Shezad Jadoon medicos topi

Shezad Jadoon medicos topi

Share

Shehzad jadoon medicose


24 hours available

20/03/2023

*جسمانی کمزوری کے 13 علاج جو آپ کی توانائی میں اضافہ کریں*



بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

غیر متوازن غذاؤں کے استعمال اور غیر صحت مندانہ طرزِ زندگی کی وجہ سے جسمانی کمزوری کی علامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جب کہ بعض اوقات کسی بیماری کا سامنا کرنے کی صورت میں بھی جسمانی کمزوری لاحق ہو سکتی ہے، کیوں کہ بیماری کے دوران انسان متوازن مقدار میں پانی اور دوسرے مشروبات سمیت اہم غذاؤں کو استعمال کرنے سے زیادہ تر قاصر رہتا ہے، جس سے جسمانی کمزوری کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

جسمانی کمزوری کی وجہ سے انسان روزمرہ کی سرگرمیاں انجام دینے سے قاصر رہتا ہے اور اسے چلنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ نظر کے مسائل اور جسم کی کپکی بھی لاحق ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جسمانی کمزوری کی وجہ سے پٹھوں کی تھکاوٹ کے خطرات میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس کمزوری کی علامات سے چھٹکارا پانے کے لیے ادویات کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صحت مند غذاؤں اور مشروبات کے استعمال سے جسمانی کمزوری کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

جسمانی کمزوری کا علاج
مندرجہ طریقوں سے آپ جسمانی کمزوری سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

🍌 *کیلے کا استعمال*
کیلے کو قدرتی شوگر جیسا کہ سکروز، فرکٹوز، اور گلوکوز حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ جسم کو شوگر کی یہ اقسام حاصل ہونے سے انرجی میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ کیلے سے حاصل ہونے والے طبی فوائد کی فہرست کافی طویل ہے کیوں کہ اس میں کافی مقدار میں غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ اس پھل میں پوٹاشیم بھی پائی جاتی ہے جو کہ جسم شوگر کو انرجی میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کیلے میں پائے جانے والے فائبر کی وجہ سے بلڈ گلوکوز کا لیول نارمل رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے اور ہاضمہ کا نظام بھی بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔

جب آپ کو جسمانی کمزوری کا سامنا کرنا پڑے تو کیلے کو باقاعدگی کے ساتھ استعمال کرنا شروع کر دیں، اس کے علاوہ آپ کیلے کا ملک شیک بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر آپ مؤثر طریقے سے کم وقت میں جسمانی کمزوری کی علامات کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو کیلوں کے ساتھ ایک چمچ شہد کے ساتھ دن میں دو مرتبہ استعمال کریں۔ اس کے علاوہ آپ کیلے کو دلیے کے ساتھ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

🍳 *ناشتے کو یقینی بنائیں*
جو لوگ صبح ناشتے کو یقینی نہیں بناتے ان میں جسمانی کمزوری کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، جب کہ ایسے افراد کو دوسروں کی نسبت ذہنی دباؤ کا بھی زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے جسمانی کمزوری سے بچنے کے لیے ناشتے کو اپنے معمول کا حصہ بنانا نہایت ضروری ہے۔

تاہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ ناشتے میں صحت مند غذائیں استعمال کر رہے ہیں، دہی، دودھ، دلیہ، اور پھل وغیرہ بہترین آپشن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بازار کی اشیاء جیسا کہ بسکٹ اور بیکری کی دیگر پروڈکٹس استعمال کرنے سے گریز کریں۔

🌰 *بادام*
وٹامن ای سے بھرپور باداموں سے بہت سے طبی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں، ان کے استعمال سے جسمانی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے جس سے کمزوری کی علامات ختم ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ بادام سے جسم کو میگنیشیم بھی کافی مقدار میں استعمال ہوتا ہے جس سے جسم کو پروٹین، فیٹ، اور کاربو ہائڈریٹس کو تونائی میں تبدیل کرنے میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، کیوں کہ جسم میں میگنیشیم کی کمی وجہ سے بہت سے لوگ جسمانی کمزوری کی علامات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

آپ باداموں کی تھوڑی سی مقدار کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں، جب بھی آپ کو کمزوری کا احساس ہو تو ان کو چبا لیں۔

🧘🏻‍♀️ *یوگا*
صحت میں بہتری لانے کے لیے یوگا ایک بہترین ورزش ثابت ہو سکتی ہے۔ یوگا کو باقاعدگی کے ساتھ کرنے سے ذہنی دباؤ میں کمی آتی ہے اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، جس کی وجہ سے کمزوری اور تھکاوٹ کو ختم کرنے میں بہت مدد ملتی ہے۔

🥛 *دودھ*
جسم میں کیلشیم او وٹامن ڈی کی مقدار متوازن رکھنے کے لیے دودھ کا استعمال نہایت ضروری ہوتا ہے کیوں کہ اس کے استعمال سے پٹھوں اور ہڈیوں کی صحت میں بہتری آتی ہے۔

توانائی حاصل کرنے کے لیے ایک گلاس نیم گرم دودھ میں ایک چمچ شہد شامل کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انجیر کو دودھ میں ابال کر استعمال سے جسمانی کمزوری کی علامات سے نجات ملتی ہے۔

🫗 *پانی کا زیادہ استعمال*
ڈی ہائڈریشن یا جسم میں پانی کی کمی واقع ہونے سے تھکاوٹ اور کمزوری کا احساس لاحق ہونے لگتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ دن میں کم از کم آٹھ گلاس پانی ضرور استعمال کیا جائے۔

اگر آپ پانی کو استعمال نہیں کرنا چاہتے تو اس کی جگہ تازہ پھلوں کے مشروبات استعمال کیے جا سکتے ہیں اور شکنجبین بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ تاہم جسم میں پانی کی کمی کو ختم کرنے کے لیے کولڈ ڈرنکس استعمال کرنے سے گریز کریں، کیوں کہ ان کے استعمال سے جسم کی پانی کی کمی دور نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس کولڈ ڈرنکس کے استعمال سے جسم کو نقصان دہ کیلوریز حاصل ہوتی ہیں جو کہ موٹاپے کے خطرات کو بڑھا سکتی ہیں۔

🍐 *آملہ*
آملہ بہت سارے غذئی اجزاء سے بھرپور پھل ہے جو کہ جسمانی توانائی میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آملہ وٹامن سی، کیلشیم، پروٹین، آئرن، کاربو ہائڈریٹس، اور فاسفورس حاصل کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔

جسمانی توانائی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ تازہ آملے کا جوس کا استعمال کر سکتے ہیں، جب کہ بازار میں آملے کا مربہ بھی دستیاب ہوتا ہے جو کہ صحت کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

