ابراہیمؑ کے بیٹھنے کے posture پر غور کریں ، آپؐ نے بتایا کہ وہ بیت المعمور کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر اطمینان سے بیٹھے ہوئے تھے ۔(مشکوٰۃ المصابیح 5863)
جیسے ایک مطمئن شخص ، اپنے تمام تجسس پورے ہونے کے بعد ٹیک لگا کر سکون سے بیٹھا ہو ۔ یاد ہے انہوں نے ہی تو وہ دعا مانگی تھی کہ اے اللہ ، مجھے کوئی بڑی نشانی دکھا دے تاکہ میرے دل کو سکون آ جائے ۔
اور اس وقت بڑی بڑی نشانیوں والی جگہ پر وہ کیسے پرسکون ہو کر ٹیک لگائے بیٹھے ہیں ۔
لیکن میرا پیٹرن یہاں بھی break نہیں ہوتا ۔
اس تھریڈ کا آغاز میں نے ابراہیمؑ کی شخصیت کے ایک خاص پہلو سے کیا تھا جس کی اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ تعریف کی ہے کہ ابراہیمؑ ایک بہت نرم دل انسان تھے ، ایک مخلص دل والے انسان ۔
لہٰذا ساتویں آسمان کے اوپر انہیں ایک ایسا چارج دیا گیا جسے واقعی ایک نرم دل والا انسان ہی کر سکتا ہے ۔
امام بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں معراج کی رات کا واقعہ بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور یہ وہ واقعہ ہے کہ جس کے اندر مجھے اپنا پیٹرن پورا ہوتا ہوا ملا ۔
کہ جب آپؐ نے حضرت ابراہیمؑ کو دیکھا تو اس وقت ان کے پاس بہت سارے چھوٹے چھوٹے بچے بھی کھیل رہے تھے ، یہ ان بچوں کی روحیں تھیں جو بہت چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو جایا کرتے ہیں اور یہ وہ بچے ہیں جن کی روحیں ایک بہت ہی نرم دل نبی کے پاس ساتویں آسمان پر کھیلنے چلی جاتی ہیں ۔
وہ نرم دل نبی جو اپنے تمام تجسس پورے ہونے کے بعد پرسکون ہو کر بیت المعمور کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں ۔
ایک ایسے درخت کے نیچے کہ جس کے پتے چراغوں جیسے ہیں ۔
فرقان قریشی
نصیب کی دعا اہم ہے ۔
اب آکر واقعی لگتا ہے اپنے اچھے نصیب ، عافیت والی زندگی اور اچھے لوگوں کا ساتھ مانگنے کی دعا بہت اہم ہے ۔
میری دعاوں کا دائرہ ہر چھوٹی بڑی چیز کے گرد گھوما کرتا تھا ، ہر چیز مانگنی ہے سوائے اس ایک دعا کے ۔
سوچا کرتی تھی یہ بھی بھلا کوئی مانگنے کی چیز ہے ، ایویں بندہ اچھا تھوڑی نہ لگتا خود ایسی باتیں کہتا ہوا ۔۔۔ والدین ہیں ، ان کی دعائیں ہیں ، ان شااللہ خیر ہوگی ۔
لیکن نہیں نا ۔۔۔ اب سمجھ آرہی ہے زندگی کا اگلا فیز بھی اتنا ہی دعاوں کا متقاضی ہوتا یے جتنا پہلا فیز ، بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ!
