Smaj ki dunia
motivational words
12/09/2025
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں
نہ گھر سے نکلوں
اکیلے جی لوں
زباں پہ اپنی قفل لگاؤں
کبھی اکیلے نہ گنگناؤں
میں سج سنور کے تمہاری خاطر
میں روز تم کو سُخن سناؤں
چلو یہ مانا؛
چلو یہ۔ مانا
میں سب کروں گی
تمہارے سارے حکم سنوں گی
مگر بتاؤ
کہ مری خاطر
نگاہ جھکا کہ کیا تم چلوگے؟
بتاؤ ناں! تم
یہ کر سکو گے؟
کسی حسینہ کو راہ چلتے
نہیں تکو گے؟
کہو ناں یہ اب نہیں تکوں گا!
کبھی تمہاری کوئ پرانی
مزاج یکساں سا رکھنے والی
کوئ پڑوسن ملے کہیں تو
نہیں رکو گے
یہ زندگی میں جو ابتری ہے
یہ کام سارا جو دفتری ہے
اگر میں تھوڑی خفا رہوں تو
یہ رک سکے گا؟
تو میری خاطر!
دو چار دن ہی!
بتاؤ ناں! کیا یہ چھوڑ دو گے؟
یہ سانسیں مری،یہ مری نیندیں
نیت یہ مری, مرے ارادے
کبھی کے تم کو یہ سونپ ڈالے
چلو اگر یہ تمہاری ضد ہے!
شناختیں بھی میں سونپ دوں گی!
مگر بتاؤ !
تمہارے دن رات کی لگن میں
میں کس قدر حصہ دار ٹھہری
تمہاری سانسوں
تمہارے جذبوں
تمہاری خواہش
تمہارے پیسوں
میں میں کہاں ہوں
یہ زندگی میں جو ابتری ہے
یہ کام سارا جو دفتری ہے
جو ماہ چاہت کا فروری ہے
کیا مجھ کو اِن سب پہ برتری ہے؟
یا سارے جذبے یہ پیار ترا
ہےسب حقیقت
یا سرسری ہے؟
Coming Soon Pak Dramas
14/09/2024
سیکس اور اُداس نسلیں
سِگمنڈ فرائیڈ نے کہا تھا ’’وہ جذبات جِن کا اِظہار نہ ہو پائے، کبھی بھی مرتے نہیں ہیں، وہ زِندہ دفن ہو جاتے ہیں، اور بعد ازاں بدصورت طریقوں سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔‘‘ آپ غالِب، میر، داغ، جِگر، جُون، پروین، وصی، اور دیگر اردو کے شُعرا کی کتابیں پڑھ لیں، اِنکا کثیر حِصہ وصل و ہجر و فراق، اَن کہے جذبات، حسرتوں، اور پچھتاووں کے موضوعات پر مُشتمل ہو گا۔ آپ گُوگل کے اعداد و شُمار کا تجزیہ بھی کر لیں، پاکستان کا شُمار اُن مُمالک میں ہوگا، جہاں فحش ویبسائیٹس دیکھنے کا رِواج سب سے زیادہ ہے۔ آپ خیبر سے کراچی تک کا سفر بھی کر لیں، عورت چاہے شٹل کاک بُرقعے میں ہی ملبُوس کیوں نہ گُزر رہی ہو، آس پاس موجود مَرد حضرات اُسے تب تک گُھورتے رہیں گے جب تک وہ گلی کا موڑ مُڑ کر نظروں سے اوجھل نہ ہو جائے۔ آپ کِسی سے بھی گُفتگو کر کے دیکھ لیں، ہر دو فقروں کے بعد ماں بہن کے جِنسی اعضا پر مُشتمل گالیاں شامِل ہوں گی۔ آپ مذہبی مُبلغین و عُلما کے بیانات بھی سُن لیں، اِن میں بہتر حُوروں کے نشیب و فراز کے سائز پر سیر حاصِل روشنی ڈالی گئی ہوگی۔ آپ پاکستان کے ڈرامے، ناول، ڈائجسٹ، فلمیں بھی دیکھ لیں، یہ عِشق معشوقی، اور لو افئیرز کے اِرد گِرد گھوم رہے ہوں گے۔ آپ ہر روز اخبار بھی پڑھ کر دیکھ لیں، کِسی ن نے م بی بی کے ساتھ یا کِسی ف نے کِسی ش بی بی کے ساتھ زیادتی بھی کی ہوئی ہوگی، ننھے بچے حتیٰ کہ قبر میں زون کی عزت بھی محفوظ نہیں مِلے گی۔ آپ کو کہیں سائینسی ڈاکومنٹری، مریخ پر زندگی، یا روبوٹس کا تذکرہ نہیں مِلے گا، کوئی نِطشہ، رسل، آئینسٹائین، یا فلسفہ پر گفتگو کرتا نہیں مِلے گا۔ آپ اندازہ کریں کہ قائداعظم پر بننے والی فِلم جِناح ایک برطانیہ کے پروڈکشن ہاوُس نے بنائی، اور صلاح الدین ایوبی پر کِنگڈم آف ہیون نامی فِلم ہالی وُڈ نے بنائی۔ ہمیں توفیق نہ ہوئی کہ کبھی قائداعظم، علامہ اقبال، یہ اپنی تاریخ پر کوئی ایسی فِلم یا ڈاکومنٹری ہی بنا لیں جو ہم فخر سے باہر کی دُنیا کو دیکھنے کیلیے پیش کر سکیں۔ ہم ہالی وُڈ کی فلموں پر تو بین لگا دیتے ہیں، مگر سٹیج ڈراموں کے نام پر مجرے اور کیا کُچھ نہ دِکھایا جاتا رہا۔ آپ اندازہ کریں کہ ہم نے صدیوں کے غوروفکر کے بعد اپنی ذریں روایات و اقدار کی بنیاد پر ایک ایسا مثالی معاشرہ تشکیل دیا ہے جہاں شادی کرنے کیلیے ایک مرد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ پہلے تعلیمی ڈگریوں کے انبار، نوکری، گھر، گاڑی، بینک بیلنس بنائے، تاکہ جب جوانی اختتام پذیر ہو، تب شادی کا سوچے، یعنی اپنی آدھی سے زیادہ عُمر کنوارا گھومتا رہے۔ لڑکیوں پر جہیز کا بوجھ الگ۔ اگر یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جنسی تسکین ایک بُنیادی اِنسانی ضروت ہے، اور جب تک انسان کی یہ بنیادی ضروت پوری نہ ہو، انسان دیگر تخلیقی کاموں پر بھرپور توجہ نہیں دے پاتا، ذہنی خلفشار کا شکار رہتا ہے، تو ہم یہ حقیقت ماننے سے انکاری کیوں ہیں؟ ہم کب تک نیوٹن، آئینسٹائین، بِل گیٹس کے بجائے شاعر، مجنوں، رانجھا، اور غمزدہ نسلیں پیدا کرتے رہیں گے؟ ہم کب تک زندگی کے چار میں سے دو دن آرزو اور باقی کے دو دن انتظار میں گزارنے پر نوجوانوں کو مجبور کرتے رہیں گے؟ دُنیا کی کون سی سائینس، دُنیا کی کون سی نفسیات، اِس معاشرت کو درُست کہے گی؟ ہم کِس کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ہم کِس سے جھوٹ بولنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ کیسا نظامِ زندگی ہے جہاں بُنیادی اِنسانی ضروریات کے اظہار، اور تکمیل پر پابندی ہے، گھُٹن ہی گھُٹن ہے؟ جب سچائی اور حقیقتوں کے اظہار کے تمام دروازے بند کر دئے جائیں، تو ہوتا تو تب بھی سب کُچھ ہے، مگر مُنافقت کے پردہ میں، ہر شخص فرشتہ صفت ہونے کا دعویدار بن جاتا ہے، اور ڈھونڈنے سے بھی کہیں کوئی اِنسان دِکھائی نہیں دیتا۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ مُنافقت پر مبنی مُعاشرے کََسی اور سے نہیں بلکہ اپنے ساتھ جھوٹ بولنے کا بیوپار کرتے ہیں، اور خمیازہ بھی پھر خُود ہی بھُگتتے ہیں۔ منٹو بتا گیا تھا ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں اپنی خواہشات کے دبانے کو بڑا ثواب تصور کیا جاتا ہے۔ فرائیڈ نے کہا تھا ’’وہ جذبات جِن کا اِظہار نہ ہو پائے، کبھی بھی مرتے نہیں ہیں، وہ زِندہ دفن ہو جاتے ہیں، اور بعد ازاں بدصورت طریقوں سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔۔۔🌿
24/08/2024
If something bad happens to you, understand that Allah wants to take you somewhere else:🥀❤️
TURKISH SAYS:
Do bachon ki shadii
26/06/2024
زندگی بہت چھوٹی ہے ، .محبت اور ہنسی آپ کے دن کو روشن کریں اور آپ کے دل کو گرمائیں، امن اور اطمینان آپ کی زندگی کو اس خوشی کے ساتھ برکت دے جو ہمیشہ موسموں کو برقرار رکھتی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Vehari