🍵 *جنسنگ کا قہوہ*
سینکڑوں سالوں سے جنسنگ کو اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جنسنگ کے استعمال سے کمزوری ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال سے اعصابی نظام میں بھی بہتری آتی ہے۔

جنسنگ کی جڑ کے آٹھ سے دس ٹکڑے لے کر تین کپ پانی میں پندرہ منٹ کے لیے ہلکی آنچ پر ابال لیں۔ اس کے بعد پانی کو چھاننے کے بعد اس میں شہد شامل کر کے استعمال کر لیں۔ جسمانی کمزوری کی علامات سے چھٹکارا پانے کے لیے آپ جنسنگ کے قہوے کو دن میں ایک سے تین مرتبہ استعمال کر سکتے ہیں۔

🍓 *اسٹرابری*
اسٹرابری میں کیلوریز تو کم مقدار میں پائی جاتی ہیں، تاہم ناشتے میں ان کے استعمال سے دن بھر جسم کو کمزوری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

اسٹرابری میں وٹامن سی بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے جو کہ ٹشوز کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اہم تصور کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ مدافعتی نظام کی مضبوطی میں بھی اضافہ کرتا ہے اور جسم کو فری ریڈیکلز کے نقصان سے بھی بچاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اس پھل میں اینٹی کینسر اور موٹاپے کو کم کرنے والی خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں اور اس سے میگنیز اور فائبر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

🍠🥔 *شکر قندی*
شکر قندی کو میٹھا آلو بھی کہا جاتا ہے جو کہ غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔ شکر قندی مگنیز اور کیرو ٹینائڈز سے بھرپور ہوتی ہے، جس کے استعمال سے مختلف وجوہات کی بنا پر لاحق ہونے والی کمزوری سے چھٹکارا پانے میں مدد ملتی ہے۔

🥚 *انڈے*
انڈوں کو غذائی اجزاء سے بھرپور ہونے کی وجہ صحت مند غذا کہا جاتا ہے جو جسم کو کمزوری سے بچاتی ہے۔ انڈوں کو غذا میں شامل کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے، کیوں کہ جسم کو ان سے پروٹین، آئرن، بائیوٹین، فولک ایسڈ، اور وٹامن اے جیسے مفید اجزاء حاصل ہوتے ہیں۔

جسمانی کمزوری سے نجات حاصل کرنے یا اس سے بچنے کے لیے دن بھر میں ایک انڈے کا استعمال بھی کافی ہوتا ہے۔

🥩 *گوشت*
جسمانی کمزوری کی علامات کو دور کرنے کے لیے گوشت بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے، تاہم گوشت کو متوازن مقدار میں ہی استعمال کرنا چاہیئے۔ کمزوری کو دور کرنے کے لیے آپ بکرے، گائے، چکن، مچھلی کا گوشت استعمال کر سکتے ہیں، کیوں کہ یہ تمام اقسام وٹامن ای اور زنک جیسے اجزاء سے بھرپور ہوتی ہیں۔

☕ *کافی*
کافی کو استعمال کرنے سے جسم کی توانائی میں فوراً اضافہ کیا جا سکتا ہے، کیوں کہ اس میں موجود کیفین دماغ کی چستی میں اضافہ کر کے کمزوری کو ختم کرتی ہے۔

اس کے علاوہ کافی کے استعمال سے توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملتی ہے اور مٹیابولزم میں بھی بہتری آتی ہے۔

کمزوری کے یہ علاج اگر آپ کے لیے مؤثر ثابت نہ ہوں تو آپ کو کسی جنرل فزیشن سے رابطہ کرنا ہو گا، آسانی کے ساتھ کسی بھی قریبی کلینک میں جنرل فزیشن سے رابطہ کریں۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

*👨🏻‍⚕️Family, Health, Kids👩🏻‍⚕️*
🎓📖SmartTech Camp📖🎓

=================

20/03/2023

*مسوڑوں کی تکلیف سے نجات چاہتے ہیں تو یہ 5 گھریلو ٹوٹکے اپنائیں*

https://chat.whatsapp.com/HdXGeuXf7WbHO56MnQni7R

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

انسان ہمیشہ سے اپنی خوبصوررتی میں اضافے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے، دانت بھی انسانی جسم کا ایک ایسا حصہ ہے جو کہ خوبصورتی کے حوالے سے اثرا نداز ہوتا ہے۔ یہ دانت، مسوڑوں کی تکلیف کی وجہ سے نہ صرف خراب ہوسکتے ہیں بلکہ خوبصورتی کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔آج ہم ان گھریلو ٹوٹکوں کی بات کریں گے جن سے دانتوں کا پیلا پن، بدبو، جراثیم سے بچا جاسکتا ہے، ساتھ ہی ساتھ مسوڑوں کو مضبوط بھی بنایا جاسکتا ہے۔

سبز چائے یا گرین ٹی مسوڑوں کو مضبوط بنانے میں مدد کرتی ہے اور جراثیم کےخلاف معاون کا کردار ادا کرتی ہے۔ سبز چائے میں موجود اینٹی آکسیڈٰنٹ دیگر بیماریوں سے بچاتی ہیں جبکہ اورل کیوٹی میں جراثیم کے خلاف مؤثر کام کرتی ہے۔

تل کا تیل دانتوں اور مسوڑوں کے درمیان بننے والی پیلے رنگ کی لئیر کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

تل کا تیل زہریلے مادوں کے خلاف بھی کارآمد ہوسکتا ہے۔تل کے تیل کا استعمال صبح برش کرنے سے پہلے کیا جاسکتا ہے۔ صبح برش کرنے سے پہلے آپ 30 سیکنڈز تک کلی کرسکتے ہیں۔ جبکہ گرم تل کے تیل کا استعمال مسوڑوں کو حفاظتی کوٹنگ فراہم کرتا ہے۔

کھوپرے کا تیل مسوڑوں کوکئی جراثیم سے متعلق بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ چونکہ کھوپرے کا تیل اینٹی مائیکروبئیل ہوتا ہے جو کہ مسوڑوں کی سوزش کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔
کھوپرے کے تیل کو بھی آپ صبح استعمال کرسکتے ہیں، صبح 30 سیکنڈز تک کلے کرکے دانتوں کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ ہمیشہ تازہ کھوپرے کے تیل کا استعمال کیا جائے۔ایلوویرا ایک بہترین اینٹی بیکٹیریل ہے جو کہ دانتوں کو اور مسوڑوں کو بیماریوں سے بچاتا ہے۔ جبکہ ایلوویرا مسوڑوں کو سوزش سے بھی تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔

ایلوویرا کا استعمال انفیکشن اور مسوڑوں کے کسی بھی نقصان کو بہتر کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔ایلوویرا کو استعمال کرنے کا آسان طریقہ کار یہ ہے کہ ایک تازہ ایلوویرا کا پتہ لیں، ایلوویرا کی جیل کو بطور ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں، روزمرہ کے استعمال سے مسوڑوں کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