اس لیے اپنے لیے خود ہاتھ اٹھا کر دعا مانگا کریں ۔
اپنے زندگی کے ہر موڑ کو ایمان ، عافیت اور سلامتی والا بنانے کے لیے اللہ سے مانگیے ۔
اس سے سودے کیا کریں ، تہجد کی ٹھنڈی اور پاکیزہ راتوں میں ۔۔۔
اسے منایا کریں ، فجر کی پرسکون ساعتوں میں ۔۔۔
اپنی دعاوں کی فہرست میں شامل کرلیں "صرف اپنے لیے خیر مانگنا ، زندگی کے ہر معاملے میں۔"
زندگی میں جتنی اپنی دعائیں اہم ہیں اپنے لیے ، اتنی ہی مخلوق کے دل سے نکلی دعا بھی کم خزانہ نہیں ہے ۔
والدین کی خدمت پر ، استادوں کی تابعداری پر ، گھر والوں خصوصا بھابھیوں کا احساس کرنے پر ۔۔۔
یقین جانیے ان دلوں سے نکلی دعائیں آپ کو کہاں کہاں کس کس چیز سے محفوظ رکھیں گی ، مجھے اور آپ کو اندازہ تک نہیں ہے ۔" 🖤
🥰
ناف اللہ سبحان و تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص تحفہ ھے ۔ 62 سال کی عمر کے ایک بوڑھے آدمی کو لیفٹ آنکھ سے صحیح نظر نہیں آ رہا تھا - خاص طور پر رات کو تو اور نظر خراب ھو جاتی تھی ۔
ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ آپ کی آنکھیں تو ٹھیک ہیں -
بس ایک پرابلم ھے - کہ جن رگوں سے آنکھوں کو خون فراہم ھوتا ھے - وہ سوکھ گئی ہیں ۔
سائنس کے مطابق سب سے پہلے اللہ کی تخلیق انسان میں ناف بنتی ھے - جو پھر ایک کارڈ کے ذریعے ماں سے جڑ جاتی ھے ۔ اور اس ہی خاص تحفے سے جو باظاہر ایک چھوٹی سی چیز ھے - ایک پورا انسان فارم ھو جاتا ھے ۔ سبحان اللہ
#ناف کا سوراخ ایک حیران کن چیز ھے : - ☆
سائنس کے مطابق ایک انسان کے مرنے کے تین گھنٹے بعد تک ناف کا یہ حصہ گرم رہتا ھے - وجہ اس کی یہ بتائی جاتی ھے - کہ یہاں سے بچے کو ماں کے ذریعے خوراک ملتی ھے ۔ بچہ پوری طرح سے 270 دن میں فارم ھو جاتا ھے - یعنی 9 مہینے میں ۔
یہ وجہ ھے - کہ ہماری تمام رگیں اس مقام سے جڑی ھوتی ہیں ۔ اس کی اپنی ایک خود کی زندگی ھوتی ھے ۔
پیچوٹی ناف کے اس سوراخ کے پیچھے موجود ھوتی ھے - جہاں تقریبا 72،000 رگیں موجود ھوتی ہیں ۔ ہمارے جسم وجود رگیں - اگر پھیلائی جائیں تو زمین کے گرد دو بار گھمائی جا سکتی ہیں ۔
#علاج : - ☆
آنکھ اگر سوکھ جائے - صحیح نظر نا آتا ھو -
پتہ صحیح کام نا کر رہا ھو - پاؤں یا ھونٹ پھٹ جاتے ھوں - چہرے کو چمک دار بنانے کے لیے - بال چمکانے کے لیے - گھٹنوں کے درد - سستی - جوڑوں میں درد، سکن کا سوکھ جانا -
#طریقہ علاج : - ☆
آنکھوں کے سوکھ جانا - صحیح نظر نہیں آنا - گلونگ کھال اور بال کے لیے روز رات کو سونے سے پہلے تین قطرے خالص دیسی گھی کے یا ناریل کے تیل کے ناف کے سوراخ میں ٹپکائیں اور تقریبا ڈیرھ انچ سوراخ کے ارد گرد لگائیں ۔
گھٹنوں کی تکلیف دور کرنے کے لیے تین قطرے ارنڈی کے تیل کے تین قطرے سوراخ میں ٹپکائیں اور ارد گرد لگائیں جیسے اوپر بتایا ھے ۔
کپکپی اور سستی دور کرنے کے لیے اور جوڑوں کے درد میں افاقہ کے لیے اور سکن کے سوکھ جانے کو دور کرنے کے لیے سرسوں کے تیل کے تین قطرے اوپر بتائے گئے طریقے کے مطابق استعمال کریں -
#ناف کے سوراخ میں تیل کیوں ڈالا جائے - ☆
ناف کے سوراخ میں اللہ نے یہ خاصیت رکھی ھے -
