Salo Mart

Salo Mart

Share

We believe that innovation among all sectors is necessary. That's why we decided to start Mart salo.

However, you rarely see new kitchen products, specifically ones that will save you time and make you more efficient.

03/24/2024

‏پاکستان کا مقابلہ اب بھارت سے نہیں، افغانستان سے ہے

مغربی ممالک کے تھنک ٹینک سن دو ہزار پانچ، دو ہزار چھ میں ہی نئے ورلڈ آرڈر کے نقشے کھینچ رہے تھے۔

اس نقشے میں دو ممالک سب سے اہم تھے، ایک چین اور دوسرا بھارت۔ سن دو ہزار سات میں جرمن دارالحکومت برلن میں ایک تھنک ٹینک کی بریفنگ تھی، زمانہ طالب علمی تھا اور میں بھی اس میں شریک ہوا۔ اس بریفنگ میں بتایا گیا کہ بھارت کی آبادی اور جسامت اس کی طاقت ہیں۔ بھارت اب صرف یوگا اور روحانیت کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ معاشی حوالے سے بھی باعث کشش ہے۔ کمیونزم کی مخالفت کی وجہ سے مغربی ممالک کا فطری جھکاؤ بھارت کے ساتھ بنتا ہے لیکن چین کے ساتھ بھی چلنا ہو گا اور مجبوری میں چلنا ہو گا کیوں کہ چین کی مارکیٹ بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

تقریباﹰ سن دو ہزار تک مغربی ممالک کی پالیسی یہی تھی کہ خطے میں پاکستان اور بھارت کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔ دونوں ایک ساتھ آزاد ہوئے تھے، ایک دوسرے کے حریف بھی تھے اور پھر دونوں کے مسائل بھی یکساں تھے۔ جرمنی جیسے ممالک نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں تقریباﹰ ایک جیسے امدادی پیکج ہی دونوں ملکوں کو دیے تھے۔ ہمیشہ خیال رکھا گیا کہ بھارت کے ساتھ جو بھی معاہدہ ہو، پاکستان اس سے ناراض نہ ہو یا پھر معاہدے طے کرنے کے عمل میں کسی حد تک پاکستان کو شامل رکھا گیا۔

لیکن جب چین کا معاملہ آیا تو مغربی ممالک کے تھنک ٹینکس نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اگر چین کا مقابلہ کرنا ہے، تو پاکستان کو نظرانداز کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ تعلقات میں اضافہ کرنا ہو گا۔ پاکستان چین کا بھی دوست تھا اور ہے جبکہ اس وقت افغانستان کی جنگ اور دہشت گردی کا بیانیہ دونوں ہی عروج پر تھے۔

ان دونوں معاملات نے مغربی ممالک کے اس بیانیے کی راہ ہموار کی کہ بھارت کو پاکستان سے الگ کرکے دیکھنا چاہیے لیکن ان تمام چیزوں پر جو مہر ثابت ہوئی، وہ امریکی بھارتی جوہری معاہدہ تھا۔

پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا صف اول کا اتحادی تھا لیکن بداعتمادی عروج پر تھی۔

اوباما انتظامیہ سے جب پوچھا گیا کہ آپ پاکستان کو کیسے نظرانداز کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ یہ اہم اسٹریٹیجک معاہدہ کر سکتے ہیں؟ تو جواب میں کہا گیا کہ آپ خود ہی تو کہتے تھے کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ یکساں پالیسی میں نہ رکھیں۔ یہ ایک مضحکہ خیز بیان تھا۔ پاکستان نے تو کہا تھا کہ اسے رعایتیں دی جائیں، افغانستان میں اس کے مفادات کا تحفظ کیا جائے، نہ کہ بھارتی مفادات کا۔ پھر بھی معاہدہ بھارت کے ساتھ کر کے پاکستان کو الگ کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد مغربی ممالک نے بھی یہی پالیسی اپنائی۔ بھارت شاید اس سے کہیں آگے ہوتا، جہاں آج کھڑا ہے لیکن نریندر مودی کی حکومت آئی اور اس کی سیاست ہی پاکستان کی مخالفت پر مبنی تھی۔ لہٰذا پاکستان پھر بھی کسی نہ کسی طرح اس 'گیم‘ کا حصہ ہی رہا۔

لیکن اب ایک حیرت انگیز تبدیلی آ چکی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کچھ عرصہ قبل امریکہ میں کہا تھا کہ پاکستان سے اب کوئی مقابلہ نہیں، اسے اس کے حال پر ہی چھوڑ دیں، وہ خود مر جائے گا۔ اس بیان پر پاکستان میں شدید احتجاج ہوا تھا لیکن یہ بیان بدلتی ہوئی بھارتی پالیسی کا غماز ہے۔

مغربی ممالک کے بعد اب بھارت میں بھی یہ ادراک پیدا ہو چکا ہے کہ مقابلہ چین سے ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس شعور میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ بھارت میں بین الاقوامی سرمایہ کاری آ رہی ہے، دنیا کی بڑی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں وہاں قدم رکھ رہی ہیں، بھارت چاند پر کمند ڈال رہا ہے اور پاکستان میں بیٹھے لوگ بھی بھارت کو اس بات پر مبارک دے رہے ہیں۔

یعنی عوامی سطح پر بھی قبولیت آئی ہے کہ بھارت آگے نکل گیا ہے۔ جس بھارت کی جی ڈی پی سن دو ہزار میں تقریباﹰ 470 بلین ڈالر تھی، سن دو ہزار تیئیس میں وہی جی ڈی پی 3.74 ٹریلین ڈالر ہو چکی ہے۔

آج سے پانچ سال پہلے کی بات کریں تو پاکستانی وزارت خارجہ اور فوج کے بیانات اکثر بھارت مخالف ہوتے تھے جبکہ بھارت کی طرف سے جواب بھی آتا تھا۔

اب لیکن صورت حال تبدیل ہو چکی ہے۔ پاکستانی فوج اور وزارت خارجہ کے بیانات اب افغانستان کے خلاف ہوتے ہیں اور جواب بھی ادھر سے ہی آتے ہیں۔ آپ کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ایک عرصے سے بھارت کے پاکستان مخالف بیانات میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ افغانستان کے ساتھ ’انگیج‘ رہیں گے نہ کہ بھارت کے ساتھ۔ یہ ہے وہ پالیسی کی تبدیلی، جو گزشتہ دس برسوں میں آئی اور جس کا پاکستانی پالیسی سازوں کو احساس بھی نہیں ہوا۔

جب بھارت کو چاند پر جانے کے لیے مبارکبادیں دی جا رہی تھیں، پاکستانی وزیر اعظم نے قوم کو یہ مبارکباد دی کہ تین ارب ڈالر کا قرض منظور ہو گیا ہے۔ یہ مبارکباد نہیں ایک نوحہ تھا۔
1/2

01/13/2024

New product available on my store

07/26/2023

WWWW

07/25/2023

Watch

07/25/2023

Avocado Special Knife

Photos from Salo Mart's post 07/22/2023

Beautiful watch
You can buy this! https://09663b.myshopify.com/products/full-iced-crystal-watch

07/21/2023
Photos from Salo Mart's post 07/21/2023
Want your business to be the top-listed Beauty Salon in New York?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


New York, NY