*👨🏻‍⚕️Family, Health, Kids👩🏻‍⚕️*
🎓📖SmartTech Camp📖🎓

=================

19/03/2023

*جسم پر خارش لگنے کے اسباب اور اس کا علاج*

https://chat.whatsapp.com/HdXGeuXf7WbHO56MnQni7R

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

خارش ایک نہایت تکلیف دہ بیماری ہے، یہ دیگر کئی امراض کی وجہ سے لگتی ہے ان میں کچھ جلد کی بیماریاں اور کچھ اندرونی بیماریاں ہوتی ہیں۔

خارش کم ہو تو اس کا علاج ممکن اور آسان ہوتا ہے، اگر یہ شدت اختیار کرجائے تو اس کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہوجاتا ہے۔

جسم پر خارش لگنے کی عام وجوہات میں چٹ پٹے کھانے، حشرات کے کاٹنے یا دواؤں کا استعمال ہوتا ہے۔

جلدی امراض کی ماہر ڈاکٹر شذى العواودةنے خارش کے اسباب پیش کیے ہیں۔

جسم پر خارش لگنے کے اسباب متعدد ہوسکتے ہیں ان میں سے کچھ نامیاتی اور کچھ نفسیاتی ہوتے ہیں۔ ماہر ڈاکٹر چیک اپ کے بعد ان کی تشخیص کرتا ہے۔ عام طور پر خارش لگنے کے اسباب یہ ہوتے ہیں۔

*جلد کی غیر متعدی بیماریاں*
جلد کی کچھ غیر متعدی بیماریاں ہیں ،جن کی وجہ سے جلد پر خارش ہوتی ہے، جیسے سوریاسس، ایکزیما، خشک جلد اور الرجی وغیرہ یہ کچھ خاص قسم کے کھانوں اوردوائیوں کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔

*حشرات کے کاٹنے سے*
جسم پر کسی کیڑے یا مچھر وغیرہ کے کاٹنے سے زخم سا ہو جاتا ہے جہاں خارش کے بعد یہ مزید پھیل جاتی ہے۔

*اندرونی بیماریاں*
کچھ بیماریاں ایسی ہیں جو انسان کو تکلیف دیتی ہیں اور یہ جلد کے لیے خارش کا باعث بھی بنتی ہیں۔ جیسے گردے اور جگر کی بیماری، شدید خون کی کمی، لمفوما اور تائرائیڈ کی خرابی وغیرہ۔

*نفسیاتی وجوہات*
کچھ ذہنی بیماریاں ہیں جن کے ساتھ جلد کی خارش پیدا ہوتی ہے۔ جیسے جنونی اضطراب اور تناؤ کی بیماری وغیرہ۔ اس کا علاج ماہر نفسیات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

*جلن اور زخم سے*
جسم کا کوئی حصہ جلنے یا زخم کی وجہ سے بھی خارش لگتی ہے جو پورے جسم پر پھیل جاتی ہے۔

*جسم پر خارش لگنے کی علامات
جلد پر نشانات:*
خارش لگنے کی صورت میں جسم پر ہلکے ہلکے سرخ نشان پڑجاتے ہیں، یہ کسی خاص مقام پر یا پھر پورے جسم پر ہوتے ہیں۔

*ظاہری علامات* : مسلسل خارش کرنے سے آپ کے جسم پر نشانات پڑجاتے ہیں، ایسی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

*جسمانی خارش کا علاج*
ڈاکٹر مریضوں کو خارش کی بیماری کی نوعیت دیکھنے اور چیک اپ کرنے کے بعد علاج تجویز کرتے ہیں۔اس میں خارش دور کرنے کی گولیاں اور کچھ کریمیں تجویز کی جاتی ہیں۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

*👨🏻‍⚕️Family, Health, Kids👩🏻‍⚕️*
🎓📖SmartTech Camp📖🎓

=================

19/03/2023

*الرجی کیا ہے اور اس سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟*

https://chat.whatsapp.com/HdXGeuXf7WbHO56MnQni7R

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

ماحول میں موجود گردو غبار اور آلودگی کے باعث ہر دوسرا شخص چھینکتا اور گلے کے مسائل کا شکار نظر آتا ہے۔ کچھ موسم بھی الرجی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر کئی علاقوں میں موسم بہار میں پولن الرجی سےبہت سے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ تاہم الرجی کا مسئلہ موسمِ سرما میں زیادہ شدت اختیار کرجاتا ہے اورسردیوں کا نزلہ، زکام مختلف بیماریوں اور بخار کا بھی باعث بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ غیرمعیاری پانی اور سیوریج کی ناقص صورتحال سانس اور جِلد کی الرجی کا بھی باعث بنتی ہے۔

*الرجی کی تعریف*
ہمارا مدافعتی نظام ہمیں بیماریوں والے بیکٹیریاز اور وائرسز سے محفوظ رکھتا ہے۔ ایسے ہی کسی بھی عنصر کے مخالف ایک مضبوط مدافعتی رد عمل ہوتاہے، جو اکثر لوگوں کیلئے نقصان دہ نہیں ہوتا، یہ عنصر الرجی کہلاتاہے۔ یعنی یوں سمجھ لیں کہ الرجی قوت مدافعت کی کمزوری کی وجہ سے ہوتی ہے۔

*الرجی کی اقسام*
الرجی کی ایک قسم کا تعلق سانس اور دوسری کا جِلد سے ہے، جو حساس لوگوں کو مخصوص چیزوں کو چھونے سے ہونے لگتی ہے۔ سانس کی الرجی کو پولن الرجی بھی کہتے ہیں، جو اسلام آباد میں جنگلی شہتوت کے باعث ہوتی ہے۔ ساتھ ہی زرعی علاقوں میں فصلوں پر کیے جانے والے اسپرے اور جانور الرجی کا باعث بنتے ہیں۔ جِلد کی الرجی سے جسم پر خارش ہوتی ہےاور جِلد کا رنگ آہستہ آہستہ سرخی مائل ہو جاتا ہے۔ بروقت علاج نہ کروانے سے جِلد چمڑے کی طرح سخت ہو کر ایگزیما کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔

*الرجی کیوں ہوتی ہے ؟*
کوئی ایسی چیز کھانا یا جسم پر لگانا، جسے آپ کا جسم قبول نہ کرے تو اس سے الرجی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد جسم پر خارش اور بےچینی محسوس ہوتی ہے۔ مختلف اشیا جیسے مونگ پھلی، اخروٹ، بادام، کاجو، انڈے، گائے کا دودھ اور مخصوص مچھلی کھانے سے بھی لوگ الرجی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کیڑوں کے کاٹنے، ادویات اور کیمیکلز سے جِلدی الرجی کی شکایات سامنے آتی ہیں۔