کہ جو رگیں جسم میں اگر کہیں سوکھ گئی ہیں -
تو ناف کے ذریعے ان تک تیل پہنچایا جا سکتا ھے ۔
جس سے وہ دوبارہ کھل جاتی ہیں -
بچے کے پیٹ میں اگر درد ھو تو ہینگ پانی اور تیل میں مکس کر کے ناف کے ارد گرد لگائیں چند ہی منٹوں میں ان شاءاللہ اللہ کے کرم سے آرام آ جائے گا ۔
#تناو کی کمی کے لئے ناف میں : - ☆
آب پیاز بیس گرام -
روغن ذیتون آدھ پاو -
میں جلا کے لگانے سے یہ مسلہ حل ھو جاتا ھے -
ناف کے اندر اور باہر مالش کرنے سے -
#برائے کان کے لئے : - ☆
کانوں میں سائیں سائیں کی آواز آتی ھو -
تو سرسوں کے تیل پچاس گرام میں تخم ہرمل دو عدد پیس کر ناف میں پندرہ دن لگانے سے سائیں سائیں کی آواز آنا ختم ھو جاتی ھے ۔
#قوت سماعت کے لئے : - ☆
قوت سماعت کی کمی دور کرنے کے لئے -
سرسوں کے پچاس گرام تیل میں دار چینی پیسیں -
بیس گرام جلا کے وہ تیل ناف میں لگانے سے قوت سماعت میں بہتری آتی ھے ۔
#پیٹ کا پھولنا : - ☆
پچاس گرام سرسوں کے تیل میں بیس گرام کلونجی کا تیل ملا کے ہلکا گرم کر کے ٹھنڈا کر کے لگانے سے دو ماہ میں پیٹ کنٹرول ھو جاتا ھے ☆
بڑا قبض کشا نسخہ ھے -
اگر نہانے کے بعد روغن زیتون ناف میں لگا دیں -
اور مزے کی بات یہ کہ الرجی اور زکام نہیں ھوتا -
۔ہم نے چار شادیوں پر زور دیئے رکھا، لیکن یہ کبھی نہ بتایا کہ رسول پاک نے اپنی جوانی کے 25 سال ایک ہی عورت کے ساتھ گزارے اور حضرت سودہ سے دوسری شادی حضرت خدیجہ رض کی وفات کے بعد کی۔
ہم نے یہود نصاری کی دشمنی کا راگ الاپے رکھا، لیکن یہ کبھی نہ بتایا کہ میثاق مدینہ کے وقت یہودیوں کے دس قبائل تھے اور وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتحادی تھے، فرانس نے گستاخی کی تو ہم نے اپنے ہی ملک میں آگ لگا دی، لیکن یہ کبھی نہ بتایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنان اسلام کو معاشی طور پر کمزور کرکے اپنی دھاک بٹھائی تھی۔
مشرکین مکہ تاجر تھے اور تجارت کی غرض سے شام جایا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے شمال کی راستہ پر واقع قبائل سے دوستیاں کیں اور مشرکین مکہ کی تجارت کا راستہ بند کروایا، جب وہ جنوب کے راستہ یمن جانے لگے تو آپ نے وہاں کے باشندوں سے معاہدے کر کے اہل قریش کا راستہ روک دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہی ملک کو آگ نہیں لگائی تھی بلکہ دشمن کو معاشی طور پر کمزور کرکے اس کی کمر توڑ دی، نوبت فاقوں تک پہنچی تو ابو سفیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا کہا کہ ان کے بچے بھوک سے مر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچ سو اشرفیوں کے ساتھ بہترین کھجوریں دیتے ہوئے تجارت کرنے کی اجازت دے دی۔
یعنی اہل قریش دشمن بن کر آئے تو آپ نے ان کی کمر توڑ دی۔ لیکن وہی دشمن بطور انسان رحم کی بھیک مانگنے آئے تو آپ نے ان کی مدد کی۔
مجھ میں اتنی تاب نہ تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور نبی سمجھ سکتا لہذا میں نے آپ کو بطور انسان سمجھنے کی کوشش کی، میں نے جانا:
آپ ایک عظیم مدبر تھے، آپ نے اپنی تدبیر سے صلح حدیبیہ جیسے معاہدے کیے جو بظاہر مسلمانوں کو کمزور کرنے والے تھے، لیکن وہی معاہدے آپ کے لیے فتح مکہ کا باعث بنے۔ آپ نے دشمنوں کی جاسوسی کے لیے حضرت ابو ہریرہ کی ڈیوٹی لگائی تاکہ دشمنان کے ارادے جان سکیں۔
آپ ایک عظیم سفارتکار تھے۔ آپ نے اپنے دشمن کے دوستوں سے دوستیاں کی تاکہ ان کا اثر کم ہوسکے۔ مدینہ کے شمال میں خیبر اور جنوب میں مکہ تھا، اور ان دونوں شہروں کے باشندے مسلم مخالف تھے، آپ نے کمال ذہانت سے صلح حدیبیہ میں اہل مکہ سے وعدہ کیا کہ وہ مسلمانوں کی کسی جنگ میں دشمن کا ساتھ نہ دیں گے، اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ نے خیبر اور اہل مکہ کے مشرکین کو جدا کر کے شکست دی۔
آپ ایک کمال سپہ سالار تھے۔ مدینہ شہر کے تینوں اطراف پہاڑ تھے اور واحد زمینی راستہ پر آپ نے خندق کھدوا کر مدینہ کو آنچ نہ آنے دی۔
آپ نے یہودیوں کے دس قبائل سے معاہدے کیے کہ وہ اپنے مختلف مذہب کے باوجود مسلمانوں کی جنگی مدد کریں گے اور جنگی اخراجات مل کر برداشت کریں گے۔
آپ ایک بہترین منتظم تھے، آپ نے اپنی بہترین نظامت سے ایک اسلامی ریاست کو بام عروج پر پہنچایا، آپ نے پولیس اور انصاف کا نظام متعارف کروایا۔ اور مجرم کو گردن سے پکڑنے کی ذمہ داری حضرت علی کے سپرد کی، آپ نے مختلف ریاستوں کے گورنر نامزد کیے اور ان سے خط و کتابت سے امور مملکت جانتے رہے۔
آپ ایک بہترین معلم تھے، آپ نے کچھ نہ ہونے کے باوجود صفہ کا قیام عمل میں لایا اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کا نظام واضع کیا۔ میں کیا، دنیا کا کوئی فلسفی، کوئی دانشور یا کوئی محقق دنیا کی عظیم ترین شخصیات کو جاننے کی کوشش کرتا ہے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے افضل پاتا ہے۔
لیکن ہم نے اپنے نبی کے مقام و مرتبہ کے ساتھ ناانصافی کی، ہم ساری زندگی چاند کو توڑنے اور واقعہ معراج جیسے معجزات بیان کرتے رہے، لیکن بطور بشر آپ کے کمالات کو کبھی بیان کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ بالکل ایسے جیسے امام حسین کے واقعہ کربلا کے علاوہ کسی کو امام کی ذات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، لیکن میں نے کوشش کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے مہینہ میں لوگوں کو بتاؤں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطور نبی معجزات سے نہیں بلکہ بطور بشر تن تہنا، ایک ایسی ریاست کا قیام عمل میں لائے جسے دیکھ کر قیصر و کسری اور فارس کے محلات بھی انگشت بدنداں ہوگئے۔ پھر وہ وقت آن پہنچا، جب دنیا کے عظیم ترین انسان میدان عرفات میں لاکھوں کے جھرمٹ میں یہ اعلان کر رہے تھے۔
"الیوم اکملت لکم دینکم " (آج کے دن دین مکمل ہوگیا)۔ گویا وہ بشری معراج پر پہنچ چکے تھے اور اس کے بعد یہ سلسلہ قیامت تک کے لئے بند کردیا گیا۔
دنیا کے عظیم ترین لیڈر، عظیم ترین سیاست دان، عظیم ترین سفارتکار، عظیم ترین سپہ سالار اور عظیم ترین معلم ۔
لاکھوں سلام آپ پر صل علی محمد
دونوں جہاں کے تاجور صل علی محمد و علی آل محمد
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Address
Sialkot
51040