*الرجی اور نزلے کا فرق*
میں آنکھوں اور ناک سے پانی آتاہے، ناک بند ہو جاتی ہے اور سوزش محسوس ہوتی ہے لیکن بخار نہیں ہوتا جبکہ نزلہ میں پانی کی نسبت گاڑھی رطوبت نکلتی ہے اور بخار بھی ہوسکتا ہے۔

*خوراک سے الرجی کیسے ہوتی ہے*
گزشتہ 30 سال کے دوران خوراک سے الرجی کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں 1995ء سے 2016ء کے درمیان مونگ پھلی سے الرجی کی شرح میں پانچ گنا اضافہ ہوا۔ کنگز کالج لندن کی جانب سے کیے جانے والے ایک مطالعہ میں تین سال کے 1300 بچوں کو تحقیق کا حصہ بنایا گیا۔ تحقیق میں یہ سامنے آیا کہ ڈھائی فیصد بچے مونگ پھلی سے الرجی کا شکار تھے۔

آسٹریلیا میں خوراک سے الرجی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق وہاں ایک سال تک کے نو فیصد بچوں کو انڈے اور مونگ پھلی سے الرجی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طبی سائنسدان کہتے ہیں کہ بچوں کو بہت چھوٹی عمر سے ہی مونگ پھلی کھلانی چاہیے تاکہ وہ اس کی ممکنہ الرجی کے خلاف چھوٹی عمر سے ہی قوت مدافعت پیدا کرنا شروع کردیں اور ان میں مونگ پھلی کھانے کی عادت پیدا ہو۔

کنگز کالج لندن میں کی جانے والی لیب اسٹڈی میں بتایا گیا ہے کہ پانچ سال عمر کے وہ بچے جنھوں نے پیدائش کے سال سے مونگ پھلی کھانی شروع کی تھی، ان میں مونگ پھلی سے الرجی کا تناسب 80 فیصد کم پایا گیا۔ اس کے علاوہ، کچھ لوگوںکو انڈے، مختلف سبزیوںاورپھلوں، گائے، بکرے یا مرغی کے گوشت وغیرہ سے الرجی ہوتی ہے۔ اگر ایک بار الرجی ہونے کی وجہ معلوم ہوجائے تو اس چیز سے اجتناب برتنا بہتر ہوتا ہے۔

*علامات*
الرجی کی علامات ہر فرد میں اس کی شدت کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ آب وہوا اور طرزِ زندگی کی تبدیلی سے الرجی کی نوعیت اور شدت میں فرق پڑ سکتاہے۔ سانس کی الرجی ہو یا پھر کھانے کی وجہ سے، اس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، جلن یا آنکھوں میں خارش، سوجی ہوئی سرخ آنکھیں، کھانسی، شاک یا صدمے میں چلے جانا، خرخراہٹ ، ناک بہنا،جِلد سُرخ ہوجانا ، جسم پر نشانات یا دانے ہوجانا، ناک، منہ، گلے یا جِلد پر خارش ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ زیادہ تر بچے الرجی کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی ناک، آنکھیں، گلا، پھیپھڑے یا جِلد زیادہ متاثر ہوتی ہے۔

*احتیاطی تدابیر*
عارضی ہو یا دائمی، اس کا مستقل علاج موجود نہیں ہے، یعنی اگر آپ کسی بھی قسم کی الرجی میں مبتلا ہیں تو ممکن ہے کہ وہ ساری زندگی آپ کے ساتھ رہے۔ اگر اس کی ویکسین دستیاب ہے تو باقاعدگی سے ویکسین استعمال کریں،

تاہم احتیاط کرنے سے ہی الرجی اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے محفوظ رہا جاسکتاہے۔ اس ضمن میں چند احتیاطی تدابیر بتائی جارہی ہیں، جن پر عمل کرکے آپ خود اور بچوں کو الرجی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

٭ فضائی الرجی کی صورت میں آپ کو ماسک لگانا چاہئے۔

٭ ایسی چیزوں سے بنے زیورات اور چیزوں کا استعمال ترک کر دیں، جو آپ کو الرجی میں مبتلا کرسکتی ہیں۔

٭ ایسے مٹیریل سے تیار کردہ لباس نہ پہنیں، جس سےآپ کو الرجی ہو سکتی ہو۔

٭ ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر لوگ سرجیکل ماسک پہن لیتے ہیں، جو دھول یا پولن الرجی سے بچائو میں بالکل مدد نہیں کرتے۔ ہر الرجی کیلئے خاص قسم کا ماسک ہوتاہے، جو مارکیٹ میں مل جاتا ہے اور صرف اسی ماسک سے آپ الرجی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

٭ اپنے گھر میں خاص طور پر بچوں کے کمرے سے رگز اورقالین وغیرہ ہٹا لیں کیونکہ سخت فرش کے مقابلے میں ان پر زیادہ دھول مٹی جمتی ہے۔

٭ گھرروشن اور ہوا دا رہو

۔٭ پرندوں یا پالتوں جانورو ں کو دور رکھیں، خاص طور پر بچوں کے کمروں میں انہیں نہ رکھیں۔جانوروں کو باقاعدگی سے نہلاتے رہیں۔

٭ موسم کے آغاز اور اختتام پر اپنی کھڑکیوںکو بند رکھیں، تاکہ پولن گرین الرجی سے محفوظ رہیں۔

٭ اپنے باتھ روم اور دوسری پھپھوند لگی جگہوں کو صاف او ر خشک رکھیں۔

٭ جن لوگوں یا بچوں کو کسی غذا سے الرجی ہوتو انہیں ان سے پرہیز کرنا چاہئے۔ آپ اور آپ کے بچے کھانے کی پیکنگ پر درج لیبل پڑھنے کی عادت اپنائیں، ان پر الرجی کی معلومات درج ہوتی ہیں۔

٭ کم شد ت کی الرجی والی علامات کی صورت میں میڈیسن آرام دے سکتی ہیں لیکن اس سے بچے غنودگی محسوس کرتے ہیں۔

٭ شدید الرجی کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

*👨🏻‍⚕️Family, Health, Kids👩🏻‍⚕️*
🎓📖SmartTech Camp📖🎓

=================

14/03/2023

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

-:(مثانے کی کمزوری کی وجوہات):-
مثانے کی کمزوری کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔

نیکوٹین اور کیفین کے حامل مشروبات کا استعمال زیادہ کرنا جیسا کہ چائے اور کافی وغیرہ۔
اتنی شدت سے پیشاب کا آنا جس کو روکنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے۔
جو لوگ سگریٹ کا استعمال زیادہ کرتے ہیں ان میں مثانے کی بیماری پائی جاتی ہے۔
تیز پتی اور تیز چینی کا استعمال عام روٹین سے ہٹ کر کم کر دیں۔
مثانے کی کمزوری کی بڑی وجہ پٹھے کمزور ہونا ہیں۔
رات میں پیشاب کی حاجت کے لیے بار بار آنکھ کا کھل جانا۔
دن میں تقیبا 8 سے زیادہ بار پیشاب کا آنا۔
کولڈرنکس کا بہت زیادہ استعمال کرنا۔
سفید چینی کا استعمال زیادہ کرنا۔
میٹابولزم کی خرابیاں پیدا ہونا۔
مسلسل قبض کا رہنا۔
جسم کے اندر گردے پیشاب کو بناتے ہیں۔ اس کے بعد اس کو مثانے یا بلیڈر میں جمع کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد پیلوک میں موجود مسلز دماغ کو ایک پیغام ببھیجتے ہیں جس سے پھر دماغ جسم سے پیشاب کو خارج کرنے کا حکم دیتا ہے۔

اس دورانیہ میں پیلوک کے مسلز کمزور پڑنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیلوک کے مسلز کا کمزور پڑںے کی وجہ سے دماغ کو بار بار پیغام جاتا ہے کہ پیشاب کرنے کی حاجت ہو رہی ہے۔

🪀 *مثانے کی کمزوری کی وجوہات*
میں کچھ یہ بھی ہو سکتی ہیں جن میں سے بار بار پانی کا پانی، ضرورت سے زیادہ پانی کا پینا بھی اس کی وجہ ہو سکتا ہے۔ ایسی ادویات کا استعمال کرنا جو زیادہ پیشاب کی وجہ بن سکتی ہیں، مثانے میں پتھر وغیرہ کا ہونا بھی مثانے کی کمزوری کا باعث بن سکتا ہے۔

مثانے کی کمزوری کا علاج
🪀 *ادویات کا استعمال*
مثانے کی کمزوری کو دور کرنے کے لیے ڈاکٹرز کچھ دوائیاں بھی تجویز کرتے ہیں۔ ان ادویات میں ٹولٹیروڈائن بھی موجود ہوتی ہے۔ ان ادویات کا استعمال کرنے سے پیشاب کی حاجت میں کمی محسوس ہوتی ہے۔ یہ ادویات مثانے کے اعضلات کو وہ طاقت فراہم کرتے ہیں جس سے بار بار پیشاب کی حاجت کم ہوتی ہے۔

🪀 *بوٹوکس*
بوٹوکس اصل میں علاج کا وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے سے بہت ساری ادویات کو انجیکٹ کیا جاتا ہے جو مثانے تک جاتی ہیں۔ اس طریقے میں چھوٹی سی تار کمر کے ساتھ منسلک کی جاتی ہے اور الیکٹرک شاک دیا جاتا ہے۔ تاہم یہ طریقہ کار مثانے کی کمزوری کو دور کرنے میں کچھ خاص فائدے مند ثابت نہیں ہوا ہے۔ مگر اس طریقہ علاج پر ابھی تک تحقیق جاری ہے۔

🪀 *سرجری*
مثانے کی کمزوری اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ مریض سے اس کی درد برداشت نہیں ہوتی اور پھر ڈاکٹر کو اس مثانے کا سائیز بڑھانے کے لیے اس کی سرجری کرنی پڑتی ہے۔ اس سرجری کی وجہ سے مثانے میں پیشاب کو جمع کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے، اور بار بار پیشاب کرنے کی حاجت میں کمی واقع ہوتی ہے۔

🪀 *پیلوک فلور کی تهراپی*
اکژ معالج کچھ ایسی ورزشیں کرنےکو کہتے ہیں جن کو کرنے سے جسم کے نچلے حصے یعنے پیلوک کو طاقت ملتی ہے۔ پیلوک کو طاقت ملنے کی وجہ سے مثانہ بھی مضبوط ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اس مثانے میں پھر پیشاب کو اپنے اندر زیادہ سٹور کرنے کی قوت بھی مل جاتی ہے۔

🪀 *چند گھریلو ٹوٹکے*
مثانے والی جگہ پر کسی بھی تیل سے مساج کرنے سے اس کے اعصاب طاقت پکڑتے ہیں۔ اس سے بھی مثانے کی کمزوری پر قابو پانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

🪀 *میگنیشیم سے بھرپور* سپلیمنٹس کو استعمال کرنا چاہیے جن میں وٹامن بھی شامل ہوں۔ اس ٹوٹکے کو اپنانے س مثانے کی کمزوری کو دورد کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پنی خوراک میں دیسی گھی کا استعمال کریں اگر آپ کا معدہ دیسی گھی کو برداشت کرنے کے قابل ہے تو، اس کے استعمال سے مثانے کی کمزوری کچھ ہی دنوں میں ٹھیک ہو جائے گی۔

🪀 *نسخہ نمبر 1*
:اجزا
500 گرام جامن کے بیج لیں اور اسی کے ہم وزن میں 500 گرام تل لے لیں۔ یہ دونوں چیزیں کسی بھی منساری والی دکان سے آسانی سے مل جائیں گی۔

:ترکیب
تل اور جامن کو دونوں کا ہم وزن لے کر ان کا سفوف بنا لیں۔ اس سفوف کو مہینے میں ایک چائے کا چمچ صبح و شام کھائیں۔ اس نسخے کو استعمال کرنے سے مثانے کی کمزوری دور ہا جائے گی۔ یہ نسخہ ان مرد و حضرات کے لیے بہت مفید ہے جن کے پیشاب کے قطرے نکلتے ہیں، ان سب کے لیے یہ نسخہ بہت مفید ہے۔

🪀 *نسخہ نمبر 2*
:اجزا
اجوئن، گڑ، کالے تل

ترکیب
سب سے پہلے آپ شیشے یا پلاسٹ کی ایک بوتللے لیں پھر اس میں ایک چمچ کالے تل ڈالیں۔ کالے تلوں کی تاثیر گرم ہوتی ہے اور یہ بار بار پیشاب آنے کا بہترین علاج ہے۔ اجوئن اور کالے تلوں کو پیس لیں پھر انہیں شیشے کی بوتل میں ڈال کر رکھیں پھر اس میں گڑ ڈال کر صبح و شام کھائیں۔ یہ مثانے کی کمزوری کو طاقت دینے میں بہت مفید ہیں۔

🪀 *نسخہ نمبر 3*
اجزا
انار کے چھلکے،شہد

ترکیب
انار کے چھلکوں کو اتنا خشک کریں کہ ان میں نمی بلکل ختم ہو جائے اس کے بعد انار کے چھلکوں کو پیس کر ان کا پائوڈر بنا لیں۔ اس کے بعد اس میں شہد ملائیں۔ اس میں آپ اپنی مرضی کی مقدار رکھ سکتے ہیں جتنی آپ کو ضرورت ہو۔ اب اس کا سفوف بنا کر رکھ لیں، اگر آپ اس کا ایک چمچ سفوف استعمال کرنا چاہیے ہیں تو اس میں ایک چمچ ہی شہد ڈال کر اسے اچھی طرح سے مکس کر لیں۔ اس نسخے کے مسلسل استعمال سے مثانہ مضبوط ہو جائے گا۔ اس کو کھانے کے لیے پانی کا استعمال کریں۔

🪀 *نسخہ نمبر 4*
اجزا
کشتہ سکہ 10 گرام، کشتہ فولاد 10 گرام، کشتہ قشر بیضہ 20 گرام

🪀 *ترکیب*
تینوں کشتوں کواچھی طرح سے ملا کر مکس کر لیں اور ان سے 50 ملی گرام والے کیپسول بھر کر رکھ لیں۔ یہ کیپسول مکھن اور یا دودھ کے ساتھ کھائیں، مثانے کی کمزوری میں 15 دن میں فرق نظر آنے لگے گا۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

*👨🏻‍⚕️Family, Health, Kids👩🏻‍⚕️*
🎓📖SmartTech Camp📖🎓

=================

13/03/2023

-:(آنکھوں میں خارش کی وجوہات اور اُس سے چھٹکارا حاصل کرنے کا طریقہ):-

https://chat.whatsapp.com/HdXGeuXf7WbHO56MnQni7R

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

خارش والی آنکھوں سے متعلق مسائل جانوروں، دھول کے ذرات یا میک اپ سے پیدا ہوسکتے ہیں۔ جسم ہسٹامین جاری کر کے محرک پر رد عمل ظاہر کرتا ہے جس کی وجہ سے آنکھوں کے ارد گرد خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں جس کی وجہ سے عصبی سروں میں جلن پیدا ہوتی ہے تاکہ آنکھوں میں پانی آجائے۔ اس مضمون میں ہم آنکھ میں خارش کی وجوہات اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بارے میں جانیں گے۔

*آنکھوں میں خارش کی وجوہات*

*۔1 آنکھ کا خشک ہونا*
کئی چیزیں آپ کی آنکھوں کو اتنے آنسو پیدا کرنے سے روک سکتی ہیں کہ آپ کی آنکھوں کو خشک اور خارش سے بچانا مشکل ہو سکتا ہے۔ عمر بڑھنے اور طبی حالات جیسے ذیابیطس اور رمیٹی سندشوت، کم آنسوؤں کا باعث بن سکتے ہیں اور ادویات، بشمول اینٹی ڈپریسنٹ، بلڈ پریشر کی دوائیں، پیدائش پر قابو پانے کی گولیاں اور ڈی کنجسٹنٹ بھی آنسو کی پیداوار کو کم کر سکتی ہیں۔

خشک آنکھوں کا علاج اتنا ہی آسان ہو سکتا ہے جتنا کہ اوور دی کاؤنٹر مصنوعی آنسو جو قطروں کے طور پر دستیاب ہیں۔ ان قطروں پر لکھیں ہدایات پر احتیاط سے عمل کریں۔ اگر آپ دائمی خشک آنکھوں کا تجربہ کرتے ہیں تو آنکھوں کے ڈاکٹر سے ملیں.

🪀 *۔2 آپ کی آنکھ میں کچھ چلا جانا*
مٹی، ریت یا دھول کا ایک آپ کی آنکھوں کو ہر طرف خارش کرنے کے لئے مجبور کرتا ہے۔ اپنی آنکھ کو رگڑنے یا کھرچنے کے بجائے اسے پانی یا مصنوعی آنسو سے دھو لیں۔

🪀 *۔3 کانٹیکٹ لینس کا بے جا استعمال*
اپنے کانٹیکٹ کو زیادہ دیر تک اپنی آنکھوں میں رکھنا یا لینز کو باقاعدگی سے تبدیل نہ کرنا ان میں خارش پیدا کر سکتا ہے جس سے وہ خارش اور سرخ ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کانٹیکٹ پہنتے ہیں تو انہیں رات کو باہر لے جائیں اور اپنے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کریں کہ آپ اپنے لینز کی دیکھ بھال کیسے کریں اور آپ کو انہیں کتنی بار تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

*۔4 آنکھ میں خارش کی وجہ الرجی ہے*
الرجی کی دو اہم اقسام ہیں جو آنکھوں میں خارش پیدا کر سکتی ہیں۔ پہلا موسمی الرجی ہے۔ یہ ماحول میں موجود چیزوں سے متحرک ہوتے ہیں جو ہسٹامائنز کو متحرک کرتے ہیں اور آنکھوں میں خارش پیدا کرتے ہیں۔ یہ الرجی اکثر پودوں کی زندگی کا رد عمل ہوتے ہیں جو آپ کے الرجک رد عمل کے دوران کھلتے ہیں۔ درخت، پھول اور گھاس خاص طور پر الرجک ہو سکتے ہیں۔

الرجی کی ایک اور قسم جو آنکھوں کو متاثر کرتی ہے وہ بارہماسی الرجی ہے۔ یہ ان چیزوں سے الرجی ہیں جو سال بھر موجود رہتی ہیں۔ یہ اکثر چیزوں کے ردعمل ہوتے ہیں جیسے پھپھوندی، سڑنا، پالتو جانوروں کی خشکی وغیرہ۔ الرجی کی ان دونوں اقسام کے لیے اینٹی ہسٹامائن لینا مددگار ثابت ہو سکتا ہے حالانکہ آپ کو آنکھوں کے قطرے کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

آنکھوں میں خارش سے چھٹکارا حاصل کرنے کا طریقہ
🪀 *۔1 کولڈ کمپریس کا استعمال کریں*
کولڈ کمپریس آنکھوں کے گرد سوجن کو دور کرنے اور خارش کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ اپنی آنکھوں کے ارد گرد تھوڑا سا برف کا پانی چھڑکیں۔ اس کے بعد کچھ آئس پیک، آئس کیوبز یا ایک پیک شدہ منجمد کھانے کی اشیاء کو ایک صاف روئی کے تولیے میں لپیٹ دیں۔ کولڈ کمپریس کو اپنی بند پلکوں پر کئی منٹ یا اس وقت تک رکھیں جب تک کہ خارش ختم نہ ہو جائے۔

🪀 *۔2 کھیرے کا استعمال*
آرام دہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرے ہوئے کھیرے کے ٹکڑے آنکھوں کی جلن اور سوزش کے لیے ایک بہترین علاج ہیں۔ کھیرے کے دو ٹکڑے کاٹ لیں اور انہیں ٹھنڈا کرنے کے لیے 10 منٹ کے لیے برف کے ٹھنڈے پانی میں رکھیں۔ پھر ٹھنڈے ہوئے کھیرے کے ٹکڑوں کو اپنی بند پلکوں پر رکھیں اور 10 منٹ تک آرام کریں۔

🪀 *۔3 چائے کی پتی کی تھیلیوں کا استعمال*
چائے میں ٹینک ایسڈ ہوتا ہے جو آنکھوں کی خارش کو دور کرتا ہے۔ چائے کا کپ تیار کرنے کے لیے سبز یا سیاہ ٹی بیگ کا استعمال کریں پھر ٹی بیگ کو مکمل ٹھنڈا ہونے دیں۔ کھجلی کو دور کرنے اور سوزش کو کم کرنے میں مدد کے لیے ٹھنڈے ہوئے ٹی بیگ کو ایک اپنی آنکھوں پر رکھیں۔

🪀 *۔4 زیادہ سے زیادہ ہائیڈریٹڈ رہیں*
اگر آپ کی آنکھوں میں جلن ہے، آپ کی بینائی دھندلی ہے یا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی آنکھ میں کچھ ہے تو آپ کو خشک آنکھ کی علامات کا سامنا ہو سکتا ہے اور خشک آنکھوں کا بہترین علاج ہائیڈریشن ہے۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اپنی آنکھوں کو اچھی طرح سے ہائیڈریٹ رکھنے اور اپنی عمومی صحت کو سہارا دینے کے لیے دن بھر کافی مقدار میں پانی پی رہے ہیں۔

🪀 *۔5 عرق گلاب کا استعمال کریں*
عرق گلاب آنکھوں کو سکون دینے کے لیے واقعی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ صرف ایک روئی کے پیڈ کو گلاب کے پانی میں بھگو دیں اور اسے اپنی آنکھوں پر رکھیں۔ اس سے فوری آرام ملے گا اور زیادہ تر درد اور جلن تقریباً پانچ منٹ بعد ختم ہو جائے گی۔

🪀 *۔6 دھوئیں سے آنکھوں کو دور رکھیں*
معلوم الرجی والے تمام بچوں کو سگریٹ کے دھوئیں سے دور رکھیں کیونکہ اس سے بچے کی الرجی کی علامات مزید خراب ہو سکتی ہیں۔ ایسے عوامی مقامات سے پرہیز کریں جہاں لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہوں۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

*👨🏻‍⚕️Family, Health, Kids👩🏻‍⚕️*
🎓📖SmartTech Camp📖🎓

=================

03/03/2023
27/02/2023

میں کچھ نہیں بولوں گا صرف اتنا بولوں گا اللہ دیکھ رہا ہے

27/02/2023

ڈائلاسس(Dialysis) کے دوران جسم سے خون سرخ نالی سے باہر نکالا جاتا ہے ، پھر مشین سے اسے گزارنے کے بعد جسم میں دوبارہ نیلی نلی سے داخل کردیا جاتا ہے۔ ایک ڈائلاسیس کا process تقریباً چار گھنٹے چلتا ہے، اور یہ عمل مریض کو ہفتے میں دو سے تین مرتبہ دہرانا پڑتا۔ وہیں جن لوگوں کے گردے (Kidneys)صحت مند ہیں ان کے جسم میں یہی عمل خود بخود دن میں 36 مرتبہ ہوتا ہے، بنا کسی تکلیف کے اور مکمل آرام کے ساتھ ۔ آپ نہیں جانتے کہ ہر دم ، ہر آن رب تعالیٰ کی کس قدر نعمتیں ہم پر برس رہی ہیں۔ اس لئے ہمیشہ رب کا شکر ادا کرتے رہیں۔ 💙۝ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ۝💙

26/02/2023

*اب خوراک کے ذریعے ہڈیوں کی کمزوری کا تیزی سے علاج کریں*
تحریر دانیہ عرفان

https://chat.whatsapp.com/HdXGeuXf7WbHO56MnQni7R

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

ہڈیوں کی صحت ہماری روز مرہ کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ صحت مند رہنے اور ہڈیوں کی کمزوری دور کرنے کے لئے وٹامن ، اور کیلشیم کی مناسب مقدار کا جسم میں ہونا ضروری ہے۔ ہم وٹامن ، اور کیلشیم اور دیگر اہم غذائیت قدرتی اشیاء سے حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ تمام افراد جو شدید ہڈیوں کی کمزوری کا شکار ہیں، یقینا آپ کے ریفریجریٹر یا الماری میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو آسٹیوپوروسس کا علاج کر سکے۔

اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کونسی وٹامنز یا سپلیمنٹس لیتے ہیں، لیکن اگر آپ کی ہڈیاں اپنی طاقت کھو چکی ہیں، تو آپ کو غذائیت پر اضافی توجہ دینے کی ضرورت ہوگی۔ نسخے کی دوائیں اور باقاعدہ ورزش کے ساتھ ساتھ، مناسب غذائیت آسٹیوپوروسس کو دور کرنے میں مدد کرسکتی ہیں۔مندرجہ ذیل صحت مند خوراک کے ذریعے بھی اس کمزوری کا علاج کیا جا سکتا ہے۔سردیوں کے موسم میں ہڈیوں کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ اس موسم میں ہڈیوں کی کمزوری ہونے کا خدشہ ذیادہ ہوتا ہے۔

*ہڈیوں کی کمزوری دور کرنے کے لیے کتنے کیلشیم اور وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے؟*

کیلشیم اور وٹامن ڈی یقینی طور پر صحت مند ہڈیوں کے لیے دو اہم ترین غذائی اجزاء ہیں۔ کیلشیم وہ معدنیات ہے جو ہڈیوں کو ان کی کثافت اور طاقت دیتا ہے۔ لیکن یہ جسم کے بہت سے دوسرے حصوں کے لیے بھی اہم ہے، اس میں شامل اعصاب، عضلات اور خلیے کی جھلی ہیں۔

اگر آپ کو اپنی خوراک میں کافی کیلشیم نہیں ملتا ہے تو، آپ کا جسم آپ کی ہڈیوں سے معدنیات کو خارج کرنا شروع کر دے گا تاکہ آپ کے باقی نظام آسانی سے چل سکے۔ وٹامن ڈی کیلشیم کو ہڈیوں کے خلیوں میں داخل ہونے میں مدد کرنے کے لیے ایک اہم کام کرتا ہے۔ لہذا اگر آپ کے پاس کافی وٹامن ڈی نہیں ہے تو، آپ کی خوراک میں موجود کیلشیم آپ کی ہڈیوں کی حفاظت کا کبھی موقع نہیں دے سکتا۔

آسٹیوپوروسس کے شکار لوگوں کو جب کافی کیلشیم اور وٹامن ڈی حاصل کرنے کی بات آتی ہے تو اس سے آگے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ 50 سال سے زیادہ عمر کے بالغوں کو ہر روز کم از کم 1,200 ملی گرام کیلشیم اور 800 سے 1,000 وٹامن ڈی حاصل کرنا چاہیے۔ (چونکہ بعد کے سالوں میں ہڈیوں کا پتلا ہونا بہت عام ہے، اس لیے یہ اہداف 50 سال سے زیادہ عمر کے ہر فرد کے لیے اچھے معنی رکھتے ہیں۔) مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ جن مریضوں کو یہ ضروری غذائی اجزاء کافی مقدار میں ملتے ہیں وہ اپنی ہڈیوں کے ٹوٹنے کا خطرہ 35 فیصد سے 50 فیصد تک کم کر سکتے ہیں۔ہڈیوں کی کمزوری

🪀 *کیلے* ۔
کیلے، ہاضمے میں مدد کرنے کے علاوہ، میگنیشیم کا ایک اچھا ذریعہ بھی ہوتے ہیں۔ وٹامن ڈی ہڈیوں اور دانتوں کی ساخت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ ہڈیوں کی کمزوری کو دور کرنے اور ان کو مضبوط بنانے کے لیے آپ روزانہ ایک کیلا کھا سکتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر، روزانہ ایک کیلا کمزور ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

*🪀گری دار میوے* ۔
گری دار میوے میں کیلشیم شامل ہوتا ہے، لیکن ان میں میگنیشیم اور فاسفورس بھی ہوتا ہے، یہ دونوں ہڈیوں کی کمزوری کے لیے بہت اہم ہیں۔ میگنیشیم ہڈیوں میں کیلشیم کے جذب اور برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ٓاخروٹ نہایت مفید اور مزیدار میوہ ہے۔ یہ نا صرف ہڈیوں کی کمزوری سے بچاتا ہے بلکہ جسم میں مناسب مقدار کی غذایت بھی فراہم کرتا ہے۔

اس کے علاوہ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے مطابق، آپ کی ہڈیوں اور دانتوں میں آپ کے جسم میں تقریباً 85 فیصد فاسفورس ہوتا ہے، جو اسے استعمال کرنے کے لیے ایک ضروری عنصر بناتا ہے۔

*🪀ڈیری مصنوعات* ۔
ڈیری مصنوعات جیسے دودھ، دہی اور پنیر کا ہڈیوں کی کمزوری کے بارے میں بحث میں اکثر ذکر کیا جاتا ہے کیونکہ ان میں کیلشیم زیادہ ہوتا ہے، جو ہڈیوں کی مضبوطی اور ساخت کے لیے سب سے اہم وٹامن ہے۔ امریکی محکمہ زراعت کے غذائی جائزوں کے مطابق، ایک کپ چکنائی سے پاک دودھ اور ایک کپ سادہ دہی کیلشیم کے بہترین ذرائع ہیں جن سے آپ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔پنیر کا مناسب استعمال ناصرف آپ کی صحت کے لئے بہتر ہے بلکہ ہڈیوں کی کمزوری کے لئے بھی مفید ہے۔ پنیر میں موجود کیلشیم ہڈیوں کو مضبوطی فراہم کرتا ہے۔ پنیرخاص طور پر بچوں کے لئے بہت مفید ہے۔

🪀 *سنترے کا رس* ۔
سنترے وٹامن سے بھرپور غذاء ہیں۔ یہ سردیوں کے موسم میں زیادہ تر پائے جاتے ہیں۔ ہڈیوں کی کمزوری دور کے لئے سنترے کا رس زیادہ مفید ہے۔ یہ نا صرف ہڈیاں مضبوط بناتا ہے بلکہ جلد کے لئے بھی مفید ہے۔

بہت سے لوگ اس پھل سے لطف اندوز ہوتے ہیں، تازہ نچوڑا ہوا اورنج جوس جسم کو کیلشیم اور وٹامن ڈی فراہم کرتا ہے، جو ہڈیوں کی کمزوری دور کرنے اور ان کو مضبوط بنانے میں مدد کرتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نارنجی کا رس اگر باقاعدگی سے پیا جائے تو آسٹیوپوروسس کو روکنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

*پپیتا* ۔
پپیتا صحت بخش پھل ہے جس میں کیلشیم زیادہ ہوتا ہے۔ 100 گرام کی سرونگ میں، اس پھل میں 20 ملی گرام کیلشیم ہوتا ہے۔ یہ پھل آپ بازار میں کہیں بھی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں اور اسے اپنی روزمرہ کی خوراک کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

*پالک* ۔
پالک وٹامن ، اور کیلشیم سے بھر پور غذاء ہے۔ پالک کو سلاد وغیرہ میں استعمال کرنا زیادہ مفید ہے۔ پالک نا صرف ہڈیوں کی کمزوری کے لئے مفید ہے بلکہ انسانی جسم کو بہت سی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔

کیلشیم سے بھرپور سبز پتوں والی سبزی ہڈیوں اور دانتوں کی تشکیل میں معاون مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ ایک کپ ابلی ہوئی پالک جسم کی روزانہ کیلشیم کی 25 فیصد سے زیادہ ضروریات پوری کر سکتی ہے۔ فائبر سے بھرپور ان پتوں میں وٹامن اے اور آئرن بھی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ہڈیوں کی کمزوری

🪀 *مچھلی* ۔
مچھلی کا استعمال آپ کے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کو پورا کر کے ہڈیوں کی کمزوری کو دور کرکے ان کو مضبوط بناتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں مچھلی کا استعمال نزلہ ،اور کھانسی سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

ہم سب کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ مچھلی کھائیں تاکہ کافی مقدار میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈ مل سکے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ سالمن اور ٹونا جیسی چربی والی مچھلی بھی ہڈیوں کی مضبوطی میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے؟ آپ مچھلی کو آسانی سے گرل، فرائی، ساٹی، یا بیک کر سکتے ہیں اور اسے مختلف ترکیبوں میں پکا سکتے ہیں۔

اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ جسم وقت پر خود کو ٹھیک کر لے گا، لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جو آپ اپنی ہڈیوں کی کمزوری کو تیزی سے ٹھیک کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک آپ کی خوراک میں ہڈیوں کی شفا یابی کے لیے بہترین غذائیں شامل کرنا ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے متوازن غذا کا استعمال ضروری ہے کہ آپ کے جسم کو صحت یاب ہونے کے لیے ضروری غذائی اجزا ملیں۔ یہاں تک کہ جب آپ کو فریکچر نہ ہو، اوپر دی گئی غذاؤں کا استعمال ممکنہ فریکچر کو روکنے میں کافی حد تک مدد کر سکتا ہے۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

*👨🏻‍⚕️Family, Health, Kids👩🏻‍⚕️*
🎓📖SmartTech Camp📖🎓

=================

*

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Istanbul?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Istanbul
Istanbul
34000